غزل : سعید عباس سعید

مری آنکھوں میں کیا ہے
سمندرپیاس کا ہے

اک اس میں اجنبی ہے
مقابل آئینہ ہے

ادھر ہم ریزہ ریزہ
ادھر اک مشغلہ ہے

بھلا بیٹھا جو وعدہ
اب اس سے کیا گلہ ہے

اسے ہمدرد جانا
ہماری ہی خطا ہے

یہ سینے میں نہیں دل
سعید آتش کدہ ہے

You might also like
Loading...