غزل

غزل : سعیداشعر

سعید اشعر
وہ کنارے پہ جب سے آئی ہے
جھیل بھی کروٹیں بدلتی ہے
ایسی وحشت کبھی نہیں دیکھی
یہ ہوا روشنی سے لڑتی ہے
جس جگہ پر جدا ہوئے تھے ہم
تیرگی سی وہاں پہ ٹھہری ہے
پیڑ پچھلے دنوں ہوا سے گرا
فاختہ شاخ پر ہی بیٹھی ہے
سچ تو یہ ہے کہ میں ہی ایسا ہوں
ورنہ وہ تو بہت ہی اچھی ہے
بند رکھا ہے اس نے کھڑکی کو
ایک تتلی کہیں سے آئی ہے
چاند ڈوبا ہے آ کے پانی میں
آب جُو بات کو سمجھتی ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں