کون روک سکتا ہے : نوشی گیلانی
نوشی گیلانی لاکھ ضبطِ خواہش کے بے شمار دعوے ہوں اُس کو بھُول جانے کے بے پنہ اِرادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سُنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اس کی آہٹ پر برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے پھر وفا کےصحرا میں اُس کے نرم […]





