بابا اب زمانہ بدل چکا ہے: فیصل اکرم


میں نئی نسل کیلئے کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں . شائد میری گفتار میں نکھار نہیں رہا اسی لئے میری زبان سے نکلا ہر لفظ بے معنی سا ہو گیا ہے اس کے باوجود میں اپنے وجود میں زندہ ہوں . جواں ہمت کے ساتھ . بے شک اکیلا ہوں . لیکن ہوں . بالکل ایسے جیسے تاحدِ نظر بچھے پتھریلے اور چٹَیل میدان کے بیچ و بیچ انگلی بھر کا خوِد رو پودا اپنے وجود کا احساس دلانے کے واسطے اپنی کمزور جڑوں کے سہارے کھڑا رہتا ہے . نزاکت ایسی کہ پانی کی تیز پھوہار اس کو جڑوں سمیت اکھاڑ دور پھینک دے لیکن جذبہ اتنا مضبوط کہ پتھریلی زمین کا سینہ چیر کر اپنے ہونے کا اعلان کرے .
سفید کاغذ پر سرخ روشنائی سے کچھ لکھنے کی سوچ لئے آج پھر اپنے رائٹنگ ٹیبل پر کہنیاں ٹکائے , گردن نیہوڑائے اپنے ستر سالہ پرانے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے سہارہ دئے کرسی پر اپنے وجود کا بوجھ ڈالے بیٹھا ہوں . کاغذ میرے سامنے ایک پیاسے مسافر کی جِیبھ کی طرح جو خشک ہو کر تالُو سے چمٹی چند گھونٹ پانی کو ترس رہی ہو , پڑا ہے . آج میں اس کاغذ پر ایسے الفاظ ضرور اتاروں گا جن کا بوجھ مَیں دل پر محسوس کرتا ہوں . اسی بوجھ کے باعث مَیں زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہوں . میرا چہرہ زمین کے اوپر ہے اور باقی وجود زمین کے اندھیروں میں دفن ہو چکا ہے . شائد یہی وجہ کہ میرے وجود کو تسلیم کرنے والا کوئی باقی نہیں بچا ہے .
کچھ لکھنا چاھتا ہوں سرخ روشنائی سے .
میں نے کاغذ کے ایک کونے پر بایاں ہاتھ رکھا اور قلم اٹھایا . سب سے پہلے وہ بات لکھنا چاہ رہا تھا جس کے جواب میں میرے سب سے چھوٹے بیٹے نے آج ہی کہا تھا ” بابا آپ کو کچھ پتہ نہیں چلتا ,بابا زمانہ اب بدل گیا ہے ” لیکن وہ بات کیا تھی ؟ مجھے یاد نہ آیا . شائد میرا حافظہ آہستہ آہستہ جواب دے رہا ہے . میرے ہاتھ کی انگلیوں میں دبا ایک قلم ہے لیکن کلائی کے گرد ایک آھنی ہتھکڑی حمائل ہے جو مجھے وہ سب کچھ لکھنے سے روک رہی ہے جو مَیں لکھنا چاہتا ہوں .
” بابا آپ کو کچھ پتہ نہیں ہے , بابا زمانہ اب بدل چکا ہے ” مَیں الفاظ کو دہرایا . مَیں نے ایک گرم اور سیال مادے کو کانوں کے راستے اندر جاتے محسوس کیا اور پھر وہ میرے دماغ کی نس نس میں گردش کرنے لگا . آہستہ آہستہ میں اس سیال مادے کی حرکت کو پاؤں کے انگوٹھوں تک محسوس کیا . مَیں نے اپنے حافظے پر زور دیا . مجھے اپنے ہاتھ کے گرد آھنی ہتھکڑی ٹوٹنے کا احساس ہوا . میرا ہاتھ اب بالکل آزاد ہے . میں ضرور لکھوں گا . اُن کیلئے جن کو میں اپنا مانتا ہوں . یہ بات الگ ہے کہ وہ میرے وجود کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں . میں نے اپنے دماغ کے قبرستان میں دفن ستر سالہ ماضی کو اکھاڑ باہر نکالا ہے . مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب غلامی کی زنجیر ہماری گردنوں کے گرد بندھی ہوئی تھی . چوک کے درمیان سرکاری نل تھا جس سے ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی پانی بھرتے تھے لیکن ہندو براھمنوں کے سوا کسی کو نل کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی . نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی نہیں . ایک مرتبہ کسی مسلمان نے اس نل کو منہ لگا کر پانی پی لیا تھا . جس سے ایک بھیانک لڑائی چھڑ گئی تھی . بعد میں نل گنگا جل سے پَوِتر کیا گیا تھا .
آزادی بھی کیا نعمت ہے . کیا آج ہم سب آزاد ہیں ؟ میں نے سوچا . یا پھر کوئی زنجیر آج بھی ہماری گردنوں کے گرد بندھی ہے . مجھے اپنی جوانی اچھی طرح یاد ہے . جب میں اُن مسافروں کیلئے شجرِ سائہ دار بنا جو غلامی کا صحرا پار کرکے چلچلاتی دھوپ میں اپنی منزل تلاش کر رہے تھے . میں ان لوگوں کیلئے لکھنا چاہتا ہوں جو آج مجھے دوزخ کا ایندھن سمجھ رہے ہیں .میں نے سفید کاغذ پر قلم کی گردن جھکا دی ہے . لیکن شائد میرے قلم کا خون بھی سفید ہو چکا ہے . اس کے باوجود مجھے لکھنا ہو گا . تب تک جب تک میری رگوں میں خون ہے . سرخ روشنائی سے ہی لکھنا ہو گا . تاکہ میرے الفاظ کو غیر اہم نہ سمجھا جائے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post