سعدی کی ایک غزل : ڈاکٹرمعین نظامی


ڈاکٹرمعین نظامی
تو با این لطفِ طبع و دل ربائی
چنین سنگین دل و سرکش چرائی
ایسی لطافتِ طبع اور محبوبیت رکھتے ہوئے، تم اس قدر پتھر دل اور من مانی کرنے والے کیوں ہو
به یک بار از جہان دل در تو بستم
ندانستم که پیمانم نپائی
مَیں نے ساری دنیا چھوڑ چھاڑ کر صرف تم سے دل لگایا تھا، مجھے کیا خبر تھی کہ تم میرے عہد و پیمان پر قائم نہیں رہو گے
شبِ تاریکِ ہجرانم بفرسود
یکی از در درآی ای روشنائی
جدائی کی اندھیری رات نے مجھے گُھلا کر رکھ دیا ہے، اے روشنی، کبھی اچانک ہی دروازے سے اندر چلی آؤ
سری دارم مہیّا بر کفِ دست
که در پایت فشانم چون در آئی
مَیں ہتھیلی پر سر دھرے تیار ہوں، کہ جب تم آؤ تو اسے تمھارے قدموں پر نثار کر دوں
خطای محض باشد با تو گفتن
حدیثِ حسنِ خوبانِ خطائی
تمھارے حضور میں خطا و خُتن کے پری رخوں کے حسن و جمال کی بات کرنا خطاے محض ہے
نگاری سخت محبوبی و مطبوع
ولیکن سست مہر و بی‌ وفائی
تم بہت محبوب اور پسندیدہ حسین ہو، لیکن سرد مہر اور بے وفا ہو
دلا گر عاشقی، دایم بر آن باش
که سختی بینی و جور آزمائی
اے دل، اگر تم عاشق ہو تو ہمیشہ اس پر ثابت قدم رہو، کہ سختیاں جھیلتے اور ستم اٹھاتے رہو
و گر طاقت نداری جورِ مخدوم
برو سعدی که خدمت را نشائی
اور اگر تم اپنے مخدوم کی سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو سعدی، تم جا سکتے ہو کہ تم تو خدمت کی اہلیت ہی نہیں رکھتے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post