شعریات اورتھیوری:ڈاکٹرناصرعباس نیر


یک جہاں معنی تنو مند است از پہلوے من (شعریات اور تھیوری )
          لکھنا ،اس دنیا میں شرکت کرنا ہے جو معنی کی دنیا ہے اور جسے ہم اپنی حقیقی دنیا کے ضمن میں، اور اس کے متوازی خلق کرتے ہیں۔کارل پاپر نے اپنی آپ بیتی میں تین دنیائوں کا ذکر کیا ہے:حقیقی دنیا، ذہنی دنیا اور کتابوں کی دنیا[۱]۔اس اعتبار سے لکھنا، تیسری دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔یہ’ تیسری دنیا ‘ مسلسل اتھل پتھل ہوتی رہتی ہے؛کنکروں،پتھروں،طوفانوں ،گردابوں کی زد پر رہتی ہے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم زندگی میں محض ایک آدھ تحریر لکھتے ،اس میں ایک حتمی معنی کے انتہائی پرسکون جزیرے تک رسائی کا تجربہ، دعویٰ ،تصور یا کم از کم سعی کرتے اور باقی عمر اس جزیرے پر ،کسی نئے زمین آسمان کی جستجو سے بے نیاز ہوکر بسر کردیتے۔ہمارا سینہ اس ایک معنی کے نور سے سداروشن رہتا۔تب ہمارے لیے دنیا واقعی سہل ہوتی ،مگربالکل ایسے ہی جیسے ایلوویرا کے پودے یا کسی ویران شاخ پر آنکھیں موندے الّو کے لیے۔ حیرت و ابداع کی آرزو ہمیں کہاں کہاں نہیں لیے پھرتی اور کون سا جوکھم ہے جو ہمیں اپنے اندر کی ناقابل فہم بے قراری کے ہاتھوں اٹھا نا نہیں پڑتا۔لکھنا،دکھ اٹھانا ہے اور اگر کوئی بات اس دکھ کو بھوگنے کے قابل بناتی اور کچھ دیر کے لیے نشاط انگیز بناتی ہے تو وہ بھی یہی لکھنا ہے۔ایک معنی، پھر نئے معنی ،پھر ایک اور معنی کی تلاش دکھ اٹھانے، اوراک نشاط کے ساتھ دکھ بھوگنے کا لامتناہی عمل ہے ۔یہ ایک قولِ محال ہے،جس کی دہشت ناک موجودگی کوہم لکھنے کے دوران میں اکثر محسوس کرتے ہیں۔لکھت،ہمیں اوّلین لمحے ہی میں مجبور کرتی ہے کہ ہم پہلی دنیا کی تجربی حقیقت سے فاصلہ قائم کریں اور نشانات،علامتوں،روایات کی اس دنیا میں قدم رکھیں جس میں بہت بھیڑ بھاڑ ہے اور ہمیں اس میں ایک راستہ بنانا ہے،ایک ایسا راستہ جو ہمارے ہی قدموں سے نکلتا ہو۔جسے میں نے بھیڑ بھاڑ کہا ہے ،وہ طرح طرح کے متن،قسم قسم کے متن سازی کے اصول،رنگ رنگ کی علامتیں،تاریخی روایتیں،ہیئتیں،اسالیب ہیں اور ان میں راستہ بنانے کا مطلب آزادی کا حصول ہے۔لکھت کی تیسری دنیا میں داخلہ ،تسلیم و رضا کی خو کے بعد ممکن مگر اس میں قیام کو ’معنی خیز‘ بنانے کے لیے ایک ایسا باغیانہ رویہ درکار ہے ،جس کی ضرورت اور معنویت کواسی تیسری دنیا میں طے کیا جاسکے ۔(یہ سار اعمل الم انگیز نشاط یا نشاط انگیز الم سے عبارت ہے)۔گویالکھت کی دنیا میں آزادی اور بغاوت ہم معنی ہیں۔مگر سوچنے والی بات ہے کہ آزادی کس سے اور بغاوت کس کے خلاف؟اس سوال کا جواب ہم پہلی اور تیسری دنیا کے تعلق کی نوعیت میں تلاش کر سکتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ لکھنے کا آغاز کرتے ہی ہم حقیقی دنیاکی تجربی حقیقت سے فاصلہ اختیار کرلیتے ہیں،مگر علیٰحدگی نہیں۔جب ہم لکھ رہے ہوتے ہیں تو پہلی دنیا ،ہماری ذہنی دنیا کا حصہ بن چکی ہوتی ہے۔وہ ہمارے اندر ایک ذہنی تصور کے طور پر موجود ہوتی ہے؛اپنے ٹھوس وجود کے طور پر نہیں۔اگر ہماری ذہنی دنیا میںفقط پہلی دنیا ،ذہنی تصور کے طور پر ہی سہی ،موجود ہوتی تو ہم اس سے فاصلے پر نہ ہوتے ؛اس کے تجربی وجود کو ذہنی وجود کے طور پر محسوس کر رہے ہوتے ۔ماننا پڑے گا کہ اکثر ایسا ہی سمجھا جاتا ہے جو ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔مشکل یہ ہے کہ ہماری ذہنی یا دوسری دنیا میں ایسے نشانات ، علامتیں ،روایتیں ،اعتقادات،اساطیر،کہانیاں ،نظریے وغیرہ ہوتے ہیں جو پہلی دنیا کی تفہیم و تعبیرکرتے ؛اس کی ایک خاص صورت ہمارے ذہن میں مرتب کرتے ہیں،مگراسی سے دنیا کی تجربی حقیقت اور ذ ہنی حقیقت میں فاصلہ بھی پیدا ہوتا ہے اور یہ فاصلہ لکھت میں آکر مزید بڑھ جاتا ہے۔لکھت ایک قسم کی اپنی دنیا پیدا کر لیتی ہے ۔میں یہ سطریں لکھتے ہوئے ،ٹھیک ٹھیک تصور کرنے سے قاصر ہوں کہ میں جو لفظ لکھ رہاہوں ان کا میرے کمرے میں موجود اشیا اور دوسرے کمرے میں موجود افراد ِ خانہ یا باہر گلی میں گزرتے لوگوں سے کیا رشتہ ہے؟یہ لفظ ،جو قسم قسم کے ہیں؛نشان، علامتیں، اصطلاحیں،اور ان کے باہمی روابط ہی میری ذہنی دنیا کے باشندے ہیں اور میرے لیے اسی طرح حقیقی ہیں جس طرح یہ کی بورڈ اور اس پر حرکت کرتی انگلیاں۔لہٰذا لکھت کی تیسری دنیا، پہلی دنیاکی طرح ’حقیقی‘ ہے،اس کے مثل نہیں۔پہلی دنیا میں انتشار ہے ،دوسری دنیا میں بھی کوئی مثالی تنظیم نہیں،مگر تیسری دنیا صرف تنظیم ہی میں وجود رکھتی ہے۔ لکھناایک منظم عمل ہے ،یہاں تک کہ شعور کی رو میں اور سرئیلی اسلوب میں لکھی گئی تحریروں میں بھی ایک مختلف قسم کی تنظیم یا تنظیم کی تلاش مضمر ہوتی ہے اور اس کی قرأت میں تنظیم ہی کی تلاش کی جاتی ہے۔غور کریں تو لکھت کی تنظیم ہی ،پہلی دنیا کے خلاف بغاوت اور اس کے انتشار سے آزادی ہے ،مگر یہ بغاوت کی پہلی سطح ہے اور دیگر کئی بغاوتوں کی تمہید ہے۔یہ اتفاق نہیں کہ دنیا میں صرف وہی بغاوتیں پہلی دنیا پر لرزہ طاری کرتی ہیں جو تحریر میں ظاہر ہوتی ہیں۔ہم میں سے اکثر عام زندگی میں بیہودہ ،فحش اورملحدانہ باتیں کہتے ہیں،مگر یہی باتیں جب تحریر کی رسمیات میں آتی ہیں تو ایک آگ سی لگا جاتی ہیں۔عام نجی،غیر رسمی گفتگوئوں میں برداشت کی مثالی استعداد ،رسمی اورتحریری متون میں یک سر غائب ہوجاتی ہے۔کیوں؟ ہر چند اس کی ایک وجہ محدود پبلک لائف اور وسیع اجتماعی زندگی کی وہ خلیج ہے ،جس میں سماج کی فوق انا؍ضمیر حرکت میں نہیں آپاتا،تاہم بڑی وجہ تیسری دنیا ؍تحریرکے مزاج کی بغاوت پسندی ہے۔آزادہ روی ،تحریر کی شعریات میں اسی طرح سمائی ہے جس طرح برف میں پانی یا پانی میں بہنے کی صفت اور ٹھیرائو کے خلاف میلان ۔
تحریر کی آزادہ روی اور ادبی متن میں معنی کی کثرت میں گہرا رشتہ ہے ۔اس ضمن میں غالب کا ایک شعر دیکھیے:
یک جہاں معنی تنو مند است از پہلوے من
چوں قلم ہر چند در ظاہرنزار افتادہ ام
میں اگرچہ قلم کی طرح نحیف و نزار ہوں ،مگر اس نزار وجودسے ایک جہانِ معنی پیدا ہے۔پہلی غور طلب بات یہ کہ غالب نے خود کو قلم سے تشبیہ دی ہے۔وجہ شبہ دونوں کا نحیف ونزار ہونا ہے۔دوسری غورطلب بات تنومند جہانِ معنی کا نحیف وجود و قلم سے تقابل ہے۔یہ شعراصلاً تعلّی کا نہیں،جہان ِمعنی کی تخلیق کے اسرار کا ہے۔ غالب اس اسرار کی گرہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک نحیف قلم سے ایک ایسا جہانِ معنی کیوں کر وجود میں آتا ہے جس میں تنوع اورکثرت ہے کہ کسی جہان کا کثرت کے بغیر وجود نہیں؟ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اسی تقابل ؍جدلیات میں موجود ہے جسے غالب نے اس شعر میں روا رکھا ہے۔نزار قلم نما وجود اور جہانِ معنی کی جدلیات۔شعر میں اس امر کا اثبات تو کیا گیا ہے کہ معنی ،قلم یا قلم نما نزار وجود سے پیدا ہورہا ہے ،مگراس امر کے سلسلے میں خاموشی روا رکھی گئی ہے کہ معانی کی کثرت کیوں کر ممکن ہوتی ہے۔معنی اس وقت تک واحد ہے ،حتمی ہے اور مطلق ہے جب تک وہ قلم یا قلم نما نزار وجود سے وابستہ ہے ۔قلم اور صاحب ِ قلم ،پہلی دنیا سے متعلق ہیں۔لہٰذا ادبی متن کا معنی تب تک مستحکم اور وحدانی ہے جب تک یہ اعتقاد پختہ ہے کہ اس کا سرچشمہ پہلی دنیا ہے ۔ ادبی متن جب پہلی دنیا میں پہنچتا ہے ، اور اسے پہلی دنیا ہی کی ایک تجربی حقیقت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے تو اس پر واحد معنی مسلط کرنے کا شدید دبائو ہوتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کتاب کی پہلی دنیا میں پذیرائی اچھا خاصا ایک سیاسی معاملہ ہوتی ہے ۔پہلی دنیا اور اس کی نمائندہ مطلق العنان حکومتیں ،ادب کے سلسلے میں عجب تضادات رکھتی ہیں ۔انھیں بہ قول کرسٹو فر رولسن اور راجیشور مٹاپلی ’’ ادب کی ضرورت بھی ہوتی ہے تا کہ اس نظام ِ اعتقادات کو مستحکم کیا جائے جس پر ان حکومتوں کی بنیاد ہوتی ہے ،دوسری طرف وہ تخلیقی ادب کے سلسلے میں سخت تشکیک کا شکار ہوتی ہیں ،اس لیے کہ تخلیقی ادب کے پیچھے آزادنہ غورو فکر کی روح موجود ہوتی ہے‘‘[۲] ۔جب ادب کو مصنف بہ طور پہلی دنیا کی تجربی حقیقت کی پیداوار سمجھا جاتا ہے تو اس پر لازماً واحد معنی کے حامل سمجھے جانے کا دبائو ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ارسطو کا دماغ نہیں چاہیے کہ پہلی دنیا ،واحد معنی کا اجارہ کیوں چاہتی ہے ؟پہلی دنیا (یہاں مراد مقتدر طبقے)شدید قسم کی نرگسیت کا شکار ہوتی ہے ۔وہ ہر متن میں خود کو مشاہدہ کرنے کے مرض میں مبتلا ہوتی ہے ۔اس کا معنی کا تصور اس کے مطلق العنان نظام کی طرح ،وحدت پسند ہوتا ہے ۔وہ تمثیل پسند کرتی ،استعارے و علامت سے نفور ہوتی ہے ۔تاہم فقط حکومتوں کو ملامت کرنا کافی نہیں۔ہماری دنیا میںکئی سماجی اور غیر ریاستی ادارے بھی اپنااپنا نظام اعتقاد نافذ و مسلط کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔یہ سب ادب کو واحد معنی کا طوق پہنانے کے لیے ،اس کے واحد ،تجربی سرچشمے (جس کا وہ اپنا ایک تصور رکھتے ہیں)کو سب سے بڑی دلیل بناتے ہیں ۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔پہلی دنیا کے نمائندوں کے نزدیک معنی کی وحدت صرف ایک سیاسی یا فلسفیانہ مسئلہ ہی نہیں،ایک گہرا الہٰیاتی مسئلہ بھی ہے۔الہٰیات کائنات کی جس علت ِغائی میں یقین رکھتی ہے،اسے معنی کا واحد اور مطلق سرچشمہ خیال کرتی ہے۔ایک علت،ایک معنی۔دل چسپ بات یہ ہے کہ کثرتِ معنی کے سلسلے میں الہٰیات اورمطلق العنان حکومتوں کے خدشات یکساں ہیں۔دونوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ ایک شعبے کی کثرت پسندی دوسرے شعبوں میں بھی آزادہ روی کو تحریک دے سکتی ہے۔ادب میں معنی کی کثرت ،مذہبی متن کی کثیر تعبیروں اور سیاسی عتقادات پر ایک سے زائد زاویوں سے سوال اٹھانے کا رویہ پیدا کر سکتی ہے۔یہاں غیر ضروری طور پر الہٰیات اور مطلق العنانیت میں کسی گٹھ جوڑ پر زور دینے کی ضرورت نہیں(اگرچہ تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں)،صرف اس نکتے پرزور دینامقصو د ہے کہ واحد معنی پر اصرار بغاوت و آزادہ روی کے اس خدشے کے پیشِ نظر ہوتا ہے جو ادب کی گھٹی میں شامل ہے۔ ادب کی پہچان ہی آزادانہ غورفکر،مطلقات سے بغاوت ہے۔ جسے معنی کی کثرت کہا گیا ہے ،وہ آزادنہ غوروفکر ہے؛معلوم کو الٹ پلٹ کر دیکھنے اورنئی ،حیرت خیزباتوں کی دریافت ہے ؛ممنوعہ کھونٹ کی طرف جانے ،انکشاف کی اذیت سہنے اور انوکھے تجربات کے کبھی شیریں،کبھی تلخ،کبھی ترش،کبھی نمکین ذائقے چکھنے کا نام ہے ۔تیسری دنیا؍ادب؍تحریر اگر مطلق العناں رویوں کے آگے جھک کر واحد معنی کے استحکام میں ان رویوں کا ہاتھ بٹاتے تو آج دنیافکر و نظر کے مناقشوں سے تو خالی ایک’ پر امن دنیا‘ ہوتی،مگر یہ انسانی دنیا نہ ہوتی،۱۹۸۴ یا Brave New World ہوتی[۳]۔
اسی بات کی مزید تفہیم کے لیے ،ایک بار پھر غالب کے شعر کی طرف رجوع کیجیے ۔ یہ شعر واحد معنی کا سرچشمہ تو قلم یا قلم نما نزار وجود کو قرار دیتا ہے ،مگر معنی کے جہان یا معنی کی کثرت کا منبع اس جدلیات میں دیکھتا ہے ،جو اپنی اصل میں لسانی اور تحریر کی صفت ہے۔ اس بات کو ہم دریدا کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اپنی کتاب ’’لکھت اور افتراق‘‘[۴] میں لکھتے ہیں شاعری ادب کی حقیقی زبان ہے جو آزادانہ تقریر تک رسائی رکھتی ہے۔نیز تحریر ہی شاعری کی قوت رکھتی ہے ،وہ قوت جو تقریر کو بہ طور نشان غفلت کی نیند سے جگا سکتی ہے۔دریدا تحریر پر تقریر کی اوّلیت کے قائل ہیں۔فی الوقت اس مسئلے سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔مذکورہ اقتباس میں وہ شاعری کو ایک ایسی قوت کہتے ہیںجو نشان کو غفلت کی نیند سے جگا تی ہے۔نشان کا خوابِ غفلت کیا ہے؟نشان ،دال اور مدلول سے عبارت ہے۔دال ،پہلی دنیا کی تجربی حقیقت کی طرح ہے، اس لیے مستحکم ہے،واحد ہے ۔مدلول دوسری دنیا سے تعلق رکھتا ہے،یعنی ہماری ذہنی دنیا کا ایک تصور ہے، اس لیے غیر مستحکم اور تغیر پذیر ہے۔نشان جب تک خود کو دال کے طور پر پیش کرتا ہے،اس کا ذہنی ،تغیر پذیر حصہ اوجھل رہتا ہے۔ اس کا اپنے وجود کے نصف حصے پر انحصا ر کرنااور باقی حصے سے بے اعتنائی برتنا ہی اس کا خوابِ غفلت ہے۔پہلی دنیا ،نشان کو خوابِ غفلت میں مبتلا رکھنے کی سعی کرتی ہے تا کہ وہ اپنے نظامِ اعتقاد کو اس کے ذریعے مستحکم کر سکے۔جب کہ شاعری ،نشان کے دوسرے ،ذہنی حصے یعنی مدلول کی تغیر پذیر صفت کو جگاتی ہے۔شاعری ،تیسری دنیا ہے،لکھت ہے اور پہلی دنیا کے خلاف بغاوت ہے۔غالب طنزاًقلم اور قلم نما نزاروجودکو پہلی دنیا کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں جو واحد معنی کا اجارہ چاہتا ہے ،مگر شاعری اپنی جدلیاتی قوت سے ،پہلی دنیا کے مقابل ایک نئی دنیا تعمیر کرتی ہے ۔تنو مند جہان ِ معنی جب ،نحیف قلم کے مقابل خود کو پیش کرتا ہے تو دونوں کا تعلق خود بخود ایک رمزیہ طنز کا حامل ہوجاتا ہے؛دونوں کی جدلیات اور تضاد سامنے آتا ہے۔رمزیہ طنز ،یہ ہے کہ دیکھیے ایک نحیف قلم یا نحیف قلم نما وجود سے جہان ِ معنی خلق ہورہا ہے ۔غالب پوری جرأت سے باورکرارہے ہیں کہ معنی اپنے سرچشمے سے سوا،بڑھ کر اور مختلف و متنوع ہے۔ معنی اپنے سرچشمے سے اگر منقطع نہیں ہوا تو بھی،اپنی افزائش کے سلسلے میں اس سے آزاد ضرور ہوا ہے۔یہ آزادی غالب کی جدلیاتی،تناقضات کی حامل شعریات کی بدولت ہے اور اس کا عمل عین وہی ہے جسے دریدا نشان کو خوابِ غفلت سے جگانے کا نام دیتے ہیں۔ غالب جب کہتے ہیں : گنجینہ ء معنی کا طلسم اس کو سمجھیے ؍جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے ،تو اس کے سوا کیا باور کراتے ہیں کہ ان کے شعر کا ہر نشان؍لفظ میں معانی کی ایک طلسماتی دنیا پوشیدہ ہے۔گنجینہ ء معنی،کثرتِ معنی کے سوا کیا ہے!
پہلی اور تیسری دنیا کے تعلق کو مزید سمجھنے کے لیے غالب ہی کا ایک اور فارسی شعر دیکھیے:
از پیکرت بساط صفاے خیال یافت
وصل تو از فراق تو نتواں شناختن
صوفی تبسم اس شعر کی شرح میں لکھتے ہیں۔’’ اب تیرے جسم کی موجودگی نے ہمارے بساط بزم کو تخیل کی سی جلا بخش دی ہے۔اب ہر گوشہ ء بساط میں تیری غیر حاضری سے تیری موجودگی کا احساس ہونے لگا ہے۔اب فراق اور وصل کا امتیاز ہی اٹھ گیا ہے‘‘ [۵]۔محبوب کا جسم ،پہلی دنیا کی تجربی حقیقت ہے ،مگر وہ تیسری دنیا یعنی شعر میں خیال کے طور پر آیااور اسے جلا بخش گیا ہے ۔شعر کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ محبوب اپنی غیر موجودگی میں اپنی موجودگی باور کرانے لگا ہے ۔دوسرے لفظوں میں پہلی دنیا کی’ غیر موجودگی ‘،تیسری دنیا کی’ موجودگی ‘ہے ۔دنیا شعر میں موجود ہے ،مگر اپنے غیاب میں ۔اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ شاعری، متن، تیسری دنیا،حقیقی ؍پہلی دنیا سے جو رشتہ قائم کرتی ہے ،وہ غیاب اور غیر موجودگی کا ہے۔چوں کہ رشتہ غیر موجودگی کا ہے،اس لیے شاعری اور تیسری دنیا کی آزادی برقرار رہتی ہے۔ شاعر کا تخیل ،محبوب کے بدن سے نورو رنگ کی اس برسات میں بھیگنے کی توقع کر سکتا ہے ،جو حقیقی طور پرمحض ایک امکان ہوتی ہے۔پہلی دنیا کا امکان،تیسری دنیا کی’ حقیقت‘ بن جاتا ہے۔پہلی دنیا کا نظامِ ِاعتقاد،شاعری کی اس قوت سے ریزہ ریزہ ہونے لگتا ہے جو لفظ میں مضمر معانی کو خوابِ غفلت سے جگانے سے عبارت ہے۔ شاعری جلد ہی دھوکے کی یہ ٹٹی ہٹا دیتی ہے کہ شاعر کے تخیل کی جلا راست محبوب کے جسم کی عطا ہے۔شعر میں جتنی روشنی ہے ،معنی کی جتنی فراونی ہے،وہ راست شاعری ؍متن سازی کی قوت کی پیدا کردہ ہے۔شعر میں محبوب کے جسم کے نور،شعر کا معنی ہی ہے اور کوئی معنی بغیر تحریر کے وجود نہیں رکھتا۔لہٰذا شعر ہی محبوب اور اس کے بدن کے نورو رنگ کا خالق ہے ۔وٹگنسٹائن کا مشہور قول ہے کہ میری دنیا کی حد وہیں تک ہے جہاں تک میری زبان کی حد ہے۔یعنی محبوب یا پہلی دنیا کی حقیقت یا حدیا معنی وہی ہے جسے شعر؍متن میں جگہ ملی ہے۔اسی بات کو الٹ کر ہم یہ بھی کَہ سکتے ہیں کہ جو کچھ زبان ؍شاعری ؍تحریر میں نہیں سما سکتا ،وہ حقیقت ؍ وجود نہیں رکھتا۔نیز اسی بات کو پھیلا کر ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ زبان ہی حقیقت کی خالق اور اس کی محافظ ہے ۔شعر کی قرأت میںہم پہلی دنیا کی تجربی حقیقت کو گلے نہیں لگاتے،تیسری دنیا کا ’تجربہ‘ کرتے ہیں۔ادب کی دنیا کے گل کی باس ،ہاتھ میں پکڑے گلاب کی خوشبو سے الگ ہوتی ہے اور ایک جوان عورت سے تنہائی کی تجربی صداقت،اس شعر میں مذکور تجربے سے مختلف ہے: تم مخاطب بھی ہو ،قریب بھی ہو؍تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں۔ممکن ہے اس شعر کی قرأت کے دوران میں ماضی کے کسی تجربے کی لو نمودار ہو جائے اور شعر کے معنی کی ایک کھڑکی آپ کے دل میں کھل جائے،مگر یہ معنی بھی ایک تجربی حقیقت نہیں ہوگا؛یہ ایک ایسی تخیلی دنیا کا تجربہ ہوگا،جس کی تشکیل اس شعر کی زبان نے کی ہوگی ۔
اب تک کی گفتگو سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ شاعری؍ادب کی تیسری دنیا،پہلی دنیا سے بیگانہ نہیں۔پہلی دنیا ادب میں ’موجود‘ ہوتی ہے،مگر اس طرح نہیں جیسے تصویر میں صاحبِ تصویر کہ ہم تصویر دیکھ کر صاحب تصویر کو شناخت کر لیتے ہیں،بلکہ اس طور جیسے پہیلی میں پہیلی کا جواب ہوتا ہے۔دنیا اور ادب کا اسی طرح تناقضاتی رشتہ ہے۔پہیلی اصل میں سوال ہے،اس کا جواب پہیلی میں’ غیر موجود‘ ہے،مگر پہیلی سے باہر نہیں۔پہیلی کے اندر ہی اس کا جواب تلاش کرنا ہوتا ہے اور انھی حدود میں جو پہیلی کے سوال نے قائم کی ہیں۔پہلی دنیا،ادب میں ’غیر موجود‘ ہوتی ہے،باہر نہیں اور انھی اسالیب،ہیئتوں ،علامتوں میں موجود ہوتی ہے جو ادب نے اختیار کی ہیں۔چناں چہ ادب میں ہم دنیا کو اس طور فی الفور نہیں پہچان سکتے جس طورتصویر میں صاحبِ تصویر کو پہچان لیتے ہیں۔اس کے باوجود کہ پہلی اور تیسری دنیا میں ایک بنیادی اشتراک بھی موجود ہے،یعنی زبان۔شاعری وہی زبان استعمال کرتی ہے ،جو پہلی دنیا میں رائج ہے ،مگر اس کی توڑ پھوڑ کرتی ہے۔یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ شاعری ،پہلی دنیا کے ابلاغ کا وسیلہ توقبول کرے گی مگر ابلاغ کا وہ اپنااسلوب اختیار کرے گی اور اس کے لیے وہ زبان پر ہر قسم کا تشدد روا رکھے گی۔زبان پر شاعری کے اسی تشدد کے نتیجے میں،پہلی دنیا کی روزمرہ کی زبان اسی طرح’ غیر موجود‘ہوتی ہے جس طرح پہیلی میں اس کا جواب۔یہ اتفاق نہیں کہ جدید شاعری عام زبان کی جو شکست و ریخت کرتی ہے ،اس کی وجہ سے اسے طنزاًپہیلی اور معما کہا گیا ہے۔ بہ ہر کیف ،ادب دنیا سے جو رشتہ قائم کرتا ہے ،اس کی ایک جھلک ابلاغ کا نیا اسلوب وضع کرنے میں دیکھی جا سکتی ہے۔یہ ایک سادہ معاملہ نہیں۔دونوں کے تعلق کی بنیادی رمز کو منکشف کرتا ہے۔ پہلی دنیا کی عام زبان معنی کے ابلاغ کا ایک طریقہ رکھتی ہے۔شاعری اس طریقے کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے اور اپنے انکار کو مئوثر اور پر زور بنانے کے لیے ایک اپنا طریقہ وضع کرتی ہے۔عام روزمرہ زبان ،اپنے ابلاغ کو بے خطا بنانے کے لیے اس بات کا اہتما م کرتی ہے کہ لفظ کو شے کا متبادل سمجھا جائے؛شے کی تجربی حقیقت ،لفظ میں پوری طرح محسوس ہواور اگر لفظ کسی خیال،عقیدے ،نظریے کا ترجمان ہو تو انھیں بھی شے کی طرح یکتاخصوصیت کا حامل بنا کر پیش کیا جائے ۔عام زبان میں لفظ جب کسی شے یا خیال کی طرف ہمیں متوجہ کر دیتا ہے تو اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے ۔وہ ایک ایسا سکہ ہے ،جس کی قیمت اور مصرف پوری طرح سے طے شدہ ہے۔ شاعری ایک دوسری ڈگر اختیا ر کرتی ہے ۔وہ عام زبان اور اس کے طریق ِ ابلاغ کے ساتھ وہی رشتہ استوار کرتی ہے ،جو غالب کا تخیل اپنے محبوب کے جسم کے ساتھ قائم کرتا ہے؛محبوب کے بدن کی غیر موجودگی اس کے تخیل کو جلا دیتی ہے۔عام زبان اپنی غیر موجودگی میں ،شاعری کی زبان کو جلا دیتی ہے۔جس طرح شاعر کے تخیل میں جلا ایک نئی چیز ہوتی ہے،اسی طرح شعری زبان ،عام زبان سے سوا اور چیزے دیگر ہے۔ شعری زبان میں لفظ،شے کا متبادل نہیں ہوتا،خود ایک شے ہوتا ہے ؛وہ کسی اور کی طرف نہیں،اپنی طرف ہمارادھیان منتقل کرتا ہے ؛ایک اپنی ،تیسری دنیا قائم کرتا ہے اور یہیں سے پہلی دنیا کی طرف متوجہ ہونے کے امکانات ابھارتا ہے۔اصل یہ ہے کہ پہلی دنیا سے سیدھا کوئی راستہ شاعری اور ادب کی دیگر اصناف کی طرف نہیں جاتا،ہاں پہلی دنیا کی طرف شعری دنیا سے کچھ کھڑکیاں ضرور کھلتی ہیں۔ ہم ادب کی قرأت میں انھی کھڑکیوں کو کھولتے اور پہلی دنیا کے کچھ نئے نظارے کرتے ہیں؛کچھ ایسے خطے دریافت کرتے ہیں جو پہلے تاریکی میں تھے ،یا سرے سے ہمارے احساس و شعور میں موجود ہی نہیں تھے ۔چوں کہ ادب کی قرأت ،پہلی دنیا پر نئے خطوں کو منکشف کر سکتی ہے،جو اس کے نظامِ اعتقاد پر سوال قائم کر سکتے ہیں،ا س لیے تنقید سے بھی خوف پایا جاتا ہے۔
جب ادب ،پہلی دنیا کی زبان کو تلپٹ کرتا ہے تو اس کی زد پر وہ تصورات ،نظریات ،کلامیے ،بیانیے بھی آتے ہیںجنھیں پہلی دنیا نے سینے سے لگا رکھا ہوتا ہے ۔یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں شاعری اپنی آزادہ روی کی روح کو پوری طرح اپنے اظہار کاموقع فراہم کرتی ہے۔جس طرح عام زبان کے ابلاغ کے طریقے کو شاعری توڑتی ہے اسی طرح ،ان تصورات ، اعتقادات ،نظریات کی شکست کی کوشش کرتی ہے جن کے ذریعے پہلی دنیا کے مقتدر طبقے ،دیگر طبقوں سے ابلاغ کرتے ہیں ۔یہاں اس شاعری سے بحث نہیں جو راست انداز میں مزاحمتی رویہ اپناتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ صریحی مزاحمتی شاعری ،عام زبان ہی کے اسلوب ِ ابلاغ کو اختیار کرتی ہے اور اس کا سبب شاعری کی وہ روح نہیں جسے آزادہ روی کا نام دیا گیا ہے،بلکہ ایک اخلاقی ،سیاسی ذمہ داری کا احساس ہے۔ہمیں یہاں شاعری سے بحث ہے؛ شاعری جس کی جڑیں خود اپنے آپ میں پیوست ہیںاور اسے اپنے وجود کو باور کرانے کے لیے کسی اور شے کی ضرورت نہیں۔شاعری ،مذہب کی طرح ہے۔ جس طرح مذہب کی اساس حقیقتِ عظمیٰ سے راست مستنیر ہونے میں ہے،اسی طرح شاعری کی اساس ،اس کی آزادہ روی ہے ۔شاعری میں پہلی دنیا کے جو جو حصے اپنی غیر موجودگی میں بار پاتے ہیں،وہ شاعری کی آزادہ روی کی زد پر آتے ہیں۔اس میں کلاسیکی،جدید اور مابعد جدید عہد کی تخصیص نہیں۔ہر عہد کی شاعری اپنی معاصر پہلی دنیا کے سلسلے میںلازماًایک مئوقف اختیار کرتی ہے۔
واضح رہے کہ مئوقف سے مراد ،کوئی نظریہ نہیں جسے بعض اوقات شاعر اختیار کرتے ہیں۔شاعری کے مئوقف اور شاعر کے نظریے میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔نظریہ ایک اختیاری معاملہ ہے جسے کافی سوچ بچار کے بعد کسی مسئلے کے حل کے طور پر وضع کیا جاتا ہے،اس لیے یہ شاعری سے پہلے اور شاعری سے باہر ہوتا ہے ۔جب کوئی شاعر نظریہ اختیار کرتا ہے تو ،وہ اس نظریے کے ابلاغ کے لیے ،شاعری کی ہیئت کو اسی طرح استعمال کرتا ہے جس طرح ،کوئی حکیم کوئی نسخہ منظوم کرتا ہے ۔دوسری طرف مئوقف،اپنی فاعلی حیثیت کا تعین ہے۔فاعلی حیثیت کے تعین کا آغاز،اسی روزہوجاتا ہے جب ہم زبان سیکھنے لگتے ہیں۔ اسمائے ضمیرہماری فاعلی حیثیتیںہیں۔’میں ‘کے اسم ضمیر میں اپنے اظہار کے ساتھ ہی ایک کبھی نہ ختم ہونے والی تقسیم و تفریق وجود میں آجاتی ہے ۔اس لیے کہ ’میں ‘اپنا کوئی مفہوم ایک ’غیر میں‘ یعنی ’تو ‘کے بغیر قائم نہیں کرسکتی ۔جیسا کہ سوسیئر نے کہا ہے کہ زبان میں فرق کے سوا کچھ نہیں، اور تمام ابلاغ تفریقی رشتوں کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔لہٰذایہ ایک پیش پا افتادہ (مگر مبنی بر حقیقت) قول ہے کہ ’میں ‘کا معنی ’تو‘ کے فرق کی وجہ سے ہے۔تاہم اسی قول میں کچھ گہری سچائیاں بھی مخفی ہیں۔پہلی یہ کہ ’میں‘اپنا معنی خود بہ خود قائم نہیں کرسکتا؛وہ اپنے معنی کے لیے اس ’تو‘ پر منحصرہے جو اس سے مختلف ہی نہیں،غائب بھی ہے۔’تو‘ اسی طرح غائب رہ کر ‘میں ‘ کے معنی پر اثرا نداز ہوتا ہے جس طرح محبوب کا پیکر اپنی غیر حاضری میں شاعر کے تخیل کو جلا دیتا ہے۔دوسرا یہ کہ ’میں‘ دوسرے پر منحصر ہونے کی بنا پر وحدت سے محروم ہے۔دوسری طرف جسے ہم معنی کہتے ہیں ،وہ ایک وحدت ہے؛اجزا ،خیالات،کہنے والے اور کہے جانے والے کی وحدت۔چناں چہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ’میں‘ وحدت سے خالی ہے تو وہ اپنا بامعنی اظہار کیسے کرتا ہے؟جواب سادہ ہے۔اپنی فاعلی حیثیت کا تعین کرکے؛غیر کے مقابل ایک مئوقف اختیار کر کے۔چناں چہ ’میں‘وحدت سے خالی ہے ،مگر جس سیاق میں یہ اظہار کرتا ہے،ایک وحدت اختیار کرتا اور اپنے اظہار کو بامعنی بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر سیاق میں معنی بدل جاتا ہے اور ’میں‘ مسلسل اپنی وحدت اور معنی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے؛اور اسی بنا پر کوئی واحد اور حتمی شناخت حاصل کرنے سے قاصر رہتاہے۔ہر لحظہ نیا طور نئی برق ِ تجلی کی تڑپ،میَں کی رگ رگ میں سمائی ہوتی ہے۔
