حضرت ادریس علیہ السلام : اقتدار جاوید


اقتدارجاوید
      یوں تو ہر پیغمبر ایک خاص واقعے یا عادت کے سبب ہمیں یاد رہتےہیں جیسے صبر کے لیے ایوب قرأت کے لیے لحنِ داوٴدی اور موت کےبغیر عیسٰی علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور زلیخاے مصراور حضرت یوسف کی محبت بھری کہانی دنیا کی بہترین کہانی ہے۔اسی طرح اپنی فلسفیانہ جہت میں حضرت ادریس کی زندگی بہت دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔
حضرت ادریس علیہ السلام مغرب یا عہد نامہ جدید میں Enoch کےنام سے یاد کیا جاتا ہے۔حضرت ادریس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہدنیا میں شیث کے بعد دوسرے نبی تھے اور نوح ان کے جانشین تھے۔
حضرت ادریس کے نام سے تو ہم آشنا ہیں مگر ان کی زندگی سےکچھ زیادہ واقف نہیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں فلسفی پیغمبر مانا جاتا ہے اور انہوں نے زندگی موت اور جنت دوزخ کےمتعلق بھی خوب نکات اٹھاے ہیں۔ادریس درس سے مشتق ہے یعنی وہ درس دیتے تھے یا مدرس اور نکتہ آفرین تھے۔
وہ شہر بابل میں پیدا ہوے ۔ان کے بارے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ از حد ضروری ہے کہ وہ قابیل کے بیٹے تھے ۔عہد نامہ عتیق کے مطابق قین آدم کی پہلی اولاد تھے جنہیں ہم قابیل کے نام سے جانتے ہیں۔جنہوں نے ہابیل کو قتل کیا تھا۔ عہد نامہ عتیق کے مطابق خدا نےانہیں اپنی حدود سے باہر نکال دیا اور انہوں نے عدن کے مشرق میں رہائش اختیار کی۔ہابیل عبرانی زبان میں چرواہے کو کہتے ہیں اندونوں بھایوں کے نام ان کے پیشے کو ظاہر کرتے ہیں قابیل لوہے کےاوزار بناتے تھے اور عبرانی زبان میں لوہار کو قین ہی کہتے ہیں۔عدن کی ایک تو وہ اساطیری اہمیت ہے جسے ہم باغِ عدن کے نام سےجانتے ہیں مگر جو اس کہانی کو حقیقت مانتے ہیں ان کے نزدیک جہاں دجلہ اور فرات سمندر میں گرتے ہیں یہی وہ جگہ ہے۔چونکہ آدم بھی بہشت سے آے تھے لہذا انہوں نے دنیا میں درخت کی صورت میں God Lord بنایا جو دیکھنے میں بھلا اور کھانے میں بھی چیزیں فراہم کرتا ہے۔
ادریس کی والدہ کا نام اوان تھا اور ان کے ستتر بچے تھے۔ہمارےادریس کی والدہ کا نام اوان تھا اور ان کے ستتر بچے تھے۔ہمارے ایمان کے مطابق ان کے والد کا نام یارد اور والدہ کا نام برکانہ تھا اور آپ حضرت نوح کے پردادا تھے۔آپ کی روح ملک الموت نے نہیں خود خدا نے چوتھے آسمان پر قبض کی کہ ایک فرشتے نے ادریس کو اطلاع دی کہ ملک الموت آپ کی جان قبض کرنے آ رہا ہے تو آپ خود خدا سے ملنے اسی کی پروں پر بیٹھ گئے۔انھوں  نے ان سے وعدہ کیا قیامت تک ہر نیک کام کا آدھا ثواب ان کوملتا رہے گا۔
آپ کا اصل نام خنوح یا حنوک ہے اور لقب ادریس۔ان کے ایک ہی صاحب زادے تھے جن کا نام متو شالخ تھا۔آپ بہترزبانیں جانتے تھے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اولاِد آدم جس علاقے میں یہاں منتقل ہوتی تھی وہاں کی زبان بولتی تھی ورنہ اس زمانے میں اتنی زبانوں کا ظہور ناممکن ہے۔ادریس قابیل کی اولاد سے نہیں تھے۔قابیل کے بیٹے کا نام بھی خنوح تھا لہذا بعض لوگ انہیں قابیل کابیٹاسمجھتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ان کو عمِر مقررہ سے پہلے اٹھا لیا گیا۔ان کو موت دے کر دوبارہ زندہ کیا گیا۔فرشتے نے آپ سے پوچھا کہ جان کنی کاعالم کیسا تھا تو آپ نےکہا جیسے زندہ جانور کی کھال کھینچی جاتی ہے۔تب فرشتے نے خداکی قسم اٹھا کر کہا کہ میں نے ایسا کسی ذی روح کےساتھ نہیں کیا۔
ان کو زندگی ہی میں فرشتہ انہیں بہشت میں لے گیا اور آپ نے اپنےجوتے طوبٰی کے پیڑ کے نیچے اتار دیے جب جنت کے اندر داخل ہوےتو ایک درخت پر چڑھ کر چھپ گئے۔ فرشتے نے کہا اب نیچے آئیے اوربہشت سے باہر چلیے۔ انہوں نے کہا میں نے تو موت کا بھی دکھ چکھ  لیا اوردوزخ سے بھی ہو آیا ہوں اب جنت میں ہی رہنے کا ارادہ ہے۔خدانے فرشتے سے کہا ان کو وہیں رہنے دو۔پھر خدا کی آواز آئی کہ ادریسجنت سے بھی اعلٰی ہے اور میں جنت کو دتیغ نہیں رکھتا ہوں۔ خدا نےان سے کہا سب سے پہلے جنت میں خاتم الانبیا داخل ہوں گے۔تب وہ درخت سے اترے۔
ملک الموت نے آپ سے کہا میں تم سے رشتہ داری چاہتا ہوں تو آپ نےکہا پہلے مجھے جانکنی کی تکلیف سے آشنا کر تو اس نے آپ کی جان قبض کر لی۔اور پھر زندہ زندہ کر دیایہ ساری باتیں ان کی شخصیت کو ایک فلسفیانہ جہت عطا کرتی ہیں۔
حضرت ادریس دنیا کے پہلے فلسفی آدمی تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی بحث مباحثہ کے بعد موت کو بھی دیکھ لیا اور موت سے پہلے ہی دوزخ کی اذیت اور جنت کی نعمتیں بھی چکھ لیں۔اور فرشتے سے کہا خدا کاوعدہ ہے جو کوئی جنت جاے گا وہ ابدالاباد تک جنت میں ہی رہے گا۔سو میں تو باہر نہیں آنے والا۔اسی بنیاد پرعظیم مسلم مفکر ابنِ عربی نے انہیں فلسفیوں کا پیغمبر کہا ہے۔عہد نامہ قدیم کے مطابق آپ کا نام منف یا ممفس ہے۔آپ مصر میں پیدا ہوے اور ہرمس المہراسہ کے نام سے معروف ہیں۔ہرمس یونانی زبان میں ستارہ عطارد کو کہتے ہیں۔یہ وہی ہرمس ہیں جو یونانی اساطیر میں تجارت، چوروں اور مسافروں کا دیوتا ہے اور زیوس دیوتاکا بیٹا ہے.انہی اساطیر میں انہیں ٹرکسٹرمانا جاتا ہے۔ٹرکسٹر ذہانت کی علامت ہے اور دوسرے دیوتاوٴں کو اپنی ذہانت سے مغلوب کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post