غزل : نویدظفرکیانی
یورشِ شب ہے غضبناک تو حل اور سہی تو نہ بجھ جائے تو پھر ایک مشعل اور سہی ظلمتِ شب تو ضمیروں میں اُتر آتی ہے چاند تاروں کی مگر فردِ عمل اور سہی خون کے داغ مری آنکھ سے دُھلتے ہی نہیں مرگِ احساس کا قصہ ہے، اجل اور سہی تیری مجبوری نے توڑا […]








