غزل : شاہد ماکلی

اور اب عجیب ہی کایا پلٹ ہے پیکر میں
جو لہر دل میں رواں تھی، وہ آ گئی سر میں

کہیں نہ رُوح کی شِکنوں کا ہی تسلسُل ہوں
جو سِلوٹیں ہیں زمان و مکاں کی چادر میں

ہمارا  ذہن  ترے ذہن  سے  جڑا  ہُوا  ہے
ہزار دُوری ہو، پہنچے گی سوچ پل بھر میں

نکال لاتی ہے مرکز گریز قوّت اُسے
جو پھنس بھی جائے بدن دائرے کے چکّر میں

فضا نے صبر کا آبی غلاف اوڑھ لیا
تپش ہے بے اثر اب دُھوپ کے سمندر میں

نہ جانے اُن کی تھکن کا غبار کب اترے
جو گیارہ سال لگے غم کے شمسی چکر میں

ہزاروں سلسلے خود میں غلط بھی ہوتے ہیں
قدیم روشنی گرمِ سفر تھی ایتھر میں

بدن ہیں نیند کے عالم میں منسلک اُن سے
شبیہیں گھوم رہی ہیں جہانِ دیگر میں

کبھی نہ کُھل سکے ممکن ہے آنکھ پر شاہد
ہزار  رنگ  کی آمیزشیں  ہیں منظر  میں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post