بیاد طارق عزیز : سیدہ آمنہ ریاض

طارق عزیز اب نہیں رہے۔ اس خبر نے مجھے کئی سال پیچھے پلٹنے پر مجبور کر دیا اور میرا دل دکھ سے بھر گیا۔
یہ 2005/ 6 کی بات ہے۔ان دنوں میں تھرڈ ایئر کی طالبہ تھی۔ جب ہم بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لینے پی ٹی وی پہنچے اور چار مقابلے مختلف کالجز کے مد مقابل جیت لئیے۔ وہاں طارق عزیز سے پہلی ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں اچھے لب و لہجہ کی بنیاد پر کام کی آفر ہوئی جو میں نے قبول کی۔ اس کے بعد طارق عزیز شو کرنے کی پیشکش بشارت صاحب جو کہ پروڈیوسر تھے،اور آغا قیصر عباس اسسٹنٹ پروڈیوسر تھے، نے کی جسے میں نے خوشی سے قبول کیا۔ یوں طارق صاحب کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہوں۔ مجھے ان کے ساتھ کام کے دوران کبھی بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے اور بیک سٹیج ہنستے ہنساتے رہتے تھے۔آڈینس کا دل موہ لینا طادق صاحب کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
ایک مرتبہ دوران پروگرام طارق صاحب بہت بری طرح رپٹ کر گر گئے۔ جس پر میں بہت گھبرا گئی کہ نہ جانے اب کیا ہو گا؟ لیکن طارق صاحب اٹھے اور وہیں سے پروگرام جاری رکھا اور یوں لگا جیسے کچھ بھی نہیں ہوا۔
پھر ایک مرتبہ ایک ٹیم کسی شہر سے بیت بازی کے مشہور سیگمنٹ میں حصہ لینے آئی لیکن اس کی تیاری نہیں تھی اور ان کو کوئی شعر نہیں آرہا تھا۔ جس پر پروگرام کے دوران ہی طارق صاحب نے مجھے اشارہ کیا کہ میں ان کی معاونت کے لیے ان کے ساتھ شامل ہو جاوں اور میں ٹیم کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اچانک ہی دوسری ٹیم میں طارق عزیز جا پہنچے اور یوں میرے اور طارق صاحب کے مابین مقابلہ شروع ہوا جس کو آڈینس نے بے حد پسند کیا۔
طارق صاحب وقت کے بے حد پابند تھے۔ ہم(میں،طارق صاحب اور بشارت صاحب جو کہ پروڈیوسر تھے)طارق صاحب کی گاڑی میں پورے چار بجے الحمرا پہنچ جاتے۔الحمرا کا گیٹ کیپر طارق صاحب کو دیکھتے ہی سیلوٹ مارتا طارق صاحب بھی مسکرا کر اس کو اسی انداز میں سیلیوٹ مارتے۔
طارق عزیز شو میں ہال میں ہر طرح کی آڈینس موجود ہوتی۔ جس میں نوجوان، خواتین،بوڑھے بچے سب شامل ہوتے۔ لیکن مجال ہے کوئی ڈسپلن کی خلاف ورزی کر جائے۔ ہر کوئی طارق صاحب کے سحر میں گرفتار اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہوتا۔ اس وقت غالباً طارق صاحب پینسٹھ برس کے تھے لیکن ہر طرف بھاگے پھرتے تھے۔
مجھے یاد ہے جب شام پورے چھ بجےپروگرام شروع ہونے لگتا اور پردہ پیچھے ہٹتا اور طارق عزیز شو والا مخصوص میوزک بجتا تو اسی لمحے میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا اور میں طارق صاحب سے کہتی کہ میرا دل گھبرا رہا ہے۔ جس پر وہ مجھے کہتے کمال ہے آپ تو بڑی بہادر لگتی ہیں۔ ہمت پکڑیں میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ان کے یہ الفاظ واقعی میری ہمت بندھاتے۔ پھر پروگرام کے دوران بھی پوچھتے رہتے کہ اب ٹھیک ہو؟
کیسے بھول جاوں؟😥وہ وقت بھولتا ہی نہیں۔
طارق صاحب کی طبیعت میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان کا انداز بناوٹی نہیں تھا۔ یہ ایسا انداز تھا جس میں پاکستانیت کی خوشبو آتی تھی۔ وہ سچے پاکستانی تھے۔ دوران پروگرام وہ مکمل اردو زبان ہی بولتے تھے۔جس میں انگریزی کی ملاوٹ نہیں ہوتی تھی۔
مجھے یاد ہے جب میں بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لینے کی غرض سے پہلی مرتبہ پی ٹی وی پہنچی تو طارق صاحب بشارت صاحب کے کمرے میں موجود تھے۔ ان کو دیکھتے ہی جو پہلا تاثر قائم ہوا وہ یہ تھا کہ یہ بہت سخت مزاج ہوں گے۔ واقعی ان کی بھاری بھرکم آواز سے یہی لگتا لیکن وہ اس کے بر عکس نکلے۔ بعد ازاں یہ میری خوش قسمتی کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
طارق صاحب کی دیکھا دیکھی بہت مشہور لوگوں نے بھی ان کی طرز پر پروگرام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کوا اگر ہنس کی چال چلے تو وہ اپنی بھی بھول جایا کرتا ہے کے مصداق نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔
جس طرح طارق صاحب نے نسلوں کی تربیت کی،جس طرح خواتین کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا،جس طرح بزرگوں کا ادب کیا کوئی اس کی گرد کو بھی نہیں چھو سکتا۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ طارق صاحب بھی مذاق کرتے تھے، گیمز بھی ہوتی تھیں لیکن ان کی طبیعت میں چھچھورا پن نہیں تھا۔ سادہ سے اشتہار ہوا کرتے تھے، عام لوگ، کوئی شو بازی نہیں، کسی قسم کا دکھاوا نہیں۔لیکن ان کا یہی انداز دلوں پر راج کرتا تھا۔
ہائے اب دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو کون مخاطب کرے گا؟ اب الیکٹرا کون دے گا؟ اب جپسی امیزنگ کریم کے چرچے کون کرے گا؟
طارق عزیز شو پی ٹی وی کا کماو پوت تھا جس نے برس ہا برس کما کر دیا اور شہرت کے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔
ان کے جانے سے ایسا خلا پیدا ہوا جو کبھی بھی پر نہیں ہو سکتا۔
دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام ہمیشہ پہنچتا رہے گا۔
اللہ ان کی اگلی منازل آسان کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین

You might also like
Loading...