نیلم ملک کا تخلیق کردہ جہانِ حیرت


از : نوید فدا ستی
             نوجوان مگر اس عہد کے نمائندہ شاعر جس نے اردو غزل کو اُسلوب کے ایک بالکل نئے ذائقے سے روشناس ہی نہیں کروایا بل کہ اپنا اعتبار قائم کرتے ہوئے اپنے بعد آنے والی نسل کی شعری تربیت بهی کی ہے میری مراد دلاورعلی آزر سے ہے اُن کا ایک شعر ہے۔
شعر وہ لکھو جو پہلے کہیں موجود نہ ہو
خواب دیکھو تو زمانے سے الگ ہو جاؤ
کہنے کو یہ صرف ایک شعر ہے لیکن میرے نقطۂ نگاہ سے یہ نئے آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ کا سا کام انجام دے رہا ہے یعنی یہ وہ شعری محاورہ ہے جس نے زبان کے تمام تر فصیح امکانات اور ایکسپریشنز کو اپنے اندر سمیٹا ہُوا ہے ہم شاعری پر گفتگو کے دوران میں نئے شعر کی تعریف کے لیے یہ لازوال شعر ایک شعری نظریہ کے طور پر محاورے کی صورت میں پیش کر سکتے ہیں اس میں جدید شاعری کے اسرار و رموز پنہاں ہی نہیں روشن بھی ہیں۔ غزل کا یہ شعر وہ شعری پیمانہ ہے جس کے ذریعے ہم شاعری کو سمجھنے کی اپنی سے ایک کوشش کر سکتے ہیں۔ اِس شعر کی مثال لانے کا مقصد یہ تھا کہ ہماری آج کی شاعرہ نیلم ملک بھی اسے نظریے کے عین مطابق اپنی شعری نشو و نما کرتی نظر آتی ہے جہاں یہ شاعرہ روایت کی پاسداری نبھاتی ہے وہیں نئے جہانون کی طرف اپنے قاری کو متوجہ بھی کرتی ہے۔ نیلم ملک بنیادی طور پر جدید طرزِ ادا کو ممیز دے کر اسے تیز تر کرنا چاہتی ہے یعنی اس کی تاب ناکی اور اس کی لو کو بڑھانا چاہتی ہے۔ نیلم ملک کی پہلی شعری و تخلیقی دست آویز”نیلی آنچ“ کے علامتی عنوان سے اس دورِ پُر آشوب میں منصۂ شہود پر جلوہ گر ہے جب تنقید دم تؤڑتی جا رہی ہے اور شعر فہمی ایک شغل بن کر رہ گئی ہے ایسے میں کسی ایسی شاعرہ کا ظہور شعر کے لیے ناگزیر ہے جو اپنے فکر کو ایڑ لگانا اور فن کو بروئے کار لانا جانتی ہو۔ نیلم ملک کی شاعری ان ناقابلِ یقین معیارات پر پورا اترتی ہے اس شاعری میں نیلا رنگ اُس کلیدی علامت طور پر سامنے آیا ہے جس کے سوتے ایک تخلیق کار کے باطن سے پھوٹتے ہیں۔ اس نے زندگی کی تابانیوں کو اپنی روح میں اتار کر جب بھی دکھ کی آنچ پر پکایا تو اس دکھ نے اس کی روح میں وہ نیلی آنچ متشکل کر دی جس کو اُس نے اپنی کتاب کے عنوان میں رکھ دیا اب اسی آنچ سے اس کی زندگی کے تمام تر معاملات جڑے ہیں زندگی گزارنے کے دوران میں
تغیر و تبدل پذیر ہوتے واقعات ، سانحات ، خوشیاں ، غمیاں سب ایک تخلیقی سانچے میں ڈھل گئی ہیں میرے نزدیک یہ نیلی آنچ ان کی طرف ایک نیم روشن استعارہ ہے یعنی زندگی کی شادمانیاں و غم ستانیاں جب زندگی سے متاثر ہوتی ہیں تو ان کا ملال کچھ بڑھ سا جاتا ہے اور ملال کے ساتھ ان کا جمال و جلال بھی بڑھ کر دو آتشہ ہو جاتا ہے یہ شعر ملاحظہ کیجے۔
تیری آنکھوں میں سرخ دھاگے ہیں
