’’میراجی شناسی‘‘ میں ڈاکٹر وَزیر آغا کا حصہ : طارق حبیب

ڈاکٹرطارق حبیب
طارق حبیب
۲۵ مئی ۱۹۱۲ء کو میرا جی، جن کا اصل نام محمد ثناء اﷲ ڈار تھا، لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد منشی مہتاب الدین نے حسین بی بی سے شادی کی۔ حسین بی بی سے دو لڑکے محمد عطاء اﷲ ڈار اور محمد عنایت اﷲ ڈار ہوئے۔ حسین بی بی کی وفات کے بعد منشی مہتاب الدین نے زینب بیگم عرف سردار بیگم سے شادی کی، جن سے محمد ثناء اﷲ ڈار، عزیز ثریا، محمد اکرام اﷲ کامی(لطیفی)، انعام اﷲ کامی، محمد شجاع اﷲ نامی، محمد ضیاء اﷲ اور محمد کرامت اﷲ پیدا ہوئے۔ میراجی کے والد ریلوے میں اسسٹنٹ انجینئر تھے اور ملازمت کے باعث کئی مقامات پر تعینات (اور اپنے خاندان کے ساتھ وہاں مقیم) رہے ؛ تاہم میراجی نے اِس آوارہ گردی میں زمانے کی کافی سیر کی اور اِس سلسلے میں وہ گودھرہ ضلع پنج محل، گجرات کاٹھیاواڑ، اپاوہ گڑھ کا قصبہ ہالول، بوستان (بلوچستان)، سکھر، جیکب آباد، ڈھابے جی وغیرہ میں قیام پذیر رہے، بعد ازاں خودمختار حیثیت سے میراجی دہلی، بمبئی اور پونا میں مقیم رہے۔
آٹھویں نویں جماعت ہی میں میراجی شعر کہنے اور ’’ساحری‘‘ تخلص کرنے لگے، یہی وہ زمانہ ہے، جب محمد ثناء اﷲ ڈار، میراجی کے روپ میں متشکل ہوئے۔ مختلف تحقیقی روایات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ۲۶ مارچ ۱۹۴۶ء کو جب محمد ثناء اﷲ ڈار میٹرک میں تھے، ایک سانولی سلونی بنگالی لڑکی ’’میراسین‘‘ کی ایک جھلک دیکھ کر اُس پر فریفتہ ہو گئے، ’’میراسین‘‘ کی سہیلیاں میراسین کو ’’میراجی ‘‘ کہا کرتی تھیں، یوں ’’میراسین‘‘ کی نسبت سے محمد ثناء اﷲ ڈار ہمیشہ کے لیے میراجی ٹھہرے اور پھر :
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
کون ہے تیرا، کون ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا
یوں میراجی کا لبادہ اوڑھے ہوئے اُنھوں نے فکر و فن کی آب یاری میں اپنا سارا جیون بِتا دیا۔ روایات کے مطابق ’’میراسین‘‘ اِس تمام واقعے سے ہمیشہ بے خبر رہی۔ میرا جی کی تعلیم کا سلسلہ بھی اِس وارداتِ قلبی کے بعد فوت ہوا، حتیٰ کہ وہ میٹرک بھی نہ کر سکے۔ میرا جی تنہا اور یک طرفہ اِس عشق کی آگ میں جلتے رہے۔ زندگی کے آخری ایّام اُنھوں نے سخت اذیت اور بیماری کی حالت میں گزارے، یہاں تک کہ اُن کے وجود میں جلنے والی عشق کی آگ ۳۔ نومبر ۱۹۴۹ء کو ٹھنڈی پڑ گئی اور اُنھیں بمبئی کے میری لائن قبرستان میں دفن کر دیا گیا، اُن کے جنازے میں صرف پانچ لوگوں نے شرکت کی۔ (۰۱)اُن کی زندگی کے آخری لمحات غالب کے اِس شعر کی منہ بولتی تصویر ہیں :
پڑیئے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
میراجی نے تمام عمر میراسین سے عشق کرنے میں گزار دی، یہاں تک کہ شادی بھی نہ کی۔ پھر یہی ’’میراسین‘‘ علم و ادب کی علامت بن کر اُبھری۔ یوں میراجی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے علم و ادب کے ہو گئے۔ میراجی نے اگرچہ رسمی تعلیم تو قابلِ قدر حاصل نہ کی، لیکن اُن کا مطالعہ قابلِ قدر تھا اور وہ بلاشبہ وسیع المطالعہ شخص تھے۔ (۰۲) ۱۹۴۰ء میں اُنھوں نے قیوم نظر کی وساطت سے ’’ حلقہ اربابِ ذوق‘‘ میں شمولیت اختیار کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے حلقے کی روحِ رواں بن گئے۔ ’حلقہ اربابِ ذوق‘ اور ’میراجی‘ دونوں کو ایک دوسرے کے وجود سے تقویت اور بقائے حیات میسر آئی۔
میراجی کئی برس مولانا صلاح الدین احمد کے ادبی رسالے ’’ادبی دنیا‘‘سے بھی وابستہ رہے۔ اُنھوں نے نثر و نظم میں منفرد مقام و مرتبہ حاصل کیا۔ اُن کا تنقیدی شعور انتہا کو پہنچا ہوا تھا، اِسی باعث وہ تخلیقی سطح پربھی بے حد اثر انداز ہوئے۔ ’ادبی دنیا‘ میں اُن کے تنقیدی مضامین، جو اُن کے تنقیدی شعور اور وسعتِ مطالعہ کے غماز ہیں، ’’بسنت سہائے ‘‘ کے قلمی نام سے شائع ہوتے رہے۔ اور اُن کے تنقیدی مضامین ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘ کے زیرِ عنوان چھپ چکے ہیں (۰۳)۔ میرا جی نے ’ادبی دنیا‘ میں ’’اِس نظم میں ‘‘ کے عنوان سے متعدد تجزیے بھی تحریر کیے، یہ تجزیاتی مطالعے اِسی نام سے کتابی شکل میں دست یاب ہیں۔ (۰۴) مذکورہ بالا تنقیدی مضامین ہی میرا جی کی شہرت کا ابتدائی حوالہ بنے۔ بعد ازاں وہ جدید اُردو نظم کے فکری اور فنی علم بردار کی حیثیت اختیار کر گئے اور اُن کا اُسلوب آزاد نظم کی راہیں متعیَّن کرنے میں معاون ثابت ہوا۔
٭ ٭
ڈاکٹر وزیر آغا۱۸۔ مئی ۱۹۲۲ء کو وزیر کوٹ (ضلع سرگودھا، پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول سرگودھا سے میٹرک، گورنمنٹ کالج جھنگ سے انٹر میڈیٹ اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔ اے تک تعلیم حاصل کی۔ ایم اے اُنھوں نے ۱۹۴۳ء میں معاشیات کے مضمون میں کیا اور پھر ۱۹۵۶ء میں ’’اردو ادب میں طنزو مزاح ‘‘ کے زیرِ عنوان پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر وزیر آغا اپنے فکری و فنی تنوع کے اعتبار سے اُردو ادب میں ایک واضح اور منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ شاعری، تنقید، اِنشائیہ، سفر نامہ اور آپ بیتی جیسی اصنافِ ادب کے ساتھ ساتھ مجلّہ ’’اوراق‘‘ کی ادارت کے ذریعے سے رُجحان سازی کے باعث اُن کی خدمات تاریخِ زبان و ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔
’اردو ادب میں طنز و مزاح‘ کے علاوہ’ نظمِ جدید کی کروٹیں ‘، ’اردو شاعری کا مزاج‘، ’ تنقید اور احتساب‘، ’ نئے مقالات‘، ’تخلیقی عمل‘، ’تصوراتِ عشق و خرد‘، ’ نئے تناظر‘، ’ تنقید اور مجلسی تنقید‘، ’دائرے اور لکیریں ‘، ’ تنقید اور جدید اُردو تنقید‘، ’ انشائیہ کے خدوخال‘، ’ مجید امجد کی داستانِ محبت‘، ’ساختیات اور سائنس‘، ’ غالب کا ذوقِ تماشا‘، ’معنی اور تناظر‘ اور ’ امتزاجی تنقید کا فکری تناظُر‘ ڈاکٹر وزیر آغا کا تنقیدی اثاثہ ہے، جس میں بلاشبہ دل نشیں اُسلوبیاتی طرزِ عمل کے ساتھ جداگانہ تنقیدی نظام وضع کیا گیا ہے۔
’ دستک اُس دروازے پر ‘اور ’شام کی منڈیر سے ‘ بالترتیب فکری، سوانحی کتابیں ہیں، جب کہ ’پگڈنڈی سے روڈ رُولر تک‘ انشائیوں کے چار مجموعے (’خیال پارے ‘، ’ چوری سے یاری تک‘، ’ دوسرا کنارہ‘، ’سمندر اگر مرے اندر گرے ‘ اور ۱۹۸۹ء کے بعد کے دو انشائیے ) ایک ہی جلد میں پیش کیے گئے ہیں۔
وزیر آغا کے شعری سفر میں ’شام اور سائے ‘، ’ دن کا زرد پہاڑ‘، ’ نردبان‘، ’ آدھی صدی کے بعد‘، ’گھاس میں تتلیاں ‘، ’ہم آنکھیں ہیں ‘، ’غزلیں ‘، ’ اک کتھا انوکھی‘، ’ یہ آواز کیا ہے ‘، ’ عجب اک مسکراہٹ‘، ’چنا ہم نے پہاڑی راستہ‘، ’دیکھ دھنک پھیل گئی‘ اور ’چٹکی بھر روشنی ‘شامل ہیں۔
’’چہک اُٹھی لفظوں کی چھاگل‘‘ اُن کی غزلیات کی کلیات ہے اور اِسی نام سے نظموں کی کلیات زیرِ طبع ہے۔ ’’واجاں باجھ وچھوڑے ‘‘ اُن کا پنجابی شعری مجموعہ ہے۔
یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے اُردو سفرنامہ نگاری میں بھی اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے۔ ۱۹۹۶ء میں اُن کے تین اسفار پر مشتمل ایک کتاب ’تین سفر‘ منظرِ عام پر آئی۔ اِس تخلیقی منظر نامے کے علاوہ ماہ نامہ ’’اوراق‘‘ کی چالیس سالہ ادارت بھی ڈاکٹر وزیر آغا کی اہم ادبی خدمات میں سے ایک ہے۔ سال ۲۰۰۰ء میں ’’اوراق‘‘ میں لکھے جانے والے ’’اداریے ‘‘ بھی کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں، جو کئی فکری پہلوؤں کو ہوا دیتے ہیں (۰۵)۔ وزیر آغا کی نظموں کے تراجم بھی دُنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں اور یہ امر بھی یقیناً اُردُو زبان و ادب کے لیے خوشی اور خوش نصیبی کا باعث ہے۔ بھارت میں ڈاکٹر وزیر آغا کی علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے ڈاکٹریٹ کے مقالے بھی قلم بند کیے جا چکے ہیں اور پاکستان میں اُن کے حوالے سے ایم اے اور ایم فل کی سطح پر متعدّد تحقیقی و تنقیدی مقالہ جات اور کئی کتب زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ (۰۶)
٭٭
میرا جی کے فکر و فن کے حوالے سے ڈاکٹر وزیر آغا کے پانچ مقالات ہمیں دست یاب ہوئے ہیں، یہ مقالات مختلف اوقات میں مختلف رسائل میں شائع ہوئے اور بعد ازاں ڈاکٹر صاحب کی تنقیدی کتابوں کی زینت بنے (۰۷)۔
اگرچہ میراجی کی سوانح، فکر اور فن پر تنقید کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً سو کے لگ بھگ مضامین میراجی پر لکھے جا چکے ہیں، تاہم مزاج کے اعتبار سے ڈاکٹر وزیر آغا کے مضامین کی حیثیت مختلف بھی ہے اور نمایاں بھی۔ اِن مضامین کی ایک خوبی یہ ہے کہ اِن کا تعلق میراجی کی ذاتیات سے ہرگز نہیں اور نہ ہی وزیر آغا نے ایسی کوئی ٹوہ لگانے کی کوشش ہی کی ہے، جس سے میراجی کی شخصیت پر مزید حرف آنے کا امکان پیدا ہوتا۔ یہ خالصتاً علمی اور فکری نوع کے مضامین ہیں، اِس لیے اِن مضامین کی حیثیت تاثراتی ہرگز نہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کا کام اِس لیے بھی اعتبار کا حامل ہے کہ وہ نہ صرف خود آزاد نظم کے صاحبِ اُسلوب شاعر ہیں، بلکہ ادبیاتِ اُردُو کے ایک معتبر نقاد کا بھی درجہ رکھتے ہیں۔
یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ مذکورہ بالا مضامین بعد کے کئی ناقدین کے لیے مآخذ کا درجہ رکھتے اور کئی ایک رہ نما اُصول بھی مہیا کرتے ہیں، جیسا کہ بہت سے ناقدین نے میراجی پر لکھتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا کے قائم کردہ نتائج سے مدد لینے کی کوشش کی ہے۔ کچھ متاخرین نے استفادہ تو ضرور کیا ہے، مگر اصل منابع کی نشان دہی کرنا مناسب خیال نہیں کیا، بہرحال اِن تمام پہلوؤں سے چشم پوشی اختیار کر بھی لی جائے، تو بھی میراجی کی بنیادی تفہیم کے ضمن میں اِن مضامین کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
