غزل : جلیل عالی

ترکش تہی ہے ٹوٹ چکی ہے کمان بھی
وحشی ہوا سے ڈول رہی ہے مچان بھی

وہ دن بھی تھے کہ ایک زمانہ تھا ہمرکاب
یکتا تھا اپنی آرزوؤں کا جہان بھی

آفت میں نامِ رب جو مرے لب پہ آ گیا
لاوا اگلنے لگ گئے کچھ گل زبان بھی

کانوں میں گونجتا رہا گیتوں کا زیر و بم
ہوتی رہی درونِ دل و جاں اذان بھی

تاراج کر دیا گیا یوں باغِ خواب کو
ملتا نہیں ہے برگِ گماں کا نشان بھی

اب حکم ہے کہ بیٹھ رہیں پر سمیٹ کر
دیکھی ہے چشمِ چرخ نے اپنی اڑان بھی

شب ریگزارِ دوش میں جتنا سفر کیا
کھلتا چلا گیا تری یادوں کا تھان بھی

الجھے رہے جہاں کے جھمیلوں میں عمر بھر
لیکن قضا ہوا نہ کبھی تیرا دھیان بھی

عالی زمیں سے عشق بھی کچھ کم نہیں ہمیں
آنکھوں میں جاگتا ہے مگر آسمان بھی

You might also like
Loading...