رات کس کے نصیب جاگے ہیں
اس طرح نیلی آنچ زندگی کی تپش کو اندر کے موسموں میں سربہ گریباں کر کے دم لیتی ہے اس کا سبب کسی خزاں کا پرتَو بھی ہو سکتا ہے میرے نزدیک تمام تر رنگوں محیط ہیں اک معقولہ ہے جس کا خالصتاً انگریزی ترجمہ ہے
”If i could lay my hand on you. I would roast on slow fire“
اس طرح نیلم مالک نے زندگی کو بہت قریب سے observe کیا اور اپنے معاشرے کا احاطہ کر کے اپنے اور دوسروں کے دکھ کو نظم کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ اشعار ملاحظہ کیجئے گا
سیاہ دھبے کی تفصیل گر بتانی ہو
ہر ایک خال پہ مضمون لکھنا پڑتا ہے
کیا بچاوں تجھے ، کیا ہٹاوں تجھے مختصر زندگی
خود پہ اوڑھوں کے نیچے بچھاوں تجھے مختصر زندگی
ہم گلابوں کی قلمیں لگاتے رہے آئنے کھود کر
کرچیاں کھل گئیں پتیوں کی جگہ کرب میں مبتلا
جسم زنداں ہی سہی سوچ مگر بارہ دری
جس طرف چاہوں کسی در سے نکل جاوں میں
بغاوت کو جنم لیتے ہی زندہ گاڑ دیں صاحب!
یہ لڑکی بول اٹھی اک بار تو ہر بات بولے گی
ہم کو درپیش ہے اب عشق سے آگے کا سفر
ہم نہیں ایک ہی منزل پہ ٹھکانے والے
سوکھے جھیل تو ایک مکان بنانا ہے
ہربت ہٹے تو اک دروازہ کھولوں میں
اپنی حدوں سے پار نکلنےکی چاہ میں
ہوتا ہے چُور جب بھی کرے زور آئینہ
وہ رب ہے سو وہ بخش بھی دیتا ہے خطائیں
یہ میں ہوں مرے سامنے رہیے گا ادب سے
خیال کی تجسیم لَو دے اُٹھے تو ایسے خوب صورت اور موضوعی تازہ کاری سے بھرپور اشعار ظہور کرتے ہیں جن میں جذبے کی آنچ ، فکر کی حدّت ، تخیل کی چمک ، الفاط کا چناو ، تراکیب ، مرکبات ، استعارے ، تشبہیات، خوب صورت انداز میں ایک لڑی پروئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں پھر مصرع سازی کی مہارت لفظوں کا در و بست اشعار میں ایک عمدہ تخلیق کار کی ریاضت کا پتا دیتا ہے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔
ہم آسمان کے سفر پر تھے رات بھر دونوں
ہوئی سحر تو ملے اپنے اپنے گھر دونوں
اس ایک لمحے کا رنگ عمروں پہ چھا گیا ہے
وہ ایک لمحہ کہ رنگ جس میں بھرے نہیں تھے
سفر کی سمت کا میں تعین کر چکی تھی
نجانے تم یہ کیوں سمجھے شارہ مِل گیا ہے
میں تو اپنے بھی آس پاس نہیں
اور ہو جاوں میں کہاں سے پرے
قسمت کا پھیر ہے جو پھراتا ہے در بدر
ہم بد نصیب گھر سے نکالے نہیں ہوئے
ہم مقابل نہ آسکے خود کے
تیرے پیچھے چھپا لیا خود کو
نیلم ملک درد مندی اور تجربات و مشاہدات ، احساس و جذبہ کو جب زندگی کے ساتھ ایک تخلیقی عمل سے گزارتی ہے تو وہ روایت کے خزینے یا عصری شعری زمانے سے نئے زمانے اخذ کرتی ہے اور اکتساب کا ہنر جانتی ہے وہ جہانِ ادب میں اپنی انفرادیت قائم کر کے مشکل راستے پر محتاط قدم اٹھاتی ہے اور اُسے یقین ہے کہ جب تک کائنات میں انسان کا وجود باقی ہے محبت اپنے توانا روحانی جذبات کی صداقت سمیت باقی رہے گی۔
