شک کا عذاب : نوید صادق

ہوش سنبھالا تو جو آوازیں کان پڑیں ان میں منیرؔنیازی کی آواز میں عجیب سِحر تھا۔ان کی نظمیں سنتا تو دم بخود رہ جاتا اور راتوں کو ڈراؤنے سپنے آتے۔غزلیں پڑھتا تو لگتا جیسے منیرؔ نیازی نہیں، مَیں اس کارزارِ حیات سے گزرتے ہوئے حیرانی اور پریشانی کے عالم میں اپنے مشاہدات رقم کر رہا ہوں۔وہ دور ہی عجیب تھا۔مشاعرہ گاہ میں واہ واہ کے نعرے بلند ہو رہے ہوتے تھے۔ بعض شاعروں کے شعر بعد میں مکمل ہوتے اور داد و تحسین کے ڈونگرے پہلے برسنا شروع ہو جاتے۔ مَیں سمجھتا۔۔۔ شاید مَیں ان شعرا کو سمجھ نہیں پا رہا، جو داد نہیں دے پاتا۔لیکن منیرؔ صاحب اپنا کلام سنانا شروع کرتے تو مشاعرہ گاہ میں یوں سناٹا چھا جاتا کہ کاٹو تو لہو نہیں۔ کوئی شوروغوغا نہیں۔نظم مکمل ہوتی تو اِدھر اُدھر سے واہ واہ کی صدائیں بلند ہوتیں۔یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ جن شعروں کو مَیںلائقِ اعتنا سمجھتا ہوںاُن پر خاموشی اور جنھیں مَیں کسی شمار میں نہیں گردانتا، ان پر وہ شور کہ خدا کی پناہ!
وقت گزرتا چلا گیا۔مطالعہ بہتر ہوتا گیا۔کچھ شعرا دل و دماغ پر نقش ہوتے چلے گئے۔منیرؔ نیازی کہ شروع سےاپنی ایک حیثیت بنا گئے تھے،میرے لیے مزید اہمیت اختیار کرتے چلے گئے۔ان کی نظم پڑھنا اور بیٹھے سوچتے رہنا۔ ان کی غزل دیکھنا اور ایک اور جہانِ ممکنات کی دریافت کو چل نکلنا۔اب کھلا کہ لوگ منیرؔ صاحب کے اشعار پر خاموش کیوں رہتے تھے۔ وہ مشاعرے کے شاعر تھے ہی نہیں۔ مشاعرہ گاہ میں لوگ ابھی ان کے پہلے شعر کے طلسم میں ہوتے تھے کہ اگلا شعر آ دستک دیتا۔ یوں بعض نچلے درجے کے شعرا یہ سمجھتے کہ وہ منیرؔ صاحب سے زیادہ کامیاب ٹھہرے ہیں۔
منیرؔ نیازی کی نظم پر بہت لکھا گیا۔ بہت داد و تحسین ہوئی۔اور یہ سب ان کی زندگی میں ہوا جو انھوں نے خود دیکھا بھی۔لیکن ان کی غزل پر چنداں توجہ نہ دی گئی۔ مضامین میں اِکا دُکا جملے،اِدھر اُدھر سے حوالے۔ ان کی غزل کا بس یہی مصرف ٹھہرا۔ خدا جانے یہ ناقدینِ فن کی کوتاہی تھی یا سوچا سمجھا منصوبہ کہ کہیں یہ شاعر دونوں میدان نہ مار جائے۔
اپنے گرد و پیش کی قدرتی اور مادی دنیا میں خوب صورتی کی تلاش، زبان اور زاویۂ نظر کا انفرادی آہنگ، اشیا کے اصل کی کھوج اور اس کا بیان منیرؔ نیازی کے بنیادی مسائل ہیں۔وہ اپنی روایتی اقدار کوساتھ لے کر چلتے ہوئے اپنی اور اپنے عہد کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدہ کا انداز بالکل اُس بچے سا ہے جو پہلی بار کائنات پر نظر ڈالتا ہے۔ اس وقت اس کی آنکھوںسے عیاں حیرت دیدنی ہوتی ہے۔تجسس کا انداز بھی اُس بچے سا ہے جس نے ابھی ابھی اس کائنات میں آنکھیں کھولی ہیں۔
معاملاتِ محبت ہوں کی دنیاوی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے خوف کا عالم، ماضی کی تلخ و شیریں حکایات ہوںیا موجود کے مسائل سے بھری پُری زندگی یا فردا کے حسین خواب،رنج و الم سے بھری کیفیات کا بیان ہو کہ انائیت اور خودپرستی کی سنگین صورتِ احوال، زندگی کی رنگینیوں سے دلچسپی کے عوامل ہوں کہ موت کے لیے کشش،عصری اور سماجی معاملات ہوں کہ مابعدالطبیعیاتی مسائل، ان سب کی بابت منیرؔ نیای کاایک اپنا نقطۂ نظر اور طریقِ بیان ہے۔روزمرہ کی زندگی اور فطرت و قدرت سے اپنے استعارے تراشنا اُن کی شعری کائنات کا بنیادی وصف ہے۔ہر الجھن، ہر خواب، ہر عمل، ہر مسئلے پر ان کے عمیق مشاہدے اور گہرے غور و خوض کی چھاپ نظر آتی ہے۔وہ ہر شے میں ایک اور شے کی تلاش کے متمنی ہیں۔منیرؔ نیازی کی شاعری کے مطالعہ کے دوران ایک ایسا شخص دھیان کے قرطاس پر ابھرتا ہے جو دنیا و مافیہا سے بے خبرکسی مراقبے میں ہے۔ لیکن منیرؔ کے اس انداز پر مت جائیے گاکہ اُن جیسے باخبر لوگ کم کم ہی نظر پڑتے ہیں اور اس کا ثبوت ان کے اشعار ہیں۔
لفظ ’’محبت‘‘ ادا کرنے میں میں جتنا خوب صورت اور پرکشش ہے اتنا ہی اپنے معانی کے اعتبار سے مشکل اور پیچیدہ ہے۔نفسیات اور فلسفے والوں نے پینترے بدل بدل کر اس کی تعریفیں کی ہیں لیکن اطمینان کی ایک بھی صورت سامنے نہیں آ پائی۔مجھے اپنے والدین سے محبت ہے، مجھے اپنے بہن بھائیوں سے محبت ہے، مجھے اپنے دوستوں سے محبت ہے،مجھے اپنی بیوی سے محبت ہے، مجھے اپنے خاوند سے محبت ہے، مجھے اپنے بچوں سے محبت ہے اور سب سے بڑھ کر مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔ یہ وہ جملے ہیںجو کم وبیش روز ہمارے سامنے ادا ہوتے ہیں یا ہم خود اِنھیں ادا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں،لیکن اس کی اصل پر غور کرنا تو دور کی بات، ہم نے کبھی سوچنا تک گوارا نہیں کیاکہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہ اپنے ما فی الضمیرمیں درست بھی ہے کہ نہیں۔کسی شاعر کے ہاں اس کی محبوبہ کے متعلق اشعار زیادہ نظر آ گئے تو ہم نے اسے محبت کا شاعر ٹھہرا دیا۔لیکن یہ ’’محبت‘‘ ہے کیا بلا؟ اس کے دَرجات کیا ہیں۔ اور جس شاعر کی بات ہم کر رہے ہیں اس کے ہاں’’ محبت ‘‘ہے یا اور کچھ؟ اور اگر یہ واقعی محبت ہے تو اس کا درجہ اور حیثیت کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اکثر ذہن میں اٹھتے رہتے ہیں۔
فلسفے والوں نے محبت کی تین شکلیں یا پہلو بیان کیے ہیں: ایروز (Eros)، فیلیا(Philia)، اگاپی(Agape)۔
’’ایروز‘‘کی اصطلاح بنیادی طور پر شہوانی فن پاروں کے لیے استعمال ہوتی ہے تاہم اس میں دوسرے انسان کے لیے شدید خواہش، تڑپ اور چاہت کا عنصر بھی آ جاتا ہے۔’’فیلیا‘‘ کی اصطلاح مفعول کی رفاقت یا شراکت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کی ذیل میں زیادہ تر خاندان،دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں کے لیے محبت کا جذبہ آتا ہے۔’’اگاپی‘‘ میں خدا سے محبت اور تعلق کا عندیہ ملتا ہے۔
رابرٹ سترنبرگ(Robert Sternberg) نے’’ تکونی نظریہ محبت‘‘(Triangular Theory of Love) میں محبت کی تین ابعاد بیان کی ہیں:جذبہ(Passion)، وابستگی (Commitment)اور بے تکلفی(Intimacy)۔محبت کا سچا ہونا، لافانی ہونا، لاحاصل ہونا،اندھا ہونا، وغیرہ وغیرہ … یہ بعد کی باتیں ہیں۔
مشہورِ زمانہ سماجی نفسیات دان زک روبن(Zick Rubin) نے محبت کے تین بنیادی عنصر بیان کیے ہیں: وابستگی، ہمدردی اور بے تکلفی۔ وابستگی میں ایک انسان دوسرے انسان سے اپنا خیال رکھنے اور جسمانی تعلقات کا طالب ہوتا ہے۔ ہمدردی میں دوسرے انسان کی ضروریات اور خوشیوں کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے جتنا اپنا۔بے تکلفی میں انسان دوسرے انسان کو اپنے ذاتی خیالات، خواہشات، اور محسوسات میں شریک کرتا ہے۔یہ تینوں عناصر ایک کامیاب اور مکمل محبت کا سبب بنتے ہیں۔
’’محبت‘‘ کی بیان کردہ تعریفوں اور مختلف پہلوؤں کی روشنی میں اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ منیر نیازی کی غزل میں’’ محبت‘‘ اور’’ معاملاتِ محبت‘‘ کی نوعیت کیا ہے۔
منیرؔ نیازی کے ہاں محبوب کے حوالے سے ایک اثر پزیری کی کیفیت نظر آتی ہے۔انسان اپنے گرد و پیش میں موجود اچھی اور خوبصورت چیزوں سے اثر لیتا ہے، ان کی طرف مائل ہوتا ہےاور یہی رجحان ترقی پاتے پاتے ایک ایسے تعلق کی بنیاد بنتا ہے جسے محبت کا نام دیاجاتا ہے۔ منیرؔ نیازی خوب صورت چیزوں میں کشش محسوس کرتے ہیں۔اور یہ تعلق یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ بن جاتا ہے۔شاعر کو انتظار رہتا ہے کہ کب محبوب عالمِ نظارہ میں آئے اور کب اس کی آنکھوں کی تسکین کا سامان ہو۔دوسری طرف محبوب کے دل میں بھی ہُوبہ ہُو وہی کیفیات جنم لے رہی ہیں۔شاعر کے لیے محبوب کا عالمِ نظارہ میں دَر آنا گویا رنگ کا بازار کھل جانے کے مترادف ہوتا ہے۔اور اسے کائنات کلیتاً تبدیل ہوتی محسوس ہوتی ہے:
شاید چاند نکل آیا ہے
دیکھ منیرؔ اس چھت کی طرف

شاید مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں
چاروں جانب تکتی آنکھیں

میں جو منیرؔ اک کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزرا
اس کی چک کی تیلیوں سے ریشم کے شگوفے پھوٹے

آیا وہ بام پر تو کچھ ایسا لگا منیرؔ
جیسے فلک پہ رنگ کا بازار کھل گیا

بہنے لگی ہے ندی اک سرخ رنگ مے کی
اک شوخ کے لبوں کا لعلیں ایاغ چمکا
یہ ڈوبتا سورج اور اس کی لبِ بام آمد
تا حدِ نظر اس کے آنچل کی بھڑک جائے
منیرؔ نیازی کی فطرت میں تلاش اور جستجو کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ اپنی زمینی محبت میں بھی وہ اُن رازوں کو پا جانے کی جستجو میں ہیں جن سے وہ تاحال ناواقف ہیں۔وہ یہ جاننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ جیسا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کیسا ہوتا۔ اور جو اُن کے دل میں ہے اگر ویسا ہو جائے تو کیا بنے۔حد ہے کہ منیر ؔنیازی اپنے ان تجربات سے اپنی محبت اور محبوب کو بھی محفوظ نہیں رہنے دیتے۔ یہی تلاش، یہی جستجو آگے چل کر منیر ؔ کے رویے کو وسعت اور بصارت عطا کرتی ہے:
یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں
صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے

غضب ہوا جو اندھیرے میں جل اٹھی بجلی
بدن کسی کا طلسمات کچھ دکھا بھی گیا
منیرؔ نیازی کی محبت میں’’ ایروز‘‘ کا عنصر کافی نمایاں دکھائی دیتا ہے لیکن ان جذبات کا بیان ان کے ہاں حد درجہ سلیقے اور ندرت سے سامنے آتا ہے۔عشقِ لاحاصل کہیں بھی ان کا مطمحِ نظر نہیں بن پاتا۔وہ زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کے بَر آنے پر لطف و مسرت کا اظہار لطیف پیرائے میں کرتے ہیں:
چاند پیڑوں سے پرے ہو، رک گئی ہوں بارشیں
کاش وہ لمحہ کبھی اُس بت کی صحبت میں کٹے

بیگانگی کا ابرِ گراں بار کھل گیا
شب میں نے اُس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیا

جگمگا اٹھا اندھیرے میں مری آہٹ سے وہ
یہ عجب اُس بت کا میری آنکھ پر جوہر کُھلا
ملائمت ہے اندھیرے میں اُس کی سانسوں سے
دمک رہی ہیں وہ آنکھیں ہرے نگیں کی طرح

حُسن کی دہشت عجب تھی وصل کی شب میں منیرؔ
ہاتھ جیسے انتہاے شوق سے شل ہو گیا

جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کے
ہیں چرچے ابھی تک اُسی بات کے

دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

کہہ گیا میں سامنے اُس کے جو دل کا مدعا
کچھ تو موسم بھی عجب تھا، کچھ مری ہمت بھی تھی
اردو شاعری کی روایت کے عین مطابق ایک محبت کا آغاز ، محبت سے بھرا پُرا ایک عہد اور اس کے بعد جدائی۔ وہی باتیں ہیں اور منیرؔ نیازی کی غزل میں اس وقت ہم جہاں کھڑے ہیں، بس یہ جدائی کا دور آغاز ہوا ہی چاہتا ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ اگر ولیؔ سے اب تک یہی کچھ ہو رہا ہے تو پھر منیرؔ کی غزل کیوں؟ کیا کوئی نئی بات ہے؟ کوئی نیا انداز ہے؟ جی!! یہی وہ حقائق ہیں جو ہمیں شاعری سے بیزار نہیں ہونے دیتے۔ منیرؔ نیازی کا اشیا کو دیکھنے کا اپنا ایک انداز ہے۔ اپنا نقطۂ نظر ہے۔منظر کو بیان کرنے کا اپنا ایک طریقہ ہے۔ بالکل نئے اور اپنے تلازمات ہیں:
کچھ دن کے بعد اُس سے جدا ہو گئے منیرؔ
اُس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

صبحِ سفر کی رات تھی، تارے تھے اور ہَوا
سایہ سا ایک دیر تلک بام پر رہا
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

ہے ایک طرفہ تماشا طبیعتِ عشاق
کبھی فراق میں باتیں کبھی وصال میں چپ

وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے
کون یاد آیا ہے، آنسو تھم چلے

رستے میں ایک بھولی ہوئی شکل دیکھ کر
آواز دی تو لب پہ کوئی نام بھی نہ تھا

کہنا تھا جس کو اُس سے کسی وقت میں مجھے
اُس بات کے کلام کی مہلت نہیں ملی

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا، میں نے تجھے کھویا نہیں

مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی

مرے پاس ایسا طلسم ہے، جو کئی زمانوں کا اسم ہے
اُسے جب بھی سوچا بلا لیا، اُسے جو بھی چاہا بنا دیا
لیکن ایک بات جو تھوڑی عجیب بھی محسوس ہوتی ہے اور نئی بھی کہ محبت منیرؔ نیازی کی زندگی کا مقصد نہیں۔یہ تو ان کی زندگی کی ایک ضرورت ہے۔اطمینان،توصیف اور خود اعتمادی کے حصول کے لیے،کیوں کہ یہ ایک طویل المیعاد معاملہ ہے اورمنیرؔ نیازی کو اور بھی بہت سے مسائل ہیں، بہت سی الجھنیں ہیںجو انھیں الجھاے رکھتی ہیں۔محبت ان کے لیے زندگی میں تحفۂ خداوندی سے زیادہ نہیں۔یہ تو ان کے سفر میں ایک پڑاؤ کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ ذرا دم لے کر، سستا کر اگلی منزل کے لیے چل نکلتے ہیں:
یہاں سے جا چکا ہے جو اُسے کم یاد کرنا ہے
کہ بے آباد گھر کو پھر مجھے آباد کرنا ہے