زمین اور دھرتی کے اپنے بھید اور اسرار ہوا کرتے ہیں اور زمین کے اثرات کا مطالعہ جہاں دل چسپی کا باعث ہے، وہاں کچھ مشکلات کا داعی بھی ہے، تاہم زبان و ادب کو تہذیبی زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کا انداز ڈاکٹر وزیر آغا کا پسندیدہ موضوع بھی ہے اور وہ اِس پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے میراجی کو سب سے پہلے تہذیبی پس منظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کی ہے۔ ’’دھرتی پوجا کی ایک مثال ‘‘، صرف میراجی کی فکر کو سمجھنے کے حوالے سے اہم نہیں، بلکہ قدیم ہندوستانی طرزِ معاشرت و ثقافت، اُسلوبِ حیات اور علامات کے بنیادی تصور کو سمجھنے میں بھی معاون ہے۔
میراجی کا باقاعدہ تعارُف ’ادبی دنیا‘سے ہوا، ڈاکٹر وزیر آغا بھی آغازِ کار میں ’ادبی دنیا‘ سے وابستہ رہے۔ (۰۸) اِس لیے میراجی کے ادبی مقام کے تعیُّن کے پہلے ہی مرحلے میں ڈاکٹر وزیر آغا نے میراجی کی تفہیم کا سرا ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ شاعری کو تہذیبی اور زمینی پس منظر میں دیکھنے کا انداز مشکل بھی ہے اور منفرد بھی، تاہم ڈاکٹر وزیر آغا نے اِس مشکل پسندی اور انفرادیت کو بڑے عمدہ اُسلوب میں نبھایا، اِس ضمن میں اُن کی کتاب ’’اردو شاعری کا مزاج‘‘ یقیناً ایک اہم ادبی معرکے کی حیثیت رکھتی ہے۔
فن کار کو پرکھنے کا ایک ریاضیاتی انداز ہوتا ہے اور ایک حیاتیاتی انداز۔ ریاضیاتی انداز یہ ہے کہ پہلے ایک کلیہ وضع کیا جائے اور پھر اُسے زندگی پر لاگو (Apply) کر کے دیکھا جائے اور پھر زندگی سے حاصل شدہ نتیجے سے اُس کلیے کی طرف مراجعت کی جائے۔ افلاطون چوں کہ ریاضی دان تھا، اِس لیے یہ طریقِ کار افلاطون سے منسوب ہے۔ حیاتیاتی نقطۂ نظر یہ ہے کہ زندگی سے کلیے کی طرف سفر کیا جائے اور پھر کلیے سے واپس زندگی کی طرف لوٹا جائے۔ ارسطو چوں کہ بنیادی طور پر ماہرِ حیاتیات تھا، اِس لیے یہ اُسلوب ارسطو کے نقطۂ نظر کو واضح کرتا ہے۔ تاہم نقاد اگر ذرا سا بھی کمزور ثابت ہو، تو وہ حیاتیاتی طریقِ کار کی پیچیدگیوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور فن کار کی نفسیات اور ذاتیات میں بہت زیادہ اُلجھ کر اکثر تفہیم کا دائرہ مکمل نہیں کر پاتا۔ ریاضیاتی چلن بہت ٹھوس ہے اور اس میں زیادہ گمراہ ہونے کا خدشہ بھی کم ہے، یعنی فکر سے شخصیت دریافت کی جائے اور پھر شخصیت سے فکر کی طرف رجوع کیا جائے۔ ’’دھرتی پوجا کی ایک مثال۔ میراجی ‘‘ میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اِسی اُصول کو مدِّ نظر رکھا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا نے میراجی کی فکر سے میراجی کی تخلیقی شخصیت کی طرف سفر کیا اور پھر واپس میراجی کی فکر تک۔ مضمون کے شروع میں اُنھوں نے زمین سے وابستہ شاعروں نظیر اکبر آبادی، محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی، چکبست، تلوک چند محروم، محمد اقبال اور ن م راشد کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اِن شعراء میں دھرتی سے وابستگی کی کئی ایک مثالیں تو دست یاب ہیں، مگر اِن شعراء کا کوئی واضح تعہد (Commitment) اور کوئی جذباتی تعلق دھرتی سے، اِس کی رسوم سے اور اِس کے تہذیبی پس منظر سے ثابت نہیں ہوتا۔ میراجی وہ پہلے شاعر ہیں، جنھوں نے اپنی روح کو دھرتی کی روح سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور تہذیبی سمندر کے اندر ایک گہرا غوطہ لگایا:
’’دوسرے لفظوں میں میراجی نے ایک بھگت، درویش یا جان ہار پجاری کی طرح اپنی دھرتی کی پوجا کی ہے، محض رسمی طور پر وطن دوستی کی تحریک کا ساتھ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی نظموں کی روح، فضا اور مزاج، سرزمینِ وطن کی رُوح، فضا اور مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور اِس خاص میدان میں اُسے کسی حریف کا سامنا نہیں۔ ‘‘ (۰۹)
ڈاکٹر وزیر آغا کا موقف یہ ہے کہ میراجی کا فکری پس منظر میراسین کی عطا نہیں، بلکہ یہ سب کچھ تو میراجی کے اندر پہلے سے موجود تھا، جسے اظہار کا موقع میراسین کے بہانے سے میسر آیا، گویا اِس کیمیائی عمل میں میراسین کی حیثیت محض عمل انگیز (Catalyst) کی ہے (عمل انگیز کہ کر ہم کسی چیز کی نفی نہیں کرتے، بلکہ مقرر دائرے میں اُس کی اہمیت کوتسلیم کر رہے ہوتے ہیں )۔ یہ موقف اِس لیے بھی وزن رکھتا ہے کہ کسی بھی اِنسان کا فطری رُجحان ہی بنیادی حیثیت اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہی رُجحان بعد ازاں اُسے کسی میراسین جیسے طوفان سے آشنا کرتا ہے، جہاں عاشق تھوڑی دیر ٹھہرتا اور پھر اپنے جذبے کے تعاقب میں آگے بڑھ جاتا ہے ( اس لیے کہ عشق، مقصود بالذّات ہوا کرتا ہے، البتہ معشوق کے وجود کی نفی نہیں کی جا سکتی )۔ گویا میراجی کی آتما ’آریائی اصل‘ اور ’ویشنو مت‘ کی پجاری تھی، جو کسی اور جنم میں کسی اور زمان و مکان میں بھٹکتی پھر رہی تھی اور اپنی اصل میں ضم ہونے کے لیے بے تاب تھی۔
