میری تخلیقی شخصیت کے بارے میں ایک سوال اوراس کا جواب


ڈاکٹرستیہ پال آنند
یہ سوال محترمہ شاہدہ زیدی نے کتابی صورت میں مطبوعہ میرے انٹرویو ’’آئینہ در آئینہ‘‘ سے نکال کر مجھے بھیجا ہے اور پوچھا ہے کہ جو جواب میں نے پہلے دیا تھا،اس میں کچھ رد و بدل کرنا چاہوں گا ؟ اللہ جانے موصوفہ چاہتی کیا ہیں، لیکن وہی سوال اور وہی جواب معمولی سے اضافے کے ساتھ دوبارہ لکھ رہا ہوں۔ میں نے کچھ بھی ’’رد‘‘ نہیں کیا اور کچھ بھی ’’بدل‘‘ کے تحت تبدیل نہیں کیا۔ دیکھیں
سوال۔
l آپ فکری سطح پر لکڑیوں کا گٹھا ہیں یا ایک ایک لکڑی کا الگ الگ حساب رکھتے ہیں ۔ مجھے آپ کی وحدانی اور مجموعی تفسیر چاہئے فکری بند وبست کے حوالے سے ۔(پیار سے)]
آنـنـد: ایسے محسوس ہوتا ہے، جیسے میرے حوالے سے آپ نے اس مقولے کو یوں بدل دیا ہے۔ ’’،من آنم کہ تو دانم!‘‘ بہر حال اگر یہ سچ بھی ہو کہ ’’تو دانی حساب ِکم و بیش را‘‘ تو بھی جواب دینا تو میرا فرض ہے۔
(۱) جی ہاں، میں فکری سطح پر لکڑیوں کا ایک گٹھا ہوں
(۲) جی ہاں، میں اس گٹھے میں بندھی ہوئی ہر ایک لکڑی کا الگ الگ حساب بھی رکھتا ہوں۔
پہلے تو یہ عرض کروں کہ میں اپنے قول و فعل میں خود اختیار ہوں، خلیع العذار ہوں، غیر وابستہ ہوں اور اپنی گاڑی خود ہانکتا ہوں۔ کسی کی ناک کا بال نہیں ہوں۔تابع مہمل ہونا میں نے نہیں سیکھا۔پھر یہ کہنے کی جرات کروں کہ فکری سطح پر اصناف ِ ادب کے حوالے سے میں اول و آخر ایک ایمان دار قلم مزدور ہوں۔ شارٹ فکشن یعنی افسانے لکھا کرتا تھا تو بلا روک ٹوک لکھتا تھا ، یہی حالت ناول نویس کے طور پر تھی۔ ایک ناول پنجاب (انڈیا) کی حکومت نے ضبط کیا تو بھی، اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی کسی کی دھونس میں نہیں آیا۔ لکھتا رہا، حتیٰ کہ میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر کا فنکار جو بات کہنا چاہتا ہے وہ اس تیزی اور اکلمیت سے کہانی یا ناول کی اصناف میں نہیں کہہ سکتا جس کی تمنا اسے ہے۔ کہانی لکھنے پر، اسے اشاعت پذیر ہوتے ہوئے دیکھنے پر، اس کے ایک مجموعہ کلام کی مالا میں ایک موتی سا پروئے ہوئے دیکھنے پر وقت لگتا ہے۔ اتنا وقت میرے پاس نہیں ہے۔ میں تو کیا، کسی کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ن م راشد نے بھی شاید یہی سوچ کر نثر سے نظم کی طرف اپنی ڈاچی کی مہاریں موڑ دی ہوں گی۔ میں نے بھی یہی کیا اور چہ آنکہ افسانہ نویسی سے کلیتاً کنارہ کش نہیں ہوا (یعنی اب بھی کبھی کبھار ایک کہانی لکھ ہی لیتا ہوں) تو بھی سارا وقت صنف نظم پر صرف کرنا ہی شروع کر دیا۔ یہ 1972-73ئ کے لگ بھگ ہوا جب میں انڈیا سے پہلی بار باہر آیا اور انگلستان میں ریزیڈنٹ اسکالر کے طور پر برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینیز میں دو اڑھائی برس ٹھہرا۔
کسی کا تابع مہمل نہ ہونے کا ایک اور بین ثبوت یہ ہے کہ اپنے لدھیانہ قیام کے دنوں میں (1948-59) یعنی گیارہ برسوں تک میں انجمن ترقی مصنفین سے منسلک رہا۔ پنجاب برانچ کے جنرل سیکرٹری کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ اس کی پہلی رونق افروز کانفرنس بھیمڑی میں بھی شامل ہوا اور اسکے بعد دو اور کانفرنسوں یعنی دہلی اور امرتسر میں منعقدہ اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔ ریزولیوشن مرتب کیے، الیکشن کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر دوڑ دھوپ کی۔یعنی وہ سب کام کیا جو ایک ذمہ دار کارکن کرتا ہے، لیکن روس کے آمر ستالین کی موت سے کچھ پہلے جب ان باتوں کی تصدیق ہونا شروع ہو گئی کہ روسی کمیونزم کے جھنڈے کے نیچے لاکھوں لوگ ’’گُلاگ آرکی پیلاگو‘‘ او ر دیگرConcentration Camps میںسسک سسک کر مر چکے ہیں، اور میں خود لنڈن سے برلن جا کر ’برلن دیوار‘ کو ہاتھ سے چھو کر دیکھ آیا کہ اس کی دوسری طرف لوگ کس کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں ، یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ کمیونزم ایک کھوکھلا نعرہ ہے جس کے نام پر شخصی آزادی سلب کی جاتی ہے اور کروڑوں لوگ پہلے سے بھی بد تر زندگی بسر کرتے ہیں ، اور سوویت روس کا پروگرام تو تیسری دنیا کو ایسے ہی پائوں کے نیچے روندنے کا ہے، جیسے اس نے وسط ایشیا کی اسلامی سلطنتوں کو کیا تھا۔۔۔ تو انجمن ترقی پسند مصنفین سے سبکدوش ہونے میں بھی کچھ وقت نہیں لگا۔
بات لکڑیوں کے گٹھے کی تھی اور ایک ایک لکڑی کی الگ الگ جسامت کی تھی۔ یہ فرض کیجیے، صاحب، کہ لکڑیوں کا گٹھا اصناف ادب ۔۔۔ یعنی، ناول ، افسانہ، شاعری اور نان فکشن نثر یعنی تحقیق، تنقید، تاریخ وغیرہ پر مشتمل تھا اور چار مختلف زبانوں، یعنی اردو، انگریزی ، ہندی اور پنجابی میں تھا، تو اس میں چار ضرب چار یعنی سولہ لکڑیاں تھیں۔ ہر ایک لکڑی ستیہ پال آنند تھی اور لکڑیوں کا بندھا بندھایاگٹھا بھی ستیہ پال آنند تھا۔ حتیٰ الوسع ان سب کو وقت دینے کی کوشش میں کچھ کو کافی وقت نہ مل سکنے کی وجہ سے کچھ اصناف ادب دب گئیں ، کچھ زیادہ ابھر کر سامنے آ گئیں، کچھ زبانیں آہستہ آہستہ تھک ہار کر بیٹھ گئیں، کچھ ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔اور اب یہ حالت ہے کہ اردو ہے اور انگریزی ہے، جو ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کبھی کبھار ہندی یا پنجابی میں ایک نظم لکھ لیتا ہوں یا ایک غزل کہہ لیتا ہوں۔لیکن اردو کو اب بھی انگریزی پر فوقیت حاصل ہے۔انگریزی سے کچھ کمائی ہوتی ہے او ر وہی کمائی اردو پر خرچ ہو جاتی ہے۔
فکری بندوبست کے حوالے سے یہی کچا چٹھا ہے میرا۔ اسے آپ تھانے کی F.I.R.یعنی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے طور پر دیکھیں یا میرے اقبال جرم کی فرد کے حوالے سے ۔۔۔۔ جو کچھ ہے، بس یہی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post