باہر سے جب کھولتے ہیں تو کھلتا ہے بس دروازہ
اندر سے کھل جائے اگر تو سارا گھر کھل جاتا ہے
کبھی کبھی تق ہندسے ہانپنے لگتے تھے
ایسے گِن گِن عمر گزاری ہے
ملی اک شے بھی مطلب کی نہ اس میں
زمیں پر آسماں الٹا پڑا ہے
ویسے تو دشوار ہے لیکن کاغذ پر
رنگ سے دشت کو دریا کرنے لگتی ہوں
منٹ کی سوئی سے باندھ کر وہ
گھڑی میں ہم کو گھما رہا ہے
ابھی جن دائروں میں مصلحت نے نطق جکڑے ہیں
الجھ کر ان میں اک دن خود ہی یہ پرکار بولے گی
پر سلامت ہیں بظاہر ، پھر بھی اٹ سکتا نہیں
اک پرندہ کینوس پر کب سے ہے بیٹھا ہوا
نا معلوم کی کھوج میں اک دن نکلے تھے
تب سے نا معلوم ہے ہیں ہم دونوں
اپنے اندر کے کسی خوف میں جکڑے ہوئے لوگ
دوسروں کو بھی بغاوت نہیں کرنے دیتے
ایک سائلکو ضرورت ہے مرے دل کی مگر
ہائے گھر والے سخاوت نہیں کرنے دیتے
آئی تھی ترے واسطے جنت سے زمیں پر
اب یہ ٹھکانہ مرے مطلب کا نہیں ہے
شعر کو پہلو بہ پہلو کھولیے
لطف صاحب لیجے ابہام سے
نیلم ملک نے اپنے احساس ، ادراک اور آگہی کو اساس بنایا ہے اور یہی ان کی کامیابی کا زار ہے نیلی آنچ اس کا پہلا شعری مجموعہ ہونے کے باوجود اظہار کے اُس کچے پن سے پاک ہے جو آج کل کے اکثر نوجوان شعرا کی شاعری میں دکھائی دے کر ادب کے سنجیدہ قاری کو بے مزہ کر جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس شاعرہ نے اپنی انفرادی اور اجتماعی وصف کی عکاسی کی ہے اپنے جذبات و احساسات کی انتہا کو چھوتے ہوئے اشعار کا مزہ لیجئے۔
چشمِ تر لے کے اگر گھر سے نکل جاوں میں
سب بدل جائے جو منظر سے نکل جاوں میں
یکدم چیخ میں ڈھلتی ہیں اور پھر خاموش
ہوشربا، مدھم، شرمیلی آوازیں
عجیب محویت سے ان کو دیکھنے لگا جہاں
جو رنگِ عشق آستیں پہ مل کے آگئے یہاں
نہ فقیہہ کوئی سمجھ سکا نہ ہی تو صنم!
کہ خدا سے میرے معاملات عجیب ہیں
لمس لازم ہے محبت میں، سبھی مانتے ہیں
اس حقیقت کی حمایت نہیں کرنے والے
سہیلی ساتھ چلتے ہیں چل اس کی چھاوں میں ہم
غضب کی دھوپ میں اک پارہ مل گیا ہے
شام کے بعد تھکی ہاری اتری ہے کمرے میں
اب اک کروٹ صبح تلک سوئے گی کالی رات
مری بنضوں میں اتری جا رہی ہے سرسراہٹ
کلائی پر لپیٹا سانپ کو گجرے کی صورت
میں اس لیے اک درخت سے بات کر رہی ہوں
رہے گا چپ یا جواب دے گا مرے مطابق
میں چاند کے پاس جا کے دیکھوں گی آسماں سے پرے کا منظر
زہے تجسّ فلک پہ کھڑکی جو یہ کھلی ہے بہت بھلی ہے
نیلم ملک پختہ شاعرہ کا نام ہے جو اپنے اندر امکانات کا اک جہانِ حیرت رکھتی ہے میں اُس کو اس کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں میری تمام تر دعائیں اور نیک تمنائیں اُس کے ساتھ ہیں خدائے حرف اُسے بارگاہِ شعر میں اسی طرح معتکف رکھے الہی آمین۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post