زرد گلاب : فریدہ غلام محمد

اس نے لکھتے لکھتے اماں کی طرف دیکھا جو اسے بغور دیکھ رہی تھیں “۔کیا ھوا اماں ؟‘‘
’’کچھ نہیں، کیا ھونا ھے ” انھوں نے رسانیت سے جواب دیا ۔تابی نے کاغذ قلم ایک طرف رکھ دئیے اور ان کی کرسی کے ساتھ نیچے بیٹھ گئی۔

” ۔وہاں بہت کام ھوتے ہیں اماں آپ کے پاس سکون تو ھے یہاں میرا قلم یوں یوں دوڑتا ھے ”
“میں نے قلم کو دوڑنے سے منع نہیں کیا لیکن یہ بتاؤ تم بڑی کب ھو گی‘‘ اماں نے مسکراتے ھوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔

’’آپ تو ماں ہیں ظاہر ھے میں جتنی بھی بڑی ھو جاوں اس سے کیا فرق پڑتا ھے” ۔اس نے ذرا اور قریب ھو کر گود میں سر رکھ لیا۔

“۔۔اماں یاد ھے جب لڑکپن تھا توتجھے ہر دوسرا لڑکا پسند آ جاتا تھا‘‘۔ اماں نے جملہ مکمل کیا تو وہ ہنس پڑی ۔
“ہر لڑکے کے بارے میں آپ کو بتاتی تھی اور یاد ھے میں آپ کو کہتی تھی ارے چھوڑیں نا یہ تو عمر ہی ایسی ھوتی ھے ۔’’ ہاں اور جو ذرا بھی تم سے بات کرنے کی کوشش کرتا اس کو چھٹی کے وقت اپنی سائیکل سے ٹکر مارتی اور والدین ہمیں شکایات لگانے پہنچ جاتے‘‘ اماں نے جملہ مکمل کیا
ہاہا ہا۔ وہ ہنس پڑی۔ اماں اصل میں مجھے اس وقت یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ لڑکی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ویسے اس عمر میں یہ سب اچھا لگتا ھے کسی کا ٹفن چرا کر کھانا ۔کسی کی بلاوجہ حمایت کرنا ۔کوئی پسند آ جائے تو پہروں اسے سوچا کرنا ،برسات میں خواہ مخواہ بھیگنا ،پہروں آئینہ دیکھنا ۔
’’ہاں لیکن تم تھی بھی خودپسند اتنی کے اور کوئی نظر ہی نہیں آتا تھا یاد ھے میرے سارے لوشن لگا لگا کر پاؤں چمکاتی رہتی تھی پوچھو بھلا چہرے کی بجائے پیر ،بھلا کوئی بات ھے ‘‘ ۔یہ بھی اماں نے اسے یاد کروایا
“کیا کرتی چہرہ تو تھا ہی خوب صورت ہاتھ اور پاؤں میری کمزوری تھے‘‘۔

“اللہ کی بندی وہ بھی مومی اور خوبصورت تھے ”
اماں میں یہ سب لکھنے والی ھوں یاد کروائیں نا باتیں ۔
باوری ھو گئی ھے کیا ؟شوہر چوٹی سے پکڑ کر نکال باہر کرئے گا اب اماں سنجیدہ تھیں ۔
“اوہ میری ماں پہلے کون سا تخت پر بٹھایا ھوا ھےاور اب آپ کہیں گے تیری چوائس تھا پر اماں اس عمر میں ہر بندہ رانجھا ہی لگتا ھے یہ تو بعد میں پتہ چلتا ھے وہ رانجھا نہیں” کھیڑا” تھا “۔

اس نے منہ بسورا۔ادھر آؤ پیار کروں اماں کو اس پر بہت پیار آیا اس کے ماتھے کو چوما اور اس نے سر پھر گود میں رکھ لیا۔
’’ویسے بھی اماں میرا رانجھا تو رسموں کے ہاتھ بک گیا تھا اتنے بڑے حادثے کے بعد شاید میری نظر رو رو کر دھندلا گئی ھو گی اور جس نے پہلا ہاتھ میرے شانے پر رکھا اسی کی ھو گئی آپ کو پتہ نہیں جب انسان کرچی کرچی ھو جاتا ھے تب منظر بھی بکھر جاتے ہیں ۔”
اماں افسردہ ھو گیئں
“میں مانتی ھوں بابا اور آپ کی تربیت میں کوئی کمی نہیں تھی پر عشق ایک سمندر ھے۔اس میں کوئی ساحل کوئی کنارہ نہیں ۔محبت تو ایک بادبانی کشتی ھے محبت کی کشتی جس کو دیوانگی کی ھوا چلاتی ھے اپنی خواہش سے،اپنی مرضی کے مطابق یہاں سفر اپنی مرضی سے نہیں ھو سکتااور اماں عشق سب کچھ بھلا دیتا ھے میں تربیت تو نہیں بھولی۔ میں نے خود کو رسوا کیا نہ آپ سب کو ‘‘
میں نے تو اکثر اس بات سے ہی خود کو تسلی دے لی میں چاند دیکھ رہی ھوں تو اس نے بھی تو دیکھا ھو گا ۔کبھی سوچا یہ بھی بہت ھے ہم ایک فضا میں سانس تو لیتے ہیں آپ کو یاد نہیں جب وہ پہلی بار ہمارے گھر آیا تھا۔۔۔۔ہاں یاد ھے تو نے اسے چائے دیتے ھوئے یہ دیکھا ہی نہیں اس نے ہاتھ نہیں بڑھایا وہ پگلا تم کو دیکھے جا رہا تھا اور چائے گر گئ”اماں بھی شاید اس کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

“اماں یاد ھے میں روز دروازے کو دیکھتی تھی اس کا خط آیا ھو گا ”
“وہ کون سا مایوس کرتا تھا مگر خط کے بعد تیری خوشی قابل دید ھوتی تھی ۔
“تب ماں بن کر روکا کیوں نہیں مجھے؟آج بھی شکوہ تھا اس کی نگاہوں میں ۔میں نے تیرے بابا سے بات کر رکھی تھی ۔مجھے یقین تھا میری اتنی پیاری بیٹی کو قبول کرتے ھوئے تیرے بابا کے دوست کو کوئی اعتراض نہیں ھو گا”اماں نے اس کے سر پر پھر ہاتھ پھیرا۔
“اماں اس کو لڑنا چاہیے تھا میرے لیے ۔خاموش رہ کر اس نے میری عزت نفس مجروع کی اور سات سال کا نچوڑ ایک جملہ لکھ کر اس نے مجھے بتایا کہ میرا مقام کیا ھے اس نے لکھا “تمہارے والدین جہاں چاہیں شادی کر لینا میں بہت مجبور ہوں”,
“ایسے کون کہتا ھے اماں وہ یہ کہتا میں بےوفا ھوں تو شاید مجھے اتنی تکلیف نہ ھوتی جتنی اس پر ھوئی اس نے بےوفائی کو مجبوری کہا ،منافقت کی “اس کے آنسو بہنے لگے
“ارے پگلی تیس سال گزر گئے اب آنسو بہا رہی ھے اب تو کسی کی بیوی ھے ،اب تمہیں اپنے بچوں کی شادیاں کرنی ہیں ”

“اماں میں انسان تو ھوں نا کیا مجھے کوئی حق نہیں کہ اپنا غم بیان کر سکوں صرف چند لمحے ہی سہی اپنے لئے جی سکوں اور پھر کیا یاد کروا رہی ہیں اس جہانگیر کو جس نے مجھے انار کلی کی طرح دیوار میں چنوا رکھا ھے مجھے ہی کیوں۔ کئی جہانگیر ھوں گے اور کہیں انار کلیاں جو دیواروں میں چنوا دی گئی ھوں گی ”

“میں اچھی بیوی ھوں ،ماں ھوں مگر جس طرح بےچارگی سے میں نے زندگی گزاری ھے آپ جانتی ہیں اماں اس نے مجھے محبت دی نہ عزت تمام عمر وہ تو اور عورتوں میں گھرا رہا ساری عمر میری طرف اس نے کبھی نظر بھر نہیں دیکھا اولاد کے لئے اس نے میرے جسم کی توہین کی ،جائز تعلق کو کراہت سے دیکھا شادی صرف اس چیز کانام تو نہیں نا ۔ اسے تودنیا کو دکھانے کے لئے اپنی دولت کے لئے اسے اولاد چاہیے تھی اسے ملی مگر مجھے کیا ملا اماں ذرا سوچئیے مجھے کیا ملا پہلے ادھوری محبت پھر ہرجائی شوہر ”
“ایک غلطی تم نے کی ھے تابندہ “,اماں کی آواز پر وہ چونکی “اماں کون سی غلطی ؟ تم نے احمر کو اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہیے تھا۔”

