دستر خوان

انشائیہ: ڈاکٹروزیرآغا

 ایک زمانہ تھا کہ اہل وطن فرش پر دستر خوان بچھاتے، آلتی پالتی مار کر بیٹھتے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھانا کھاتے۔ پھر جو زمانہ بدلا تو ان کے نیچے کرسیاں اور سامنے میز بچھ گئی جس پر کھانا چن دیا جاتا۔ پہلے وہ سرجوڑ کر کھاتے تھے اب سروں کے درمیان فاصلہ نمودار ہوا اور روبرو بیٹھا ہوا شخص مدّ مقابل نظر آنے لگا۔ مگر زمانہ کبھی ایک حالت میں قیام نہیں کرتا۔ چنانچہ اب کی بار جو اس نے کروٹ لی تو سب سے پہلے پلیٹ کو ہتھیلی پر سجا کر اور سر و قد کھڑے ہو کر طعام سے ہم کلام ہونے کی روایت قائم ہوئی۔ پھر ٹہل ٹہل کر اس پر طبع آزمائی ہونے لگی۔ انسان اور جنگل کی مخلوق میں جو ایک واضح فرق پیدا ہو گیا تھا کہ انسان ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا تھا جبکہ جنگلی مخلوق چراگاہوں میں چرتی پھرتی تھی اور پرندے دانے دُنکے کی تلاش میں پورے کھیت کو تختہ مشق بناتے تھے، اب باقی نہ رہا اور مدتوں کے بچھڑے ہوئے سینہ چاکانِ چمن ایک بار پھر اپنے عزیزوں سے آملے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کیا ہماری تہذیب کا گراف نیچے سے اوپر کی طرف گیا ہے تو میں کہوں گا کہ بے شک ایسا ہرگز نہیں ہوا ہے کیونکہ ہم نے فرش پر چوکڑی مار کر بیٹھنے کی روایت کو ترک کر کے کھڑے ہو کر اور پھر چل کر کھانا کھانے کے وطیرے کو اپنا لیا ہے جو چرنے یا دانہ دنکا چگنے ہی کا ایک جدید روپ ہے۔ کسی بھی قدم کے اوپر جانے یا نیچے آنے کا منظر دیکھنا مقصود ہو تو یہ نہ دیکھئے کہ اس کے قبضہ قدرت میں کتنے علاقے اور خزانے آئے یا چلے گئے۔ فقط یہ دیکھئے کہ اس نے طعام اور شرکائے طعام کے ساتھ کیا سلوک کیا!
بچپن کی بات ہے۔ ہمارے گاؤں میں ہر سال کپڑا بیچنے والے پٹھانوں کی ایک ٹولی وارو ہوتی تھی۔ یہ لوگ سارا دن گاؤں گاؤں پھر کر اُدھار پر کپڑا بیچنے کے بعد شام کو مسجد کے حجرے میں جمع ہوتے اور پھر ماحضر تناول فرماتے۔ وہ زمین پر کپڑا بچھا کر دائرے کے انداز میں بیٹھ جاتے۔ درمیان میں شور بے سے بھری ہوئی پرات بحر الکاہل کا منظر دکھاتی، جس میں بڑے گوشت کی بوٹیاں ننھے منے جزیروں کی طرح ابھری ہوئی دکھائی دیتیں۔ وہ ان بوٹیوں کو احتیاط سے نکال کر ایک جگہ ڈھیر کر دیتے اور شوربے میں روٹیوں کے ٹکڑے بھگو کر ان کا ملیدہ سا بنانے لگتے جب ملیدہ تیار ہو جاتا تو شر کاء طعام پوری دیانت داری کے ساتھ آپس میں بوٹیاں تقسیم کرتے اور پھر اللّٰہ کا پاک نام لے کر کھا نے کا آغاز کر دیتے۔ وہ کھانا رُک رُک کر، ٹھہر ٹھہر کر کھاتے، مگر پشتو ابغیر رُکے بے تکان بولتے۔ مجھے ان کے کھانا کھانے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ چنانچہ میں ہر شام حجرے کے دروازے میں آکھڑا ہوتا، انھیں کھانا کھاتے ہوئے دیکھتا اور خوش ہوتا۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر خوش ہوتے اور کبھی کبھی برادرانہ اخوت میں لتھڑا ہوا ایک آدھ لقمہ یا گوشت کا ٹکڑا میری طرف بھی بڑھادیتے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ان پٹھانوں کی پیش کش کو اگر کوئی مسترد کر دے تو اس کی جان کی خیر نہیں۔ اس لیے میں بادلِ نخواستہ ان کے عطا کردہ لقمہ ترکو کلّے میں دبا کر آہستہ آہستہ جگالی کرتا اور تاویر انھیں کھانا کھاتے دیکھتا رہتا۔ عجیب منظر ہوتا۔ وہ کھانے کے دوران میں کمال سیر چشمی کا مظاہرہ کرتے۔ ان میں سے جب ایک شخص لقمہ مرتب کر لیتا تو پہلے اپنے قریبی ساتھیوں کو پیش کرتا اور ادھر سے جَزَاکَ اللّٰہ کے الفاظ وصول کرنے کے بعد اسے اپنے منہ میں ڈالتا۔ اخوت، محبت اور بھائی چارے کا ایک ایسا لازوال منظر آنکھوں کے سامنے ابھرتا کہ میں حیرت زدہ ہو کر انھیں بس دیکھتا ہی چلا جاتا اور تب میں دستر خوان پر کھانا کھانے کے اس عمل کا اپنے گھر والوں کے طرزِ عمل سے موازانہ کرتا تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی کیونکہ ہمارے گھر میں صبح و شام ہانڈی تقسیم کرنے والی بڑی خالہ کے گرداگرد بچوں کا ایک ہجوم جمع ہو جاتا۔ مجھے یاد ہے جب بڑی خالہ کھانا تقسیم کر رہی ہوتیں تو ہماری حریص آنکھیں ہانڈی میں ڈوئی کے غوطہ لگانے اور پھر وہاں سے بر آمد ہو کر ہمارے کسی سنگی ساتھی کی رکابی میں اترنے کے عمل کو ہمیشہ شک کی نظروں سے دیکھتیں۔ اگر کسی رکابی میں نسبتاً بڑی بوٹی چلی جاتی تو بس قیامت ہی آ جاتی ایسی صورت میں خالہ کی گرجدار آواز کی پروا نہ کرتے ہوئے ہم بڑی بوٹی والے کی تکابوٹی کرنے پر تیار ہو جاتے اور چھینا جھپٹی کی اس روایت کا ایک ننھا سا منظر دکھاتے جو نئے زمانے کے تحت اب عام ہونے لگی تھی۔
اسی زمانے میں کبھی کبھار ایک انگریز افسر بھی والد صاحب سے گھوڑے خریدنے کے لئے آ جاتا۔ والد صاحب اس کے لیے میز کرسی لگواتے، انگریزی کھانا تیار کرواتے اور پھر گھنٹوں اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ چونکہ ہم بچوں کو انگریز افسر کے سامنے جانے کی اجازت نہیں تھی اور ویسے بھی ہمیں اس سے بہت ڈرلگتا تھا۔ اس لئے ہم اکثر کھڑکی کی جالی کے ساتھ چہرہ لگا کر اسے کھانا کھاتے ہوئے دیکھتے اور حیران ہوتے کہ صاحب بہادر کھانا کھا رہا ہے یا اپریشن کر رہا ہے۔ وہ اپنی پلیٹ میں ایک ابلا ہوا آلولے کر بیٹھ جاتا اور پھر چھریوں اور کانٹوں سے گھنٹوں اس کے پرخچے اڑاتا رہتا۔ یوں لگتا جیسے وہ میدان جنگ میں کھڑا ہے۔ آلو اس کا دشمن ہے جسے وہ اپنے اسلحہ کی مدد سے زیر کرنے میں مصروف ہے۔ وہ جو کھانے کے معاملے میں رواداری، مفاہمت اور لطف اندوزی کا رویہ ہوتا ہے، اس انگریز افسر میں مجھے قطعاً نظر نہ آیا۔ بعد ازاں جب انگریز قوم کی عادات و اطوار سے آگا ہی حاصل ہوئی تو معلوم ہوا کہ چونکہ ان لوگوں کو اپنی اس سلطنت کی حفاظت کے لئے جس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا، جنگی مشقیں کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس لئے وہ کھانے کی میز پر بھی اس سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ سو ان کے لئے کھانا جسم کو بر قرار رکھنے کا بہانہ نہیں بلکہ دشمن کو زیر کرنے کا ایک شاخسانہ ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت ہمارا عزیز ترین ثقافتی ورثہ تھا جس کے ساتھ ہم نے عزیز ان مصر کا سا سلوک کیا اور اب یہ روایت اول تو کہیں نظر ہی نہیں آتی اور کہیں نظر آجائے تو مارے شرمندگی کے فی الفور خود میں سمٹ جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے کی قطعاً کوئی بات نہیں۔ بلکہ میں کہوں گا کہ دستر خوان پر بیٹھنا ایک تہذیبی اقدام ہے جب کہ کھڑے ہو کر کھانا ایک نیم وحشی عمل ہے۔ مثلاً یہی دیکھئے کہ جب آپ دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو دائیں بائیں یا سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے آپ کے براورانہ مراسم فی الفور استوار ہو جاتے ہیں۔ آپ محسوس کرتے ہیں جیسے چند ساعتوں کے لئے آپ دونوں ایک دوسرے کی خوشیوں، غموں اور بوٹیوں میں شریک ہو گئے ہیں۔ چنانچہ جب آپ کے سامنے بیٹھا ہوا آپ کا کرم فرما کمال دریا دلی اور مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پلیٹ کا شامی کباب آپ کی رکابی میں رکھ دیتا ہے تو جواب آں غزل کے طور پر آپ بھی اپنی پلیٹ سے مرغ کی ٹانگ نکال کر اسے پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد کھانا کھانے کے دوران لین دین کی وہ خوشگوار فضا ازخود قائم ہو جاتی ہے جو ہماری ہزار رہا برس کی تہذیبی یافت کی مظہر ہے۔ ایک لحظہ کے لئے بھی یہ خطرہ محسوس نہیں ہوتا کہ سامنے بیٹھا ہوا شخص آپ کا مدّ مقابل ہے اور اگر آپ نے ذرا بھی آنکھ جھپکی تو وہ آپ کی پلیٹ پر ہاتھ صاف کر جائے گا۔ دستر خوان کی یہ خوبی ہے کہ اس پر بیٹھتے ہی اعتماد کی فضا بحال ہو جاتی ہے اور آپ کو اپنا شریک طعام حددرجہ معتبر، شریف اور نیک نام دکھائی دینے لگتا ہے۔ دوسری طرف کسی بھی بوفے ضیافت کا تصور کیجئے تو آپ کو نفسا نفسی خود غرضی اور چھینا جھپٹی کی فضا کا احساس ہو گا اور ڈارون کا جہد البقا کا نظریہ آپ کو بالکل سچا اور برحق نظر آنے لگے گا۔
دستر خوان کی ایک اور خوبی اس کی خود کفالت ہے۔ جب آپ دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ آپ کی جملہ ضروریات کو بے طلب پورا کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ سامنے دستر خوان پر ضرورت کی ہر چیز موجود ہے حتیٰ کہ اچار چٹنی اور پانی کے علاوہ خلال تک مہیا کر دئے گئے ہیں۔ دستر خوان پر بیٹھنے کے بعد اگر آپ کسی کو مدد کے لئے بلانے پر مجبور ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو میزبان نے حق میزبانی ادا نہیں کیا یا مہمان نے اپنے منصب کو نہیں پہچانا۔ خود کفالت در اصل ہماری ثقافت کا ایک امیتازی وصف ہے اور اس کا ہماری قناعت پسندی بلکہ تقدیر پرستی سے گہر اتعلق ہے۔ اپنے دیہات ہی کو لیجئے جو ہماری ثقافت کی صحیح ترین نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اب تو خیران میں پہلی سی بات نہیں رہی ورنہ صدیوں تک انھوں نے نمک اور حملہ آور کے علاوہ شاید ہی کبھی کوئی چیز در آمد کی ہو۔۔ ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسان اپنے لئے خوراک زمین سے حاصل کرتا ہے جو اس کے جسم کی ساخت اور تعمیر میں حصہ لیتی ہے مگر جب اس کا اپنا بدن زمین کا رزق بن جاتا ہے تو کچھ عرصے کے بعد زمین اسے دو بارہ غذا میں منتقل کر کے آئندہ نسلوں کو پیش کر دیتی ہے۔ اور یہ بات انسان تک ہی محدود نہیں۔ دیہات میں تو پرندوں، حیوانوں، پودوں اور انسانوں کی نسلیں سدا ایک دوسرے میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یک جانی اور ہم مزاجی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انھیں محسوس ہوتا ہے جیسے گاؤں بجائے خود ایک دستر خوان ہے جو کھیتوں کے عین درمیان بچھا دیا گیا ہے جس پر وہ نسل در نسل بیٹھتے اور اٹھتے رہتے ہیں۔ ایک نسل جب کھانے سے فارغ ہو جاتی ہے تو دوسری نسل دستر خوان پر آبیٹھتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گو جانے والی نسل، آنے والی نسل کے لیے غذا بن کر دستر خوان پر سج جاتی ہے مگر آنے والی نسل کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کس رغبت سے اپنے ہی بزرگوں کی ہڈیاں چبا رہی ہے۔
دستر خوان کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ آپ کو زمین سے قریب کر دیتا ہے۔ جب کہ میز کرسی پر آتے ہی آپ زمین کے لمس سے محروم ہو جاتے ہیں اور چرنے چگنے کا عمل تو آپ کو زمین سے بالکل منقطع ہی کر دیتا ہے۔ زمین ایک زندہ، دھڑکتی اور پھڑکتی ہوئی شے ہے جس کی تحویل میں ایک پُر اسرار قوت بھی ہے۔ پرانے زمانے کے لوگوں کو نہ صرف اس قوت کی موجودگی کا علم تھا بلکہ وہ قدم قدم پر اس کے لمس سے بھی آشنا ہوتے تھے۔ وہ کہتے کہ یہ قوت زیر سطح قوسوں، دائروں اور لکیروں کی صورت رواں دواں رہتی ہے۔ چنانچہ جب کوئی انجانے میں بھی ان میں سے کسی لکیر کو چھولیتا ہے تو اسے زمین کی قوت ایک برقی جھٹکے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ تب وہ زمین کے فیوض و برکات کے حصول کے لئے ان لکیروں اور کھائیوں کی تلاش کرتے اور جس مقام پر یہ لکیریں یا کھائیاں ایک دوسری کو کاٹتی ہوئی ملتیں وہیں اپنے پگوڈے یا مندر تعمیر کرتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ مقام در اصل زمین کی پراسرار قوت کے سرچشمے ہیں۔۔ ۔۔ مگر پھر یوں ہوا کہ انسان بتدریج زمین سے منقطع ہو کر پہلے چو باروں پھر میناروں پر چڑھ گیا اور زمین سے جو اس کی ماں بھی تھی اور اَن داتا بھی کٹتا اور دور ہٹتا چلا گیا۔ دستر خوان کی خوبی یہ ہے کہ وہ زمین کے سینے سے چمٹا دیتا ہے تاکہ وہ براہ راست زمین سے اس کی پراسرار قوت کو کشید کر سکے۔ دستر خوان در اصل زمین کالباس ہے اور دستر خوان پر بنی ہوئی قوسیں، دائرے اور لکیریں زمینی قوت کی گزر گاہوں کے مماثل ہیں۔ چنانچہ جب آپ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو اس کی غذائیت ہزارگنا بڑھ جاتی ہے، جب کہ میز کرسی پر یا چل پھر کر کھانا کھائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کھانے میں وہ برقی رو موجود نہیں جو زمین کی شریانوں سے دستر خوان کی قوسوں اور پھر وہاں سے اور انسان کی رگوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچتی ہے۔
دستر خوان آپ کو زمین کے لمس ہی سے آشنا نہیں کرتا بلکہ انگلیوں کے لمس سے بھی متعارف کرواتا ہے۔ چھری کانٹے یا چمچے سے کھانا کھانے میں وہ لطف کہاں جو ہاتھ سے کھانے میں ہے۔ اس میں دوہرا لطف ہے ایک تو اس چیز کا لطف جو کھائی جا رہی ہے دوسرے انگلیوں کے لمس کا لطف! ممکن ہے آپ کہیں کہ میز کرسی پر بیٹھ کر یا چل پھر کر بھی تو انگلیوں کا کام میں لایا جا سکتا ہے۔ جی ہاں یہ ممکن تو ہے مگر ایسے ہوتا نہیں۔ وجہ یہ کہ ہاتھ سے کھانا کھانے کے لئے آپ کے جسم کا ایک جگہ ڈھیر ہونا ضروری ہے اور یہ بات دستر خوان کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈائننگ چیئر پر بیٹھنا سرکس کی رسّی پر کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔ چنانچہ کرسی سے پھسل جانے کا خطرہ ہمہ وقت سوہان روح بنا رہتا ہے۔ ایسے میں کوئی انگلیوں کے لمس سے کیسے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ یہی حال بوفے ضیافت کا ہے۔ وہاں دو مسئلے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کس طرح ہتھیلی پر بیک وقت پلیٹ، چمچہ، روٹی اور نیپکن کو بیلینس کیا جائے۔ یہ ایک خاصا مشکل کام ہے بلکہ اسے آرٹ کہنا چاہئے جو ولیمے کی سینکڑوں ضیافتوں سے گزرنے کے بعد ہی آتا ہے۔ دوسرا مسئلہ ٹریفک کا ہے جب آپ بوفے ضیافت کے جملہ مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو ہر قسم کی ٹکروں، دھکوں اور خلاف ورزیوں سے خود کو اور اپنی رکابی کو بچانا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ انگلیوں کی مدد سے کچھ کھانے کی کوشش کریں بھی تو اس کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ اس ہنگامہ دارو گیر میں آپ کو اپنی خوبصورت انگلی بھی ایک مڑا ہوا بدوضع کانٹا ہی نظر آتی ہے۔
دستر خوان لامسہ ہی کو تسکین نہیں دیتا، شامہ، سامعہ اور باصرہ کو بھی سیراب کرتا ہے جب مہمان دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو مختلف کھانوں کی خوشبو آنِ واحد میں ان تک جاپہنچتی ہے اور جب پہنچتی ہے تو اس فراوانی کے ساتھ کہ وہ اسے نہ صرف اک مشروب کی طرح پیتے ہیں بلکہ اس کی مختلف اقسام میں تمیز بھی کر لیتے ہیں۔ مثلاً نان کی سوندھی سوندھی باس، پلاؤ کی گرم خوشبو سے مختلف شے ہے اور متنجن کی تیز مہکار، فرنی کی ٹھنڈی سگندھ سے ایک جدا مزاج رکھتی ہے۔۔ ۔ یہ انکشاف دستر خوان پر اطمینان سے بیٹھنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ بوفے ضیافت میں تو کھانوں، مہمانوں، بیروں اور قنا توں کی ملی جلی خوشبو ایک ایسی بھاری بوجھل شے بن جاتی ہے کہ اسے خوشبو سے ہم رشتہ کرنا بھی بد مذاقی کی دلیل ہے۔ سامعہ کی تسکین کا پہلو بھی دستر خوان پر ہی ممکن ہے یہاں کھانے والے کے دہن سے ہڈیوں کے کڑ کڑانے اور لقمے کے دانتوں میں پسنے کی آواز ایک شیریں نغمے کی طرح آپ کے کانوں سے ٹکراتی ہے اور آپ پر کیف و سرور کی بارش کر دیتی ہے۔ دستر خوان پر ہی آپ کو پہلی بار اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہر کھانے والے کی زبان، دانت، تالو اور ہونٹ کھانے کے دوران مل جل کر ایک ایسی مخصوص آواز نکالتے ہیں جو نہ صرف دوسری آوازوں سے مختلف ہوتی ہے بلکہ جس میں کھانے والے کی ساری شخصیت سمائی ہوتی ہے۔ کسی شخص کے اصل کردار سے آشنا ہونا ہو تو کھانے کے دوران اس کے منہ سے برآمد ہونے والی آوازوں پر کان دھریں کیونکہ ہر شخص کے اندر کی ساری شرافت یا خباثت اس کے کھانے کی آواز ہی میں مضمر ہوتی ہے۔
رہا باصرہ کا معاملہ تو اس بارے میں کچھ زیادہ کہنے سننے کی گنجائش نہیں۔ دستر خوان پر آرام اور سکون سے بیٹھنا نصیب ہو تو کھانے کو نظر بھر کر دیکھنے کی فرصت بھی ملتی ہے۔ ورنہ دوسرے موقعوں پر کس بدبخت کو کبھی معلوم ہوا ہے کہ جس شے پردہ دندانِ طمع تیز کئے ہوئے ہے وہ دیکھنے میں کیسی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دستر خوان پر پوری دلجمعی سے بیٹھ کر کھانا کھانے اور بوفے ضیافت میں انتہائی سراسیمگی کے عالم میں کھانا زہر مار کرنے میں وہی فرق ہے جو محبت اور ہوس میں ہے، خوش بو اور بد بو میں ہے، صبح کی چہل قدمی اور سوگز کی دوڑ میں ہے ! !

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post