غزل

غزل : خالد ندیم شانی

خالد ندیم شانی

ترے غرور کی تجھ کو کمائی دیتا ہوں
اٹھا کے تجھ کو میں زعمِ خدائی دیتا ہوں

پھر اس کے بعد مقدر کا فیصلہ کرنا
لے اپنی ذات کی تجھ کو رسائی دیتا ہوں

ادھورے پن کی اذیت بجا سہی لیکن
میں آئینے میں مکمل دکھائی دیتا ہوں

مری حیات کے ریشے بکھیر دیتا ہے
جسے نصیب کی مشکل کشائی دیتا ہوں

اسی اسی کو خبر ہو نئے زمانوں کی
جسے جسے میں جہاں پر سنائی دیتا ہوں

میں فکر و فن کے حوالے سے عام سا شاعر
یہی بہت ہے کہ تجھ کو دکھائی دیتا ہوں

وفا کو قید سمجھتے ہو تم اگر خالد
تو آؤ اس سے بھی تم کو رہائی دیتا ہوں

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں