پروفیسرہیروجی کتاؤکا اورخدمتِ اُردو

از: ذوالفقار احسن

کچھ عرصہ قبل کے گئے یونیسکو کے ایک سروے کے مطابق اُردو دُنیا کی تیسری بڑی زبان کے طور پر اُبھر کر ہمارے سامنے آتی ہے مگر حالیہ شعبہ صحافت کے ایک ادارہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مطابق اُردو دُنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔چین کی زبان منڈرین ہے جسے 864ملین لوگ بولتے ہیں دوسرے نمبر پر اردو ہے جو 444ملین لوگوں کا ذریعہء اظہار ہے۔ تیسرے نمبر پر انگریزی آتی ہے جو 443ملین لوگوں کی زبان ہے۔ اِسی ترتیب سے چوتھے نمبر پر ہسپانوی‘ پانچویں نمبر پر روسی‘ چھٹے نمبر پر عربی‘ ساتویں نمبر پر بنگلہ دیشی اور اسی ترتیب سے گیارہویں نمبر پر فرانسیسی آتی ہے۔ اس حقیقت سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی ہے کہ ہم خواندگی کے سو فیصد ہدف کو اس وقت تک حاصل نہیں کر پائیں گے جب تک ایک ایسی زبان جو عام طور پر پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے کو بطور ذریعہ ء تعلیم اختیار نہ کر لیں اور وہ زبان ہے صرف اور صرف اردو۔
کسی بھی فن پارے کا ترجمہ کرتے وقت کئی ایک پہلو سامنے ہوتے ہیں کہ اس میں آفاقیت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ ولی ؔ‘ میر ؔ‘ سوداؔ‘ داغ ؔ‘ غالب ؔ‘ اقبال ؔ‘ فیض ؔ‘ ن۔م راشد ؔ‘ مجید امجد‘ ناصر کاظمی‘ اور وزیر آغاسمیت کئی ایک ایسے شاعر ہیں جن کی تخلیقات کے تراجم ہو کر دنیا کے مختلف ممالک میں پڑھی جا رہی ہے۔
چین کی بات ہو تو ”چانگ شی شوان“ انتخاب عالم کا نام ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے جوچین کے رہنے والے ہیں اور انھوں نے اپنا نام بھی اردو میں رکھا۔ 1970ء میں پاکستانی شاعر مظفر حسین رزمی مرحوم جو ان دنوں بیجنگ میں مقیم تھے سے عروض کا ابتدائی علم حاصل کیا۔ 1979ء میں چانگ شی شوان نے شعر گوئی شروع کی اور شاعر و پروفیسر آفتاب اقبال شمیم کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیے۔ 1982ء میں جب چانگ شی شوان (انتخاب عالم)پاکستان سے اپنی تعلیم مکمل کر کے چین واپس گئے تو اردو شاعری کے ماحول سے دُور ہوگئے مگر انہوں نے ریاضت جاری رکھی اور ایک شعری مجموعہ ”گل بانگ وفا“ کے نام سے اردو ادب کو دیا۔یہ مجموعہ اکادمی ادبیات اسلام نے شائع کیا۔چانگ شی شوان اپنے نام اور اپنے مجموعہ کلام کے نام کے بارے میں لکھتے ہیں:
”چین اور پاکستان کی دوستی ایک بے مثال او ر سدا بہار گلشن ہے جوہر موسم میں نغمہ و خوشبوئے وفا بکھیرتا رہا ہے۔ چونکہ یہ شعری مجموعہ اسی گلشن کی ایک آواز ہے اس لیے اس کا نام ”گلبانگ وفا رکھا گیا۔ چینی میں میراخاندانی نام چانگ ہے جب کہ میرا ذاتی نام شی شوان ہے‘ جس کا اردو میں ترجمہ انتخاب عالم ہے چنانچہ عالم میرا تخلص ٹھہرا“
اسی طرح جرمنی کی بات ہو تواین میری شمل کا نام سامنے آتا ہے۔ جنہوں نے علامہ محمد اقبال پر بہت زیادہ کام۔