“کیا بتایا اماں کچھ بھی نہیں وہ مجھے سو محبتوں کی کہانیاں سنا رہا تھا اور تب میری اس سے شادی بھی نہیں ھوئی تھی۔ تب میں نے اس سے کہا اچھا نہیں تھا تم ایک ہی محبت کرتے اس پر اس نے پوچھا اس سے کیا ھوتا ؟”

“اس سے تم کو پتہ تو چلتا محبت بڑی معتبر شے ھے یہ کسی ایک کے لئے ھوتی ھے وہ ملے نہ ملے اس سے محبت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔تب اس نے مجھ سے پوچھا “کیا تم نے کبھی محبت کی؟۔

ہاں کی ۔پھر؟پھر کچھ نہیں وہ چلا گیا یاد آتا ھے ؟ہاں لیکن جب کوئی محبت دینے والا مل گیا تو شاید میں بالکل بھول جاؤں گی تب اس نے بےساختہ کہا شادی کرو گی مجھ سے اور پھر باقی سب آپ کو پتہ ھے وہ اب گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھی تھی۔

“پھر اس نے محبت دی تم کو ؟”
“نہیں اماں اس نے مجھے کہا تم نے اپنے حصے کی محبت کر لی ھے تمہیں محبت کی ضرورت نہیں تم میری بیوی ھو بس سارے حق ملیں گے سوائے محبت کے”۔
وہ مرد ھے تابی تم نہیں جانتی یہ شک کی مٹی سے بنتے ہیں ،انا کے غلام ھوتے ہیں ۔مگر اماں ہر لڑکی محبت کرتی ھو گی تو کیا اسے سزا دی جائے ؟”
“ہر لڑکی اپنے شوہر کو یہ نہیں بتاتی کہ اسے کبھی محبت ھوئی تھی اس لئے کافی سکھی رہتی ھے”

اماں محبت غلطی تو نہیں ھے بالفرض ھوتی بھی تو کیا اس کی معافی نہیں مل سکتی ۔میں نے شادی کے بعد نہیں٫ پہلے بتایا تھا اسے وہ شادی نہ کرتا اسے یہ سمجھ نہیں آئی اماں اس طرح تو اس نے میری محبت کو مرنے نہیں دیا وہ چاہتا تو اپنے پیار سے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیتا ”

“سچ کہوں تو یہ اس کی بد نصیبی ھے “,اماں نے اسے ایک دم معتبر کر دیا تھا ۔

اماں اور اس نے کھانا کھایا ۔اس نے بچوں کو فون کیا پھر سکون سے برآمدے میں آ کر بیٹھ گئی ہاتھ میں کاغذ قلم تھا ۔پورے چاند کی رات۔رات کی رانی کی خوشبو عجب جادوئی رات تھی اس نے لکھنا شروع کیا اپنی زندگی کا ہر پل صفحے پر اتار دیا کتنی دیر پڑھتی رہی ،دل میں سکون اترتا رہا مگر یہ کیسے چھپے گا بھلا اپنی ہر خامی ،کجی کون دنیا کو بتاتا ھے ۔
نہیں تابی یہ ادب سے خیانت ھے ہر موضوع پر لکھ سکتی ھو اپنی باری آئی تو رسوائی کا خوف دامن گیر ھو گیا ۔وہ تھک چکی تھی شاید وہیں آنکھ لگی ۔تیز ھوا اور پانی کی پھوار چہرے پر پڑی تو آنکھیں کھولیں شاید فجر کا وقت تھا وہ صفحات کہاں گئے اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور یہ دیکھ کر دل دھک کر کے رہ گیا وہ سارے صفحات پانی سے دھل چکے تھے ۔اب وہاں کچھ نہیں تھا ۔
اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی سلام پھیرا تو اماں بھی ساتھ ہی بیٹھی نظر آئیں ۔دعا مانگ کر اس نے چائے بنائی۔
“کہانی لکھ لی ؟ نہیں اماں اپنے بارے میں لکھنا بہت مشکل ھے مجھے کچھ نہیں لکھنا اب ”

اس کی آواز میں ہار چھپی تھی ۔
انھوں نے شکر کیا اس نے انھیں کاغذ پھینکتے ھوئے نہیں دیکھا وہ آج بھی اتنی معصوم تھی جتنی پہلے ۔اس کہانی سے شاید احمر اور اس کے بیچ کا خلا اور بڑھ جاتا جو وہ کبھی نہیں چاہتی تھیں ۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post