اقبالؒ ایک عاشقِ رسولﷺ : ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

ڈاکٹراسدمصطفی
ڈاکٹر اسد مصطفیٰ
یہ سال اس لحاظ بہت خوبصورت ہے کہ یوم اقبال ماہ منور ربیع الاول کی مبار ک ساعتوں میں آرہا ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کایوم ولادت اتوار کے روز ہے تو عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے میں بسا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر سے زیادہ نہ پانے کی تمنا کرنے والے اقبالؒ کا یوم ولادت جمعہ کی مبارک ساعتوں میں آرہا ہے۔عاشق صادق کے عشق کی انتہا اور،جذب اندروں نے زمانے کے بُعد کو بھی دنوں کے قرب میں بدل دیا ہے اور۰۰۴۱سو سال کے فاصلے سے آتی ہوئی مہک آج بھی تروتازہ ہے، جس نے عشاق کے دلوں کے غنچے کھلائے اور غمِ دنیا بھلائے ہوئے ہیں اور اقبال زبان حال سے پکار رہے ہیں۔
نگاہ ِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قراں،وہی فرقاں،وہی یٰسیں،وہی طہٰ
لوح بھی تو قلم بھی تو ترا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
یوں تو اقبال ترجمان حقیقت اور نباض ملت ہیں اور ان کا کلام دین اسلام کی توضیح و تشریح ہے مگراپنے جن اشعار میں انہوں نے خاص پر ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے یا حوالہ دیا ہے وہ تمام اشعار عشق و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز اور محبت کی خوشبو سے معطر ہیں۔ایک شعر کا مفہوم ہے کہ۔”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لطف اور قہر ہر دو سراپا رحمت تھے۔لطف تو اپنوں کے لیے رحمت تھا اور قہر (مقصدِ تادیب واصلاح کے لیے)دشمنوں پر رحمت تھا۔“ایک اور شعر میں فرماتے ہیں ”وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ جس نے دشمنوں پر بھی رحمت کا دروزاہ کھول دیا اور مکہ کے کفار کو معافی کا پیغام بھیجا“ایک شعر کا مفہوم ہے”نائب حق جس وقت دیدار الہی سے بہرہ ور ہوتا ہے تو اس پر صحیح مقام عبودیت آشکار ہوتا ہے۔“ اقبال عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں گندھے ہوئے تھے اور اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق بہت خا ص تھا۔ تلاوت قران کرتے تو آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھیں اور جب بھی نبی کریم کا ذکر لبوں پر آتا تھا تواسی وقت آنکھیں چھلک پڑا کرتی تھیں۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام سے محبت علم وحکمت کی ایسی معراج ثابت ہوئی جس نے آئندہ کے زمانوں کو اپنے حصار میں لے لیاہے سو کلام اقبال آج بھی تروتازہ اور پر اثر ہے اور کل بھی اس کی روئیدگی طراوت انگیز اور مہک پرور رہے گی۔ گزرا کل بھی اقبال ؒکے کلام ہی سے راہ دھونڈتا تھا اور آئندہ کا دور بھی سچائی اور حکمت کی تلاش میں کلام اقبال سے باہر نہیں جھانک سکے گا۔اقبالؒ کی فکر ونظر میں مسلمانان عالم کے لیے سب سے مضبوط رشتہ عقیدہ توحید کا رشتہ ہے اس کے لیے وہ شہد کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح شہد کی مکھیاں اگرچہ مختلف قسم کے پھولوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں لیکن اس شہد کا قطرہ دوسرے سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ گل لالہ کا رس ہے یا نرگس شہلا کا رس ہے، اسی طرح تمام مسلمانوں کو بھی ایک وحدت بن کر ملت اسلامیہ کہلانا چاہیے کیونکہ ملت کے شہد کا چھتہ ابراہیمی ہے تو اس کا شہد ایمان ابراہیمی ہے۔ اقبال کے نزدیک ملت کی پیوستگی اور ارتباط کا سبب کوئی خارجی یا مادی شے نہیں ہے۔دنیا بھر کے مسلمان اشتراک وطن کے سبب ایک قوم ہیں اور نہ ہی اشتراک نسب کی بنا پر کوئی قوم بلکہ سب کے دل محبوب حجازی صلی اللہ علیہ وسلم سے بندھے ہوئے ہیں۔ہم سب ایک ہی شمع کے پروانے اور ایک ہی محبوب کے دیوانے ہیں۔ہمارا رشتہ صرف محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا رشتہ ہے اور ہماری آنکھوں میں صرف آپ کی صہبائے عشق کا خمار ہے۔عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلمہمارا سرمایہ جمعیت ہے اورجسد ملت میں بمنزلہ خون ہے۔سو ملت اسلامیہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت قائم ہے۔ اقبال کی شاعری اور فکر فلسفے کے ہر ہر جزو سے امت کا درد بھی محسوس ہوتا ہے اور وہ بارگاہ نبوی ﷺ میں فریاد کناں نظر آتے ہیں کہ مسلماں وہ فقیر کج کلاہ ہے جس کا دل اور سینہ آہ وزاری اور سوزوتپش سے خالی ہے۔مسلماں کا دل تو روتا ہے مگر اسے اپنے دل کے رونے کا سبب معلوم نہیں۔ یا رسول اللہ اس کی حالت زار پر نگاہ فرمائیے۔ایک اور مقام پہ اقبال فرماتے ہیں کہ”میں ایک رات بارگاہ خداوندی میں زاروقطار رو رہا تھااور پوچھ رہا تھا مسلمان ذلیل وخوار کیوں ہیں؟جواب ملا یہ قوم دل تو رکھتی ہے مگر اپنے محبوب کا تعین نہیں کر سکی“یعنی یہ قوم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ ان کامحبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور ان کا لایا ہوا دین ہے یا پھر یہ دنیاہے۔اپنی زبان سے تو ہم سب دین کو ترجیح دیتے ہیں اور عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلتے دکھائی دیتے ہیں مگر اپنے عمل سے ہم سب نے دنیا کو محبوب ٹھہرایا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک طرف کفر ونفاق کی زد میں ہے تو دوسری طرف عریانیت،بے مقصدیت،اور انتشار نے مسلم امہ کے دامن میں سیکڑوں چھید کر ڈالے ہیں۔مولانا روم نے امت کے اسی درد کو صدیوں پہلے پہچانتے ہوئے فرمایا تھاکہ ”ہر وہ پرانی بنیاد جو مسلسل ہونے والی بارشوں کی زد میں ہوتی ہے،تو نہیں جانتا کہ وہ کیسے ویران اور تباہ برباد ہو جاتی ہے“ سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی نظریات کی یورش نے ہمیں جس طرح کی ذہنی اور معاشی غلامی کا شکار کیا ہوا ہے، اس سے نجات کی بظاہر کوئی صورت سامنے نہیں آتی اور ہمارے اسلاف کا عظیم دور اور اس سے ملنے والی روشنی اورعزم وحوصلہ ہم سے بہت دور چلا گیا ہے۔ بقول اقبال وہ دور کیا خوب تھا جب”زمانے کی تلوار ہماری توانا دستی کے سبب ہمارے ہاتھ میں تھی اور ایک عالم ہمارا زیر نگیں تھا۔ اقبال کے نزدیک سوداگری،معاشی بالادستی کے ذریعے کل بھی غریب اقوام کا استحصال کر رہی تھی اور آج بھی منافقت کے پردے میں اپنے مفادات کی محافظ اور آلہ کار ہے۔ اس لیے منافقت کے فیل پیکروں کی زبان پر کلمہ خیر اور دل میں شر ہی شر ہوتا ہے۔وحدت امت کا تصور ایک طویل عرصے سے عشاق کا ایک خواب بھی ہے اور خواہش بھی۔ یہی خواہش ہمیں اقبال کے ایک معنوی شاگرد اور وحدت امہ کے نقیب پروفیسر محمد اشفاق چغتائی ؒکی ایک نظم ”من شبے اقبالؒ را دیدم بخواب“ میں بڑے پرسوز انداز نظر آتی ہے۔
مجھے شب خواب میں اقبال نے ارشاد فرمایا
کہ بیٹا خوب سودا یہ ترے سر میں سمایا ہے
ہوا ہے خبط میرے خواب کی تعبیر کا لا حق
ترا ذوق تجسس سوئے منزل تجھ کو لایا ہے
تجھے اللہ نے توفیقِ اسرار خودی بخشی
رموزِ بے خودی کا بھی تجھے واقف بنایا ہے
جزاک اللہ ”پئے بردی بآں رازے کہ من گفتم“
مرے نخل تمنا کا ثمر بھی تجھ کو بھایا ہے
تجھے حق نے بفیضِ عشق توفیق عمل دی ہے
دلِ افسردہ کو زندہ تمنا سے جلایا ہے
تجھے فکر و شعور ِوحدت امہ عطا کر کے
وفاق عالم اسلام کا رستہ دکھایا ہے
بکھر کر رہ گیا ہے مصحف ملت کا شیرازہ
مسلمانوں نے وحدت کا سبق جب سے بھلایا ہے
”کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہو“
تعال اللہ کیسا خوب منصوبہ بنایا ہے
جلو میں لے کے دل ریشانِ امت کو بڑھے جاؤ
کہ تم پر سید الکونین کی رحمت کا سایہ ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post