غزل

غزل : انیس احمد

میں نے کب چاہا تھا لیکن آئی سلوٹ ماتھے پر
وقت نے اپنے ہاتھوں آج بنائی سلوٹ ماتھے پر

جب جوبن تھا مجھ پر تو سب آئینے تھے میرے ساتھ
آج انہی نے ہنس کر مجھے دکھائی سلوٹ ماتھے پر

اس دنیا میں ساتھ رہے ہیں میرے جو خوشحالی میں
اب جو ہاتھ ملایا تو لہرائی سلوٹ ماتھے پر

عشق میں اک پل کی بھی فرصت نہیں ملی کچھ سوچوں میں
اور حالات نے اک سے ایک بنائی سلوٹ ماتھے پر

میری بات ہے سچی لیکن میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں
کاہے کو لائے ہو میرے بھائی سلوٹ ماتھے پر

ہر پل اس کے ساتھ رہوں میں جس سے مجھے محبت ہے
میرا ساتھ نبھانے کو مسکائی سلوٹ ماتھے پر

میری عزت کا کچھ اب تم کرو خیال انیس احمد
بن کر آ بیٹھی ہے بوڑھی مائی ، سلوٹ ماتھے پر

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں