عالمگیریت اور ثقافت : ڈاکٹرناصرعباس نیر ّ

ناصرعباس نیر
ڈاکٹرناصر عباس نیر ّ
عالمگیریت کے مفہوم اوراس کے مظاہر سے متعلق اردو میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ان میں سے چند باتوں کو دہرائے بغیر چارہ نہیںتاکہ اردوادب اورمقامی ثقافتوں پر اس کے اثرات کو سمجھا جاسکے جو اس کانفرنس کا بنیادی موضوع بھی ہے۔عالمگیریت کی نمایاں ترین صورت معاشی ہے۔معاشی عالمگیریت صنعتی عہد سے شروع ہونے والی سرمایہ داریت کی تازہ منزل ہے۔اسے مابعد صنعتی عہد بھی کہا گیا ہے۔صنعتی عہد میں اشیا کی پیداوار پر زور تھا۔مابعد صنعتی عہد کی پہچان ہی یہ ہے کہ اس میں اشیا کی کثرت ہوگئی ہے۔اب ان کی کھپت مسئلہ ہے۔صنعتی عہد میںاشیاعام انسانی ضرورتوں کے مطابق تیار کی جاتی تھیں۔جب اشیا ان ’عام انسانی ضرورتوں ‘سے کئی گنا وافر ہوگئیں تو ان کی کھپت کے مسئلے کے دو حل تلاش کیے گئے۔ پہلا حل یہ تھا کہ’عام انسانی ضرورتوں ‘ کے تصور کوازکاررفتہ سمجھا گیا۔نئی انسانی ضرورتیں تخلیق کی جانے لگیں۔ گویا یہ سمجھا گیا کہ صرف نئی اشیا ہی ایجاد نہیں کی جاسکتیں، انسان کے اندر ان نئی اشیا کی طلب اور ضرورت کی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہیں سے معاشی عالمگیریت نے ثقافت سے اپنا رشتہ قائم کیا۔انسان اپنی بنیادی ضرورتوں کا تصور اپنی جبلت سے اخذ کرتا ہے، مگر ثانوی اور ارفع ضرورتوں کا تصور ثقافت سے اخذ کرتاہے۔ہرانسانی ضرورت کے ساتھ ایک مشکل یہ ہے کہ وہ بہ یک وقت تکمیل اور تسکین چاہتی ہے۔ تکمیل تو کسی بھی طرح ہوسکتی ہے، سیدھے سادے یا الٹے یا مسخ شدہ طریقے سے بھی مگر تسکین کے لیے ان اقدار کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے جو ثقافت میں موجود ہوتے ہیں۔ معاشی عالمگیریت، انسانی ضرورتوں کی تسکین کے لیے نئی ثقافتی اقدار وضع کرتی اور انھیں رائج کرتی ہے۔یوں ثقافت کو سرمایہ یعنی کیپٹل قرار دیتی ہے۔
ان وافر اشیا کی کھپت کا دوسرا حل یہ تلاش کیا گیا کہ انھیں دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا جائے۔ سرمایہ اپنا تحفظ اوراپنی مسلسل اور لامحدود نشوونماچاہتا ہے ، جس کے لیے اس کا کسی وقفے کے بغیر حرکت میں رہنا از حد ضروری ہے۔ جسے معاشی سرگرمی کہا جاتا ہے ،وہ گھڑی کی ٹک ٹک کی مانند ،کسی توقف کے بغیر چلتے رہنے سے عبارت ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی ہڑتال ہوتی ہے،اور مارکیٹیں بند ہوتی ہیں تو شام کو آپ سنتے ہیں کہ آج اتنے ارب کا نقصان ہوا۔چناں چہ معاشی عالمگیریت اپنے راستے میں کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتی: رکاوٹ قومی سرحدیں ہوں، نظریات ہوں، مذہب ہو،زبان ہو یا میڈیا ہو ، ثقافت ہو یا انسان سے متعلق تصورات ہوں۔ تاہم ہر رکاوٹ سے نبرد آزما ہونے کاطریقہ یکساں نہیں ہے۔ننگی طاقت کا استعمال ، کھلا تصادم ، جنگیں ، مصالحت، معاہدے ،ان سب سے کام لیتی ہے۔ ویت نام سے لے کر عراق جنگ، گیارہ ستمبر کے بعد افغانستان جنگ، موجودہ یمن ، شام تنازعات کے پیچھے معاشی عالمگیری مفادات کارفرما ہیں۔قومی حکومتوں یعنی نیشن سٹیٹ کے اوائل بیسویں صدی کے تصور کونرم کیا گیا،جس کا سب سے بڑ ا مظہر یورپی یونین کا قیام تھاجس کے نتیجے میں یورپی ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے ملکوں میں بغیر ویزہ آجاسکتے ہیں ۔ ڈبلیو ٹی اوکا معاہدہ۔ نیز جہاں پرانے تصورات سے کام چلتا ہو، وہاں انھیں بروے کار لانا، جہاں ان تصوار ت کی نئی تعبیر کی ضرورت ہو، اس سے کام چلانا اور جہاں نئے تصورات کی تخلیق کی ضرورت ہو، وہاں بہترین اذہان کو خرید لینا۔ان سب طریقوں میں بس ایک شرط عالمگیریت رکھتی ہے کہ سرمایہ کی مسلسل افزائش جاری رہے، اور اس افزائش کی کوئی حد نہیں ہے۔ آسمان کو حد کی انتہا کے استعارے کے طور پر لیا جاتاہے، سرمائے کی افزائش کے لیے یہ استعارہ بھی موزوں نہیں۔
اس وقت دنیا میں دائیں بازو کی سیاسی قوتیں ہندوستان ، فلپائن، برازیل ،امریکا میں برسر اقتدار ہیں۔ خود پاکستان کی موجودہ حکومت دائیں بازو کی طرف واضح میلان رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ دائیں بازو سے مراد محض مذہبی سیاسی فکر نہیں، بلکہ نسل پرستی بھی ہے۔ لیکن اس دائیں بازو کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی علمبردار جماعتیں اورلیڈر خود جدیدیت پسند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں کچھ ایسے تضادات ہیں،جو لاینحل ہیں۔مثلاً آپ ابتدائی اسلامی ریاست کے ماڈل اور چین و ملائشیا کے ماڈلوں کی ایک ساتھ بات کرتے ہیں۔ان تضادات کے افشا سے ڈر کر ہی میڈیا پر سخت پابند یاں عائد کی جاتی ہیں۔ اسی طرح برطانیہ بریکزٹ کے ذریعے ،یورپی یونین سے الگ ہونے جارہا ہے ۔یہ انیس سو اسی سے شروع ہونے والی معاشی عالمگیریت کے خلاف ردّ عمل ہے ۔ہوا یہ کہ معیشت کی لبرل کاری ،یعنی دوسروں ملکوں کی اشیا کی اپنے ملکوں میںآزادانہ فروخت سے معاشی عدم توازن پیدا ہوا۔ امریکا جیسے ملک میں چینی سرمایہ کاروں کے سبب،مقامی گورے تنگ دستی کا شکار ہوئے۔ٹرمپ انھی کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔مشہور زمانہ پانامہ پیپرز ،جن میں دنیا کے امیر ترین لوگوں کے خفیہ سرمائے کو منکشف کیا گیا تھا، معاشی عالمگیریت کا نتیجہ ہیں۔ اپنے ملکوں میں ٹیکس بچانے کی خاطر ،اپنے سرمائے کو باہر منتقل کیا گیا ۔اس کا راست بوجھ اپنے ملکوں کے عوام پر بھاری ٹیکسوں کی صورت میں پڑا۔
دائیں بازو کی سیاست اوربیسویں صدی کی سرمایہ داریت میں گہرا تعلق ہے۔ اردو ادب کی حد تک اس تعلق کی دریافت کا سہرا منٹو کے سر ہے۔ انکل سام کے نام چوتھے خط میں لکھتے ہیں:
۔۔۔آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو،اس لیے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین توڑ ہے۔فوجی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا تو آپ سب سے پہلے ان ملائوں کو مسلح کیجیے گا۔ان کے لیے خالص امریکی ڈھیلے، خالص امریکی تسبیحیں اور خالص امریکی جائے نمازیں روانہ کیجیے گا۔استروں اور قینچیوں کو سرفہرست رکھیے گا۔۔۔۔فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ،ان ملائوں کا مسلح کرنا ہے۔
یہ خط تقریباً اسی زمانے میں لکھا گیا جب کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی لگی اور اس کے آس پاس راولپنڈی سازش کیس تیار ہوا۔ روس کا کمیونزم تو انجام کو پہنچا مگر پاکستان میں جن ملائوں کو مسلح کیا گیا ، ان کی طاقت ہے کہ مسلسل بڑھتی جاتی ہے اور اسی تناسب سے آزادانہ فکر کی تخلیق اور اس کے اظہار کی گنجائش سکڑتی جاتی ہے۔
بہ ظاہر مذہب، نسل پرستی ، مقامیت پسندی پر شدت پسندانہ زور عالمگیریت کے سرمایہ پرستانہ مقصد سے غیر ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے، اس لیے کہ زائد اشیا کی آزادانہ نقل و حرکت ،جو سرمائے میں لگاتار اضافے کے لیے ناگزیر ہے، وہ محدود ہوجاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمگیریت نسل پرستی ، مذہب ،مقامیت پسندی کو بھی کموڈیٹی کا درجہ دیتی ہے ،اور ان کی تجارت کرتی ہے۔ ہر ملک کی منڈی کے اصول یکساں نہیں ہیں۔ اگر نسل پرستوں پر مشتمل منڈی بڑی ہو تو وہاں نسل پرستی کے جذبات ابھار کر اشیا بیچی جاتی ہیں،اور جہاں مقامی کلچر سے لوگ غیر معمولی محبت کرتے ہوں وہاں مقامیت کے جذبات ابھار کر اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ معاشی عالمگیریت کے لیے ہر شے کموڈیٹی ہے، صَرف ہونے والی شے! یعنی اسے کسی چیز کی حقیقی و بنیادی قدر سے واسطہ نہیں،خواہ وہ مذہب، زبان ،ادب ، ثقافت ہی کیوںنہ ہو ۔مذہب انسان کی اخلاقی تطہیر اور روحانی رفعت کا ذریعہ ہے ،مگر اس کی رسوم کو بھی ایک معاشی سرگرمی میں تبدیل کیا جانے لگا ہے۔ مذہبی چینلوں سے لے کر روحانی علاج کے مراکز کھل گئے ہیں۔ان گنت اشیا مذہب کے نام پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان دنوں کلچر کو بھی ایک صنعت کا درجہ دیا جانے لگا ہے۔
ثقافتی عالمگیریت، معاشی عالمگیریت کا ضمیمہ کہی جاسکتی ہے۔ ضمیمے کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اصل متن سے جڑ اہوابھی ہوتا ہے اور الگ بھی۔ یعنی ضمیمہ وجود میں تو اصل متن کی وجہ سے آتا ہے، اصل متن میں موجود کسی کمی ، کسی خلا کو پر کرنے کی خاطر مگر جب وجود میں آجاتاہے تو اس کی ایک اپنی ،محدود سہی، الگ دنیا ضرور ہوتی ہے۔ ثقافتی عالمگیریت ،معاشی عالمگیریت کی جس کمی ،جس خلاسے پیدا ہوئی ہے ،وہ ہے ،اس کا اجارہ پسندانہ رخ جو اپنے اظہار میں بدترین سنگدلی سے کام لینے، یعنی تباہ کن جنگیں شروع کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔پہلے جنگوں سے شہر مسمار کیے جاتے ہیں، انسانی آبادی کا صفایا کیا جاتا ہے ،پھر ان کی تعمیر نو کے نام پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ تعمیر نو میں عمارتوں ،سکولوں، ہسپتالوں ، سڑکوں ،گھروں کی تعمیر سے لے کر نئی حکومتوں اور نئے طبقات اور نئے کلچر کی تعمیر بھی شامل ہوتی ہے ۔معاشی عالمگیریت کی اس اجارہ پسندی کے سبب ہی اس کے خلاف ردّ عمل پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً یہی دیکھیے کہ پاکستان معاشی عالمگیریت کی منڈی تو بنا ہے،خود اس نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یہاںامریکی میکڈونلڈ،کے ایف سی،پیپسی،انٹیل، جیلٹ،ایبٹ،سنگر،سوئٹزرلینڈ کی نیسلے،آسٹریلوی گلوریا جینز، یو اے ای کے الفلاح بینک سے لے کر خوب کاروبار کرتے ہیں، یا تعلیم میں او اور اے لیول کا تصور ،جسے خود برطانیہ ؎ترک کرچکا ہے ،امریکن سکول ، گرامر سکول، لاکاس جیسے مقامی مگر پاکستانی برانڈ دنیا کے باقی ملکوں میں اپنی شاخیں شاید ہی رکھتا ہو۔تاہم چند پاکستانی کمپنیاں مشرق وسطیٰ میں کاروبار کرتی ہیں۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ معاشی عالمگیریت، معاشی ترقی کے مواقع بھی پیدا کرتی ہے،مگر پاکستان نے ان مواقع کاکچھ خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔بہ ہر کیف ، عالمی کاروباری ادارے ، مقامی صنعتوں کی ترقی کی راہ میں سخت رکاوٹ ہوتے ہیں،یعنی اجارہ حاصل کرلیتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس اجارے کے خلاف ردعمل ہو، کلچر معاشی عالمگیریت کی مدد کو آتا ہے۔ اوّل ایک عالمی کلچر کا تصور ابھارا جاتا ہے۔ آپ کو اس احساس کے تحت جینے میں تفاخر محسوس کروایا جاتا ہے کہ آپ ایک عالمی شہری ہیں، عالمی کلچر کے ساتھ جڑے ہیں،ایک عالمی زبان بولتے ہیں۔ پاکستان میں اس احساس کو پیدا کرنا اس لیے نہایت آسان ہے کہ ہم نو آبادیاتی بار گراں ( colonial baggage)لیے ہوئے ہیں ؛ہماری انتظامی، سیاسی، تعلیمی ،لسانی اور ادبی حیات کے اکثر رخ نو آبادیاتی مغرب( اصل مغرب نہیں) کے بنائے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی قبل نو آبادیاتی دنیا کی یادداشت کھو چکے ہیں یا اس کے سلسلے میں سخت بد گمانی یا ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہیں۔نیز ہم نے سیاسی اداروں سے لے کر تعلیمی اداروں تک اور سماجی سائنسوں تک اپنی مقامی حقیقی عالمی معیار کی روایت سرے سے پیدا ہی نہیں کی۔ اس صورتِ حال میں معاشی عالمگیریت ، اپنے عالمی ثقافتی رخ کو ہمارے یہاں قابل قبول بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ یعنی اپنے خلا کو پر کر نے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اب ذرا اس کے حقیقی اثرات پر ایک نظر ڈالیے۔کم ازکم بڑے شہروں میں رہنے والے لوگ وہی لباس پہننے لگے ہیں جو عالمی ہے؛ کم پاکستانی ہوں گے جو اپنے لباس سے پہچانے جاتے ہوں کہ وہ پاکستانی ہیں۔ اکثریت وہی کھانے کھانے لگے ہیں جو امریکی، یورپی،چینی،جاپانی وغیرہ ہیں۔ فاسٹ فوڈ ثقافتی عالمگیریت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ہر صاحب حیثیت کا بچہ عالمی تعلیم حاصل کرتا ہے، یعنی انگریزی میں مغربی طرز کی تعلیم ۔ جو صاحب حیثیت نہیں،وہ اس کی آرزو رکھتے ہیں۔ہالی ووڈ ،ثقافتی عالمگیریت کا ایک اور اہم مظہر ہے۔ شاید ہی کوئی پڑھا لکھا ہو جو ہالی ووڈ کی فلمیں نہ دیکھتا ہو۔انگریزی ،خصوصاً امریکی انگریزی ہر جگہ ہے؛ دکانوں کے سائن بورڈ سے لے کرموبائل ایپلی کیشنز تک ۔ پاکستان میں ہونے والے تمام فیسٹول کی مرکزی زبان یہی انگریزی ہوتی ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد پاکستانی انگریزی لکھنے والوں کی ایک نئی ،نوجوان نسل سامنے آئی ہے۔ انھیں دنیا میں اس تیزی سے وہ عالمی شہرت ملی ہے،جس کا مقابلہ غالب ،منٹو ،قرۃ العین حیدر، انتظاارحسین ، عبداللہ حسین بھی نہیں کرسکتے۔پاکستان میں بھی انھیں اپنے معاصر اور سینئر ادیبوں سے کئی گنا زیادہ شہرت واہمیت ملی ہے۔ ہمارے یہاں اس سے پہلے بھی انگریزی میں لکھنے والے تھے ، جیسے شاہد سہرودری ، احمد علی ،شائستہ سہروردی اکرام اللہ،،بیپسی سدھوا،توفیق رفعت ، عالمگیر ہاشمی، دائو کمال اور دیگر،مگر ان سب کے حصے میں اس شہرت کا عشر عشیر بھی نہیں آیا جو محمد حینف ، کاملہ شمسی ،محسن حامد کو ملی ہے ۔یہ سب ’عالمی چیزیںـ ـ‘ مقامی اشیا ،زبانوں اور ثقافتوں کو کوشش سے بے دخل ،بے توقیر نہیں کرتیں ، بلکہ عالمی ثقافتی شہری بننے کی اس آرزو کے سبب کرتی ہیں ،جسے ثقافتی عالمگیریت نے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ اس آرزو کو جو چیز ختم نہیں ہونے دیتی ، الٹا اسے مستحکم کرتی ہے ،وہ ایک طرف مقامی ثقافتوں ، مقامی زبانوں ، مقامی ادب کے سلسلے میں شرمندگی اور کمتری کا احساس ہے، دوسری طرف انھیں ترقی نہ دینا ہے۔ ہم اپنی مقامیت پرجتنا وقت فخر کرنے یا ماتم کرنے میں صرف کرتے ہیں،اس سے آدھا وقت ،ان کو داخلی طور پر ثمر مند کرنے میں گزاریں توان کے سلسلے میں شرمندگی اور کمتری کے احساس سے بچ جائیں۔
یہاں کچھ دیر رک کر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ’عالمی ‘ ہونے کا مطلب کیا ہے؟ ’عالمی ‘ ہونے کا سطحی اظہار تو لباس اورخوراک کی عادات سے ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ ’عالمی ‘ زبان اختیار کرتے ہیں تو عالمی ہونے کا مطلب بد ل جاتا ہے۔ زبان ، صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، خیالات ، تصورات اور بیانیوں کی تشکیل کی آماج گاہ بھی ہے۔ آپ جب عالمی زبان یعنی انگریزی پڑھتے ہیں، بولتے ہیں ،لکھتے ہیں تو آپ دنیا کو ایک اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ اپنی دنیا کے مسائل کو اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کے لیے تو انگریزی کا عالمی کردار دہر اہے: برطانوی نو آبادیاتی اور عالمگیری امریکی انگریزی ۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قومی زبان اردو اور دوسری پاکستانی زبانوں کا کردار ہماری تعلیمی، سرکاری اور سماجی زندگی میں جس تناسب سے کم ہوا یا متاثرہوا ہے، اسی تناسب سے انگریزی کا کردار بڑھا ہے۔ پہلے صرف خواص انگریزی پڑھتے، بولتے اور لکھتے تھے، اب عام لوگ بھی اسے پڑھتے ہیں یا اپنے بچوں کے لیے اس کی دلی آرزو رکھتے ہیں۔ اس کے پس منظر میں جہاں انگریزی کی عملی افادیت یعنی ا س کی جاب مارکیٹ کا موجود ہونا ہے، وہاں عالمی شہری کے طور پراپنی شناخت باور کرانے کی خواہش بھی ہے۔عالمی زبان انگریزی کے ذریعے ،عالمی شہری ہونے کی شناخت ہر جگہ یکساں نہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ جسے ہم عالمی معاشرہ کہتے ہیں ،یعنی مغربی دنیا وہاں عالمی شہری کا تصور شاید ہی موجود ہو۔ وہ بنیادی طور پر مقامی شہری ہیں، اپنی زبان، اپنے کلچر ، اپنے ادب ، اپنی تاریخ کے ساتھ ۔ ( انھیں اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ عالمگیریت کے ہاتھوں کلچر کا شے میں بدلنا ہے)۔عالمی شہری ہونا ، غیر مغربی دنیا یعنی ایشیائی، افریقی و لاطینی ممالک کے باشندوں کا مسئلہ ہے۔ وہ مغربی اور زیادہ تر امریکی لائف سٹائل اختیار کرکے عالمی شہری ہونے کی سعی کرتے ہیں۔چناں چہ عالمی شہری ہونے کا حقیقی مطلب mimicryہے اور اپنی مقامی ثقافت کے سلسلے میں کہیں لاتعلقی اور کہیں شبہات ۔ اگرعالمی ہونے کا تصور محض لباس اور خوارک تک محدود رہے تو نسبتاً بے ضرر ہوتا ہے ، مگر جہاں یہ تصور مغربی تصور دنیا کو اختیار کر لیتا ہے،تو معمائی یعنیProblematic ہوجاتا ہے۔ مثلا ہمً اپنی ہرشے کا مسلسل تقابل ، ان اشیا سے کرنے لگتے ہیں جنھیں مغرب نے اپنی اجارہ پسندانہ پالیسی کے تحت ’پیدا ‘ کیا ہوتا ہے۔یہاں حقیقی عالمی فکر، عالمی ادب اور مقامی سیاسی مغربی فکر میں لازماً فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ مغرب میں پیدا ہونے والی سائنس اور انسان دوست نظریات کا اسی مغرب کے سیاسی عزائم سے وابستہ فکر سے گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔
عالمگیریت نے کلچر کو،خواہ وہ کسی ملک کا ہو،اسے تفریح اور مزے اڑائو جیسی چیز بنا کر رکھ دیاہے۔ کلچر کے دو بنیادی کام ہیں۔ان مشترکہ تصورات، اقدار کو ایک انسانی گروہ کے افراد کے دلوں میں مسلسل راسخ کرنا جنھیں صدیوں کے تجربات و حوادث کے بعد ڈھالا گیا ہوتا ہے۔اس کی مدد سے افراد ایک دوسرے سے جذباتی اور ذہنی طور پر ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ کلچر کادوسرا کام آدمی کوزندگی کی معمولی، حقیرسطح سے بلند کرنا،جمالیاتی وروحانی کیفیات سے ہمکنار کرنااور بہترین احساسات سے گزرنے کا چارہ کرنا۔مگرتفریح بننے کے بعد کلچر اپنی اصل سے محروم ہوجاتاہے؛وہ بازار میں فوری طور پر فروخت ہونے والی شے میں بدل گیا ہے۔ اس کا سامنا مغربی اور غیر مغربی دونوں دنیا ئوں کو ہے۔آج کل ہم کوک سٹوڈیو کی موسیقی میں دیکھ رہے ہیں، فلموں میں دیکھ رہے ہیں ،طرح طرح کے فیسٹول میں دیکھ رہے ہیں، مشاعروں میں دیکھ رہے ہیں، نئی فلموں میں دیکھ رہے ہیں۔کس ثقافتی سرگرمی نے کتنی تعداد کو متوجہ کیا اور کتنا بزنس کیا؟ کسی ثقافتی سرگرمی کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے! یہ رویہ کمیتی ہے،یعنی حسابی اور مقداری جو اپنی نوعیت میں معاشی ہے۔یہ تو تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ کوئی ثقافتی سرگرمی بغیر معاشی معاونت کے نہ شروع ہوسکتی ہے ،نہ جاری رہ سکتی ہے، لیکن معاشی معاونت کو ثقافت کی اصل روح کو ابھارنے میں معاونت کرنا چاہیے، نہ کہ خود ثقافت کو معاشی سرگرمی میں بدل کررکھ دینا چاہیے۔دوسرے لفظوں میں ثقافتی سرگرمیوں کا پیمانہ کیفیتی ہونا چاہیے۔عالمگیریت کے عہد میں ثقافت کے ضمن میں اگر کوئی حقیقی چیلنج ہے تو وہ یہ ہے کہ کس طرح ثقافت کو تجارت میں بدلنے سے بچایا جائے ۔ ثقافت انسانی ہستی میں بہترین کے حصول کی آرزو کو مسلسل بیدار رکھتی ہے، لیکن جب ثقافت تجارت بنتی ہے تو محض سرمائے کا حصول عظیم ترین آرزو بن جاتا ہے۔یہ نہ صرف خود انسانی آرزو کی مکمل subversion ہے، بلکہ خود انسان کی بھی۔
اب تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے ،وہ ثقافتی عالمگیریت کے معاشی عالمگیریت کے ضمیمے ہونے کی بابت ہے،جہاں ثانی الذکر اپنے خلا کو پرکرتی ہے۔ اب چند باتیں اس حقیقت کے ضمن میں کہ ثقافتی عالمگیریت کی اسی طرح ایک ،محدود سہی ، خود مختار حیثیت ہے، اور اس حیثیت میں نہ صرف ا س کا اجارہ پسندانہ کردار موجودنہیں، بلکہ وہ ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اس حیثیت میں ثقافتی عالمگیریت مقامی ثقافتوں کے لیے خطرہ نہیں۔ اس ضمن میں دو باتوں کا ذکر ضروری ہے۔ ایک یہ کہ ثقافتی عالمگیریت کے ساتھ ’علم ‘ بھی ہم تک پہنچتا ہے۔ ایک زمانہ تھا لوگ دنیا کی اچھی اور بڑی کتابوں کی تلاش میں ملکوں کے سفر کیا کرتے تھے۔ شبلی نے شام و مصر کا سفر عربی کتب کے لیے کیا۔سرسید برطانیہ اس لیے گئے کہ خطبات احمدیہ کے لیے بنیادی کتب حاصل کرسکیں۔ علامہ
اقبال ہائیڈل برگ میں ابن عربی پر نادر کتب کی تلاش کے لیے گئے تھے۔ لیکن اب دنیا کی امہات الکتب آئن لائن دستیاب ہیں یا ای سٹور کی مدد سے انھیں گھر بیٹھے آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اسی طر ح دنیا بھر کے اخبارات و رسائل تک رسائی بھی ایک کلک کی محتاج ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر کے لوگوں سے رابطے او ر بات چیت کی سہولت بھی ان سب کو میسر ہے جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب کتنا غیر معمولی ہے، اس کا اندازہ ہمیں ان چندبڑی شخصیات سے ہوتاہے،جن سے ہم صرف اس لیے آگا ہ ہوسکے کہ بیسویں صدی میں ،جب ابھی صنعتی عہد تھا، ثقافتی عالمگیریت رونما ہونے لگی تھی۔ شیکسپیئر، رلکے، گوئٹے، بودلیئر، مارکس ، لینن،فرائیڈ، ژنگ، کافکا، بورخیس ، نیرودا،چی گویرا،سوسئیر، فوکو ،دریدا، ٹیری ایگلٹن، مارکیز، کنڈیرا، مورا کامی اور کتنے ہی عالمی مصنفین ۔ اگر ان کے پیچھے پبلشنگ انڈسٹری نہ ہوتی، اور ا س انڈسٹری کو معاشی عالمگیریت کی سرپرستی نہ ہوتی تو ان سے ہمارا تعارف مشکل تھا۔ یہ لوگ عالمی مصفین ہیں، ان میں سے اکثر طاقت، اجارہ پسندی کے کٹر ناقد اور انسان دوست ہیں۔ یہ اپنی مقامیت کو قائم رکھتے ہوئے، عالمی سوچ رکھتے ہیں۔ مقامیت ،جب قوم پرستی کے کسی مثالی اور exclusive تصور میں ڈھلتی ہے تو محدود ہوجاتی ہے۔
ترجمہ ، ثقافتی عالمگیریت کے پیدا کردہ موقع سے فائدہ اٹھانے کا سب سے مئوثر ذریعہ ہے۔ یہ تو معلوم بات ہے کہ تراجم ہر زبان کے ادب کو نئے اسلوب، نئے خیالات، نئے تجربات اور نئی تیکنیوں سے بہرہ مند کرتے ہیں۔ادب کی اکثر تحریکیں اور رجحانات تراجم ہی کے مرہون ہیں۔ میں یہاں ترجمے سے متعلق ایک خاص پہلو پر زرو دینا چاہتا ہوں۔ ترجمہ انسانی ذہن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ جب آپ ایک غیر زبان کے متن کو اپنی زبان میں منتقل کرنے لگتے ہیں توآپ کاادراک (cognition) ایک امتحان سے گزرتا ہے۔غیر زبان میں لکھاگیا متن ، ایک مختلف نحوی ترتیب ، اور اس سے پیدا ہونے والی معنیات ہی میں نہیں ہوتا، دنیا کو دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ بھی ہوتا ہے۔ یہ زاویہ ہمیں قبول بھی ہوسکتا ہے اور نہیں بھی، مگر مترجم کے لیے لازم ہے کہ وہ اس زاویے کی اصل میں مداخلت نہ کرے۔ غیر زبان کے متن پر اپنی زبان ، اپنی ثقافت ،ا س کی اقدار کو حکم نہ بنائے۔ جس زبان کے مترجمین کسی دوسری زبان کے متن کو بغیر مداخلت کے منتقل کرنے کی جرأت کرتے ہیں اور معاشرہ دوسری زبان کے متن کے اس حق کو قبول کرلیتا ہے کہ وہ دنیا کو ہم سے مختلف انداز میں دیکھے تو صحیح معنوں میں ثقافتی مکالمہ جنم لیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ترجمہ ، کسی متن کی من مرضی کی adaptaionہی نہیں ہوتا، اس کو مسخ بھی کرتا ہے۔ پھر آپ ترجمے کے ذریعے اپنے ذہن کو وسعت نہیں دیتے، اپنے پہلے سے موجود خیالات کی توثیق کرتے ہیں۔ اس سے دنیا کے مختلف الخیال لوگ ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے، بلکہ اپنی اپنی حدوں میں سمٹے رہتے ہیں اور یہیں سے ثقافتی عداوت بھی جنم لیتی ہے۔ جرأت مندانہ اور دیانت دارنہ تراجم کے ذریعے ثقافتی عالمگیریت ، ایک انسانی ثقافت پیدا کرسکتی ہے۔ ایک ایسی انسانی ثقافت ،جس میں مختلف الخیال لوگ اور گروہ ،اپنی اپنی مقامی شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، ان کا تحفظ کرتے ہوئے ،ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post