غزل: پیرزادہ سیدحامدشاہ
پیرزادہ سیدحامدشاہ
ڈاکٹر اسدمصطفیٰ امریکہ میں مودی اور ٹرمپ کے مشترکہ خطاب کے دوران کوئی انہونی نہیں ہوئی بلکہ دونوں کے اصل چہرے بے نقاب ہوئے ہیں۔انہوں نے واضح کردیا ہے کہ ان کے دل میں جو کھٹکتا ہے وہ صرف اسلام ہے،سو انہوں نے اسلام کو دہشت گردی سے تعبیر کردیا ہے۔اسلام کے خلاف منظم تحریک […]
مظفرحنفی غالبؔ صدی کا یہ لطیفہ آپ کو یاد ہو گا کہ ایک جج صاحب نے مرزا کو فلسفی نہیں مجرم قرار دیا تھا۔ اس مقالے کے عنوان سے میری نیت پر بھی شبہ کیا جا سکتا ہے، لیکن باور کیجیے کہ میں خواجہ حسن نظامی کو نہ تو ملّا رموزی، عظیم بیگ چغتائی، پطرس، […]
نیلما ناہید درانی اکادمی ادبیات اسلام آباد کی کانفرنس ۔۔۔۔۔۔ پروین شاکر سے پہلی اورآخری ملاقات فخر زمان ایک درسگاہ کا نام ھے۔۔۔۔ وہ جب اکادمی ادبیات کے چئیرمین تھے۔۔۔انھوں نے بہت بڑی اور شاندار ادبی کانفرنسیں کروائیں۔ صوفی شعرا اور علاقآئی زبانوں کی کتابوں اور شاعروں ادیبوں کی کتابوں کے مختلف زبانوں میں تراجم […]
سعادت حسن منٹو دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار […]
حفیظ تائب خوش خصال وخوش خیال و خوش خبر،خیرالبشرﷺ خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیرالبشرﷺ دل نواز و دل پذیر و دل نشین و دل کشا چارہ ساز و چارہ کار و چارہ گر، خیرالبشرﷺ سر بہ سر مہر و مروت، سر بہ سر صدق و صفا سر بہ سر […]
احمدندیم قاسمی میں تیرا فن ہوں، یہی فن تِرا غروُر ہوا تِری اَنا کا مری ذات سے ظہوُر ہوا تِرے وجوُد کو وحدت ملی تو مُجھ سے ملی توُصرف ایک ہوا،جب میں تُجھ سے دُور ہوا بس ایک حادثہء کُن سے یہ جُدائی ہوئی میں ریگِ دشت ہوا ، […]
اپسرا گل چل رہا ہے علاج ابا کا تین بہنوں کے بعد بھائی ہے سب کی تعلیم بھی ضروری ہے بھائی ہے ماں کی آنکھ کا تارہ اور وہ آنکھ ہو گئی دُھندلی تھوڑی پنشن میں کیا کریں ابا میری تنخواہ سے چل رہا ہے گھر آج جو رشتہ میرا آیاہے کل بتائیں گی اس […]
طاہرشیرازی وہ بے عدد تھے اور اُن کا کوئی شمار نہ تھا سو اُن میں کوئی بھی تو شاملِ قطار نہ تھا کسی نے آ کے اٹھایا تھا خاک سے مجھ کو میں راہوار کی جب پشت پر سوار نہ تھا میں خود غرض تھا بلا کا یہ کوئی جھوٹ نہیں مگر یہ سچ بھی […]
یونس متین داستاں گو ۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک ہی چپ ہوگیا لوگ چہروں پہ پتھر کی آنکھیں لٸے اک تحیر میں گم ہو چکے تھے مگر اپنی مسند پہ بیٹھا ہوا داستاں گو فقط آٸنہ ڈھونڈنے کے لٸے رک گیا تھا کہ سب خلقتِ شہر اس دن سروں کو کہیں رہن رکھ آٸی تھی نا مکمل ۔۔۔۔۔۔ سبھی […]