ڈاکٹر وزیرآغا


از: یوسف خالد

           ڈاکٹر وزیر آغا ہمارے عہد کی ایک کثیرالجہت ادبی شخصیت تھے – انہوں نے اردو اور پنجابی ادب کو نئے لہجے،نئی سوچ اور نئے ذائقوں سے آشنا کیا- ان کا نام جدیدیت اور تازگیء فکر سے مزین تخلیقات کی علامت بن چکا ہے – آغا صاحب نے پوری سنجیدگی اور کمٹمنٹ کے ساتھ اردو ادب کی مختلف اصناف کو فروغ دینے اور جدید اصناف ادب خصوصآ آزاد نظم اور انشائیے کی تفہیم اور امکانات کے حوالے سے انتہائی اہم خدمات انجام دیں -انہوں نے اپنے ادبی مجلّے ” اوراق ” کے ذریعے ان دو اصناف کو ایک تحریک کی شکل دی اور بہت سے لکھنے والوں کو ان اصناف کی اہمیت سے روشناس کروایا- انشائیہ کو قبول عام کا درجہ دلانے کے لیے نہ صرف عمدہ انشائیے تحریر کیے بلکہ انشائیہ فہمی کے لیے بیش قیمت مضامین بھی لکھے – آغا صاحب کی انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے کہ انشائیہ جسے ایک عرصہ تک بعض ادباء نے متنازعہ بنائے رکھا آج اپنی حقیقت منوا چکا ہے -اور ایک پوری نسل انشائیہ کی طرف راغب ہو چکی ہے – نئے امکانات کے در کھل رہے ہیں –
             جدید نظم کے حوالے سے بھی آغا صاحب کی خدمات نا قابل فراموش ہیں -میرا جی،راشد اور مجید امجد نے جو سفر شروع کیا تھا آغا صاحب نے نہ صرف اسے اختیار کیا بلکہ جدید نظم کی لفظیات اور امیجری کے حوالے سے انتہائی فکر انگیز تحریریں رقم کیں-اور ایک ایسی فضا پیدا کی کہ اردو ادب جدید نظم کی وسعتوں سے فیض یاب ہونے لگا-آغا جی نے جدید نظم کی فنی ضرورتوں ،مصرعوں کی ترتیب،اور لفظوں کے استعمال کے حوالے سے نوجوانوں کے سوالات کا نہ صرف مدلّل جواب دیا بلکہ جدید نظم کی قرآت کے لیے ایک باقائدہ تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیا – یہ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ نوجوان شعراء نے جدید نظم کو سمجھا بھی اور اسے اختیار بھی کیا -آج جدید نظم جس مقام پر فائز ہے اس میں آغا جی کوششوں کا بہت بڑا حصہ ہے – آغا جی کا ادبی کام کم و بیش 60 سالوں پر محیط ہے -اس کام کا احاطہ کرنا آسان نہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں کی سطح پر ایک مربوط کوشش کی جائے تا کہ قارئین ادب بالخصوص نوجوان شعراء اور ادباء آغا جی کی گراں قدر تخلیقات سے مستفیض ہو سکیں –
              آغا جی نے جہاں اردو شاعری کو نئی جہتوں سے آشنا کیا وہاں انہوں نے اردو تنقید کو بھی اعتبار بخشا -مغربی تنقید کا مطالعہ کیا اور تمام جدید رجحانات سے مکمل آگاہی حاصل کی-اور پھر اسے اپنے نظام فکر کی روشنی میں نئے زاویوں سے روشناس کروایا – اور قارئیں کے لیے عملی تنقید کے قابل قدر نمونے پیش کیے -تنقید نگاری اور تنقید نگار کے کردار اور ذمہ داریوں کو اجاگر کیا-اور اس روائیتی طرز عمل اور رویے پر کاری ضرب لگائی جس کے تحت تنقید نگار کسی فن پارے کے حوالے سے محض فتویٰ جاری کرنے کو ہی اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا – جس کے تحت تنقید نگار یا تو فن پارے کی توصیف تک محدود رہتا تھا یا اسے یکسر رد کر دیتا تھا – آغا جی نے تنقید نگاری کو تخلیق کاری کے مدار میں داخل کر دیا اور یوں فن پارے کی تفہیم اور اس سے جمالیاتی حظ اٹھانے کی صورت پیدا کر دی –
             آغا جی کی ساری فکری ریاضت سوالات اٹھانے اور حیرتوں کو چاک کرنے کی داستان ہے -انہوں نے اپنی ذات سے لے کر فطرت کے تمام مظاہر تک کا پوری سنجیدگی سے مشاہدہ کیا — کائینات اور کائینات کے عقب میں موجود اسرار کو جاننے کی کوشش کی –اور پھر اپنے مشاہدے اور تجربے کو اپنی پوری تخلیقی توانائی سے خوبصورت تحریروں میں منتقل کر دیا -ان کی یہ تمام تخلیقات بلا شبہ فکری و فنی اعتبار سے اردو ادب کا بہت بڑا سرمایہ ہیں – وزیر آغا ایک عظیم دانشور ،صاحبِ اسلوب ادیب ،اعلیٰ پائے کے شاعر اور انتہائی مہذب انسان تھے – انہوں نے اپنی تخلیقات سے ایک ایسا علمی،فکری اور ادبی جہان تشکیل دیا جہاں نئی لفظیات ،نئی سوچ اور تازگیء فکر کا ایک انوکھا ،دلکش اور سدا بہار منظر نامہ جگمگا رہا ہے –
یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post