غلام جیلانی اصغرکی نظم ’’ تکرار‘‘کامطالعاتی تجزیہ۔

نظم : غلام جیلانی اصغر

تجزیہ : یوسف خالد

جیلانی صاحب کی نظم “تکرار” ان کے مخصوص ذہنی و فکری رویے کی آئینہ دار ہے -جیلانی صاحب نے اپنی ذات اور کائینات کی گہری غواصی اور مشاہدےسے جو کچھ اخذ کیا،اس نظم کے مصرعوں میں ان محسوسات اس طرح منتقل کیا ہے کہ نظم کی قرآت سے قاری، نظم کے آہنگ اور مصرعوں کی دلکشی کے ساتھ ساتھ نظم کے عقب میں پھیلے ہوئے دیار میں خود کو محسوس کرنے لگتا ہے –
اس نظم میں گزرے ہوئے لمحوں کواپنی ذات میں محفوظ کرنے اور نئے خدشات سے ہم رشتہ ہو کر دکھ اور سکھ کے مابین زندگی گزارنے کا ایک نیا انداز سامنے آتا ہے- نظم کا آغاز بہت دلکش اور معنی خیز ہے
“پرانے موسموں کی چادروں کو دھو کے رکھ لینا کبھی یہ کام آئیں گی”
خطرات میں گھری ہوئی انسانی زندگی یقینآ کسی ایسی آواز کی منتظر ہے جس میں تحفظ کی نوید ہو، کسی جائے پناہ کا ذکر ہو کوئی امید ہو کوئی مشورہ ہو–
ہم اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی وحشتوں سے لا تعلق نہیں رہ سکتے- ہمارا شعور ہمیں ہمہ وقت ان خطرات سے آگاہ کر رہا ہے جنہیں کسی دن پوری شدت سے انسان کا مقدر ہونا ہے -ان تباہ کاریوں کے تصور سے انسان لرزہ بر اندام ہیں- مستقبل کی جنگیں نسل انسانی کے کے لیے ہولناک منظر تخلیق کر سکتی ہیں –
جیلانی صاحب کی بصیرت اور مشاہدہ بہت گہرا ہے انہیں آنے والے دور کی تباہ کاریوں کا پورا احساس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے لیے جائے پناہ صرف اور صرف گزرے دنوں کی خوشگوار یادوں میں تلاش کی جا سکتی ہے –
اس ںظم میں جیلانی صاحب نے اپنے قاری کو ان خطرات و خدشات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک رویے کو پروان چڑھانے کی ترغیب دی ہے- اور کچھ ہو جانے سے پہلے کسی عذآب میں مبتلا ہوئے بغیر زندگی گزارنے کا درس دیا ہے – جیلانی صاحب کی یہ نظم ایک وظیفہ ء حیات ہے جسے آج کا انسان اگر اختیا کر لے تو وہ اپنا آج خوشی سے گزار سکتا ہے – ذرا یہ نظم دیکھیں ۔
یہی دو چار دن جو روشنی کے ہیں
انہیں ہم اوڑھ کر بازار جائیں
دکانوں میں سجی چیزوں کو دیکھیں
ہر اک خوش رنگ چہرے کو
محبت اور حیرت کےملے جذبات سے آراستہ کر کے
دلوں کے آئینہ خانوں میں رکھ لیں
کسی معلوم کل موسم پہ کیا افتاد پڑنی ہے
دھواں ہے،دھند ہے ،گردِ سفر ہے
سنا ہے آندھیاں مغرب سے مشرق کی طرف پھر چلنے والی ہیں
ہوا بوجھل ہے
بادل شہر پر منڈلا رہے ہیں
لپکتی بجلیوں کے رقص میں کتنے چھلاوے ہیں
وہی لاکھوں زمانوں پر محیظ اک خامشی
گھروں میں جنگلوں میں راستوں میں پھیل جائے گی
بس اتنا تم نے کرنا ہے
پرانے موسموں کی چادروں کو دھو کے رکھ لینا کبھی یہ کام آئیں گی —

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post