غزل : جون ایلیا


جون ایلیا
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد
کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر
کتنے    منظر نہیں رہے    آباد
ہم کہ اے دل سخن تھے سرتاپا
ہم لبوں    پر نہیں    رہے آباد
شہر دل میں عجب محلے تھے
ان میں اکثر نہیں رہے آباد
جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ
اپنے    اندر نہیں    رہے آباد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post