غزل : بشیراحمد قا د ر ی

ترے ہجر میں مرا حالِ دل ‘ کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا
کبھی مضطرب، کبھی مضمحل،کبھی کیا ہوا ،کبھی کیا ہوا

کبھی آنکھ سے غم دل رواں ،کبھی سینہ درد سے تھا تپاں
رہا ہاتھ سینے سے متصل ، کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا

کبھی درد میں بڑا جوش تھا،کبھی سکتہ تھا توخموش تھا
نہ تھا ایک حال پہ مستقل ، کبھی کیا ہوا ،کبھی کیا ہوا

کبھی یک نفس جو ملا سکوں ، ذرا ہوش آیا تو کیا کہوں
تری یاد آ کے ہوئی مخل ، کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا

کبھی بن کےخوشبو بکھر گیا، نہ کہیں بھی نام و نشاں ملا
ہوا جا بجا جو وہ منتقل ، کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا

کبھی جوش گریہ میں قادری ، کرے گرد صحرا کی ہمرہی
کبھی سرو ساں رہے پا بہ گل ، کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا

You might also like
  1. گمنام says

    Very nice Gazal

  2. شبیر احمد قادری ، فیصل آباد ۔ says

    عمدہ اور شان دار غزل ،
    ردیف بہت لطف دے رہی ہے ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post