اسی طرح اگر جاپان کی طرف دیکھیں تو ایک محسن اردو‘ مجاہداردو‘ خادم اردو پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا کا نام ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ پر وفیسر ہیرو جی کتاؤکا نے اردو کی بے شمار تخلیقات کا جاپانی زبان میں ترجمہ کر کے انہیں ہر خاص و عام تک پہنچایا ہے۔ پروفیسر ہیر وجی کتاؤکا ”اوکسایونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز میں دس برس جزوقتی استاد رہے۔ تقریباً دس برس تک اوکسا کے شعبہ اردو سے منسلک رہنے کے بعد اپریل 1986ء سے وہ ایسو سی ایٹ پر وفیسر کی حیثیت سے دائی تونبکا یونیورسٹی ٹوکیو جاپان کے بین الاقوامی ثقافت کے شعبے میں اردو پڑھانے پر مامور ہیں اور اس شعبے کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پر وفیسر ہیرو جی کتاؤکا نے 1992ء میں معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے منتخب کلام کاجاپانی ترجمہ کیا اور اسے اپنے مربوط تبصرے کے ساتھ شائع کیا۔پروفیسر صاحب کلیات فیض ”نسخہ ہائے وفا“ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک طویل عرصے سے جاپانی زبان میں اُردو ادب پر مقالات لکھ رہے ہیں۔ پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا 1988ء میں سعادت حسن منٹو کے افسانوی مجموعہ ”کالی شلوار“ کا جاپانی ترجمہ پروفیسر سوزوکی تاکیشی کے ساتھ مل کر کتابی صورت میں مرتب اورشائع کر چکے ہیں۔ منٹو کی بارہ کہانیوں کے اس مجموعے کی کچھ کہانیوں جن میں ”شہید ساز“ ”نیا قانون“ ”نعرہ“ ”ٹیٹوال کا کتا“ ”موزیل“”اور”بابو گوپی ناتھ“ کے تراجم کتاؤکا نے کیے ہیں جبکہ باقی کہانیوں کے تراجم سوزوکی تاکیشی نے کیے۔ 1990ء میں منٹو کی نو کہانیوں پر مشتمل ایک مجموعہ”گورمکھ سنگھ کی وصیت‘‘ کا ترجمہ منصہ شہود پر آیا۔اس مجموعہ کے بھی ہیروجی کتاؤکا اور پر وفیسر سوزوکی تاکیشی دونوں نے مل کر تراجم کیے۔اس مجموعے کے تین افسانے ”ہتک“ ”سڑک کے کنارے“ اور ”ممی“ کا جاپانی ترجمہ ہیروجی کتاؤکا نے خود کیا جبکہ باقی ماندہ افسانوں کاترجمہ پروفیسر سوزوکی یاکیشی نے کیا تھا۔
ڈاکٹر سید معین الرحمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھاہے:
”میرے ایک استفسار اور فرمائش پر پر وفیسر ہیرو جی کتاؤکا نے اقبال‘ منٹو اور فیض پر اپنے کاموں کے بارے میں مجھے لکھا کہ:”1988ء اور 1990ء میں‘ میں نے منٹو کے افسانوں کے جاپانی ترجموں کے دو مجموعے پر وفیسر سوزوکی تاکیشی کے ساتھ شائع کیے ہیں (نیز) اقبال کے بارے میں ”شکوہ اور جواب شکوہ‘ کا جاپانی ترجمہ (اور) اقبال کے متعلق چند مضامین…… فیض کے بارے میں میرے کام کے دو حوالے ہیں‘
الف۔۔ نقش فریادی‘ دست صبا ء‘ زنداں نامہ‘ دست تہ سنگ‘ شام شہر یاراں اور میرے دل میرے مسافر‘ سب جاپانی میں ترجمہ کر چکا ہوں اور اپنی طرف سے شائع کر چکا ہوں۔
ب۔۔1996ء میں فیض کی نظموں اور غزلوں کا انتخاب (میرا کیا ہوا)شائع ہوا۔ اس میں تقریباًاس سو ستر نظمیں اور غزلیں شائع ہیں“
بنام ڈاکٹر سید معین الرحمن‘ ٹوکیو 10۔ ستمبر 1997ء ٭1
پروفیسر ہیر و کتاؤکا نے غالب کے پورے دیوان(اردو) کا ترجمہ(صفحات355) جاپانی زبان میں کر کے ایک عظیم کارنامہ انجام دیتے ہوئے مرزا غالب کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ دیوان غالب کا مختلف حوالوں سے خصوصی مطالعہ کر کے ان پر مضامین و مقالہ جات بھی قلم بند کیے جو ایک مجموعہ کی صورت میں ”تحقیقات دیوان غالب“
(ریسرچزان دیوان غالب)کے عنوان سے منصہ شہود پر آئے۔ یہ کتاب 233صفحات پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کی کتابی صورت سے قبل یہ تمام مضامین مختلف ادبی رسائل میں بھی شائع ہو چکے تھے اور اہل فن سے بھرپور تحسین بھی حاصل کر چکے تھے۔
ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے بقول:
”پر وفیسر کتاؤکا کا خصوصی موضوع جدید اردو ادب ہے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اردو ادب ہی ان کا وڑھنا بچھونا ہے ………… جدید شعراء میں سے اقبال ؔ۔ فیض۔ؔمیرؔا جی۔ راشدؔ۔ جوش ؔ۔ اختر ؔشیرانی۔ ناصرؔ کاظمی۔ اور اکبرؔ پر مقالات لکھ چکے ہیں …… ان کا سب سے اہم کام غالبؔ اور فیضؔ کا مکمل جاپانی ترجمہ ہے ۔٭2
پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا کے فکر و فن پر متعددمضامین و مقالے لکھے جاچکے ہیں۔دنیا بھر میں ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی اہل فن کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں 2006ء میں فیصل آباد یونیورسٹی نے ایک سیمینار کروایا جس میں ہیر و جی کتاؤکا پاکستان تشریف لائے اور اس سیمینار میں شریک ہوئے۔ پر وفیسر طارق حبیب بھی اس سیمینار میں شریک تھے انہوں نے بتایا کہ:
”پر وفیسر ہیرو جی کتاؤکا اردو زبان و ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ میں نے انہیں اردو میں گفتگو کرتے سناہے ان کی زبان میں بہت روانی تھی اور ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ اردو کے لفظ قطار در قطار بیٹھے منتظر ہیں کہ کب پر وفیسر کتاؤکاہمیں استعمال کرتے ہیں۔گویا لفظوں کا ایک سمندر امڈ آیا تھا۔میں ان کی اردو زبان سن کر حیران و ششدر رہ گیا۔ انہوں نے غالب کے حوالے سے جوکام کیا ہے شاید ہی کوئی اور کر پاتا۔ یہ ہیرو جی کتاؤکا ہی کا حصہ تھاجو انہوں نے کیا۔“
پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا نے واقعی”دیوان غالب“(اردو)کا ترجمہ کر کے غالب شناسی کے حوالے سے ایک بہت بڑا ادبی معرکہ انجام دیا ہے۔ ہیرو جی کتاؤکا نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے دیوان غالب کی تاریخی ترتیب بھی مرتب کر کے شائع کر دی ہے۔ جس پر ڈاکٹر سید معین الرحمن رقم طراز ہیں:
”پر وفیسر ہیرو جی کتاؤکا نے ”دیوان غالب“ کا ایک ایسا جاپانی متن بھی تیار کیا ہے جو ”تاریخی ترتیب“ سے صورت پذیر ہوا ہے …… یہ ایک غیر معمولی پیش رفت اور حد درجہ قابل تحسین کارنامہ ہے۔”دیوان غالب“ (تاریخی ترتیب سے) کا یہ جاپانی ایڈیشن ضخامت (ضخامت 384صفحات) اگست 1997ء میں شائع
ہوا۔“٭3
پروفیسر ہیر وجی کتاؤکا نے اردو کے حوالے سے جو کام جاپانی زبان میں کیا ہے وہ یقینا جاپان میں غالب شناسی کی ایک روایت کو جنم دے گا اور ہر آنے والے دور میں جاپان کے طلباء کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھے گا۔ کوئی بھی جاپانی طالب علم ان اردو کے عظیم اہل قلم کی تخلیقات جب جاپانی زبان میں پڑھے گا تو اس کے دل میں یقینا اردو کے لیے ایک محبت اور رغبت ضرور پیدا ہوگی اور اس کا کریڈٹ پر وفیسر ہیرو جی کتاؤکا کو جائے گا۔ پروفیسر ہیر وجی کتاؤکا نے جاپانی زبان میں اردو کے حوالے سے جو کام کیا ہے وہ ایک شاہکاراوربہت بڑی ادبی خدمت ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post