غزل : شاہد جان

شاہد جان
شاہد جان
اپنی آواز کو کھوجتے کھوجتے
میں کہاں آ گیا بولتے بولتے
جانےکس وقت جاگاخیالوں سے میں
جانے کب سوگیا سوچتے سوچتے
ان اداوُں پہ یہ جان بھی جائے گی
دل چلا ہی گیا روکتے روکتے
ہجر کی رات بھی کتنی رنگیں ہوئی
اس کی یادوں کے لب چومتے چومتے
جتنی گرہیں لگا کر گئے دل میں تم
اور بھی کس گئیں کھولتے کھولتے
ہو کے منکر بھی شاہد نباہی وفا
بت کو سجدہ کیا توڑ تے توڑ تے
( شاہد جان )

You might also like
  1. اوصاف شیخ says

    وااااہ خوبصورت کلام

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post