وزیر آغا کی شاعری : مظفّرؔ حنفی

مظفر حنفی
مظفّر حنفی
پچھلے دنوں پاکستان سے موصولہ اردو مطبوعات میں سے جس کتاب نے سب سے پہلے دامنِ توجّہ کو اپنی جانب کھینچا وہ ہے ’’ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘‘۔ یہ ڈاکٹر وزیر آغا کی تا حال معرضِ وجود میں آنے والی شعری تخلیقات کا ضخیم کلّیات ہے۔
مشفق خواجہ نے کہیں کہا ہے کہ وزیر آغا ان لکھنے والوں میں سے ہیں جو اپنے عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ان کا زرخیز قلم گزشتہ چالیس برسوں سے کشو رِ ادب میں اپنی تخلیقی توانائی اور خلاقی سے گلکاریوں میں مصروف ہے اور ان کی قلم رو میں اقلیم سخن کے تقریباً تمام ابعاد و جہات شامل ہیں۔ نظم، غزل، منظوم آپ بیتی، تنقید، مکتوبات، انشائیہ، سفر نامہ، تحقیق، ترتیب و تدوین، جریدہ نگاری، فکاہیہ اور متعدد دیگر اصنافِ ادب میں وزیر آغا نے اپنے تخلیقی سفر کے نقوشِ پا مرتسم کیے ہیں۔ چند برس پہلے موصوف سے ایک طویل مصاحبے کے دوران راقم الحروف کے بار بار دریافت کرنے پر بھی وہ کسی ایک صنفِ ادب کو اپنا بنیادی اور اساسی میدان تسلیم کرنے سے گریز کرتے رہے لیکن میں سمجھتا ہوں وہ شاعر پہلے ہیں نقّاد یا کچھ اور بعد میں۔ ہرچند کہ تعداد کے اعتبار سے وزیر آغا کی تنقیدی کتابیں اُن کے شعری مجموعوں سے کم و بیش دوگنی ہیں لیکن ادب کی دنیا میں اکثر دو اور دو پانچ ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے میں اس نتیجے پر وزیر آغا کے شعری کلیات ’’چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘‘ کے مطالعے کے بعد پہنچا ہوں اور کبھی ان کی نثری تخلیقات کا کلیات شائع ہو تو کوئی اس کی روشنی میں کچھ اور نتیجہ برآمد کرے حالانکہ ہمارے ہاں ابھی نثری کلیات کی روایت ہی نہیں ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا کے لفظوں کی یہ چھاگل در اصل وہ کوزہ ہے جس میں ایک دو نہیں سات دریا سموئے ہوئے ہیں یعنی اس کلیات میں شاعر کے سات مجموعہ ہائے کلام ( شام اور سائے، دن کا زرد پہاڑ، نردبان، آدھی صدی کے بعد، غزلیں، گھاس میں تتلیاں اور اک کتھا انوکھی) کی نظمیں اور غزلیں یکجا کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ’’آدھی صدی کے بعد ‘‘ اور ’’ اِک کتھا انوکھی‘‘ طویل نظمیں ہیں اور باقی ماندہ نظموں میں ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب آزاد نظمیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر آغا نئی نظم کے ہراول دستے میں ایک ممتاز مقام کے حامل ہیں اور اُن کی شاعری، خصوصاً نظمیں، کیفیات اور امیجز کی شاعری کے ذیل میں آتی ہیں۔ ان میں سے اکثر نظمیں علاماتی ہیں لیکن وہ ژولیدہ بیانی اور اہمال، جس کے لیے مدتوں سے جدید شاعری کو مطعون کیا جاتا رہا ہے، وزیر آغا کی نظموں میں نہیں ملتے۔ ان کی نظموں میں فکر کی گہرائی بھی ہے اور تخیل کی شادابی بھی۔ ڈاکٹر وزیر آغا اپنے موضوع پر مضبوط گرفت رکھنے کے ساتھ اسلوب میں ندرت پیدا کرنے کے گُر سے بھی واقف ہیں اور جدّت کے ساتھ شعریت کو آمیز کرنے کے رمز سے بھی آگاہ ہیں۔ ان کی نظموں میں انسانی زندگی اور کائنات کا تصادم و مصالحت نیز تہذیبی ارتقا کے تسلسل کا گہرا احساس ملتا ہے۔ پیکر تراشی پر جیسی قدرت وزیر آغا کو حاصل ہے ان کے بہت سے ہمعصر نظم گو اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سیال و جامد، پیچ در پیچ پیکروں کا ایک لا متناہی سلسلہ وزیر آغا کی نظموں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے اکثر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نظم کی پتلی سی ڈور اتنے بہت سے پیکروں کا بوجھ سہار نہ سکے گی لیکن اس کی بُنت میں شاعر کے ادراک کی پختگی نے وہ تکنیک اور ایسے رمز پوشیدہ رکھے ہیں کہ کم و بیش ہر نظم کئی کئی پیکروں کا مجموعہ لگتی ہے۔ کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں :
سلگتی شب کا عجب سماں تھا
فلک تھا پیتل کا تھال جس میں
چمکتاکانسی کا چندرماں تھا
دِیے کی مانند ضو فشاں تھا
درخت چپ تھے کہ جس طرح پا بجولاں مجرم
(ہوا کے جھونکے نے پنکھ کھولے )
فلک کی سیہ، گہری، سوکھی ہوئی باؤلی سے
کروڑوں ستارے
شعاعوں کی بے سمت، بے لفظ گونگی زباں میں
لرزتے لبوں سے،
’’ نہ ہونے کے ‘‘ منکر تھے
( نشر گاہ)
مجھے سورج کے رتھ سے آتشیں تیروں کا آنا
اور چھاگل سے ہمک کر آب کا گرنا
کسی بچے کا رونا اور پانی مانگنا بھولا نہیں تھا، میں کہاں جاتا
( ہوا کہتی رہی آؤ)
اندھیرے کے کشکول میں کس نے سونے کا دینار پھینکا
کہ کلیاں شعاعوں کی کھِلنے لگیں
سارے جنگل کے پتّے زمرّد بنے، ٹہنیاں پیلے سونے کی چھڑیاں ہوئیں
جھاڑیوں میں دہکنے لگے سرخ پھولوں کے فانوس
( دست بستہ کھڑا ہوں )
اور میں
اپنے بوجھل پپوٹوں کو میچے
کسی نرم جھونکے کی آہٹ سنوں
تنگ ہوتے ہوئے دودھیا بازوؤں کے
ملائم سے حلقے میں سونے لگوں
کاش سونے لگوں
(ذات کے روگ میں )
سارے شہر میں آگ لگی
کاغذ کے ملبوس جلے،
کالے، ننگے جسموں سے بازار بھرے
آوازوں کے جھکّڑ آئے بادل چیخا
آنگن کے بے داغ بدن میں جلی ہوئی ہڈیوں کے اولے
پتھر بن کر برس پڑے
(دیواریں )
نور کی برکھا گھنے چھتنار کی
چھلنی سے چھن کر آ گئی
میرے اوپر روشنی کی پتیاں بکھرا گئی
میرے سارے جسم کو سہلا گئی
( خدشہ)
یقیناً آپ نے بھی محسوس کیا ہو گا کہ ان نظموں میں اردو کی عام نظمیہ شاعری کی مانند محض بصری بیکروں کی بھرمار نہیں ہے بلکہ شاعر نے اپنے تمام حواسِ خمسہ حتیٰ کہ چھٹی حِس کو بھی بیدار رکھتے ہوئے شاعری کی ہے، اسی لیے اُس کے علاماتی پیکروں میں لامسہ، شامّہ، ذائقہ، سامعہ سبھی کی مساویانہ کار فرمائی نظر آتی ہے۔ بلا شبہ وزیر آغا کے ہاں نئی نظم اچھوتی رفعتوں پر کمندیں ڈالتی نظر آتی ہے۔ اپنی نظموں میں وزیر آغا نے جتنی نئی علامتیں اور تازہ استعارے خلق کیے ہیں اور تخلیقی اظہار میں رنگا رنگی پیدا کی ہے، خارجی زندگی کے موجود اور معلوم مظاہر کو داخل کی بھیدوں بھری، اجنبی اور انجانی دنیا سے ہم رشتہ کیا ہے وہ بجائے خود ایک اہم تخلیقی تجربہ ہے۔ ساتھ ہی میں نے محسوس کیا کہ ڈاکٹر وزیر آغا کی اکثر نظموں پر یاسیت کا غلبہ ہے لیکن اس محزونی میں بھی ویسا ہی لطف ہے جیسا کہ میرؔ کی شاعری میں محسوس ہوتا ہے، موصوف کی نظموں میں ’’دکھ‘‘، ’’ سناٹا‘‘، ’’ باز گشت‘‘، ’’ کوہِ ندا‘‘، ’’ ہوا کہتی رہی آؤ‘‘، ’’ ڈولتی ساعت‘‘، ’’ عفریت‘‘، نروان‘‘، ’’ ڈری ہوئی آواز‘‘، ’’ دُکھ میلے آکاش کا‘‘، ’’ اک سیال سونے کا ساگر‘‘، ’’دھوپ‘‘، ’’ٹین کا ڈبّہ‘‘، ’’ چرنوبل‘‘، ’’ بجھی راکھ کا رنگ‘‘ وغیرہ ایسی صفات کی حامل ہیں جو ہر دَور میں بڑی شاعری سے منسوب کی جاتی ہیں۔ اعتدال اور توازن ان نظموں کی ایک اور بڑی خصوصیت ہے۔ لطیف جذبات کی تازگی، آسودہ فکر کی حرارت اور ایک خود آگاہ شخصیت کی بے تکلف سادگی، وزیر آغا کی نظموں کو منفرد ذائقے کی حامل بناتی ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ شاعر جو نقاد بھی ہیں، جب تخلیقِ شعر پر آمادہ ہوتے ہیں تو ان کی نگارشات میں ایک رُکی رُکی، تھمی تھمی سی ہکلاہٹ سے مماثل کیفیت اظہار پیدا ہو جاتی ہے یعنی ان کا تنقیدی ادراک کسی بڑی تخلیقی جست لگانے سے باز رکھتا ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ کم از کم نظموں کی حد تک یہ کلّیہ وزیر آغا پر صادق نہیں آتا اور اسی لیے میں انھیں اساساً شاعر پہلے اور نقاد بعد میں تسلیم کرتا ہوں۔ کبھی ایسی رکاوٹ یا تھماؤ کا موقع آتا بھی ہے تو وزیر آغا اُسے بھی اپنی نظم کے لیے کار آمد بنا لیتے ہیں۔ غالبؔ کے بقول رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور_____ وزیر آغا روانی کی کمی کو نظم کی گہرائی اور موضوع کی وسعت کو خیال انگیزی میں ڈھال دیتے ہیں یعنی تخلیقی سوتے راہ نہ پا کر جب چڑھتے ہیں تو ان کی تھاہ پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس خیال کی تائید میں وزیر آغا کی طویل نظم’’ آدھی صدی کے بعد‘‘ اور نسبتاً کم طویل نظم ’’اِک کتھا انوکھی‘‘ پیش کی جا سکتی ہے۔ ’’ آدھی صدی کے بعد‘‘ میرے نزدیک اردو کی ایسی معدودے چند طویل نظموں میں سے ہے جنھیں عالمی ادب کے معیار پر پرکھا جا سکتا ہے۔ اس منظوم آپ بیتی میں شاعر کے خارجی اور باطنی ارتقا اور ذات و کائنات کے سفر کا بیک وقت مشاہدہ و مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس نظم کی سوچتی ہوئی روانی اور گمبھیر سادگی بلا شبہ بے نظیر ہے۔ کم و بیش انھیں اوصاف کی حامل ’’ اک کتھا انوکھی‘‘ بھی ہے۔ اس کا ایک اقتباس آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :
سونے والے باہر آ
اور امرت رس سے بھرا ہوا مہتاب کا کاسہ
سورج کے ہاتھوں سے لے کر پی
کہ تیری آنکھ سے پھر کرنوں کا سونا
چشمہ بن کر پھُوٹ بہے
’’ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘‘ میں اتنی بہت سی اور ایسی اچھی اچھی نظمیں بیک وقت مطالعے میں آئیں کہ ان پر تا دیر گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن میں تقریر کو مضمون نہیں بنانا چاہتا اس لیے بطور گریز وزیر آغا کی غزلوں کے کچھ شعر سنیے :
۱۔ اس کی آواز میں شامل تھے خد و خال اس کے
وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پرو بال اس کے
…………
۲۔ آنسو، ستارے، اوس کے دانے، سفید پھول
سب میرے غم گسار سرِ شام آئیں گے
…………
۳۔ رات بھیگے گی تو ہر تارا چُبھن بن جائے گا
رفتہ رفتہ خوں میں تر شب کی قبا ہو جائے گی
…………
۴۔ میں کس زمین میں دفناؤں اپنی آنکھوں کو
کہاں یہ دولتِ بیدار لے کے جاؤں میں
…………
۵۔ آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہت
ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے
…………
۶۔ سوچا نہ تھا کہ ابرِ سیہ پوش سے کبھی
کوندے ترے بدن کے مرے نام آئیں گے
…………
۷۔ میرے دُکھی سوال کا اس شام تیرے پاس
بھیگی ہوئی نظر کے سوا کیا جواب تھا
…………
۸۔ تو نا سمجھ تھا کہ دہلیز تک چلا آیا
زمانہ اب تجھے بازار میں بلاتا ہے
…………
۹۔ جانے کس کھونٹ تجھ کو لے جائیں
شاہزادے ! نقوشِ پا سے ڈر
…………
۱۰۔ بانسری بول رہی تھی کہ اِدھر آ جاؤ
اُس کی آواز میں آواز ملا دی ہم نے
…………
۱۱۔ یہ میری سوچتی آنکھیں کہ جن میں
گزرتے ہی نہیں گزرے زمانے
…………
’’ چہک اٹھی۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ میں شامل تقریباً سو غزلوں سے یہ گیارہ اشعار بآسانی چنے گئے ہیں لیکن ان میں وہ قوت اور ندرت ہے کہ اردو غزل کے اچھے اشعار کا سخت انتخاب کیا جائے تو ان میں بلا تکلف شامل کیے جا سکتے ہیں۔ وزیر آغا کی فکر کا تازہ پن ملاحظہ ہو کہ آواز کو تجسیم عطا کر دی اور پر و بال کو ہنسنا سکھا دیا(ش۱) پھر آنکھوں کو دولت بیدار کہنا (ش ۴) ابرِ سیہ پوش سے محبوب کے بدن کا شاعر کی خاطر کوندنا (ش ۶) رات بھیگنے کے ساتھ تاروں کا چبھن بن جانا (ش ۳) اور سوچتی ہوئی آنکھوں میں گزرے ہوئے زمانوں کا تھم جانا (ش ۱۱) اگر وزیر آغا کے جذبے اور فکر، شدّتِ احساس اور نُدرتِ اظہار کی غمازی کرتے ہیں تو شعر ۲، ۵، ۷، ۸، ۹ اور ۱۰ کی ربودگی، گھلاوٹ اور خود رفتگی، کلاسیکی غزل کے شہ پاروں کی یاد تازہ کرتی ہے لیکن کہیں کسی قدیم شعر کی چھوٹ پڑتی نظر نہیں آتی۔ یہ شعر سرتا سر آمد کے نہیں ہیں۔ فکر اور وسیع مطالعے کا ان کی تخلیق میں بڑا ہاتھ ہے پھر بھی اس پُرکاری میں سادگی پیدا کرنا وزیر آغا ہی کا کام ہے۔ ان میں خیال انگیزی اور تاثیر، معنی آفرینی اور کیفیت سازی بیک وقت محسوس کی جا سکتی ہے۔
پچھلے دنوں ہمارے ایک نقاد دوست تشریف لائے خیر سے اہلِ زبان بھی ہیں۔ میں نے وزیر آغا کا شعر نمبر ۱ سُنا کر اُنھیں خوش کرنا چاہا تو فرمایا، یہ مصرع ثانی میں ’ تا، تھا، تو‘ آپ کے ذوقِ جمال پر گراں نہیں گزرتا؟ جواباً عرض کیا کہ ’’ چہک اُٹھی لفظوں کی چھاگل ‘‘ میں ایسے کچھ اور بھی مقاماتِ آہ و فغاں ہوسکتے ہیں، آخر وزیر آغا سرگودھا میں بیٹھ کر غزل کہہ رہے ہیں اور تازہ تازہ شعر نکالتے ہیں۔ اہلِ زباں ہوتے تو بہتوں کی طرح وہ بھی قدماء کی جگالی کرتے !
(بحوالہ: تنقیدی نگارشات حصہ اول مظفر حنفی)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post