چھوٹی پری : تابندہ سراج

آج تین دن گزر گئے اور چھوٹی پری اسے ملنے نہیں آئی۔۔۔ آنکھیں موندے، بے حس و حرکت، مفلوج جسم لیے وہ بس اسی کے انتظار میں ہے۔ آخر وہ اسے ملنے کیوں نہیں آئی؟ اس کا اور چھوٹی پری کا ساتھ تو بہت پرانا اور گہرا تھا، جب وہ محض تین سال کی تھی۔۔۔ گھر پر مہمانوں کی بھیڑ لگی تھی اور وہ ان سب سے چُھپ کر اپنے بیڈ کے نیچے گُھس گئی۔ ایسا وہ اکثر کرتی تھی، جب بھی امی اسے کسی مہمان سے بات کرنے کو کہتیں تو سلام کرنے کے بعد وہ کہیں چُھپ جاتی اور پھر وہیں پر سو جاتی۔ معلوم نہیں مہمان کب جاتے اور کب اسے ڈھونڈ کر بستر پر لِٹا دیا جاتا۔ اس رات بیڈ کے نیچے سے، اس نے سات پریوں کو دیکھا جو بالکنی پر اپنے پَر پھیلائے کھڑی تھیں۔ جانے وہ پریاں وہاں کیوں اور کیسے آئیں؟ ان پریوں میں سب سے چھوٹی پری نے اسے بیڈ کے نیچے چھپا ہوا دیکھا تو منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی۔ اس سے پہلے کہ دوسری پریوں کی نظر بھی اس پر جاتی، اس نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
کچھ دن بعد جب چھوٹے بھائی کی پہلی سال گرہ پر، پھر سے ڈھیر سارے مہمان آئے تو اس نے خود کو کھڑکی کے پردے کے پیچھے چھپا لیا۔ اس بار اس کے سونے سے پہلے، اسے کسی اور نے نہیں بلکہ چھوٹی پری نے ڈھونڈ لیا۔ اس طرح اس کی دوستی چھوٹی پری سے شروع ہوئی اور گزرتے وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔ گھر میں اس کے ساتھ باتیں کرنے والا کوئی نہ تھا۔ امی سارا دن گھر کے اور چھوٹے بھائی کے کاموں میں مصروف رہتیں۔ اگر فارغ بھی ہوتیں تو ٹی وی یا موبائل پر مشغول ہوتیں یا سو جاتیں اور ابو کو تو اس کی باتیں سمجھ ہی نہیں آتی تھیں۔ ابو کو جب وقت بھی ملتا تو وہ اسے پڑھنے کو یا کھیلنے کو کہہ دیتے۔ چھوٹا بھائی تو ابھی ٹھیک سے بولتا بھی نہیں تھا اور ویسے بھی وہ اسے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ اُس کی ساری چیزیں توڑ دیتا یا چھین لیتا۔ اس نے تو اس سے امی ابو کو بھی چھین لیا تھا۔۔۔ لیکن اب چھوٹی پری اس سے باتیں کرتی تھی، اس کے ساتھ کھیلتی تھی اور جب اسے کچھ بھی سمجھ نہ آتا تو وہ چھوٹی پری سے مشورہ کر لیتی۔ پہلے تو چھوٹی پری دیر دیر بعد آتی مگر اب وہ اس کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ اس بات کا علم اس کے امی ابو کو بالکل نہیں تھا اور ویسے بھی چھوٹی پری نے اس دوستی کے متعلق کسی کو بھی بتانے سے منع کر رکھا تھا۔ اس طرح اس دوستی کو چھ سال کا عرصہ بیت گیا۔ سکول کی سہیلیوں کو تو تب پتہ چلا، جب اس نے سب کے سامنے چھوٹی پری سے باتیں کرنا شروع کر دیں اور چھوٹی پری تو صرف اسے ہی دکھائی دیتی تھی۔ ہوتے ہوتے بات ٹیچر سے پرنسپل تک پہنچی تو گھر والوں کو بلایا گیا۔ لیکن گھر والوں کے سامنے تو اپنی اِس پراسرار دوستی سے مُکرنا تھا کہ کہیں چھوٹی پری ناراض نہ ہو جائے۔ پرنسپل کے اصرار پر سکول سے کچھ دنوں کی چھٹی لی گئی، گھر پر امی ابو نے اپنے دیگر رشتے داروں کے ہمراہ پوچھ گچھ جاری رکھی مگر وہ نہ مانی۔ ڈاکٹر کو دکھایا گیا تو چھوٹی پری ناراض ہو گئی۔ اب وہ اسے مناتی بھی تو کیسے۔۔۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی اس کے ساتھ ہوتا اور چھوٹی پری تو اس سے اکیلے میں ملتی تھی اور پہلے تو وہ زیادہ تر اکیلی ہی رہتی تھی۔ جب بھی وہ کسی مشکل میں ہوتی تو چھوٹی پری اسے ڈھارس دیتی، وہ روتی تو اسے ہنسا دیتی، اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی، اس کے کپڑوں، بالوں، کھلونوں اور ان سب چیزوں کی تعریف کرتی، جو اسے پسند تھیں۔۔۔ چھوٹی پری نے اس سے اکیلا کیا چھوڑا، وہ خود بھی خاموش ہو گئی، کھانا پینا چھوڑ دیا اور ایک دن چکرا کر بے ہوش ہو گئی۔۔۔
آج ہسپتال میں داخل ہوئے اسے تیسرا دن ہے اور وہ کومہ میں ہے۔ امی، ابو، بھائی، نرس اور ڈاکٹر سبھی کی آوازیں سن سکتی ہے مگر وہ ایک آواز، جس کے کہنے پر اسے اُٹھنا تھا، جانے کہاں غائب ہو گئی!!! اس کا بے جان جسم پوری قوت سے زبان کو حرکت دینا چاہتا ہے کہ وہ اپنی پری کو آواز دے سکے۔ بند آنکھوں میں اس کا تصور بھی تو نہیں آ رہا۔۔۔ یا شاید اب اس کا اپنا وجود پری کی طرح ہو گیا ہے۔۔۔ بصارت و بصیرت کی حدوں سے ماورا !

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post