غزل : سعیداشعر

اک روز مجھ سے وہ بھی ملا تھا مروتاً
“اچھا لگا ہے مل کے” کہا تھا مروتاً

دیتے رہے تھے سایہ مجھے بے حساب پیڑ
رستہ بھی ساتھ ساتھ چلا تھا مروتاً

حاصل یہی ہے میرے سفر کا تمام بس
وہ چند گام ساتھ چلا تھا مروتاً

محفل میں ایک دوسرے سے مل رہے تھے سب
مجھ سے بھی وہ ذرا سا ملا تھا مروتاً

رہنا تھا آسماں پہ مگر اس کے واسطے
پانی میں چاند ڈوب گیا تھا مروتاً

جو دیپ رات میں نے جلایا یقین سے
سورج کو دیکھ کر وہ بجھا تھا مروتاً

مٹی میں ارد گرد تو کھلتے رہے تھے پھول
اک پھول برف میں بھی کھلا تھا مروتاً

‍زخمی تھے اس کے پر تری آمد پہ ایک بار
پنچھی فضا میں پھر بھی اڑا تھا مروتاً

فرقت کا دکھ اسے تھا نہ مجھ کو بلاشبہ
اک خط اگرچہ میں نے لکھا تھا مروتاً

جگنو تھا میری راہ میں یا کوئی دیپ تھا
روشن اندھیری شب میں رہا تھا مروتاً

اچھے لکھاریوں کے حوالے سے بات تھی
میرا بھی اس نے ذکر کیا تھا مروتاً

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post