کچھ ناقدین نے میراجی کے ہاں ’’میلارمے ‘‘ کے حد سے بڑھے ہوئے اثرات کی اطلاع دی ہے، مگر ڈاکٹر وزیر آغا اِن اثرات کی نفی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہر دو کے ابہام کی نوعیتیں ہی مختلف ہیں۔ اِسی طرح ’بودلیئر‘ کے اثرات کی براہِ راست نفی اِس لیے کی گئی ہے کہ خود بودلیئر کے ہاں جنسی موضوعات بنگال کی فضا اور ماحول کی دین تھے، گویا میراجی نے یہ اثر لیا بھی ہے، تو یہ بالواسطہ اثر کی حیثیت رکھتا ہے، یا اسے کسی خاص داخلی نسبت کا اثر بھی کہا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا نے قدیم ہندوستانی تہذیبی پس منظر پر گہری روشنی ڈالی اور ویشنو مت فلاسفی سمجھنے میں ہماری مدد کی ہے۔ اُنھوں نے ویشنو مت کی چار اہم صورتوں کی طرف اشارہ کیا ہے : بیاہتا محبت، ناجائز سمبندھ، شو اور شکتی۔ میراجی کے ہاں رادھا اور کرشن کی محبت اور شکتی کے منفی روپ ’کالی ‘ کے اثرات واضح ہیں اور انھی کی علامات اور جنسی اثرات میراجی کی نظموں میں صاف دکھائی دیتے ہیں اور یہی اثر میراجی کو میرا بائی اور چنڈی داس وغیرہ کے بھی نزدیک کرتا اور اذیت کوشی کی طرف مائل کرتا ہے، تاہم یہ دھرتی پوجا کے اثرات ہیں، جو ایک پہلو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دھرتی پوجا کا دوسرا پہلو ہندوستانی فضا ہے، جو جنگل کی تہذیب کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں تاریکی کا عنصر غالب ہے اور جہاں ہزار منزلوں کے بعد روشنی کا گیان میسر آتا ہے۔ جنگل کی جزئیات علامات کا روپ لے کر میراجی کی تخلیقی زندگی میں بھی اُجاگر ہوئی ہیں اور خود میراجی کی شخصی زندگی میں بھی۔
اِس مقالے کے آخر میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اُن اساطیری، قدیم دیو مالائی اور ویشنو مت کی تہذیبی اصطلاحات و تلمیحات وغیرہ کا ذکر کیا ہے، جنھیں میراجی نے اپنی نظموں میں علامات کے طور پر باندھا ہے اور جن کے استعمال سے میراجی کی اس قدیم تہذیبی پس منظر سے گہری وابستگی اظہر من الشمس ہے۔ اِس اُسلوب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ میراجی سے پہلے اِس شدت کے ساتھ ایسی کوئی مثال موجود نہ تھی، جس کی وہ تقلید کرتے، یوں میراجی کی تخلیقات اِس لحاظ سے منفرد بھی ہیں اور تازہ بھی۔ اِس تمام پس منظر میں میراجی کو تہذیبی سطح پر سمجھنے کے لیے ڈاکٹر وزیر آغا کا یہ مضمون بہت اہم ہے، جو میراجی پر پڑے ہوئے افسانوی پردے کو چاک کر کے اصلیت تک ہماری رسائی ممکن بنا تا ہے۔ نیز میراجی کے ابہام کے حوالے سے یہ بات یقیناً اہم ہے کہ جب تک قاری آزاد نظم پڑھنے کی تربیت، لفظوں کی نئی معنویت اور علامتی پس منظر سے شناسائی حاصل نہیں کر لیتا، اُس کے لیے میراجی کے ابہام کی گرہ کشائی اور اُس کے موضوعات کی تفہیم مشکل ضرور ہے۔
٭٭
ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب ’’اُردو شاعری کا مزاج ‘‘ شخصیات کے نجی کوائف سے بحث نہیں کرتی، بلکہ تہذیبی اور زمینی پس منظر میں رُجحانات کی ترجمان ہے، تاہم اِس میں میراجی کے لیے پندرہ صفحات مختص کئے گئے ہیں کیوں کہ نئی نظم کی تشکیل اور رُجحان سازی میں میراجی کا نہایت اہم اور بنیادی کردار رہا ہے اور وزیر آغا نے بجا طور پر یہ حق میرا جی کو دیا ہے۔ اِن پندرہ صفحات کے اقتباس اور گزشتہ مقالے کے بارے میں بعض قارئین کا یہ خیال ہوسکتا ہے کہ دونوں ایک ہی طرح کی تحریریں ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ دونوں تحریروں میں ایک فکری اشتراک تو ضرور پایا جاتا ہے، تاہم دونوں میں تکرار کا کوئی پہلو موجود نہیں۔ گزشتہ مضمون اور زیرِ بحث اقتباس کی اپنی اپنی جگہ اہمیت مسلّم ہے۔
’’اردو شاعری کا مزاج ‘‘ میں گیت، غزل اور نظم کے تہذیبی اور زمینی حوالے سے تفصیلی مطالعے کے بعد اُنھوں نے ’نئی نظم‘ کی وضاحت کے در وا کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ نئی نظم کا اصل مزاج اور سفر خارج سے داخل کی طرف ہے اوراِس مزاج کے سب سے بڑے علمبردار میراجی تھے۔ اُنھوں نے اقبال کے بعد اُردو نظم کو دو سطحوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی سطح اقبال سے متاثرین اور دوسری غیر متاثرین کی، یا داخلیت پسندوں کی ہے۔ پہلی سطح میں سفر باطن سے خارج کی طرف اور دوسری سطح میں خارج سے باطن کی طرف کا ہے :
’’باہر کی طرف بڑھنے میں اُمید، رجائیت، تحرک اور گونج کی صفات پیدا ہوتی ہیں، جب کہ اندر کی طرف آنے میں مدافعتی انداز، یاس، کسک، خوف، دبے پاؤں چلنے کا انداز اور لہجے کی لطافت اور لوچ جنم لیتا ہے …… اندر کو آنے والا ذات اور نسل، جبلت اور ثقافتی بنیادوں سے منسلک ہو کر گویا انسان کے ماضی کی طرف لوٹتا ہے۔ ‘‘ (۱۰)
نظم کے اِس بنیادی مزاج کو اگر اچھی طرح سمجھ لیا جائے، تو کسی بھی نظم گو کو سمجھنا نسبتاً آسا ن ہو جاتا ہے۔ خارج اور داخل کا یہ سفر’قوس‘ کا سفر ہے۔ قوس کا پہلا نصف خارجی اور دوسرا نصف داخلی جہت کو واضح کرتا ہے۔ میرا جی کا سفر سر تاسر اندر کی طرف تھا، یعنی قوس کا دوسرا نصف۔ یعنی:’’مدافعتی انداز، یاس، کسک، خوف، دبے پاؤں چلنے کا انداز‘‘ میراجی کی نظموں کا بنیادی مزاج ہے، اِسی تناظر میں میراجی کے ہاں وہ علامات اُبھریں، جن کا گزشتہ سطور میں ذکر ہوا ہے، لیکن میراجی کے ہاں اگر یہی کچھ ہوتا، تو میراجی کا فکر و فن مٹی ہو گیا ہوتا، میراجی نے اِن تمام الجھنوں، نفسیاتی پیچیدگیوں کا بڑی جرأت اور حوصلہ مندی سے مقابلہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ میراجی کی نظم ترقی پسندانہ رویے کے بھی مقابل ہے، کیوں کہ میراجی کی نظم داخلی سطح پر اظہارِ ذات کی معراج ہے :
