صحرا میں شام : مسرت عباس ندرالوی


ہر شعر میں صحرا کا مسافر ہے مگر کیوں
بھولے سے بھی صحرا میں سخنور نہیں آتا
اس خوبصورت اور بےساختہ شعر کے خالق نوجوان شاعر رضا احمد رضا کو نہ جانے کیا سوجھی کہ امارات کے سبھی سخنور اور شعرا کو صحرا میں اکٹھا کر لیا اور شعرا و سامعین کے ساتھ ساتھ جیسے صحرا کی تشنگی بھی مٹا دی صحرائی سراب کو ترو تازہ اشعار سے ایسا سیراب کیا گیا کہ ایک مدت تک قیسی غزال بھی غزلیں گنگناتے اور جھومتے رہیں گے.
دسمبر کی آدھے چاندکی سرد مگر خوبصورت رات میں آگ کے آلاؤ اور تکوں کی خوشبو کے ساتھ ساتھ مترنم آوازوں نے پورے صحرا کو اپنی لپیٹ میں لیےرکھا.
یہ احوال ہے اس مشاعرے کا جو امارات کی تاریخ یا شاید مشاعروں کی تاریخ میں پہلی بار لق و دق صحرا میں برپا کیا گیا.
مشاعرہ جس کی صدارت معروف شاعر ڈاکٹر صباحت عاصم ؤاسطی صاحب نے کی اور مہمانِ خصوصی میں ڈاکٹر ثروت زہرہ موجود تھیں کے انتظامات رضا احمد رضا، مسرت عباس ندرالوی، ابرار عمر، خرم شہزاد ، حسن رضا اور ان کے ساتھیوں نے کیے.
گلِ صحرا کی رعنائی مسرت کون دیکھے ہے
گلِ صحرا کی رعنائی مسرت کون دیکھے گا
امارات کے خوبصورت شہر العین کے مضافاتی صحرا میں شام ڈھلے ہی میزبانوں کے ساتھ ساتھ مہمان شعرا اور دیگر شہروں سے ادب کی دلداہ شخصیات اکٹھا ہونا شروع ہو گئیں اور مشاعرہ سے پہلے ہی مقامِ مشاعرہ سے لطف اندوز ہونا شروع کر دیا اور منتظمین لڑکوں نے تکہ سٹینڈ پر اپنی پوزیشن سنبھالی اور سخنوروں کو جلد ہی کوئلوں کی دمک اور تکوں کی خوشبو سے اپنی طرف متوجہ کر لیا.
جیسے جیسے مہمان آتے گئے ان کی مدارت تکوں ، متنجن اور چائے سے شروع کر دی گئی تاکہ کھانے سے فارغ ہو کر جلد مشاعرے کا آغاز کیا جا سکے.
مشاعرہ شروع کرنے سے پہلے امارات میں موجود معروف رومانوی شاعر جناب اختر ملک صاحب کی والدہ کی وفات پر دعائے مغفرت اور ان سے تعزیت کی گئی.
صدرِ مشاعرہ جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی اور مہمانِ خصوصی محترمہ ڈاکٹر ثروت زھرا صاحبہ کو پھولوں کے گلدستے محترم احسان اللہ خان صاحب اور محترمہ نغمہ احسان صاحبہ نے پیش کیے.
مشاعرہ کی نظامت کے فرائض جناب جاوید صدیقی نے انجام دیئے اور تلاوتِ قران سے باقاعدہ آغاز کیا گیا جس کی سعادت حافظ جعفر صاحب نے حاصل کی اور محترمہ غزالہ مجید صاحبہ نے نعتِ رسولِ مقبول اپنی مترم آواز میں پیش کی.
حمد و نعت کے بعد شعرا نے بھرپور انداز میں اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد سمیٹی.
شعرا میں عدنان منور بھٹہ ، مسعود نقوی ، عمرانہ مجید ، حنا عباس ، نصرت حسین، ابرار عمر ، شاہ زاد حسین، شہباز شمسی، مسرت عباس ندرالوی ، رضا احمد رضا، سلمان جازب، فرزاد علی زیرک ، جاوید صدیقی ، کنول ملک، سید سروش آصف، آصف رشید اسجد، اختر ملک ، ڈاکٹر ثروت زھرہ اور ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی شامل تھے.
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے اپنی غزلوں کے ساتھ ساتھ صدارتی خطبے میں تمام نئے نوجوان شعرا کے کلام کو سراہا اور اس نئی طرز کے مشاعرے میں نوجوانوں کے امارات میں باگ ڈور سنبھالنے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور ایسی محفلیں جاری رکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی فرمائی.
رضا احمد رضا نے تمام مہمانوں کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا اور ایسے مذید مشاعروں کی یقین دہانی کرائی.
مہمانوں نے دلکش اور لذیذ ضیافت پر تمام منتظمین کی تعریف کی اور ان کو داد و تحسین سے نوازا.
مشاعرے کے اختتام پر صحرا کے حسن کو قائم رکھتے ہوئے سب نے مل کر مقامِ مشاعرہ کی صفائی کی اور غیر رسمی محفل دیر تک جاری رہی.







You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post