غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

کچھ ادھر باقی ہے کچھ خاص ادھر باقی ہے
کیا کہوں کیسے کہوں کیسا یہ ڈر باقی ہے

عزم ٹوٹے گا نہیں زیست رلاتی جا تو
مجھ میں جینے کا ابھی دیکھ ہنر باقی ہے

تیری جانب سے جفاؤں کی بھلا فکر ہو کیوں
مجھ میں موجود ابھی ذوقِ نظر باقی ہے

خامشی شور مچاتی ہے بہت ہی لیکن
گفتگو کا تری اطراف سحر باقی ہے

گردشِ دوراں ابهی مان لوں میں کیسے شکست
کیا تجهے علم نہی کاندهوں پہ سر باقی ہے

برف باری تو ہوئی خوب مگر دل میں ابهی
ایک حسرت کا دیا ہے یا شرر باقی ہے

بحرِ خواہش نے ڈبویا تو یہی راز کهلا
زندگی تیرے کنارے پہ بهنور باقی ہے

میں نے کہنے کو ہر اک بات بهلا دی لیکن
دل یہ کہتا ہے کوئی بارِ دگر باقی ہے

اک تو گہرے ہیں اداسی کے یہ بهیلے سائے
اس پہ سنسان سی آہٹ کا سفر باقی ہے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں