جون ایلیا کی غزلیں (۱)
جون ایلیا (۱) نہیں نباہی خوشی سے ، غمی کو چھوڑ دیا تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا ہوں جو بھی جان کی جاں وہ گمان ہوتے ہیں سبھی تھے جان کی جاں اورسبھی کوچھوڑدیا شعور ایک شعورِ فریب ہے سو تو ہے غرض کہ آگہی ، نا آگہی کو چھوڑ دیا […]


