مانچی : سعید اشعرؔ

سعید اشعر
سعید اشعرؔ
“اوئے الو کے پٹھے، اس کو کہاں سے اٹھا لائے ہو، اسے کون پالے گا، یہ مر جائے گی”
ہما شاہ نے احمد کو ڈانٹا۔
“میں کیا کرتا، گلی میں بچے اس کو مار رہے تھے، میں اٹھا لایا، آپ فکر نہ کریں میں اس کو پال لوں گا”
احمد نے اپنے عمل کا جواز پیش کیا۔ ہما شاہ نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی بری حالت تھی۔ اس کے نحیف بدن میں ہلنے جلنے کی سکت بھی نہیں تھی۔ ہما شاہ نے اسے اپنے ہاتھوں میں لیا تو اس نے ہلکی سی آواز میں میاؤں کی۔ وہ بمشکل چند دنوں کی تھی۔ گود میں لے کے ہما شاہ نے چھوٹی چمچ سے نیم گرم دودھ کے چند قطرے اس کے منہ میں ڈالے۔ لو جی آج سے ہما شاہ اس کی بھی ماں بن گئی۔ جوں ہی اس کے بدن میں دودھ کے قطروں سے ذرا سی توانائی آئی تو پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ اب وہ مہربان ہاتھوں میں ہے۔ اگرچہ شدید گرمی کا موسم تھا۔ لیکن اے سی کی ٹھنڈک کی وجہ سے کمرے کا فرش ٹھنڈا تھا۔ اسے ٹھنڈا فرش اچھا لگا تو وہ وہیں سو گئی۔ ہما شاہ نے اسے نرم ہاتھوں سے اٹھا کر احمد کے ساتھ لٹا دیا۔ بھوک ختم ہونے کے بعد وہ محبت کی گرماہت میں گھنٹوں سوئی۔ جب اٹھی تو ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ میں کہاں ہوں۔ کہیں کوئی خواب تو نہیں جو ختم ہو گیا ہو۔ لیکن اس نے ہما شاہ کے مہربان ہاتھ پہچان لیے۔ وہ اسے دودھ کے برتن کے قریب لے کر آئی۔ وہ چپ کر کے اس کے پاس بیٹھ گئی۔ ابھی اسے پینا نہیں آ رہا تھا۔ ہما شاہ نے دودھ کا برتن ہاتھ میں لے کر اسے گود میں بٹھایا اور اس کا منہ اس کے سامنے کیا۔ اس نے اپنی ننھی سی زبان نکال کر دودھ میں ڈالی۔ اس نے دودھ کو محسوس کیا اور بار بار زبان اس میں ڈالتی رہی اس دوران وہ اپنی نئی ماں کو بھی دیکھتی رہی۔
شام کو صادق شاہ بھائی آئے تو اس وقت بھی یہ اسے دودھ پلانے میں مصروف تھی۔
“ارے اس کی حالت تو بہت خستہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کل تک زندہ رہے”
صادق شاہ بھائی نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔
“کیا کروں بھائی، اللہ کو منظور ہوا تو بچ جائے گی باقی ہمارا زور تو ہے نہیں”
ہما شاہ اس کے علاوہ کیا کہہ سکتی تھی۔
یہ کمزور ترین بچی تھی جسے ہما شاہ نے تھوڑی تھوڑی دیر بعد دودھ دیا تاکہ اس کے جسم میں کچھ توانائی آئے۔
اگلے دن صبح صبح یہ ہما شاہ کے بستر کے پاس کھڑی میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔ ہما شاہ کہتی ہے
“میں جلدی سے اٹھی اور اسے دیکھ کر کہا او شونی مانو، میری مانو، مانچی ابھی دودھ لائی”
اور مانچی ہما شاہ کی ایک پیاری لاڈو بن گئی۔ اس کا معمول ہوگیا دودھ پینا اور جہاں ہما شاہ وہاں وہ، یہ کچن میں وہ بھی کچن میں، جہاں جہاں یہ صفائی کروا رہی ہوتی تھی وہ بھی وہیں ساتھ ساتھ پہنچی ہوتی۔ یہ گھر سے باہر جانے لگتی وہ گیٹ میں بیٹھ جاتی اور جب واپس آتی تو وہ دوڑ کر ٹانگوں سے لپٹتی۔ مانچی اس گھر کا ایک اہم فرد بن گئی تھی۔ ہر آنے والا پہلے پوچھتا “مانچی کدھر ہے”
ہما شاہ آواز لگاتی
“مانچی مانچی”
اور مانچی سامنے آ موجود ہوتی۔
دو ماہ کی مانچی نے بہت پر پرزے نکال لیے تھے۔ احمد، ہما شاہ اور مانچی گھر کے تین کردار تھے۔ سارا دن ہما شاہ کبھی احمد کو آواز دیتی اور کبھی مانچی کو۔
ایک دن شام کے وقت احمد جب گھر آیا تو اس کے ہاتھ پیچھے تھے۔ وہ چپ چاپ اپنی ماں کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ ہما شاہ کی چھٹی حس نے اپنا کام دکھایا۔
“کیا ہے احمد”
“”مما، میں اکیڈمی سے آرہا تھا نا”
“تو” یہ ایک دم اس کی طرف گھومی۔
“کیا ہوا، بولو راستے میں سب ٹھیک تھا نا”
“جی مما کچھ نہیں”
“تو کیا ہوا بولو”
اس نے ہاتھ آگے کیا۔ ایک چھوٹا ننھا منا سا براؤن کلر میں کانپتا ہوا بلی کا بچہ اسے نظر آیا۔
“احمد اسے کہاں سے اٹھا لائے ہو، باہر چھوڑو، اس کی ماں پریشان ہو رہی ہوگی، چلو چھوڑ کر آؤ”
مگر احمد چپ چاپ کھڑا رہا۔
“احمد سنتے نہیں، چلو چھوڑ کر آؤ”
“مما اسے کہاں چھوڑوں، اس کی مما مر گئی ہے اور اس کے بہن بھائیوں کو بچوں نے مار دیا ہے، اسے بھی مار رہے تھے کہ میں نے اسے لے لیا”
“اوہ اللہ یہ بچوں کی کیسی تربیت کرتے ہیں ماں باپ کہ دل میں رحم کا جذبہ ہی نہیں ڈالتے، اوہو یہ تو زخمی بھی ہے”
ہما شاہ کے ہاتھ میں آتے ہی وہ مچلا اور نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگا۔
“اسے کیا ہوا”
ہما شاہ سمجھ گئی، سامنے مانچی کے دودھ کا برتن تھا۔ اس نے جوں ہی اسے چھوڑا وہ بھوکے پیٹ دودھ کے برتن کے نزدیک پہنچا۔ مانچی نے پیچھے سے اسے پنجہ مارا اور غرائی
“اوہ یہ کیا” ہما شاہ نے مانچی کو اٹھا کر پیار کیا۔
“مانچی، شونی مانچی دیکھ نا، چھوٹو سا ہے بالکل چھوٹو سا، بھوکا بھی ہے، دودھ پینے دو نا، میری اچھی مانچی ہو نا”
مانچی ہما شاہ کی گود میں دبک کر اسے دودھ پیتا دیکھتی رہی۔ یوں اس گھر میں ایک چھوٹو کا اضافہ ہوگیا۔
مانچی خود بخود اس کی نگران بن گئی تھی اس کے ہر الٹے کام پر اس کے سر پر ایک پنجہ مار کر اسے سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کرتی۔ یوں اس کی گھر میں رہنے کی تربیت کرنا جیسے مانچی نے اپنے سر لے لی ہو۔
رفتہ رفتہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوگئے۔ لڑائی جھگڑا، مار کٹائی اور بھاگ دوڑ جیسے کاموں میں چھوٹو سب سے تیز تھا۔ اکثر وہ مانچی کو مار کر اپنی مما ہما شاہ کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔ اور مانچی اس انتظار میں رہتی کہ کب وہ مما کے پیچھے سے نکلے۔ بعض اوقات یہ ہما شاہ کی چارپائی کے ارد گرد لڑتے اور فرینکلی اس کے اوپر سے چھلانگیں لگاتے ہوئے دوڑتے۔
مانچی رات کو ہما شاہ کے ساتھ سوتی تھی اور چھوٹو تاک میں رہتا کہ مانچی کہیں ادھر ادھر ہو تو وہ دوڑ کر اس کی جگہ پر قابض ہو۔ مانچی کی موجودگی میں چھوٹو احمد کے پاس جا کر سو جاتا۔ اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوتی جب چھوٹو کو لگتا کہ مانچی اپنی جگہ پر موجود نہیں۔ حالانکہ مانچی وہاں موجود ہوتی۔ وہ اسے دیکھتے ہی دوڑ کر واپس احمد کے پاس جا کر سو جاتا۔ بارہا ایسا بھی ہوتا کہ مانچی ہما شاہ کے پہلو میں اور چھوٹو اس کے پاؤں پر سر رکھے سویا ہوتا۔
ان کی موجودگی میں نماز ادا کرنا سب سے مشکل مرحلہ تھا
کیونکہ جائے نماز بچھاتے ہی چھوٹو جہاں بھی ہوتا دوڑتا ہوا آتا اور جائے نماز کے کارنر پر آ بیٹھتا۔ پھر مانچی دوڑتی ہوئے آتی اور اسے وہاں سے مار بھگاتی۔ ان حالات میں بھلا کیسے اور کہاں نماز کی ادائیگی ممکن تھی۔ جائے نماز کو ان دونوں نے کبڈی کا میدان بنا رکھا تھا۔ آخرکار ان دونوں میں ایک معاہدہ طے پا گیا۔ دونوں آگے آ کر بیٹھ جاتے۔ اب سجدہ کہاں ہو۔ ایسے میں سجدے کے لیے جگہ ہی نہ بچتی۔ بعض اوقات سجدے میں جاتے جاتے ہما شاہ کو انھیں ہاتھ سے ہٹا کر جگہ بنانی پڑتی۔ سلام پھیر کر پھر ان دونوں کو ایک ایک چپٹ پڑتی تو وہ دونوں سیڑھیوں سے اوپر بھاگ جاتے۔ اگلی رکعات کی نیت کرتے ہی دونوں واپس دوڑتے اور اپنی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتے۔ یہ اگر احمد کو آواز دیتی۔
“احمد بیٹا نماز ادا کر رہی ہوں ان کو کہیں سائیڈ پر لے جاؤ”
مجال ہے یہ احمد کی طرف دھیان دیں یا اس وقت جائے نماز سے اٹھ کر جائیں۔
سکول سے واپس آ کے ہما شاہ اگر کبھی تھوڑی دیر کے لیے بستر پر لیٹ جاتی اور اتفاق سے اس کی آنکھ لگ جاتی تو دونوں خاموشی سے اس کے دائیں بائیں آ کے سو جاتے۔ مانچی اگر پہلے جاگ گئی تو اس کا پنجہ چھوٹو کے منہ پر جاتا کہ اٹھو ماما کے پاس سے۔ مگر اب چھوٹو بھی پر پرزے نکال چکا تھا واپس مانچی پر چھلانگ لگا دیتا اور دونوں کافی دیر گتھم گتھا رہتے۔ ہما شاہ نے مجھے بتایا۔
“سکول سے واپسی پر میں ان کی آنکھ سے اوجھل کسی صورت نہیں رہ سکتی تھی۔ کمرے میں ہوتی تو وہ باقاعدہ دروازہ بجاتے اور آواز دیتے کہ ہمیں بھی اندر لے آؤ”
مانچی جب دو ماہ کی ہوئی تو ڈاکٹر طوبٰی اسلام آباد سے آئی۔ مانچی صرف دو افراد کی عادی تھی۔ اس وقت تک چھوٹو بھی نہیں آیا تھا۔ یہ تیسرا فرد کہاں سے آیا۔ اس کے
آتے ہی مانچی نے اسے کاٹنے کے لیے اس پر چھلانگ لگادی اور اسے پنجے مارے کہ نکلو ہمارے گھر سے۔ طوبٰی اسے گود میں لے کر پیار کرنے لگی لیکن مانچی اسے مارنے سے باز نہ ہوئی۔ طوبٰی نے منہ بسور کر ہما شاہ سے کہا۔
“لالا، یہ چوڑی مجھ سے پیار ہی نہیں کرتی”
لیکن کچھ ہی دن گزرے کہ مانچی کو علم ہوگیا کہ یہ بھی اپنا ہی بندہ ہے۔ اب وہ اس سے کھانا لینے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ گھومنے لگی۔ کچھ عرصہ بعد مانچی اور چھوٹو دونوں اس سے مانوس ہو گئے۔ ان کی مانوسیت اتنی ہوگئی کہ ایک بار جس دن وہ واپس گئی۔ سارے گھر میں اسے تلاش کرتے رہے اور آواز دیتے رہے۔ آخر مانچی نے کسی نہ کسی طرح اس کے کمرے میں جانے کا سوچا۔ چھوٹو نے دروازے میں گردن پھنسائی مانچی اس ادھ کھلے دروازے سے چھلانگ لگا کر اندر دوڑتی اس کے بیڈ تک پہنچ گئی مگر اسے نہ دیکھ کر کبھی اوپر کبھی نیچے دوڑی پھرتی رہی اور آواز دیتی رہی۔
باقی احوال ہما شاہ کی زبانی پیش کرتا ہوں۔
مانچی فطرتاً بہت ہی صاف ستھری تھی اس نے پہلے دن سے ہی واش روم استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ چھوٹو آیا تو اس نے صحن میں پی شی کر دی۔ مانچی بیٹھی دیکھ رہی تھی۔ اس نے چھوٹو کے سر پر زور سے پنجہ مارا اور اسے پنجے مارتی واش روم لے گئی۔
جس طرح وہ واش روم استعمال کرتی تھی اسے بیٹھ کر دکھایا۔ چھوٹو بھی ایسا سمجھدار تھا کہ پہلی بار ہی سمجھ گیا کہ واش روم کیسے استعمال کرنا ہے۔ پھر وہ جہاں کہیں بھی ہوتا ضروت پڑنے پر واش روم کے لیے دوڑ پڑتا اور واپس آ کر میرے پاؤں کے ساتھ لگ کے میاؤں میاؤں کرکے مجھے بتاتا کہ مما میں واش روم سے ہو آیا ہوں۔ تاکہ میں پانی گرا سکوں۔
مانچی کی محبت اس سے دن دگنی رات چوگنی ہوتی جا رہی تھی۔ دونوں آپس میں کھیلتے دوڑتے بھاگتے اور سارا سارا دن ان کا آپس میں مستیاں کرتے گزر جاتا۔ چھوٹو کی کوشش ہوتی کہ وہ مما کے ساتھ گھس کر سو جائے اور جیسے ہی موقع ملتا وہ فوراً دوڑ کر میرے پاس آتا۔ مگر مانچی اس ساری محبت کے باوجود مما کی محبت اس سے شیئر کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھی۔ اس لیے وہ جب بھی میرے پاس آتا مانچی سے مار کھاتا تھا۔ ایک دن چھوٹو نے کمال ہی کر دیا۔ میرے پاس آیا اور زور سے چھلانگ لگا کر میری گردن میں جھول گیا۔ میں نے ساتھ لپٹایا اور کہا۔
“چھوٹو جب ہم اللہ کے پاس جائیں گے نا تو اللہ میاں کو بتانا میں تمھاری مما ہوں”
اس نے میری طرف بہت غور سے دیکھا۔ مجھے لگا میں اس کی آنکھوں میں تحلیل ہو جاؤں گی۔ پھر اس نے اگلی ٹانگیں اٹھا کر میرے منہ پر پیار سے پھیریں اور ساتھ ساتھ میاؤں کیا جیسے سب کچھ سمجھ کے تصدیق کر رہا ہو۔
میں نے اس کا منہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اس نے بھی اپنی دونوں اگلی ٹانگوں سے میرے منہ کو تھام لیا۔ اس دن جیسے ہم دونوں میں کوئی اقرار ہو گیا تھا۔
پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن کے لیے ٹیسٹ دینے مجھے بہاولپور جانا تھا واپسی میں بہت دیر ہوگئی۔ میں نے سہیل بھائی کو کال کی۔
“بھائی مانچی اور چھوٹو کو گوشت کھلا دو”
کچھ دیر بعد ہی بھائی کی کال آگئی
“نا جی نا۔ یہ میرے بس سے باہر ہے”
میں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔ کہنے لگا۔
“ان کا منہ کھول کھول کر اس میں بوٹیاں ڈال رہا ہوں مگر یہ نہیں کھا رہے مانچی تو زور لگا کر چھٹ پر دوڑ گئی۔ چھوٹو کو پکڑا ہوا ہے مگر وہ نہیں کھا رہا”
“اچھا بھائی میں ا کے دیکھتی ہوں”
رات دس بجے میری واپسی ہوئی۔ گیٹ کھولتے ہی چھوٹو نے میری گردن پر چھلانگ لگا دی اور مانچی جیسے پاگلوں کی طرح آگے پیچھے دوڑ رہی تھی۔ سب سے پہلے ان کے لیے گوشت نکالا۔ مانچی گود میں بیٹھ گئی اور چھوٹو میرے سامنے۔ دونوں ایسے مزے سے کھانے لگے جیسے سارا دن انھیں کسی نے کھانا نہیں ڈالا تھا۔
میری زندگی میں یہ دو کردار بہت ہی اہمیت اختیار کر چکے تھے۔ دو افراد، دو افراد خانہ۔
“مانچی، چھوٹو”
سارا دن یہی آواز گھر میں گونجتی۔
اگرچہ گھر میں ایک رشین بلا بھی آ چکا تھا۔ مگر مانچی اور چھوٹو کا جیسے اس سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ وہ آپس میں ہی کھیلتے۔ وہ ان دونوں کو بڑی حسرت سے کھیلتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ کبھی کبھی چھوٹو اس کا کان منہ میں دبا کر دوڑتا تو مجھے ہنسی آتی۔ رشین بلا جب سونے کی تیاری کرتا تو چھوٹو اس کی آنکھیں بند ہونے کا انتظار کرتا۔ جوں ہی اس کی آنکھیں بند ہوتیں یہ اس کے اوپر چھلانگ لگا کر چھت پر دوڑ جاتا۔ تھوڑی دیر بعد سیڑھیوں میں بیٹھ کر اس کی آنکھیں بند ہونے کا انتظار کرتا۔
یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی کہ رات کے وقت مانچی اور چھوٹو آپس میں لڑتے تھے یا کھیلتے تھے۔ بس گتھم گتھا رہتے تھے ان کی لڑائی آواز نکالے بغیر ہوتی تھی۔ صرف ان کے دوڑنے سے پتہ چلتا تھا کہ وہ کسی سرگرمی میں مشغول ہیں۔
رات کے کسی بھی پہر جب میری آنکھ کھلتی یہ دونوں میرے ارد گرد آن موجود ہوتے تھے۔ میرے کمرے میں پہنچتے ہی یہ فوراً دروازے پر پہنچ جاتے اور اپنی اگلی ٹانگیں اٹھا کر مسلسل اندر جھانکنے کی کوشش کرتے۔ جب میں نظر آتی تو زور زور سے بولتے۔ دروازہ کھلتے ہی دونوں اندر کی جانب لپکتے۔ ڈریسنگ ٹیبل، بیڈ اور صوفے پر چھلانگیں لگاتے۔ کبھی میرے دائیں بائیں چہلیں کرتے۔ جب تھک جاتے تو بیڈ پر آ کے بیٹھ جاتے۔
چھوٹو کو کمرے میں آنے کا اتنا شوق تھا کہ اگر دروازے سے میں نظر نہ آتی تو اپنی ٹانگیں اٹھا کر کمرے میں جھانکتا۔ پھر بھی نظر نہ آتی تو وہ ساتھ پڑے ڈائننگ ٹیبل پر چڑھ جاتا اور زور زور سے آوازیں نکالتا جیسے بتا رہا ہو کہ میں ادھر ہوں مجھے اندر بلا لو۔
ایک صبح جب میں جاگی تو سب میری طرف بھاگ رہے تھے بس چھوٹو سو رہا تھا۔
“چھوٹو چھوٹو آ جاؤ”
مگر وہ نہیں آیا۔ میں نے پھر بلایا تو وہ اٹھا، تھوڑا سا آیا اور لیٹ گیا۔
“احمد، احمد چھوٹو کو دیکھو اسے کیا ہوا ہے”
مانچی جو مزے سے گوشت کھا رہی تھی گوشت چھوڑ کر چھوٹو کی طرف مڑی۔ چھوٹو اسے مار رہا تھا اور نہ ہی گوشت کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“اسے کیا ہوا اللہ خیر”
اٹھایا تو جسم گرم۔
“احمد اسے تو فیور ہے فوراً ہاسپٹل لے کر جانا۔ بے شک سکول مت جانا”
اس نے کہا “او کے”
ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا سے شام تک فیور کم ہوا۔ اس نے آنکھ کھولی۔ میں نے اسے تھوڑا سا دودھ پلایا۔ وہ پھر سو گیا۔ مانچی بے چین اس کے ارد گرد گھومتی رہی۔ اس نے بہت ہی کم گوشت کھایا۔ آخر چھوٹے صوفے پر اسے گود میں ایسے بھر کر بیٹھ گئی جیسے کوئی متاعِ حیات سمیٹتا ہے۔ چھوٹو خاموش رہا۔ پھر اسے وامٹننگ ہونے لگی۔ میرے دل کو کچھ ہونے لگا۔
“یہ کیوں ایسا ہو رہا ہے”
اس کے سامنے نیم گرم پانی رکھا تو وہ پی کر میرے کمبل میں آ گیا۔ وامٹنگ ہونے لگی تو باہر دوڑ گیا۔ کافی دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ساری رات میں اور مانچی اس کے پاس رہے۔ صبح ہوتے ہی مانچی نے اسے اہنے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے مانچی کو پیار کر کے چھوٹو کو اپنی چھاتی سے لگا کے ہاسپٹل چلی گئی۔
“اللہ چھوٹو تو ٹھیک تھا پھر کیا ہوا اسے”
میری آنکھیں مسلسل بھیگ رہی تھیں
ڈاکٹر نے فوری طور پر انجکشن منگوا کے لگائے۔ اور کہا
“اس کا ٹمپریچر بہت کم ہے فوراً زیادہ ہونا ضروری ہے”
میں وہیں اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔
“چھوٹو چھوٹو بیٹا”
احمد سسکنے لگا تو اسے ڈانٹا
“کچھ نہیں ہو رہا چھوٹو کو”
مگر وہ تو ہاتھ سے نکل رہا تھا۔ ٹمپریچر کسی طرح بھی نہیں بڑھ رہا تھا۔
“کیوں چھوٹو، کیوں، ٹھیک ہو جا نا۔ دیکھو مما۔ دیکھو نا”
میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کا منہ تھاما۔ چھوٹو نے ایک لمحہ کے لیے مجھے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو۔
“ہاں”
یک دم اس نے دو تین جھٹکے لیے میں پیچھے پلٹی اور ڈاکٹر کو کہا۔
“پلیز دیکھو، اسے کیا ہوا”
“میم آپ پیچھے ہوجائیں میں دیکھتا ہوں”
دو لمحوں کے بعد احمد چیخا۔
“مما چھوٹو”
اور چھوٹو چلا گیا۔
میری سسکیوں اور احمد کی چیخوں سے ہاسپٹل گونجنے لگا احمد نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے ماموں کو کال ملائی۔
“ماموں میرا چھوٹو گیا”
احمد چیخ رہا تھا۔
ماموں، ماموں”
سہیل بھائی اسے اور مجھے اپنے ساتھ لگائے چپ چاپ ساکت کھڑے تھے۔ پھر اسے بہت پیار سے چادر میں لپیٹ کر بازوؤں میں اٹھایا اور مجھے کہا۔
“تم دونوں اب گھر چلے جاؤ”
آنکھوں میں شدت کی برسات لیے گھر پہنچے تو گیٹ کھولتے ہی مانچی گیٹ کے ساتھ انتہائی بے قرار بیٹھی نظر آئی۔ اس نے ہمیں دیکھا تو ہمارے گرد چکر لگایا۔ گود میں دیکھا۔ مگر چھوٹو نہیں تھا۔ وہ سب کچھ سمجھ گئی۔ سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چھت پر چلی گئی۔ میں بھی دوڑتی ہوئی اس کے پیچھے گئی۔ سامنے برآمدے میں اسے تیز آواز میں روتے اور زور زور سے زمین پر پنجے مارتے دیکھا۔ میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ بھاگ گئی۔ میں اپنے آنسوؤں کو پیتے ہوئے نیچے آ گئی۔ کچھ دیر بعد ہھر مانچی کے کرلانے کی آواز آئی۔ میں جلدی سے اوپر گئی۔ اسے گود میں لیا اور نیچے لے آئی۔
احمد کو کہا
“جاؤ احمد اسے چیک کرواؤ اسے کیا ہو گیا ہے”
احمد کے ساتھ بھتیجے کو بھیجا۔
ڈاکٹر بے کہا۔
“اسے کچھ بھی نہیں ہوا بس شدید ٹینشن کا شکار ہے کچھ دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ اسے کچھ کھلائیں”
جب اسے کھلانے کی کوشش کی تو اس نے منہ میں کچھ بھی نہیں ڈالا۔ سکڑ سی گئی۔ سارا دن اسی طرح گزرا۔ ایک چھوٹو کا دکھ، دوسرا مانچی کا کچھ نہ کھانا اذیت بڑھا رہا تھا۔
شام کے وقت اسے دوبارہ ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے بھوک کا سیرپ لکھ دیا۔
“اسے ہاف سپون دیں بھوک لگنے گی تو خود کھائے گی”
دوسرا دن بھی گزر گیا مانچی نے کچھ بھی منہ میں نہ ڈالا۔ واپس ڈاکٹر کے پاس لیکر گئے۔ اس نے کہا۔
“یہ بیمار نہیں بس بھوکی ہے اسے کھلانے کی کوشش کریں”
مگر مانچی نے تو جیسے قسم کھا لی تھی کہ منہ کھولنا ہی نہیں۔ ایک بار پھر شام سے رات ہوگئی رات کے آخری پہر اسے وامٹننگ ہونی شروع ہو گئی۔
اسی ڈاکٹر کو میسج کیا تو اس نے کہا۔
“تین دن سے بھوکی ہے اس کا معدہ اب بھوک سے الٹ رہا ہے کوشش کریں کہ کچھ کھا لے”
صبح ہوتے ہی مانچی کو لے کر ایک بار پھر ہاسپٹل پہنچ گئی۔ بظاہر اسے کوئی بیماری نہیں تھی ٹمپریچر تک نارمل تھا۔ بھلا علاج کیا ہو۔ بھوک کا علاج تو کھانا تھا۔ جس کے لیے وہ آمادہ نہیں تھی۔
ڈاکٹر کہنے لگا۔
“اسے بہت ہی زیادہ ڈپریشن ہے۔ اگریسیو ہے۔ جب تک کچھ کھائے گی نہیں بہتری ممکن نہیں۔ انجیکشن بھی لگا دیے ہیں۔ ڈرپ کی کوشش کی تو اس نے ہاتھ مار کر سب کچھ نکال دیا”
مانجی بے سدھ ہوگئی۔ ڈاکٹر نے کہا
“اسے گھر لے جائیں اور کوشش کریں کسی بھی طریقے سے پانی، گلوکوز اور دودھ اس کے پیٹ میں جائے”
احمد بے چارہ اس کوشش میں بے حال ہوچکا تھا۔ بار بار اس کا منہ کھولتا۔ کبھی تھوڑا سا گلوکوز ملا پانی اور کبھی دودھ، سرنج کی مدد سے اس کے منہ میں ٹپکاتا۔
آخر مانچی بھی اپنا سر زمین پر ڈال کر لیٹ گئی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں تین دن کی بھوک نے اسے گرا دیا تھا۔
“مانچی، مانچی، میرا بیٹا کچھ کھا لو”
میں نے اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کا منہ چوم کر کہا۔ اس نے اپنی پوری آنکھوں سے مجھے دیکھا اور اگلی دونوں ٹانگوں سے میرے ہاتھ کو لپیٹ لیا۔ سر میرے بازوؤں کے ساتھ ٹکا دیا
“مانچی ،مانچی مجھے چھوڑ کر نہ جانا۔ مانچی تم اور چھوٹو میری تنہائی کے ساتھی ہو نا۔ مجھ سے باتیں کرنے والے دونوں میرے لاڈلے۔ چھوٹو گندہ بچہ تھا نا، وہ چلا گیا۔تم تو میری بیٹی ہو”
مانچی نے اپنا آپ میرے ساتھ لگا دیا۔
مجھے لگا مانچی اب بہتر ہو جائے گی۔ رات ڈیڑھ کا وقت ہوگا کہ مانچی کی طبیعت کچھ بحال نظر آنے لگی۔ احمد نے سرنج کی مدد سے اسے دودھ دیا۔ اس نے کچھ نہ کچھ پی لیا۔ ساتھ ہی میرے منہ سے نکلا۔
“اللہ تیرا شکر۔ تیرا احسان”
طوبٰی کو شام کے وقت جوں ہی پتہ چلا کہ مانچی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے وہ اسلام آباد سے مانچی کے لیے نکل پڑی۔ کہہ رہی تھی
“مانچی بیمار ہے۔ لالا میں صبح چھ بجے تک گھر ہوں گی”
رات دو بجے کے قریب احمد نے کہا۔
“مما”
میں جو روم میں جارہی تھی ایک دم پلٹی۔ کمبل میں دیکھا مانچی کراہ رہی تھی۔ ایک دو تین چار بار۔ میں نے اسے فوراً کمبل سے نکال کر اپنی گود میں لیا۔ احمد نے اسے مجھ سے چھین کر اپنی گود میں لے کر پیار سے کہا۔
“مانچی”
اور مانچی اس کے ساتھ ہی ساکت ہو چکی تھی۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مانچی کیسے چلی گئی۔ بنا بیمار ہوئے۔ چھوٹو کے غم میں۔ بھوکی مانچی چھوٹو کے پاس جا چکی تھی۔
لرزتے ہوئے ہاتھوں سے احمد نے اپنے ماموں کو کال کی۔
“ماموں مانچی”
اور سہیل بھائی سمجھ گئے۔ چند لمحوں میں وہ گھر تھے۔
جس کمبل میں مانچی سو رہی تھی اسی کمبل میں۔ بہت پیار کے ساتھ سہیل بھائی نے مانچی کو اٹھایا۔ اپنے ساتھ لگایا اور کہا۔
“کیوں اتنا دکھ چھوٹو کا لے لیا کہ اس کے پیچھے ہی چلی گئی ہو”
احمد کا وہ حال کہ جیسے سارا رونا اس نے مانجی کے لیے ہی بچا کے رکھا ہوا تھا۔
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے وجود سے کوئی دل نکال کر لے گیا ہو۔ میں خالی ہو گئی تھی۔
گھر میں سناٹا رہ گیا تھا۔
کہیں چھوٹو اور مانچی کی کوئی آواز نہ تھی۔
میں اب بھی کسی کسی وقت مانجی اور چھوٹو کو آواز دینے لگتی ہوں
Image may contain: 1 person, cat

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post