’’ نظم تو زندگی اور موت کے تصادُم سے عبارت ہے۔ قوس کے نصف آخر میں جب یہ تصادُم ایک شدید کرب کی صورت اختیار کرتا ہے، تو نظم میں گہرائی، استحکام اور توازُن پیدا ہوتا ہے، یہی میراجی کی نظم کا بنیادی مزاج ہے کہ اُس کا رُخ موت کی طرف ہے، لیکن میراجی نے ہر ہر قدم پر موت سے پنجہ آزمائی کی ہے، یوں اُس کے ہاں ایک شدید نفسیاتی تصادُم وجود میں آیا ہے۔ ‘‘ (۱۱)
آگے چل کر میراجی کے ہاں استعمال ہونے والی علامات اور حیات و موت کی نفسیاتی کشمکش پر بحث کی گئی ہے۔ اُنھوں نے جنسی موضوع کو بھی میراجی کی جوانی کے تقاضوں کے بجائے، میراجی کی نفسیاتی ضرورت کے تابع قرار دیا ہے۔ پھر میراجی کے ہاں حبُّ الوطنی کا اشارہ کرتے ہوئے ویشنو مت سے میراجی کے تعلقِ خاطر پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اِسی سے میراجی کے ہاں رادھا کرشن اورہندوستانی تہذیب کے عناصر جنسی علامات میں ڈھل کر ظاہر ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے بڑی اہم بات اجاگر کی ہے کہ اِن تمام پہلوؤں کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میرا جی کا خارج سے رابطہ بالکل ہی منقطع ہو گیا تھا اور اُن کے ہاں زندگی کا تحرک موجود نہیں رہا تھا، بلکہ میراجی کے ہاں ہر دو سطح پر یہ کشمکش پوری شدومد کے ساتھ موجود تھی اور میراجی کے ہاں ’’تحفظِ ذات‘‘ کا شدید احساس کہیں ختم نہیں ہوتا۔
آخر میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اِس غلط العوام اور غلط العام نظریے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ شاعری میں شاعر کی شخصیت کا پہلو ہونا بھی نظم کے مزاج کے لیے فطری سی بات ہے، نیز ٹی ایس ایلیٹ کے شخصیت سے فرار کے نقطۂ نظر کو شخصیت کی نفی قرار دینا بھی درست نہیں ہے، حتیٰ کہ خود ایلیٹ کا یہ نظریہ اِس قدر قابلِ قبول نہیں ہے۔ تاہم ڈاکٹر وزیر آغا نے میراجی کو حیات، روشنی یا امید کا ہی شاعر قرار نہیں دیا اور نہ ہی سراسر موت، تاریکی اور مایوسی کا علم بر دار گردانا ہے، بلکہ روشنی اور تاریکی کا بڑا مضبوط سنگم خیال کیا اور میراجی کو داخلیت پسندی کے اعتبار سے ایک کامیاب اور دیرپا نظم گو تسلیم کیا ہے، جن کے اثرات بعد میں آنے والے شعراء کی ایک پوری نسل پر ثبت ہوئے۔
٭٭
یہ حقیقت ہے کہ میراجی کو سمجھنے میں بڑی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اِس کی ذمہ داری سب سے زیادہ خود میراجی پر عاید ہوتی ہے، جنھوں نے یہ بہروپ بھرا اور اپنی شخصیت کے حوالے سے ایک غلط نظریہ قائم کرنے کی دعوت دی۔ فروری ۱۹۷۲ء میں ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب ’’نئے مقالات‘‘ میں ایک مضمون : ’’میراجی کا عرفانِ ذات‘‘ شائع ہوا۔ یوں تو میراجی کے حوالے سے اُن کے سارے مضامین ہی اہم ہیں، لیکن اُن کا یہ مضمون میراجی کی شخصیت کی تفہیم کے ضمن میں خاص حیثیت و اہمیت کا حامل ہے۔ اِس کے مطالب کا بغور جائزہ لیا جائے، تو میراجی کے بارے میں کئی ایک غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن دکھائی دیتا ہے۔ اِس مضمون کو سمجھنے کے لیے اِس کی ابتدائی سطور بہت اہم ہیں :
’’ہر آبی طوفان کی ایک اپنی آنکھ ہوتی ہے، جس کے گرد ہوائیں چنگھاڑتی پھرتی ہیں، لیکن آنکھ کے اندر جوگی کے استھان کا سا سکوت قائم رہتا ہے۔ مجھے جب کبھی میراجی کا خیال آیا، تو اِس کے ساتھ ہی آبی طوفان کا منظر بھی میری نگاہوں میں گھوم گیا اور میں نے سوچا کہ یہ کیسے ظلم کی بات ہے کہ ہم طوفان کو دیکھنے میں اِس قدر منہمک ہوں کہ اُس ’’آنکھ‘‘ کو دیکھ ہی نہ سکیں، جو اِس طوفان کا مرکز ہے اور جس میں ایک عارفانہ سکوت کی سی کیفیت سدا قائم رہتی ہے۔ ‘‘(۱۲)
ڈاکٹر وزیر آغا کا یہ موقف نہایت درست ہے کہ میراجی کے ساتھ ’عرفان‘ وغیرہ کی بات پر طبیعتوں میں ایک خاص نوع کا مجادلہ شروع ہو جاتا ہے اور اِس کی وجہ وہ بہت سے غیر متوازن واقعات ہیں، جو اُن کے دوستوں نے اُن سے وابستہ کر رکھے تھے۔ اِنھی واقعات نے میراجی کے باطن تک رسائی کو مشکل تر بنا دیا۔ چوں کہ اِس تمام واردات میں خود میراجی بھی برابر کے شریک ہیں، اِس لیے ڈاکٹر وزیر آغا کا یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ میرا سین کا تصور، میراجی کے اپنے ہی ذہن کا زائیدہ تھا، جس کی آڑ میں میراجی کچھ خاص منازل طے کرنا چاہتے تھے۔ ’’تو پھر یہ سوال کہ کیا آبی طوفان کی آنکھ محض اپنے ارد گرد کا تلاطم پیش کر رہی تھی، یا اِس کا کوئی منفرد زاویۂ نگاہ بھی تھا۔ ‘‘ (۱۳)بڑا اہم ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق میراجی صرف دُنیا ہی نہیں، بلکہ دنیا کے ہر پہلو اور زندگی کی ہر کروٹ کا مطالعہ شوق سے کرتے ہیں۔ تغیر کا عمل اُنھیں بہت مرغوب ہے اور اِس مطالعے کے لیے ’تنہائی‘ اُن کا بہترین پلیٹ فارم ہے، تاہم تنہائی کے عمل میں بھی اُنھوں نے کسی کی مداخلت اور مشارکت قبول نہیں کی۔ دراصل میراجی کے باطن میں ایک اور دُنیا آباد تھی، جو عرفانِ ذات کی متلاشی تھی، مگر اُنھوں نے خود کو کئی لبادوں میں چھپا رکھا تھا۔ اُن کا خارج اور داخل مضبوط باہمی ربط کے باوجود علیحدہ علیحدہ سمتوں کا مسافر تھا، مطلب یہ کہ خارج کے حالات میں شریکِ کار ہونے کے باوجود وہ اِس سے کسی قدر اُوپر اُٹھ کر اِن کا جائزہ لے رہے تھے اور اپنے فکر و فن کی آب یاری میں مصروف تھے۔ یوں بھگتی تحریک کے زیرِ اثر وہ ایک بھگت کی طرح گیان تو ضرور حاصل کرنا چاہتے تھے اور اِس کے لیے اُنھوں نے جتن بھی کیے، لیکن اپنی ذات کی انفرادیت کے باعث وہ اِس کے حصول میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے۔ دراصل وہ کامیاب ہونا ہی نہ چاہتے تھے، بلکہ گیان دھیان کا مسلسل سفر ہی اُن کا مقصودِ نظر تھا:
’’خوبی کی بات یہ ہے کہ میراجی نے اپنی تگ و دو کو کسی منزل تک پہنچنے کے لیے وقف نہیں کیا، بلکہ محض اُس خلا کو جنم دینے میں صَرف کیا ہے، جو سالک اور منزل میں کچی ڈور کا رشتہ تو قائم کرتا ہے، لیکن اِن دونوں کے درمیانی فاصلے کو کم نہیں ہونے دیتا۔ ‘‘ (۱۴)
جہاں تک ہماری ذاتی رائے ہے، میراجی کے ہاں خود پسندی، بلکہ خود پرستی کا عنصر اتنا غالب تھا کہ وہ کسی اور کی پرستش کر ہی نہ سکتے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے میراسین کا بھی محض بت تراش رکھا تھا اوربالواسطہ طور پر اپنی ہی ذات کی پوجا میں کامل گیان دھیان سے لگے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ عارف کے درجے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اپنی ذات کی نفی بے حد ضروری قرار پاتی ہے، من و تُو کے درمیان خطِ تنسیخ کھینچے بغیر تصوف کے راستے پر چلنا ناممکن ہو جاتا ہے، تاہم میراجی اِس راستے کے اِس انداز سے مسافر تھے ہی نہیں : ’’اِک خلش کو حاصلِ عمرِ رواں رہنے دیا‘‘، والا معاملہ ہی دراصل اُن کا بنیادی مسئلہ تھا۔ اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میراجی اِن معاملات سے آگاہ نہ تھے، یا اُنھیں حقائق کی خبر نہ تھی، لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُنھیں تصوُّف کی حقیقی روح سے واقعی آشنائی میسر نہ ہو اور ایک مضبوط خیال یہ بھی ہے کہ میراجی میں اپنی ذات کی نفی کا شاید حوصلہ ہی نہ تھا، یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو ختم ہوتے دیکھ ہی نہ سکتے تھے۔ ہر قیمت پر اپنے وجود کا اثبات اُنھیں عزیز تھا اور ہماری رائے میں یہی وہ فکری موڑ ہے، جو میراجی اور اقبال میں ایک قدرِ مشترک پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا کے مضمون کے مندرجات کی طرف واپس چلتے ہیں، جس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے قطعاً یہ ثابت نہیں کیا کہ میراجی کسی نوع کے باقاعدہ صوفی تھے اور معرفت کے جملہ مراحل طے کر گئے تھے۔ وہ بڑی دیانت داری سے اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ میراجی اِس راستے کے جویا ہونے کے باوجود نہ تو اِس منزل کو پا سکے اور نہ ہی یہ اُن کا مقصود تھا، اُن کا مقصد تو گیلی لکڑی کی طرح سلگنا اور خود کو مرکز مان کر کائنات کا مشاہدہ کرنا تھا، جو اُنھوں نے بھرپور طریق سے کیا۔ تاہم کچھ ناقدین نے میراجی کو باقاعدہ یا بے قاعدہ صوفی ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے، جو ہمارے نزدیک ایک فکری اشتباہ ہے، یہ التباس ڈاکٹر وزیر آغا کے مذکورہ بالا مضمون کے مطالعے کی روشنی میں دور کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ حق یہی ہے کہ میراجی گیانی تو تھے، صوفی بہرحال نہیں تھے۔ اِسی بات کی مزید وضاحت ڈاکٹر وزیر آغا اپنے اگلے مضمون:’’میراجی‘‘ میں بھی بیان کرتے ہیں۔
٭٭
ڈاکٹر وزیر آغا کی معروف کتاب ’’تنقید اور مجلسی تنقید‘‘ میں بھی ’’میراجی ‘‘کے زیرِ عنوان ایک مضمون شامل ہے (۱۵)۔ اِس مضمون کا آغاز اِس مفروضے کی تردید سے کیا گیا ہے کہ میراجی کی موت سست روی کے باعث واقع ہوئی۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ میراجی کی موت تیز رفتاری اور قوانینِ حیات سے بغاوت کا حاصل ہے اور یہ بغاوت اور انقطاع سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمل میں آیا۔
میراجی سے قبل بھی تیز رفتاری کی مثالیں موجود ہیں، فرق یہ ہے کہ وہ سب کسی خاص سمت میں سفر کر رہے تھے، جب کہ میراجی کا سفر ایک سے زیادہ جہتوں اور سمتوں کا حامل تھا، تاہم میراجی سیدھی لکیر کے مسافر نہ تھے، اُنھیں پیچ وخم مرغوب تھے، زندگی میں بھی اور فن میں بھی۔ اِس تیز رفتار مزاج کے تحت میراجی کی نظموں کو سمجھنے میں ایک خاص آسانی میسر آتی ہے۔ اِس کے بعد ایک اور اہم بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میراجی ’ماضی‘ کے راستے ’بستی‘ اور ’جنگل‘ کی فضا میں اُترتے چلے گئے، اُن میں گوتم کی طرح عرفان پانے کی لگن بھی تھی، تاہم وہ جنگل تک تو پہنچ گئے، مگر مراجعت نہ کر سکے، لہٰذا گوتم کی طرح کامیاب نہ ہوئے، شاید اُن میں اتنی روحانی شکتی نہ تھی اور یہ بڑا اہم نقطہ ہے کہ میراجی کے اندر کھوجنے کا جذبہ تو تھا، مگر وہ اُس عرفان یا گیان کو پوری طرح پانہ سکے، تاہم ڈاکٹر وزیر آغا اِسی نہ پا سکنے کو میراجی کے حق میں بہتر تصور کرتے ہیں کہ اگر وہ بہت زیادہ کامیاب ہو جاتے، تو شاید فن کار نہ رہتے۔ البتہ حیرت ہے کہ کئی ناقدین نے میراجی کو باقاعدہ صوفی ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے، جو عجیب دکھائی دیتا ہے ؛ مثلاً فتح محمد ملک لکھتے ہیں :
