’’ ٹیکسلا ٹائم‘‘کے افسانے اورمالک اشتر


از:  حمید قیصر
انجیئر مالک اشتر نے جب مجھے اپنے افسانوں کی پہلی کتاب ’’ٹیکسلا ٹائم‘‘ دی تو مجھے اپنے اور اس کے سکول کا زمانہ یاد آگیا جب وہ مالک اشتر علی قیصر ہوا کرتا تھا اور ہم گورنمنٹ ہائی سکول کالا باغ میں ساتویں کے طالب علم تھے۔اشتر کے والد صاحب ریلوے کے اسٹیشن ماسٹر تھے اورشاید پنڈ دادنخان سے تبدیل ہو کر کالا باغ آئے تھے انہیںریلوے کالونی میں آفیسرز کیٹیگری کا گھر ملا ۔ جس کے صحن میں ٹاہلی کا ایک بڑے تنے والا قدیم درخت آج بھی مجھے یاد آتا ہے جب گرمیوں کی شاموں میں اس پرانواع و اقسام کے پرندے چہچہاتے تھے اور ہم انہیںطرح طرح سے ستاتے تھے ۔ 1972-73ء میں مقبول الہی نیاز ی بھی انہی دنوں میں سکول میں نئے آئے تھے ۔ ان کے والد صاحب پی ایم ڈی سی میں تھے اوروہ کھیوڑہ سے تبدیل ہو کر کالا باغ آئے تھے۔ کالاباغ کی ایک مخصوص آبادی میں باہر سے آنے والے لڑکے الگ سے پہچانے جاتے تھے ۔مالک اشتر اور مقبول الہی نیازی ہمارے حلقۂ احباب میں ہاکی کی وجہ سے جلدپہچانے جانے لگے ۔ سکول کا گراؤنڈ قدرے چھوٹا اور پتھریلا ہونے کی وجہ سے شام کو اس کی بجائے ہاکی کھیلنے سائیکلوں پر ریلوے اسٹیشن پر واقع گراؤنڈ جایا کرتے تھے ۔میرے اور اشتر کے درمیان دوسری قدرِ مشترک کتابوں ، ڈائجسٹوں اور رسائل کا مطالعۂ تھا۔یوں تبادلہ کتب نے ہمیں ہم جماعت سے گہرے دوست بنا دیا۔ ہمارے درمیان تیسری قدر مشترک لکھنے لکھانے اور اخبارات کے بچوں کے صفحات پر چھپنے کا شوق تھا۔ہم سکول کے بزمِ ادب کے سرگرم رکن تھے ۔ ہمارے ساتھ فاروق بابر، خالد محمود طاہر، اکرم مسلم، ضیاء اللہ پراچہ تھے اور اشتر اور مقبول کے آنے سے بزم ادب میں نہ صرف وسعت آئی بلکہ ہم ہر ہفتے روزنامہ مشرق، مساوات، جنگ اور امروز کے بچوں کے ہفتہ وار ایڈیشنز کا شدّت سے انتظار کیا کرتے ۔ ان دنوں صبح کے اخبار عصر کے وقت اسماعیل نیوز ایجنٹ کی سائیکل پر لہرایا کرتے تھے اور جس ہفتے ہمارے ارسال کردہ اقوال زریں ، لطیفے، خطوط، کہانیاں اور مضامین شائع ہوتے تو ہم سکول بھر میں فخر سے گھوما کرتے، جونیئر کلاسوں کے لڑکے ہمیں رشک بھری نظروں سے دیکھتے۔ مقبول الہی نیازی کے والد کا سال بعد کھیوڑہ تبادلہ ہو گیا اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ چلے گئے لیکن میرے ساتھ اس کا رابطہ خط و کتابت کے ذریعے تادیرجاری رہا۔ انہی دنوں مالک اشتر علی قیصر نے اپنا تخلص قیصر سے خاور کر لیا اور ہماری اتنی دوستی اور قربت تھی کہ میں نے قیصر کو اپنے نام کا مستقل حصہ بنا لیا۔ اشتر کی تمام فیملی پڑھی لکھی تھی اور ان کے گھر نت نئے رسائل اور کتابیں آتی تھیں اور ہم نہ صرف مل جُل کر وہ کتابیںپڑھتے بلکہ ان پر تبادلہ خیالات بھی کرتے ۔ خاص طور پر ہم کہانی کاروں اور ان کی تخلیقات پر زیادہ بات کرتے کہ کہانی کی طرف ہماری رغبت بچپن سے اورفطری تھی ۔ سکول میں اردو ہمارا پسندیدہ مضمون تھا اور نویں جماعت میں ’’مرقع اردو‘‘ نے کہانی سے ہماری دلچسپی کو مہمیز لگائی ۔ جس میں غلام عباس، مرزا ادیب، سجاد حیدر یلدرم، چراغ حسن حسرت اور علامہ راشدالخیری جیسے بڑے ادیبوں کی کہانیوں نے ہمیں اپنے سحر میں گرفتار کر لیا تھا۔ خالد محمود طاہر میرے بچپن کا دوست تھا مگر اس قدر شرارتی تھا کہ کلاس فیلوز تو کیا اساتذہ بھی اس کے مذاق سے گھبراتے تھے ، لیکن سنیئر کلاسوں میں آتے آتے خالد ایک بہترین کارٹونسٹ کے طور پر سامنے آیا۔ اشتر علی خاور اور میں نے مل کر شاید بچوں کے لیے دو ایک چربہّ ناول بھی لکھے تھے جو ممکن ہے اشتر نے کہیں سنبھال رکھے ہوں۔مگر آج میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر مجھے سکول کے زمانے سے اشتر کی صحبت نہ ملی ہوتی تو شاید میرا لکھنے کا شوق کب کا دم توڑ چکا ہوتا۔ باقی تمام ساتھی آگے چل کر صرف بزم ِادب تک محدود رہے مگر کہانی سے لگاؤ میرے اندر راسخ ہو چکا تھا۔
پھر ایک وقت آیا جب اشتر کے والد کا تبادلہ ٹیکسلا ہو گیا اور وہ اپنے سنہری لانبے بالوں ایسی اپنی سنہری یادیں ہمارے دلوں میں چھوڑ کر ٹیکسلا رُخصت ہو گیا۔ پہلے پہل اشتر سے بھی خط وکتابت کے ذریعے رابطہ رہا پھر ایک عرصہ تک خاموشی رہی۔ ہمیں ان دنوں ٹیکسلا اتنا دور لگتا تھا جتنا آج کراچی کہ ہم تو صرف سکول کے سکاؤٹنگ گروپ کے ساتھ 1973ء میں ایک بار مری بروری اور دوسری بار1975ء میں لاہور کے والٹن کیمپ دس دس دن کی سکاؤٹنگ جمہوری کے لیے گئے تھے ۔ اس سے قبل کبھی کالا باغ سے باہر گئے ہی نہیں تھے اور پھر فاصلوں کی اَصل حقیقت کا ادراک ہمیں اس وقت ہوا جب جولائی،1974ء میں میری والدہ کی اچانک وفات پر دوبئی سے میرے والد صاحب اور بڑے بھائی تدفین کے لیے بروقت نہ پہنچ سکے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ کہانی لکھنے کا میرا شوق مالک اشتر کے ساتھ پروان چڑھا اور میری خوش نصیبی ہے کہ میری کہانیوں کی کتاب اشتر سے پہلے آ گئی۔جہاں تک انجیئر مالک اشتر کی کہانیوں کا تعلق ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابتداً اس کا شوق سنہرے مستقبل کے خابوں تلے دب گیا تھا۔ وہ عملی زندگی میں ایک کامیاب انجیئربن گیا اور اچھی ملازمت حاصل کر لی ۔ بہت بعد میں ٹیکسلا کے مستقل قیام نے راکھ کے ڈھیر میں سے چنگاریوں کو ہوا دی اور ایک ادیب جو ان کے من اندر سہما سہما رہاکرتا تھاانگڑائی لے کر جاگ اٹھا۔ تکشاسلا(ٹیکسلا) دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں اور معاشرتوں کا رازداں و امین ہے۔ اس کی مہکی فضاؤں نے مالک اشتر کے کان میں غیر محسوس انداز میں زیر زمین سوئی کتنی ہی تہذیبوں کی گم گشتہ داستانیں اجالنے اور ان کی کہانیاں کہنے کی بشارت دی۔ یوں اشتر کے اندر آوارہ منش کہانی کار نے میلوں پر پھیلے گندھارا تہذیب کے پس منظر میں ہنمانشی ،یونانی، موریا، انڈویونانی، ساکا، پارتھیائی، کشانی، ساسانی، رومی اور کئی دوسری اقوام کی مٹتی اور دم توڑتی نشانیوں کو اپنی کہانیوں میں یوں سمویا کہ تاریخ بھی مسخ نہیں ہوئی اور یہ آثار اشتر کے افسانوں کا حصہ بن کر حیاتِ جادواں پا گئے ہیں۔اشتر کو کہانی کہنے کا فن آتا ہے اور اس کے لیے اس کا اسلوب نہایت سادہ اور فطری ہے جو پڑھنے والوں کو سُبک خرامی سے لیے وقت کی دہلیز عبور کر کے قدیم تہذیبوں میں گم ہو جاتا ہے اور جب وہ دونوں لوٹتے ہیں تو ایک تحیّر ان کے ساتھ چلا آتا ہے ، جو ان کی گزران کو تحقیق و تلاش کے نئے زاویّے عطا کر دیتا ہے۔ میرے نزدیک فن کار کے لیے یہی فن کی عطاء اور فن کار کے خلوص اور اس کی تلاش و جستجو کا یہی وہ ثمر ہے جواس کی تخلیق کو اپنے ہم عصروںسے ممیز کرتا ہے۔تاریخ سے جڑی اشتر کی یہ دلچسپ اور خوب صورت کہانیاں اردو ادب میں بہترین اضافہ ہیں۔
’’ٹیکسلا ٹائم‘‘ کتاب کا نام بظاہر بہت سادہ مگر اپنے اندر بڑی گہرائی رکھتا ہے ۔ ہماری تاریخ اور ادب میں ’’وقت‘‘ کی کیا اہمیت ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اشتر اور ان کے خاندان کا ریل سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ان کا گھر ٹیکسلا اسٹیشن کے عین سامنے ہے اور والد صاحب کے بعد ان کے چھوٹے بھائی غضنفر علی اب اسٹیشن ماسٹر کے عہدے پر ہیں۔ ’’ٹیکسلا ٹائم‘‘سے گمان گزرتا ہے جیسے یہ کسی ریل کار کا نام ہو،جیسے روہی ، چناب یا کراچی ایکسپریس۔ اشتر کے بہنوئی اور ہمارے عزیز دوست سجاد اظہر ایک کہنہ مشق صحافی اور لکھاری ہیںجو آج کل امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ اس کتاب ’’ٹیکسلا ٹائم‘‘ کی تقریب بہت جلد وہاںہو۔ مکتبہ تجزیہ اسلام آباد نے دیدہ زیب سرورق کے ساتھ اس کتاب کی قیمت 250/-روپے مقرر کی ہے جو بازار میں دستیاب ہے۔ مالک اشتر کی پہلی کتاب ٹیکسلا کی قدیم تاریخی سرزمین پر کھلنے والا پہلا پھول ہے اور میں پُر امید ہوں کہ اشتر پھول سے پھلوّاری بنانے کے اس تخلیقی عمل کو جاری رکھیں گے اور اپنے نوک ِقلم سے عظیم تہذیبوں کی ماں دھرتی کو کرید کرید کر نئی کہانیاں اجالتے رہیں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post