غزل : عبدالباسط صائم

ایسا نہیں کہ ہجر نے مارا نہیں ہوا
یوں ہے کہ دشتِ غم میں گزارہ نہیں ہوا

مرشد تم ایسے شخص کو کہتے ہو کس طرح
اک پل بھی جس نے دل میں گزارا نہیں ہوا

منزل پہ آن کر بھی ۔۔۔ مقدر تو دیکھئے
کندھوں سے ہم نے بوجھ اتارا نہیں ہوا

اک بات مشترک ہے خدا اور عشق میں
تھا بھی ہمارا پھر بھی ہمارا نہیں ہوا

پیارے! غرور کرتے ہوئے سوچنا ضرور
ہے کون جو زمین کو پیارا نہیں ہوا

بچپن میں چاند کہتی تھی چاہت سے جس کو ماں
خود اس کے گھر میں پیدا ستارا نہیں ہوا

کھائے ہیں ہم نے عشق میں دھوکے ہزارہا
صائم کمال یہ ہے خسارہ نہیں ہوا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post