غزل

غزل : راز احتشام


راز احتشام
تنہا سفر ہو، رات ہو، بجلی کڑک اٹھے
جنگل میں کوئی آگ اچانک بھڑک اٹھے
چپ چاپ سرسراتی ہوئی جا رہی تھی رات
آہٹ ہوئی گلی میں تو سینے دھڑک اٹھے
اک فتح کا غبار تھا چہروں پہ اور ہم
مقتل پہ ایک رنگِ ہزیمت چھڑک اٹھے
آباد ہو رہا ہے جہانِ خرد ، مگر
کیا جانیے کہ کب رگِ وحشت پھڑک اٹھے
دل جن پہ مطمئن تھا وہ آتش مزاج لوگ
اک دن ذرا سی بات پہ یکدم بھڑک اٹھے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں