شہتوت : تحریر اور ترجمہ فاروق سرور

” شہتوت “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پشتو ادب سے

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کیا جائے۔چاول تو بڑے مزے دار تھے،جبکہ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ اب مزید کھائے جائیں۔
لیکن مزید کہاں سے آئیں گے؟ اس کا ذہن اس نکتے پر دوبارہ سوچنے لگتا ،بلکہ بار بار سوچتا۔
یہ شہر کے آخر میں کچھے مکانوں کی ایک بڑی سی گلی یا محلہ تھا۔وہ اپنے گھر کے سامنے ایک دوسرے مکان کی چوکاٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور مسلسل مزےدار چاولوں کے متعلق سوچتا جا رہا تھا کہ اب چاولوں سے بھری ہوئی ایک دوسری پلیٹ کیسے ممکن ہوگی۔
گلی میں یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کرفیو لگا ہوا ہو، کیونکہ کسی کی بھی کوئی آمد نہیں ہورہی اور کوچہ تھا کہ خالی خالی تھا اور کسی ہو کا عالم پیش کر رہا تھا۔
کچھ دیر پہلے وہ بڑے غصے میں تھا۔اس کی اور ان کے مکان کی چھت پر بیٹھے ان کے بلے کی ایک ہی کیفیت تھی۔دونوں کو کسی ساتھی کی سخت ضرورت تھی اور ان دونوں میں بلا تو زور زور سے چیخ رہا تھا،جبکہ وہ صبر کا دامن تھامے ہوئے تھا اور اس کی چیخیں اس کے اندر تک ہی محدود تھیں۔یہ سب کچھ کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔
لیکن قیامت صرف یہ ایک نہیں تھی،جبکہ آگے تین اور قیامتیں بھی اس کی منتظر تھیں۔
پہلی قیامت تو اس وقت سامنے آئی، جب اس کے ہمسائے کا وہ نوجوان لڑکا اپنے گھر سے باہر نکل آیا،جس سے اس کی بنتی نہیں تھی۔ کئی مرتبہ ان کی لڑائی بھی ہوچکی تھی اور اب بھی ان میں بات چیت بند تھی۔لیکن اس لڑکے نے کمال شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ بھی نہیں کہا اور اپنے گھر کی چوکھٹ پر بہت ہی خاموشی کے ساتھ بیٹھ گیا۔
دوسری قیامت تو بانو نے ڈھائی،جو محلے کی سب سے خوبصورت حسینہ تھی،جس پر وہ دل ہی دل میں مر مٹتا تھا،لیکن بانو نے اپنے گھر سے نکل کر اس کے سامنے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی بے مروتی کا مظاہرہ کیا، بالکل ایسا ظاہر کیا کہ جیسے وہ اسے جانتی تک نہ ہو اور وہ کوئی انسان ہی نہیں ہو،بلکہ ہمسائے کے لڑکے لقمان کو تو دیکھ کر اس نے خوب ادائیں دکھائیں۔ اب اسے احساس ہوا کہ لقمان اس کے مقابلے میں بہت ہی خوبصورت تھا، اسی لئے تو اس کے زیادہ نمبر بنے اور بانو جیسی دلربا نے اسے اپنی خوب صورت نگاہوں سے بار بار گھور کر پیچھے کی طرف دیکھا بھی ۔لیکن کیا کرتا، موقع کی نزاکت کو دیکھ کر وہ چپ ہی رہا،جبکہ یہ تمام ظلم اس کا مظلوم دل ہی سہہ گیا۔
تب بانو کی دوبارہ واپسی ہوئی،دوبارہ لقمان کے ساتھ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا،اپنے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوے بھی لقمان کو دیکھ کر بانو ایک بار پھر مسکرائی اور اس طرح تیسری قیامت بھی گزر گئی،جس نے گزرنا ہی تھا۔
اب اس خالی گلی میں چوتھا ظلم یا چوتھی قیامت اس پر یہ آئی کہ اس علاقے کی ایک بدنام زمانہ عورت گل یاسمین کا وہاں سے گزر ہوا،جو مٹک مٹک کر چل رہی تھی۔
گل یاسمین نے بھی گزرتے وقت اپنے برقعے سے اپنا میکپ زدہ چہرہ صرف لقمان کو ہی دکھایا اور اس پر اپنی ایک نہیں بلکہ بہت ساری مسکراہٹیں نچھاور اور قربان کیں اور آگے کی طرف بڑھ گئی،جبکہ لقمان بھی اچانک اس کے پیچھے یوں روانہ ہوا کہ جیسے اس کے بغیر یہ گل یاسمین خزان زدہ ہو جائے گی۔
اچانک بلے کی چیخوں کی آواز نے اسے ان تمام قیامتوں سے باہر نکالا،اس نے جب چھت کی طرف دیکھا، تو بلا کسی نوجوان اجنبی بلی سے لڑ رہا تھا اور ان دونوں میں خوفناک چیخوں کی صورت میں تیز تر خیالات کا تبادلہ ہورہا تھا۔
اب دوبارہ اس کا ذہن اس طرف گیا اور سوالات ابھرنے لگے کہ مزے دار اور لذیذ چاولوں سے بھری ہوئی یہ پلیٹ آئی کہاں سے تھی،جسے اس نے اکیلے ہی اکیلے نوش جان فرمایا۔
اچانک اسے یاد آیا کہ یہ پلیٹ تو بانو نے اسے بلا کر دی تھی کہ اسے لقمان کے گھر پہنچانا اور اس کی والدہ سے کہنا کہ لقمان کو کہنا کہ یہ بانو نے بھیجا ہے،لیکن اس نے بجائے لقمان کے گھر پہنچانے کے اس پلیٹ کے تمام چاول کو خود اپنے مہمان خانے کے روڈ کی سیڑھیوں پر تناول فرمایا۔واہ کیا مزے دار چاول تھے ،کیونکہ اس میں بانو کا لقمان کے لیے شدت کا پیار جو موجود تھا اور پیار کا چاول تو مزیدار اور لذیز ہوتا ہی ہے۔
بلا اور بلی کی لڑائی مسلسل جاری اور ساری تھی۔ یہ بات آخر تک اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ اس کے قدم کیوں خود بخود بانو کے گھر کے دروازے کی طرف اٹھ گئے ، وہ خالی پلیٹ لیکر اس طرف روانہ ہوا اور بانو کے گھر کے سامنے پہنچ گیا۔
اگرچہ دستک ہلکی سی تھی لیکن اس نے کام خوب خوب دکھایا،بلکہ بڑھ کر دکھایا کہ خوبصورت، پیاری سی اور مغرور بانو مٹکتی ہوئی دروازے پر فوراً ہی آن پہنچی۔
اوپر چھت پر بلیوں کی گفتگو کا تبادلہ ہو رہا تھا، جبکہ نیچے اس اور بانو کی گفتگو کا تبادلہ ہونے لگا۔
“جی کیسے آنا ہوا؟”
مغرور اور دلکش آنکھوں والی حسینہ نے پوچھا۔
“دراصل مجھے لقمان کی والدہ نے بھیجا ہے کہ چاول بڑے مزے دار لگتے ہیں ،دو پلیٹ اور دینا، کیونکہ لقمان کو ایسے چاول بہت ہی پسند ہیں.”
اچانک بانو نے اس کی انگلیوں کی طرف دیکھا ،جن پر ابھی بھی چاول لگے ہوئے تھے اور نتیجتاً وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔
“لقمان کو گولی مارو، یہ کیوں نہیں کہتے کہ مجھے ہی چاول پسند ہیں، آؤ میں تم کو دوں۔گھر میں کوئی بھی نہیں۔”
شاید اوپر بلی کو بات سمجھ میں آگئی تھی، یہ کیا ، اب اوپر بھی بھوک مٹ رہی تھی اور بانو کے گھر میں بھی۔ جبکہ بانو کے گھر میں کھڑا شہتوت کا درخت ،جس میں میٹھے میٹھے سرخ رنگ کے شہد سے بھرے ہوئے شہ توت لگے ہوئے تھے ،اس میں بھی بہت سارے پرندے جمع تھے،جو تیزی سے شہتوت کھارہے تھے اور لگ رہا تھا کہ جیسے ان کی بھوک مٹنے کا نام نہیں لے رہی ہو۔بس کیا کہا جائے کہ ہر طرف کمبخت بھوک ہی بھوک تھی ، جو مٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post