’’میراجی کی فطرت باغیانہ نہیں تھی، اِس لیے اُنھوں نے صوفی بننے کی ٹھانی…… اِس طرزِ فکر کے علاوہ میراجی کا طرزِ حیات اور شاعرانہ کمال اِس حقیقت کا غماز ہے کہ میراجی ایک صوفی شاعر ہیں۔ ‘‘ (۱۶)
میراجی کے قارئین جانتے ہیں کہ میراجی نے نظامِ حیات اور معاشرتی دروبست سے کس واضح انداز میں بغاوت کا اظہار کیا ہے اور یہ سب اُن کی باغیانہ فطرت کے تحت ہی ہوا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ ایک صوفی بھی تو مادی رسوم و رواج کا باغی ہی ہوا کرتا ہے، منصور کا نعرۂ انا الحق اپنے عہد کے نظامِ اقتدار سے بغاوت ہی کی آواز تھی اور اِس حق گوئی کے نتیجے میں اُنھیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا، بہرحال اِس میں کوئی شک نہیں کہ میراجی کے ہاں ایسے عناصر ضرور پائے جاتے ہیں، جو اُنھیں تصوف کی طرف لے جا سکتے تھے، لیکن اُن کی زندگی کے اُسلوب اور شاعری کے سرمائے سے اُن کا صوفی ہونا قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ خبر نہیں کہ فتح محمد ملک کو میراجی کے ’طرزِ حیات‘ پر صوفی ہونے کا ایسا کیا شبہ ہوا کہ اُنھوں نے کمال تیقن سے میراجی کو ’صوفی شاعر‘ قرار دیا، جب کہ ہم تو خواجہ میر درد کو بھی ابھی تک(اُن کی شاعری کے حوالے سے ) ’’صوفی شاعر‘‘ کا درجہ دینے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہیں (۱۷)، چہ جائیکہ میراجی کو صوفی شاعر کہنے لگیں، میراجی کو تو ملامتی صوفی درویش کا درجہ بھی اتنی آسانی سے نہیں دیا جا سکتا کہ بہرحال تصوف اور فقر ایسی بھی چھپی ہوئی اور ادنیٰ حقیقتیں نہیں کہ آپ اپنا تعارُف نہ بن سکیں، اِس لیے فتح محمد ملک کا مضمون اپنی جگہ بجا سہی، لیکن اُن کے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ واﷲ اعلم بالصواب۔
٭٭
ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتبہ کتاب :’’میراجی۔ ایک مطالعہ‘‘ میں ’’میراجی کی اہمیت‘‘ کے نام سے ڈاکٹر وزیر آغا کالکھا ہوا مضمون شامل ہوا ہے، جو ہماری آج کی بحث کا نقطۂ انجام ہے۔ زیرِ تذکرہ مضمون میں ڈاکٹر وزیر آغا نے میراجی کے عہد میں شاعری کے تین ایسے مکاتبِ فکر و فن کا ذکر کیا ہے، جو اپنے نقطۂ کمال تک پہنچ چکے تھے : اختر شیرانی، اقبال اور فیض احمد فیض۔ یہ سب شعرا ریلوے ٹرمینس کی طرح تھے، جن پر ایک خاص نوع کا سفر انجام کو پہنچتا ہے اور اِن کی تقلید کرنے والا آسانی سے اپنا کوئی نیا راستہ دریافت نہیں کر پاتا۔ میراجی اِن تینوں مکاتب سے ہٹ کر ایک نئی راہ کے مسافر تھے (جس کا گزشتہ صفحات میں وضاحت کے ساتھ ذکر ہو چکا ہے )، تاہم ڈاکٹر وزیر آغا نے میراجی کو اِن تینوں کی ضد قرار دیا ہے، مگر سب سے اہم بات جو اُنھوں نے کی، وہ یہ ہے کہ اختر شیرانی، اِس اندا زِ نظر کا نقطۂ آغاز ہے۔ تاہم میراجی اِن شعرا کے مقابل ٹرمینس کی بجائے ایک بڑے جنکشن کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں سفر ختم نہیں ہوتا، بلکہ متعدد نئے امکانات کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ چوں کہ میراجی کے فکر و فن کی مختلف جہتیں ہیں، اِس لیے اُن کی تفہیم بھی آسان نہیں ہے، تاہم ڈاکٹر وزیر آغا نے بڑے انصاف کی بات کہی ہے کہ میراجی اپنی کسی جہت میں بھی کمال کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ امکانات کا ایک جہان اپنے اندر مخفی رکھتے ہیں اور اِسی لیے زندہ ہیں اور اپنے اثرات مسلسل پھیلاتے چلے جا رہے ہیں اور یہ اثرات بھی ہمہ جہت ہیں، کسی خاص سمت میں نہیں ہیں، کسی خاص حوالے سے نہیں ہیں، دھرتی کے اثرات، دیگر ارضی پہلو، جسم اور حسیات کے اثرات وغیرہ سب اِس میں داخل ہیں اور سب سے اہم بات داخلیت کا وہ رُجحان ہے، جو نظم کا بنیادی مزاج کہلاتا ہے اور بلا شبہ نظم کا یہ بنیادی مزاج میراجی ہی کی دین ہے۔ (۱۸)
٭٭
ڈاکٹر وزیر آغا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُنھوں نے آزاد نظم گو شعراء بالخصوص میرا جی، ن م راشد اور مجید امجد کے افکار سمجھنے اور سمجھانے کی اُس وقت کوشش کی، جب اِن شعراء کی تفہیم کا باقاعدہ سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے بیشتر ناقدین نے ڈاکٹر وزیر آغا کے قائم کردہ نتائج سے خاطر خواہ استفادہ کیا، بلکہ بعض نے تو انھی خیالات کی ترویج و اشاعت کو کافی سمجھا ہے (۱۹)۔ تاہم میراجی کی بنیادی تفہیم میں ڈاکٹر وزیر آغا کے مقالات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ میراجی کے حوالے سے اُن کی خدمات ہمیشہ یاد گار رہیں گی۔
٭٭٭
حوالہ جات و حواشی
۰۱۔ میرا جی کی سوانح، شخصیت اور فکر و فن کے مطالعے کے لیے فہرستِ مآخذ:
ا۔ ’’اشارات‘‘، از: آفتاب احمد، ڈاکٹر، کراچی، مکتبہ دانیال، اشاعت اول: اگست ۱۹۹۶ء(بہ طورِ خاص مضمون: ’’حلقہ اربابِ ذوق‘‘)
ب۔ ’’پاکستانی ادب کے معمار: میراجی ؛ شخصیت اور فن ‘‘، از، رشید امجد، ڈاکٹر، اسلام آباد، اکادمی ادبیات پاکستان، اشاعت اوّل: ۲۰۰۵ء
ج۔ ’’میرا جی۔ ایک بھٹکا ہوا شاعر‘‘، از: انیس ناگی، لاہور، پاکستان بکس اینڈ لٹر یری ساؤنڈز، اشاعت اول : ۱۹۹۱ء
د۔ ’’میراجی۔ ایک مطالعہ‘‘، مرتب: جمیل جالبی، ڈاکٹر، لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز، ۱۹۹۰ء
ہ۔ ’’میراجی۔ شخصیت اور فن’‘، از: رشید امجد، ڈاکٹر، لاہور، مغربی پاکستان اُردو اکیڈمی، اشاعت اول: ۱۹۹۵ء
۰۲۔ میرا جی خود تو چاہے میٹرک نہ کر سکے، یا اُنھوں نے میٹرک نہ کیا، لیکن اُن کے علمی مقام و مرتبے پر بعد ازاں پاکستان اور بھارت میں لوگوں نے پی ایچ ڈی کے مقالے ضرور قلم بند کیے ہیں۔
۳ ۰۔ میراجی، ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘، کراچی، ’’آج کی کتابیں ‘‘، دوسری اشاعت: نومبر ۱۹۹۹ء
۰۴۔ میراجی، ’’اِس نظم میں ‘‘، کراچی، آج کی کتابیں ‘‘، دوسری اشاعت: ۲۰۰۲ء
۰۵۔ ’’اوراق کے اداریے ‘‘، از: وزیر آغا، ڈاکٹر، مرتب: اقبال آفاقی، پروفیسر، لاہور، کاغذی پیرہن، بیڈن روڈ، اشاعت اوّل : اکتوبر ۲۰۰۰ء
۰۶۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی سوانح اور فکر وفن سے متعلق تفصیلی تنقیدی مطالعے کے لیے کتب :
ا۔ ’’بیاضِ شب و روز‘‘، از: ارمان نجمی، لاہور، کاغذی پیرہن، بیڈن روڈ، اشاعت اوّل :مارچ ۲۰۰۱ء
ب۔ ’’پاکستانی ادب کے معمار:ڈاکٹر وزیر آغا ؛ شخصیت اور فن ‘‘، از، رفیق سندیلوی، اسلام آباد، اکادمی ادبیات پاکستان، اشاعت اوّل: ۲۰۰۶ء
ج۔ ’’دن ڈھل چکا تھا‘‘، از:ناصر عباس نیر، سرگودھا، مکتبہ نردبان، طبع اول: جون ۱۹۹۳ء
د۔ ’’ڈاکٹر وزیر آغا اور ہمارا عہد‘‘، از: رشید نثار، راولپنڈی، پنڈی اسلام آباد ادبی سوسائٹی(پیاس)، پہلی بار :۱۹۹۸ء
ہ۔ ’’ڈاکٹر وزیر آغا ؛ اہلِ قلم کی نظر میں ‘‘، مرتب: گل بخشالوی، کھاریاں، قلم قافلہ ادبی ویلفیئر سوسائٹی، اشاعت: ۱۹۹۷ء
و۔ ’’ڈاکٹر وزیر آغا ؛ عہد ساز شخصیت‘‘، از: حیدر قریشی، خان پور، نایاب پبلی کیشنز، اشاعت اوّل : ۱۹۹۵ء
ز۔ ’’شام کا سورج‘‘، مرتب: انور سدید، ڈاکٹر، لاہور، مکتبہ فکر و خیال، جنوری ۱۹۸۹ء
ح۔ ’’کاغذی پیرہن‘‘، ماہ نامہ، لاہور، ’’وزیر آغا نمبر‘‘، جلد: ۵، شمارہ: / ۷ ۸، مئی جون ۲۰۰۵ ء
ط۔ ’’وزیر آغا کی بائیس نظمیں ‘‘، مرتب: عابد خورشید، سرگودھا، مکتبہ نردبان، اشاعت اوّل: جنوری ۲۰۰۷ء
۰۷۔ یہ پانچوں مقالات زیرِ نظر رسالے میں ماخذ کی اطلاع کے ساتھ شائع کیے جا رہے ہیں۔
۰۸۔ ڈاکٹر وزیر آغا ’’ادبی دنیا‘‘ میں مولانا صلاح الدین احمد کے ساتھ شریک مدیر کے طور خدمات انجام دیتے رہے اور اُن کی خدمات کے اعتراف کے طور پر مولانا صلاح الدین احمد کی یاد میں ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ کا اجرا کیا، جو گزشتہ چالیس برسوں سے شائع ہو رہا ہے اور جدید ادبی رجحانات کے تعارُف اور ترویج میں معاون رہا ہے۔
۰۹۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، مضمون: ’’دھرتی پوجا کی ایک مثال۔ میراجی‘‘، مشمولہ:’’نظمِ جدید کی کروٹیں ‘‘، لاہور، ادبی دنیا، س ن، ص: ۷۷
۱۰۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، ’’اردو شاعری کا مزاج‘‘، لاہور، مکتبہ عالیہ، گیارھواں ایڈیشن : ۱۹۹۹ء، ص: ۳۸۲
۱۱۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، ’’اردو شاعری کا مزاج‘‘، ص: ۳۸۶/ ۳۸۵
۱۲۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، مضمون: ’’میراجی کا عرفانِ ذات‘‘، مشمولہ: ’’نئے مقالات‘‘، سرگودھا، مکتبہ اُردُو زبان، اشاعت اول: فروری ۱۹۷۲ء، ص: ۸۱
۱۳۔ ایضاً، ص: ۸۴ / ۸۵
۱۴۔ ایضاً، ص: ۸۷
۱۵۔ ’’تنقید اور مجلسی تنقید‘‘، وزیر آغا، ڈاکٹر، سرگودھا، مکتبہ اُردو زبان، طبع اوّل: جنوری ۱۹۷۶ء
۱۶۔ فتح محمد ملک، ’’میراجی کی کتابِ پریشاں ‘‘، مشمولہ: ’’میراجی۔ ایک مطالعہ‘‘،
۱۷۔ تفصیل کے لیے درج ذیل مقالہ جات ملاحظہ ہوں :
ا۔ طارق حبیب، ’’تسکینِ نا تمام کی کیفیتوں کا شاعر‘‘، مشمولہ: ’’ماہِ نو‘‘، لاہور، ماہنامہ، جلد: ۴۷، شمارہ: ۵، مئی ۱۹۹۲ء
ب۔ طارق حبیب، ’’خواجہ میر درد : ایک مفروضے کی نفی‘‘، مشمولہ : ’’حق نما‘‘، لاہور، ماہنامہ، جلد: ۶، شمارہ : ۲/ ۱، جنوری فروری ۱۹۹۸ء
۱۸۔ آزاد نظم کے اِس بنیادی مزاج کو سمجھنے کے لیے زیرِ نظر رسالے میں شامل کیے گئے ڈاکٹر وزیر آغا کے اُن مقالات کا مطالعہ کیجیے، جو نظم کی بحث سے متعلق ہیں۔
۱۹۔ راقم نے آزاد نظم گو شعرا ء پر ہونے والی تنقید کے تحقیقی و تنقیدی جائزے کے حوالے سے ایم فل (اردو) کا مقالہ قلم بند کرتے ہوئے اِن حقائق تک رسائی حاصل کی، اِس لیے مقالہ نگار کی اِس رائے کو محض مفروضہ (Hypothesis) خیال نہ کیا جائے۔
٭٭٭

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post