بارشوں میں اُس سے جا کے ملنے کی حسرت کہاں
کوکنے دو کوئلوں کو، اب مجھے فرصت کہاں

عشق کیا ہم نے کیا آوارگی کے عہد میں
اک جتن بے چینیوں سے دل کو بہلانے کا تھا
منیرؔ نیازی کی محبت پر بحث کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ منیرؔ نیازی کے ہاں محبت میں’’ وابستگی ‘‘کا عنصر غالب ہے۔اور بعض مقامات پر یہ وابستگی ’’ایروز‘‘ کا روپ دھار لیتی ہے۔اور منیرؔ نیازی کے ہاں محبت کے لافانی ہونے کا کوئی حوالہ برآمد نہیں ہوتا۔
منیرؔ نیازی کے ہاں ماضی کا حوالہ بار بار ملتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو وہی تقسیمِ ہند و پاک کے وقت کے فسادات ہیں جن کا آنکھوں دیکھا حال منیرؔ کی شاعری سے عیاں ہے۔ماضی کی یاد محض ایک یاد نہیں بلکہ ایک احتساب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔منیرؔ جگہ جگہ ماضی کے حوالے سے سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں۔تلمیحات کے استعمال سے عبرت دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی کے حوالے سے منیرؔ نیازی کا رویہ قطعاً قنوطی نہیں۔ وہ ’’ماضی‘‘ کا رونا نہیں روتے۔ بل کہ اس پر نکتہ چیں دکھائی دیتے ہیں۔کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟ اور نتیجتاً یہ تجزیہ ’’حال‘‘ میں مثبت پیش رفت کی بنیاد بنتا ہے۔ماضی کو سمجھنا اور یاد رکھنااس لیے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کی روشنی میں ’’حال‘‘ کو بہتر بنانا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔جو لوگ ماضی کو اپنی جان کا روگ بنا بیٹھتے ہیں ان کے لیے زندگی میں آگے بڑھنا، حال سے آنکھیں ملانا اور مستقبل کی منصوبہ بندی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے:
سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
اُن اُمتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں

کر یاد اُن دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں
گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں

صرصر کی زد میں آئے ہوئے بام و در کو دیکھ
کیسی ہوائیں کیسا نگر سرد کر گئیں

کیا باب تھے یہاں جو صدا سے نہیں کھلے
کیسی دعائیں تھیں جو یہاں بے اثر گئیں

ہوا جب چلی پھڑ پھڑا کر اُڑے
پرندے پرانے محلات کے

نواحِ قریہ ہے سنسان شامِ سرما میں
کسی قدیم زمانے کی سرزمیں کی طرح

میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

اُٹھتی ہوئی فصیلِ فغاں حدِ شہر پر
گلیوں کی چپ قدیم مکانوں کے ساتھ ساتھ

رہتے ہیں آج جس میں، جسے دیکھتے ہیں ہم
ممکن ہے یہ گذشتہ کا خواب و خیال ہو
منیرؔ نیازی کی غزل میں زندگی کے خوش کن پہلوؤں کی طرف رجحان بہت نمایاں ہے۔ وہ زندگی کی خوب صورتیوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔انسان کی زندگی غموں سے لبالب بھری ہوئی ہے۔ گوتم بدھ نے تو اسے سراسر غم قرار دیا ہے۔جو لوگ غم کو اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں وہ زندگی کے حقائق سے نظریں چرانے لگتے ہیں۔ کائنات ان کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔اردو شاعری میں اس کی مثال دیکھنی ہو تو فانیؔ بدایونی کا نام سرِفہرست ہے کہ جن کی زندگی کا واحد مقصد موت ٹھہری۔میرؔ نے اپنے غم کو اپنی طاقت بنا لیااور زندگی میں خوب صورتی کے متلاشی ہوئے۔کائنات خوبصورتی کا مرقع ہے لیکن یہ خوب صورتی صرف دیدۂ بینا پر وا ہوتی ہے۔مثبت سوچیں اور مثبت اعمال ہی انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کائنات اور زندگی کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہو سکے۔منیرؔ نیازی کی زندگی میں دلچسپی اور خوب سے خوب تر کی تلاش انھیں باسی نہیں ہونے دیتی۔ان کی نظر کائنات کے تاریک پہلوؤں کو نہیں دیکھتی:
گھپ اندھیرے میںچھپے سونے بنوں کی اور سے
گیت برکھا کے سنو، رنگوں میں ڈوبے مور سے

گلیوں میں شام ہوتے ہی نکلے حسین لوگ
ہر رہ گزر پہ طبلہَ عطار کھل گیا

رات فلک پر رنگ برنگی آگ کے گولے چھوٹے
پھر بارش وہ زور سے برسی مہک اُٹھے گل بوٹے

ابر ہو چھایا ہوا اور باغ ہو مہکا ہوا
گود میں گلفام ہو اور پاس مینا چاہیے

جا بجا میلے لگے ہیں لال ہونٹوں کے منیرؔ
تیرگی میں دیکھنے کو چشمِ بینا چاہیے

بادل، باغ، بہار، منیرؔ
دیواروں پر ہنستی آنکھیں
دیکھ منیرؔ بہار میں گلشن
رنگ سے اَٹتے جاتے ہیں

کلر بکس جیسے کھلا تھا منیرؔ
کچھ ایسے ہی منظر فضاؤں میں تھے

گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
چھتوں پر کِھلے پھول برسات کے

باغوں میں جا، اے خوش نوا، آئی بسنت کی ہَوا
زرد ہوا ہے بَن عجب، جادو چڑھا عجب اُسے

جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیرؔ
مڑ کے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھو

وہی نور کی بارشیں کاخ و کُو پر
وہی جھٹپٹے کا سماں میرے دل میں
منیرؔ کی شاعری کا سب سے نمایاں موضوع مابعدالطبیعیاتی سوالات اور اشارات ہیں۔ انسان روزِ اول سے ان سوالات کی کھوج میں لگا ہوا ہے۔ خدا کا وجود اور اس کے متعلقات کا علم، انسان اور خدا کا تعلق، سائنس اور مذہب کا آپسی تعلق،کائنات میں انسان کی حیثیت،مذہب اور اخلاقی اقدار،انسان کا وجود،اس کی حیثیت اور حقیقت،روح کی حقیقت، سائنس اور معجزات،موت کے بعد کے مراحل،کائنات کے ازلی اور دائمی ہونے کی حقیقت یا راز،کائنات کا متناہی یا لا متناہی ہونا،خود آگہی، یہ وہ سوالات ہیں جو روزِ اوّل سے انسان کے ساتھ ہیں۔ یہ ہماری زندگی کی وہ سچائیاں ہیں جن کے بارے میں تاحال انسان تشفی بخش جوابات تلاش نہیں کر پایا۔ مذاہب ہمیں ایک حد تک کچھ معلومات فراہم کرتےہیں لیکن’’متشابہات‘‘ کی حقیقت ایک راز ہے اور ہر عہد میں فلسفہ دان، مفکر اور حکما ان رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش میں رہے ہیں۔ گوتم بدھ اسی نوعیت کے سوالوں میں الجھ کر رہ گیا۔ اور جب اسے ان سوالات کے جوابات مل گئے تو اس نے ان حقیقتوں سے پردہ اٹھانے سے گریز برتاکہ اس کے اپنے تحفظات تھے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے ذہن میں یہ سوالات اٹھتے ہی کیوں ہیں۔گوتم کی بات ہی لے لیجیے۔ اس کے عہد میں سوفسطائیت کا دور دورہ تھا۔برہسپتیؔ خدا، جنت،ابدی زندگی،اخلاق،علماے مذہب۔۔۔ سب کا تمسخر اڑاتا تھا۔بعد ازاں فلسفہ مادیت کا بانی چارواکؔ بھی عجیب و غریب نظریات لے کر سامنے آیا۔ اُس کی تربیت بھی سوفسطائی حلقوں ہی میں ہوئی تھی۔چارواکؔ کے نزدیک کائنات کا وجود میں آنا ایک خودکار عمل کا مرہونِ منت تھا۔موت کے بعد زندگی کا کوئی جواز نہ تھا۔ تمام علوم کا سرچشمہ انسانی حواس تھے،نفسِ انسانی محض مادہ تھا،روح کے وجود کی کوئی حقیقت نہ تھی۔مذہب کا تمسخر اڑانا چارواکؔ کا بھی وتیرہ رہا۔اس کے نزدیک جذبات اور خواہشات پر قابو پانے کی نہ کوئی ضرورت تھی اور نہ اس کا کوئی حصول۔ اس کے مطابق زندگی کا واحد مقصد زندگی اور خوشی تھا۔یہ وہ فضا تھی جس میں سدھارتھ نے آنکھ کھولی اور زندگی اور اس سے متعلق حقیقتوں پرفکر مند ہوا۔گوتم نے اپنے وقت کے علما سے استفادہ کیالیکن زندگی کے بنیادی سوالات کا تشفی بخش جواب نہ پا سکا۔ریاضت اور تپسیا کا سہارا لیا لیکن یہاں بھی ناکامی اس کے رُوبہ رُو تھی۔تمام مادی اور حواسی ذرائع کے حصول سے مایوس ہو کر اس نے ایک درخت کے نیچے ڈیرا جما لیا اور مراقبے اور عبادت میں مشغول ہو گیا۔بعض روایات کے مطابق سات ہفتوں کے بعد اُسے روشنی دکھائی دی اور اس کے ذہن میں موجود کشمکش کلیتاً اختتام پذیر ہوئی۔اُسے اپنے تمام سوالات کے جوابات مل گئے۔اور وہ ’’بدھ‘‘ یعنی نور سے منور ہو گیا:
آخر میں ہر تلاش کے جو قصر بند ہے
مجھ کو اسی کے راز میں جانا پسند ہے

کوکتی تھی بنسری چاروں دشاؤں میں منیرؔ
پر نگر میں اس صدا کا رازداں کوئی نہ تھا

ہے مسکنِ خوباں کہ کوئی عالمِ ہُو ہے
موجود ہے کیا سایۂ دیوار سے آگے

جن کا جواب شاید منزل پہ بھی نہیں تھا
رستے میں اپنے دل میں ایسے سوال آئے

شہر، پربت، بحر و بر کو چھوڑتا جاتا ہوں مَیں
اک تماشا ہو رہا ہے، دیکھتا جاتا ہوں مَیں
شوق ہیں کچھ، جن کے پیچھے چل رہا ہوں مَیں منیرؔ
رنج ہیں کچھ دل میں میرے، کھینچتا جاتا ہوں مَیں

خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے، اے منیرؔ
میں کہاں تک سرحدوں کے قید خانوں میں رہوں
یاد بھی ہیں اے منیرؔ اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں، اک درخت اور تو خدا کے سامنے

ہے کہیں محصور شاید وہ حقیقت دہر کی
جس کا رستہ دیکھتے اتنا زمانہ ہو گیا

اور بھی قصے ہیں جو مَیں داستاں کرتا نہیں
اور بھی کچھ غم ہیں جن کو مَیں بیاں کرتا نہیں
راز ہیں جن کا امیں ہوں مَیں ہی بس اِس دہر میں
اس خبر کا مَیں کسی کو رازداں کرتا نہیں
ساری زمین، سارا جہاں راز ہی تو ہے
یہ بود و ہستِ کون و مکاں راز ہی تو ہے
آنا رُتوں کا جا کے کوئی راز ہے عجیب
نخلِ بہار و برگِ خزاں راز ہی تو ہے

یہ آنکھ کیوں ہے؟ یہ ہات کیا ہے؟
یہ دن ہے کیا چیز؟ رات کیا ہے؟
گماں ہے کیا اس صنم کدے پر؟
خیالِ مرگ و حیات کیا ہے؟
فغاں ہے کس کے لیے دلوں میں؟
خروشِ دریاے ذات کیا ہے؟
فلک ہے کیوں قیدِ مستقل میں؟
زمیں پہ حرفِ نجات کیا ہے؟
ہے لمس کیوں رایگاں ہمیشہ؟
فنا میں خوفِ ثبات کیا ہے؟
خدا کے وجود سے متعلق راز ہمیشہ سے انسانی ذہن کا مطمحِ نظر رہے ہیں۔انسان تجسس میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ ذات کہ تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے، اس کی وجودی حقیقتیں کیا ہیں؟ اس کی اساس کیا ہے؟خدا ایک مستقل حقیقت کے طور پر ایک ہے،اسے موت نہیں ہے۔اس لیے اس کا ہونا حواسِ ظاہری کی قلم رَو میں نہیں آ سکتا۔ منیرؔ نیازی کے ہاں اس اعلیٰ و برتر ذات کے متعلق سوالات اور اشارات پائے جاتے ہیں۔یہ سفر جو اس ذات کی اصل تک رسائی میں انسان کو درپیش ہے، آسان نہیں۔ انسان کو تنہا ہی یہ منزلیں اپنے وجدان کے سہارے طے کرنا پڑتی ہیں۔مادی اذہان ان تجلیات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔انسان کو قدم قدم پر اپنی منزل دکھائی دیتی ہے لیکن یہ ایک فریبِ ذات سے کم نہیں ہوتا۔ اور جب اس ذات کا عرفان ہو جاتا ہے تو انسان اپنے آپ کو بھی پہچان جاتا ہے لیکن ایک چپ جو کسی گہر ی حیرت کا سبب ہوتی ہے، اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ گوتم عہد تو کر کے اٹھتا ہے کہ وہ سچائی پا چکنے کے باعث اب اپنی قوم کو، اپنے لوگوں کو دکھ بھری زندگی سے نجات دلائے گا لیکن اس ذات کی سچائی دوسروں پر منکشف نہیں کر سکتا۔خدا کی ذات کے عرفان کے بعد جو سوال ایک حکیم کے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ خالق اور مخلوق کےباہمی تعلق کا ہے۔خدا وجود سے پاک ایک حقیقت کا نام ہے اور انسان محض مادہ۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلق کو مادیت کے پرچارک نہیں پا سکتے۔اس تعلق کی نوعیت صرف اور صرف روحانی قوتوں کے ذریعے جانی جا سکتی ہے۔
مشہورِ فلاسفر اور نفسیات دان ایرک فرام( Erich Fromm) کہتے ہیں:
“Let your mind start a journey thru a strange new world. Leave all thoughts of the world you knew before. Let your soul take you where you long to be…Close your eyes let your spirit start to soar, and you’ll live as you’ve never lived before.”
اُفق کو اُفق سے ملا دینے والے
یہ رستے ہیں کتنے تھکا دینے والے

ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں
رستہ ہے اس طرح کا جو دیکھا نہیں ہوا

دوری میں کیا بھید چھپا ہے؟
اس کا کھوج لگا کر دیکھو

تم جس کو ڈھونڈتے ہو، وہ ملتا بھی ہے کہیں
ہے بھی کسی مقام پہ، رہتا بھی ہے کہیں

مکان، زر، لبِ گویا، حدِ سپہر و زمیں
دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رایگاں تو ہے

نکلا جو چاند، آئی مہک تیز سی منیرؔ
میرے سوا بھی باغ میں کوئی ضرور تھا

اس کے ہونے سے یہ سفر بھی ہے
سارے رستے ہیں یار کے رستے

مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ
پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے
پردے میں رنگ و بو کے سفر در سفر منیرؔ
ان منزلوں سے کیسے گزر جائے آدمی

تری تلاش میں یوں تو کہاں کہاں نہ گئے
جہاں پہ جانا تھا ہم کو مگر وہاں نہ گئے

ہے منیرؔ حیرتِ مستقل
میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر

نہالِ سبز رنگ میں جمال جس کا ہے منیرؔ
کسی قدیم خواب کے محال میں ملا مجھے

نہ تو ہے کہیں اور نہ میں ہوں کہیں
یہ سب سلسلے ہیں خیالات کے

ہے کون کس کے لیے پریشاں
پتہ تو دے اصل بات کیا ہے
ہے کون دونوں میں ظاہر، ہے کون پردے میں
چھپا ہوا ہے جو نظروں سے دام، تو ہے کہ میں

یقین کس لیے اس پر سے اٹھ گیا ہے منیرؔ
تمھارے سر پہ یہ شک کا عذاب کیوں آیا

اک اور سَمت بھی ہے اس سے جا کے ملنے کی
نشان اور بھی ہے اک نشانِ پا کے سوا

قدیم قریوں میں موجود تو خدائے قدیم!
جدید شہروں میں بھی تجھ کو رونما دیکھا

پردہ اٹھا تو جیسے یقیں بھی اٹھا منیرؔ
گھبرا اٹھا ہوں سامنے ثانی کو دیکھ کر
موت کے بعد حیات کے بارے میں تمام مذاہب کے اپنے اپنے تصورات ہیں۔ حکما نے اس سلسلے میں اپنی ریاضتوں کا خلاصہ پیش کر رکھا ہے۔جنم بعد از جنم کی روایتیں اپنی جگہ اور موت کے بعد موت کی داستانیں اپنی جگہ۔ اسلام میں موت کے بعد حیات بہ یک وقت ایک پرکشش اور خوف ناک حقیقت کا نام ہے۔ وہ لوگ جو نیک اعمال کے حامل ہوتے ہیں، موت کے بعد حیات ان کے لیے ایک انعام سے کم نہیں۔ اور وہ جنھوں نے اپنی زندگیاں گناہ میں بسر کر دیں ان کے لیے موت کے بعد کی حیات ایک مستقل عذاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک شاعر کے دل میں ان تمام موضوعات پر کیا کیا سوالات اُبھرتے ہیں:
سِحر ہے موت میں منیرؔ جیسے ہے سحرِ آئنہ
ساری کشش ہے چیز میں اپنی نظیر کے سبب

ابھی مجھے اک دشتِ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
ایک مسافت ختم ہوئی ہے، ایک سفر ابھی کرنا ہے
وہ جو اس جہاں سے گزر گئے کسی اور شہر میں زندہ ہیں
کوئی ایسا شہر ضرور ہے انھی دوستوں سے بھرا ہوا

کیا وہاں ہے بھی کوئی
اے رہِ ملکِ عدم!
ہم جو دیکھ رہے ہیں، جو محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت کا نام ہے۔ یا فریبِ محض؟ یہ سوال ایک سوچنے والے کا مقدر ہی ہو سکتے ہیں۔جو ہے، اس کے پیچھے کیا ہے، اس کی اساس کیا ہے؟ اب سے پہلے یہاں کیا تھا؟ آنے والے کل میں یہاں کیا ہو گا؟ غرض وہ تمام سوالات جو طبیعیات کے حیطۂ عمل سے آگے کے ہوتے ہیں، ایک مابعدالطبیعیاتی ذہن کے لیے ایک مستقل عمل ٹھہرتے ہیں۔ اور جو ں جوں یہ راز انسان پر کھلتے چلے جاتے ہیں، انسان کے لیے اُس سے آگے کے سوالات بیدار ہوتے جاتے ہیں۔مظاہرِ فطرت اس کی جستجو اور کھوج کے لیے مہمیز کا کام دیتے ہیں۔کہیں خوف، کہیں پریشانی، کہیں حیرانی ۔انھی مختلف مراحل سے گزرتا ہوا ایک حکیم اپنی منزل پا جاتا ہے۔اہلِ ظاہر کہ ان اشیا کی طرف ان کا مطلق دھیان نہیں ہوتا، اسے کارِ بے کاراں جانتے ہیں۔ انسان اپنے آپ سے، اپنے معاشرے سے عارضی لمحات کے لیے ہی سہی، بالکل کٹ جاتا ہے۔’’اُدھر نہ جاؤ کہ وہ راستا اکیلا ہے ‘‘کے مصداق انسان کے دنیوی فرائض، اور تعلقات اسے ان راستوں پر چلنے سے باز رکھنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں، لیکن ایک مفکر اپنے سوالوں کا جواب لیے بغیر نہیں ٹلتا:
آتا ہی نہیں یاد جو ہے یاد سے پیچھے
کچھ وہم سے ہیں ثابت و سیار سے آگے

شہرِ نامعلوم کی جادوگری کچھ کم ہوئی
اس سفر میں شوق کی دیوانگی کچھ کم ہوئی

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
یہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھا
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

رات کے سنسان گنبد میں رچی ہے راس سی
پہرے داروں کی صداؤں کے طلسمی شور سے

مجھے درد دل کا وہاں لے گیا
جہاں در کھلے تھے طلسمات کے

دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
یاد پیچھے کھینچتی ہے، آس آگے کی طرف

جو ہوا پر گھر بنائے کاش کوئی دیکھتا
دشت میں رہتے تھے پر تعمیر کی عادت بھی تھی

’’اپنے گھر کو واپس جاؤ‘‘ رو رو کر سمجھاتا ہے
جہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہے

ایسا سفر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں
ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

چار چپ چیزیں ہیں: بحر و بر ، فلک اور کوہسار
دل دہل جاتا ہے ان خالی جگہوں کے سامنے

زمیں کے گرد بھی پانی، زمیں کی تہ میں بھی
یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

تنگ کرتی ہے مکاں میں خواہشِ سیرِ بسیط
ہے اثر دائم فلک کا صحن کی محراب میں

رات دن کے آنے جانے میں یہ سونا جاگنا
فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت

مری ہی خواہشیں باعث ہیں میرے غم کی منیرؔ
عذاب مجھ پہ نہیں حرفِ مدعا کے سوا

مہیب بَن تھا چہار جانب
کٹا تھا سارا سفر اکیلے

بس ایک ہُو کا تماشا تمام سَمتوں میں
مری صدا کے سفر میں سراب کیوں آیا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
کوئی باشعور انسان اپنے مسائل سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔وہ اپنے گرد و پیش پر مفکرانہ نگاہ ڈالتا ہے۔ حالات کی بحرانی کیفیت پر اس کا جی جلتا ہے۔ وہ ماضی کو حال کے آئینے میں دیکھتا ہے اور ماضی و حال سے فردا کی عکس بندی کی کوشش کرتا ہے۔اربابِ اختیار کی توجہ عوام کے معاملات اور مسائل کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتا ہے۔عام انسان کے مادی اور روحانی مسائل کا تجزیہ کرتا ہے۔ان کے غم اور خوشی پر نگاہ ڈالتا ہے۔حالات کا دھارا اُسے کبھی مایوسی کے اندھے غار میں پھینک دیتا ہے اور کبھی وہ نئے حوصلے اور نئے عزم کے ساتھ لوگوں کو جگانے کا کام سرانجام دیتا ہے۔امید کی کرنیں اسے تسلی بخشتی ہیں۔ منیرؔ نیازی اپنی غزل میں اپنے عصر کی صورتِ حال کی تصویر کشی کچھ اس انداز سے کرتے ہیںکہ ان کا کہا، ان کا لکھا قاری اور سامع کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوتا ہے۔وہ بھرے پُرے شہروں میں انسان کی تنہائی پر نوحہ خواں ہیں۔جبر و اختیار کے معاملات انھیں عام انسان کی ترجمانی پر اُکساتے ہیں۔زندگی جیسی عظیم نعمت کی ناقدری کا رونا روتے ہیں۔اقدار کی پامالی انھیں رنجور کر دیتی ہے۔کائنات اشرف المخلوقات’’انسان‘‘ کے لیے ایک ایسی جگہ بنتی جا رہی ہے جہاں اس کے بنیادی حقوق کی پامالی عام ہے:
اس دیارِ چشم و لب میں دل کی یہ تنہائیاں
ان بھرے شہروں میں بھی شامِ غریباں دیکھیے

تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

بہت خاک اُڑنے لگی ہر طرف
کہ جیسے سفر میں ہوں لشکر کئی

نشاں اک پرانا کنارے پہ تھا
اسے موجِ دریا بہا لے گئی

وہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہوا
جو کام بھی ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا

یہ بھی کیسی زندگی ہے اپنے لوگوں میں منیرؔ
باہمی شفقت سے خالی، ایک گھر میں زندگی

رشتہ روایتوں سے بھی باقی نہیں رہا
آئندہ کے سفر کے افق پر بھی کچھ نہیں

اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے

ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
تخت خالی رہا نہیں کرتا
کہیں کہیں تو شاعر کو سب کچھ بے معنی لگنے لگتا ہے۔جیسا وہ اس جہاں کو دیکھنا چاہتا ہے وہ تو ممکن نظر نہیں آتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ جو اچھائیاں پہلے سے معاشرے میں موجود تھیں وہ بھی مفقود ہوتی جا رہی ہیں۔سکوت خوف کا عالم پیدا کرتا ہے۔شاعر کے اندر اپنے اندروں کی طرف ہجرت کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔بے جہت معاشرہ اور ریاستی جبر کی پیدا کردہ سیاسی اورمعاشی اکھاڑ پچھاڑ شاعر کو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں کھینچے لیے جاتی ہے۔وطن، جو شاعر کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے، نا اہل اور بے بصیرت لوگوں کے کارن اپنا مفہوم کھونے لگتا ہے:
واپس نہ جا وہاں کہ ترے شہر میں منیرؔ
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا

گلشن کی خموشی تو اب جی کو ڈراتی ہے
کوئی بھی ہَوا جس سے پتہ ہی کھڑک جائے

مے پئیں، لوگوں میں جائیں، بے مزہ باتیں کریں
اور اس ماحول میں اس کے علاوہ کیا کریں

تم بھی منیرؔ اب ان گلیوں سے اپنے آپ کو دُور ہی رکھنا
اچھا ہے جھوٹے لوگوں سے اپنا آپ بچاتے رہنا

تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رایگانی سے ہوا

کس محبت سے ہوا تعمیر مدت میں منیرؔ
چند لمحے جس نگر کی خاک اُڑانے میں لگے
اس صدا کی جہت نہیں کوئی
شورشِ دہر ہے نظام طلب

لا حاصلی ہی شہر کی تقدیر ہے منیرؔ
باہر بھی گھر سے کچھ نہیں، اندر بھی کچھ نہیں

حد سے گزر گئی ہے یہاں رسمِ قاہری
اس دہر کو اب اس کی سزا دینا چاہیے

ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں

مکاں بنا نہ یہاں اس دیارِ شر میں منیرؔ
یہ قصرِ شوق نگر کے عذاب میں نہ ملا
لیکن یہ ماحول، یہ تاریکی زیادہ دن قائم رہنے کی نہیں۔شاعر کو پوری امید ہے کہ نظام کائنات تبدیل ہو گا۔نئے نغمے فضاؤں میں گونجیں گے۔انسان بیدار ہو گا۔اپنی تقدیر کا خود مالک ہو گا۔ شاعر کو اپنی دعائیں رنگ لاتی نظر آتی ہیں۔وہ نہ صرف خود اپنے اور اپنے لوگوں کے مسائل کا ادراک کرتا ہے بلکہ دوسروں تک اپنی آواز بھی پہنچاتا ہے۔اس کواپنے تمام روحانی اور مادی مسائل کا واحد حل اللہ رب العزت کے حضور گڑگڑانے اورحضرت محمد ﷺ کے احکام پر عمل پیرا ہونے میں سوجھتا ہے۔ یوں بھی قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمھاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔‘‘
کھڑا ہوں زیرِ فلک گنبدِ صدا میں منیرؔ
کہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے
بیٹھ جائیں سایہ دامانِ احمدؐ میں منیرؔ
اور پھر سوچیں وہ باتیں جن کو ہونا ہے ابھی

فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستیوں میں منیرؔ
قدیم یاد، نئے مسکنوں سے پیدا ہو

منیرؔ شہرِ محمدؐ میں جا کے دیکھیں ذرا
بلادِ کفر میں خود کو بہت گنوا دیکھا
آئے گی پھر بہار اسی شہر میں منیرؔ
تقدیر اس نگر کی فقط خار و خس نہیں

عہدِ انصاف آ رہا ہے منیرؔ
ظلم دائم ہوا نہیں کرتا

رات اتنی جا چکی ہے اور سونا ہے ابھی
اس نگر میں اک خوشی کا خواب بونا ہے ابھی
ہم نے کھلتے دیکھنا ہے پھر خیابانِ بہار
شہر کے اطراف کی مٹی میں سونا ہے ابھی
منیرنیازی کی غزل رنگا رنگ خیالات اور انوکھے امیجز سے عبارت ہے۔ وہ موضوعات جو ایک عام شاعر کے قلم کے بس کے نہیں ہوتے، منیر ؔنیای کے ہاں گہرے مشاہدے، شب و روز کے تفکر، عمیق تجربے اور زبان و بیان کی جملہ خوبیوں کے ساتھ موجود ہیں اورقاری کو ایک سِحر انگیز تاثر سے مسحور رکھتے ہیں۔ مَیں نے منیرؔ نیازی کی غزل کے نمایاں فکری پہلوؤں کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ ان کی غزل کی رنگوں بھری کائنات ایک مکمل کتاب کی متقاضی ہے۔یوںمیرے خیال میں منیرؔ کی نظم کے ساتھ ساتھ ان کی غزل کا بھرپور جائزہ بھی کسی سنجیدہ نظر نقاد کا منتظر ہے۔بقول منیر نیازی:
نسل در نسل کے افکارِ غزل سے نکلا
اتنی دیواروں سے میں اپنے عمل سے نکلا

اِک اِک ورق ہے بابِ زر تیری غزل کا اے منیرؔ
جب یہ کتاب ہو چکے، جا کے دکھانا تب اُسے

منیرؔ تری غزل عجب ہے
کسی سفر کی کتاب جیسی

منیرؔ افکار تیرے جو یہاں برباد پھرتے ہیں
کسی آتے سمے کے شہر کی بنیاد بھی ہوںگے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post