غزل

غزل : شاہدجان

شاہد جان
شاہدجان
کوئی بھی کام ہو ، کرنے میں ، وقت لیتا ہے
کہ پھول تک بھی بکھرنے میں وقت لیتا ہے
شعورِ ذات ودیعت ہوا ہے سب کو مگر
شعورِ ذات ابھرنے میں وقت لیتا ہے
یہ دل کا زخم ہے اس کا تو خیر کیا کہنا
کوئی بھی زخم ہو بھرنے میں وقت لیتا ہے
کبھی رہے وہ نگاہوں کے سامنے اتنا
کہ جس قدر وہ سنورنے میں وقت لیتا ہے
ہر ایک چیز تو پابند ِ وقت ہے لیکن
یہ وقت خود بھی گزرنے میں وقت لیتا ہے
پلا کے زہر بھی شاہد کو خوش نہیں ہو تم
گلہ ہے اب بھی کہ مرنے میں وقت لیتا ہے
شاہد جان

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں