خوشامد بھلی بلا ہے اور بہروپ کو دوام ہے : ع ۔ ع ۔ عالم

آج تک یہی اپنے بڑے بزرگوں سے سنتے آیا ہوں کہ:
“بیٹا! خوشامد سے بچو”
پوچھیں کیوں؟
تو جھٹ سے اپنے بڑے بزرگوں کی ریت کی پاس داری بجا لاتے ہوئے گویا ہوں گے کہ:
“خوشامد بری بلا ہے”
لیجیے صاحب پھر کیا تھا۔
اقبال یاد آگیا کہ:
“تمھیں آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی”
ہم نے سوچا کہ ہم اپنے آباواجداد کو فراموش نہیں کرتے بل کہ ان کی روایات کی بجا آوری کو اپنا شیوہ سمجھتے ہیں اور اس طرح کرنے سے ہم اقبالی طعنے سے بھی محفوظ و مامون رہیں گے۔
یوں ہم حتی الوسع “خوشامد “سے پرہیز کرنے والے متقی بن گئے، یہاں تک کہ خوشامدیوں پر لعن طعن کرنے لگےکہ:
“ایسے لوگوں کا ضمیر مر گیا ہوتا ہے۔
ایسے لوگ خودداری سے نا آشنا ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا انجام بھیانک ہوتا ہے۔
ایسے لوگ چین سے نہیں جیتے۔”
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
مگر بھائی!
ہمارے فلسفیانہ نظریات کا جنازہ تو اس وقت نکلا جب برسوں بعد اپنے ایک کالج فیلو کو (جسے ہم سب خوشامدیوں کا گرو گنڈال کہا کرتے تھے) ایک مذہبی سیمینار پر خودی کا درس دیتے ہوئے دیکھا اور مجبوراً (کڑھتے ہوئے) سنا بھی۔۔۔
حیرت کے باعث ہمارے دیدے تو پھٹے کے پھٹے رہ گئے اور ہمیں یادِ ماضی تازہ ہو گئی۔۔۔
وہ جناب معزز مہمانانِ گرامی میں بیٹھا تھا اور ہم آج بھی سامعین کے عہدے پر براجمان۔۔۔
پہلے تو ہمیں یقیں نہیں آرہا تھا مگر جب اس نے ہماری کال پر لبیک کہتے ہوئے اسٹیج پر ہی بیٹھے بیٹھے جواب دیا کہ:
“میں ایک تقریب میں آیا ہوں بعد میں رابطہ کیجیے گا۔”
لیجیے،اب تو یقینِ کامل و اکمل ہو گیا کہ یہ وہی تھا اور ہے۔
ہم انگشتِ بدنداں تھے کہ یہ ناممکن ہے، ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟
مگر جناب ایسا ہی تھا کیوں کہ:
“حقیقت چھپ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے”
پھر کیا تھا ہم نے سعی کاملہ و جمیلہ کر کے کھانے کے دوران اس (زباں پھسل گئی صیغہ جمع لگانا تھا یعنی) ان جناب کی قربتِ ساحرانہ تک رسائی پائی اور ان جناب کے حضور عرضی پیش کی کہ:
“عالی جاہ! ہم پر بھی عقدہ کشائی کیجیے ذرا، یہ مقام کیوں کر ہاتھ آیا-”
(“عالی جاہ! نہ چاہتے ہوئے استعمال کیا گیا ہے۔احباب ہماری خودداری پے حرف نہ اٹھائیں)
وہ بولے: ” قریب آئیے”
ہم قریب ہولیے۔
“تھوڑے اور”
ہم اور قریب ہوئے حتی کہ ان کے منھ سے اٹھنے والی سگریٹ کے دھویں کی مضرِ صحت مہک محسوس ہونے لگی ۔
“میاں! خوشامد سے”
ہم ان کی بات کاٹتے ہوئے فوراً گویا ہوئے کہ:
” مگر خوشامد توبری بلا ہے تو پھر خوشامد سے،کیسے؟”
وہ بولے: “خوشامد بری بلا نہیں ہے بل کہ بھلی بلا ہے۔۔۔یہ جو بھی مقام و مرتبہ دیکھتے ہو،یہ سب خوشامد کی برکات ہیں۔۔۔یہ تو کچھ بھی نہیں ایسے کئی سیمینارز میں بہ طور مہمانِ خاص مدعو کیا جاتا ہے۔ادبی، مذہبی،علمی ہر طرح کی محفل کے لیے الگ انداز سے پذیرائی و رونمائی ہاتھ آتی ہے۔۔۔”
ہم نے جھٹ سے ” تھو” کی کہ:
“پھر گو آپ میں اور “گرگٹ” میں کوئی تضاد نہ بچا۔”
بولے:
“آپ کی مرضی۔۔۔مگر ہمیں جو بھی کہو، ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔البتہ آپ کی کسمپرسی پر قدرے ہنسی آتی ہے۔آپ
اقبال کے پیرو ہیں تو اقبال کو ہی فالو کر لیں۔۔۔
کبھی اپنا بھی نظارا کیا ہے تو نے اے مجنوں
کہ لیلی کی طرح تو بھی تو ہے مہمل نشینوں میں
ایک اور جگہ بھی تو کہا کہ:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو بھئی! ہم نے تو سراغِ زندگی پالیا آپ بھی چاہو تو آزما لو۔۔۔بڑے فائدے ہیں اس “سراغِ حیات” کے۔۔۔”
ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی قبل ہم نے اپنا موازنہ کیا تو وہ حق بہ جانب نظر آیا۔۔ہم نے دیکھا کہ جن اساتید کے ہم اور وہ شاگرد تھے ،آج وہ ان کا ہم عصر اور ہم آج بھی ان کے شاگردِ بے وقعت۔۔۔
اور ہمیں اس کی باتوں میں جان نظر آئی۔
ایک بار ہماری خودداری کے کیڑے نے سر اٹھا یا بھی کہ:
” نہیں، نہیں یہ سب فراڈ ہے، فریب ہے”
مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے فوراً اس کیڑے کا سر کچل دیا۔۔۔
وہ بولا: ” آج اور کل کے دور میں بڑا فرق ہے میاں۔۔آج خوشامد کا بول بالا ہے۔۔۔جہاں تک ہو سکے خوشامد کرو،اپنا فائدہ نکالو اور موجیں مارو۔۔۔خوشامد کرو گے تو واقفیت بڑھے گی اور واقفیت کے بڑھنے سے تمھاری رسائی سرکاری و غیر سرکاری افسران تک ہو جائے گی اور کچھ نہ کرتے ہوئے بھی ان کی تقریبات میں تمھیں عقیدت و احترام کی نظروں سے دیکھا جائے گا۔۔۔گرگٹ کی سی چالاکی نہیں دکھاو گے تو دنیا کھا جائے گی،فراموش کر دیے جاو گے۔۔۔”
ہم ان جناب کی باتوں میں کھو سے گئے۔
وہ دن گیا اور آج کا دن آیا ہم نے ایک ہی سبق سیکھا کہ:
“واقعی،خوشامد بھلی بلا ہے۔”
اس بات کا ہم نے جب عملی مظاہرہ کیا تو فیوض و برکات نصیب ہونے لگے۔۔۔
خوشامد بھی گناہ کی طرح ہے کہ جس کے فوائد فوراً نصیب ہوتے ہیں۔اب ہم عرصہ دراز سے خوشامد کی دنیا میں محوِ خرام ہیں۔ہمیں شہرت بھی ملی،عزت بھی ملی اور دولت و قربت بھی۔۔۔اب ہم جان جاتے ہیں کہ کون خوشامدی ہے اور کون خودداری۔۔۔
آپ کو بھی بتا دیتا ہوں کیا یاد رکھیں گے ( یاد رہے یہ بھی خوشامد ہی کی ایک رمز ہے)
جو بھی کوئی آپ کو مشتاق نظروں سے تکتا ہو،آپ کے ہاتھ پاوں چومنے تک آتا ہو اور ‘ کیجیے،لیجیے،دیجیے’ اور اسی سے متعلقہ الفاظ کے گورکھ دھندے سے کام چلاتا ہو سمجھ لیجیے وہ “خوشامدی” ہے۔۔۔
نہیں یقیں تو آزما لیں۔۔۔
آج تقریباً تین سال کے بعد انھی صاحب کو جنھوں نے ہمیں اس “سراغِ ہستی” سے آشنا کیا تھا،کو اپنے ہاتھ چومتے دیکھ کر ہنس ہنس کے ہنسی آئی۔۔۔
وہ بے چارہ حیرت میں مدغم ہو گیا اور ہماری ہنسی سے ہماری ہستی کا ادراک نہ کر پایا۔۔۔کیوں کہ کیلانی و جامی برادران کے تعاون سے سالانا تین روزہ مجلسِ اخلاق الناس میں بہ طور مہمانِ خصوصی ہمیں مدعو کیا گیا تھا۔۔اپنے ظاہری خد وخال کو ہم نے اتنا سنوارا تھا کہ وہ جناب بھی ہمیں ” مرشد پاک” کہتے ہوئے ہمارے ہاتھوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔
از قلم : ع۔ع۔عالم

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post