غزل : خالد ندیم شانی

تمھارا ہجر    منایا تو    میں اکیلا تھا
جنوں نے حشر اٹھایا تو میں اکیلا تھا

دیارِ خواب تھا، تم تھے تمام دنیا تھی
کسی نے آ کے جگایا  تو میں اکیلا تھا

کوئی حسینی نہ نکلا مرے رفیقوں میں
دیا بجھا کے جلایا    تو میں اکیلا تھا

تمھارا ہاتھ نہیں تھا وہ موجِ گریہ تھی
مری سمجھ میں جب آیا تو میں اکیلا تھا

تھیں میری اپنی دعائیں،جنھوں نے ردہوکر
مجھے گلے سے    لگایا    تو میں اکیلا تھا

کہاں سے آئی تھی آخر تری طلب مجھ میں
خدا نے مجھ کو    بنایا    تو    میں اکیلا تھا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post