غزل : اقتدار جاوید

لیے پھرتا ہے یہ آزار اپنے راستے کا
فقط پانی ہے واقف کار اپنے راستے کا

میں دیکھے جا رہا ہوں ساری چیزوں کو دوبارہ
ہوا اک خواب میں دیدار اپنے راستے کا

کوٸی لمبے سفر پر دور جانا چاہتا ہے
کہ ہر کوٸی ہے خود مختار اپنےراستے کا

کٹی اک اور ہی نشّے میں ہمراہی ہماری
مرے ساتھ آ گیا بیزار اپنے راستے کا

سفر کو لوگ جو اجڑے ہو ٸے ملتے ہیں ان کو
بنا دیتا ہے لالہ زار اپنے راستے کا

جڑی جاتی ہے مستی سے بھری مہکار کوٸی
مسافر آپ ہے گلزار اپنےراستے کا

پہنچنے یہ نہیں دے گا کسی کو بھی کہیں پر
کہ مراواٸے گا خوش گفتار اپنے راستے کا

کٸی قرنوں کے بعد اپنے کیے تھے پتے ظاہر
بتایا میں نے آخر کار اپنے راستے کا

بناتا ہوں گھنیری چھاٶں اور خود بیٹھتا ہوں
شجر ہوں کوٸی سایہ دار اپنے راستے کا

چلے آو ابھی چپ چاپ میرے پیچھے پیچھے
کروں گا ایک دن اظہار اپنے راستے کا
۔۔۔۔۔۔

You might also like
Loading...