’’ گیان‘‘۔۔۔آفتاب جاوید ۔۔۔ تبصرہ: شازیہ  مفتی   

                                                    شازیہ مفتی

تبصرہ: شازیہ  مفتی     

“گیان ” ایک ایسی کتاب جو دیواریں نہیں دروازے بناتی ہے .
لفظ طلسمی ہتھیار ہوتے ہیں ۔کبھی خنجر کبھی مرہم ،
لفظ ستم پیشہ تیر کا کام بھی کرتے ہیں اور تریاق کا بھی ،بس برتنے اور کھوجنے کا سلیقہ چاہیے جو صاحب گیان آفتاب جاوید کے پاس موجود ہے ۔
گیان محض ایک کتاب نہیں یہ تو جیسے کسی بے چین روح کی صدیوں کی تپسیا کا حاصل ہے ۔ جو ہمالیہ کی گپھاوں میں قرنوں تک ریاضت میں مگن رہی ہو ۔ایک کائنات ہے نہایت وسیع میٹھے پانیوں کے رواں چشمے ہیں جن میں سے ہر ایک چشمہ اپنی الگ مٹھاس اور الگ چاشنی رکھتا ہے ۔
” گیان ” کتاب کاہے کو ہے یہ تو اصل میں نور کی وہ کرن ہے جو پھیلتے پھیلتے طویل ترین شب کی تاریکیوں کو روشنیوں میں بدل دیتی ہے اور اجلے دن میں سب اجلا ہی نظر آتا ہے ۔
“گیان ” مجھے اپنی ریشمی پر اسراریت سے آزاد ہی نہیں کر رہی تھی جو میں کچھ لکھتی اور کیا لکھتی گیان تو حاصل ہے حاصل زیست ،گیان تو عطا ہے ۔۔عطا تو مرضی ہے مالک کی وہ جس پر مہربان ہو جائے۔
“گیان ” کی سطر سطر قراءت کے دوران یہ عقدہ کشا ہوتا ہے کہ صاحبو دانائی درہم و دینار کی چیز نہیں اور حقیقی مسرت بھید بھاو سے بے نیاز ہوتی ہے
“گیان ” کی ورق گردانی کے دوران یہ بات نہایت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ اس کتاب میں بیان کردہ گیان نہ تو وقت گزاری کا حیلہ ہیں اور نہ ہی قاری کو دور افتادہ بھول بھلیوں میں گم کردینے کا انتظام ۔
بلکہ ان گیانوں کے راستے آفتاب جاوید نے اپنے قاری کو ان گم گشتہ سچائیوں اور دانائیوں کی راہ پر لگادیا ہے جو زندگی کی ہاوء ہو اور لعب ولالچ کی کشاکش میں ہماری مٹھیوں سے ریت کی طرح پھسل گئی ہیں ۔
اس پٹاری میں کیا کچھ نہیں ۔روحانی وارداتیں ، فرد اور اور کائنات کے مابین ہم رشتگی ۔وقت اور خدا کی منشا کے بیچ میں پھنسا ہوا بے دست وپا آدمی اور حرص وہوا کے پشتارے تلے دبا ہوا ابن آدم ،ایک محفوظ فاصلے پر خدائے لم یزل جو اس تماشے کا موجد بھی ہے اور خاتم بھی ۔
سو خواتین وحضرات غیر مناسب ہوگا کہ میں گلوں کی اس پوٹلی کے بارے میں مزید کچھ کہوں بہتر ہوگا کہ میں زعفران اور کیوڑہ سے مہکتے اس خوان کا ڈھکن اٹھا دوں تاکہ آپ خود اندازہ کرسکیں کہ اس کتاب کی اوٹ سے آفتاب جاوید نے ہماری پیاسی روحوں اور زخم زخم تلوءں کو سہلانے کا کیسا دل گداز اہتمام کیا ہے ۔
چند گیان آپ کی سماعتوں کی نظر :
*1
آنکھوں کے اندھے کو
ٹھوکر لگتی ہے
پردل کا اندھا
کھائی میں گرتا ہے ۔
*2
مسکراہٹیں جال بھی ہوسکتی ہیں
اکثرپھول بیچنے والے
کانٹوں سے بھرے ہوتے
*3
درانتی
ا سی کے ہاتھوں میں بھلی لگتی ہے
جس نے بیج بویا ہو .
*4
درویش نے کہا لوگو
تم جس نعمت کی بھی قیمت مقرر کرتے ہو
میرا رب
اس نعمت سے برکت اٹھا لیتا ہے
*5
اس نے کہا جاوء،
ان کے لیےء کفن دفن کا انتظام کرو
جن کا کوئ نہیں
میں نے پوچھا
اس کا اجر کیا ہے
اس نے کہا
کیا یہ اجر کم ہے
کہ تم دفنانے والوں میں شامل ہو
دفن ہونے والوں میں نہیں ۔
*6
ہوس کا بیل
جب کھیت میں داخل ہوا
آخر اسے اجاڑ کر نکلا ۔
*7
جو تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا ,
اسے زیاد۔ہ کی دلدل میں
پھینک دیا جاتا ہے ۔
*8
ہماری گنتی تو ایک تک ہے
حساب وہ دیں جو زیادہ جانتے ہیں ،
*9
تمہارےہاتھوں سے
بارود کی بو آتی ہے
تمہارے خوابوں میں
تتلیاں کیسے آئیں ۔
*10
دلوں میں آتش ونمرود اور زباں پر محبت کی باتیں
تم کون لوگ ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب جاوید نے ہیرے جواہرات سے لدی اس صندوقچی کو چوراہے میں ر کھ دیا ہے۔خوش قسمتی ہے ہم اس سے شاد کام ہو ئے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post