کچھ یہی بات ہمیں معتزلہ تفسیری روایت میں بھی ملتی ہے۔اس روایت کے اہم نمایندہ محمود زمخشری (م ۱۱۴۴ء)نے تفسیر ِ قرآن میں جاہلی دور کی شاعری سے مثالیں پیش کیں ۔یہاں اس سے بحث نہیں کہ یہ طریقہ درست تھا یا غلط،صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ انھوں نے شاعری جیسے ایک دنیوی (اور وہ بھی جاہلی دورکے)متن کو مذہبی متن کی تعبیر کے لیے کارآمد سمجھا۔ان کا اصل مئوقف یہ تھا کہ ’’شاعری متن کے حقیقی معنی تک نہیں پہنچاتی،یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کے ذریعے اس متن کی’تکثیری قرأت‘ کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے‘‘]۶] ۔گویاشاعری کی اصل خصوصیت یہ نہیں کہ وہ مذہبی متن کے حقیقی معنی تک ہمیں پہنچاتی ہے،بلکہ یہ ہے کہ مذہبی متن کے حقیقی معنی تک رسائی کے لیے جن ’تکثیری قرأتوں ‘ کی ضرورت ہے،شاعری ان قرأتوں کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔(زمخشری قرآن کی سڑسٹھ قرأتوں کا تصور پیش کرتے ہیں)۔ شاعری کی اصل میں جن تکثیری قرأتوں کی گنجائش موجود ہے،وہ اس کی لسانی صورتِ حال ہی کی وجہ سے ہے۔زمخشری قرآن کریم کی چوالیسویں سورۃ (الدخان) کی چوبیسویں آیت : واترک البحر رھوا ط انھم جند مغرقون (اور سمندر سے کہ ٹھہرا ہوا ہوگا،پار ہوجانا۔تمھارے بعد ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا،ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھری)میں لفظ رھوا کے دو معنی بتاتے ہیں۔ساکن اور فجوا واسع ۔وہ اس کے لیے الاعشی ٰ کی شاعری سے مثالیں لاتے ہیں جن میں اونٹوں کے آسانی سے گزرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔مذکورہ آیت فرعونی لشکر کے ڈوبنے کے ضمن میں ہے۔زمخشری موسیٰ کے پار ہوجانے کا مفہوم الا عشیٰ کے دو مصرعوں سے واضح کرتے ہیں،جن کا مفہوم یہ کہ وہ [اونٹ]آسانی سے گزر گئے،ان کی پیٹھیں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کے سینے پیٹھوں پر بوجھ نہ بنے[۷]غور طلب بات یہ ہے کہ زمخشری نے یہاں رھوا کو خواب ِ غفلت سے بیدار کیا ہے؛اس کے اس مرکز کو توڑا ہے جس میں ایک سے زیادہ معانی مضمر ہیں ۔ شاعری اسی بنیادی لسانی صورتِ حال میں اپنی آزادہ روی حاصل کرتی ہے ۔کیسے؟
اگر زبان کی ساخت ہی میں ایک سے زیادہ شناختوں کی گنجائش ہے توپھر ہر شخص کے یہاں آزادہ روی،کشادہ نظری،وسیع المشربی اور مطلقات سے مبارزت طلبی کی صفات ہونی چاہییں؟ نظری اور اصولی طور پر ایسا ہی ہونا چاہیے۔عملاً جو چیز اسے محال بناتی ہے ،وہ پہلی دنیا اور اس کی آئیڈیالوجی ہے۔یہ دونوں زبان کی ساخت میں مضمر معنی کے تفریقی رشتوں کو دبانے کی سر توڑ کوشش کرتی ہیں۔یعنی ’میں‘ کی ثنویت کو ختم کرکے اسے وحدت آشنا کرنے کی حکمت عملی اپناتی ہیں۔پہلی دنیا اور آئیڈیالوجی کے دل میںاختلاف ، کثرت ،تنوع کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی ۔دونوں ’میں‘ کے لیے وہ تمام راستے مسدود کرنے میں لگی رہتی ہیں جو ’میں‘ کو مختلف سیاق میں مختلف مئوقف اختیار کرنے کے قابل بناتے ہیں۔لہٰذا عام لوگ اپنی شناخت اپنے عہد کی حاوی آئیڈیالوجی کے تحت قبول کر لیتے ہیں،جو واحد اور داخلی طور پر مستحکم ہوتی ہے۔تاہم واضح رہے کہ واحد،مستحکم شناخت چوں کہ زبان کی ساخت میں کھدی ہوئی ثنویت کو دبانے کے بعد ممکن ہوتی ہے، اس لیے پہلی دنیا اور آئیڈیالوجی کو یہ اندیشہ برابر لاحق رہتا ہے کہیں ثنویت سر نہ اٹھا لے اور لوگ باگ خود کو اور دنیا کو ایک مختلف نظر سے نہ دیکھنے لگ جائیں۔اس اندیشے کی بنیاد پر ہی آئیڈیالوجی کی تکرار سے کام لیا جاتا ہے:یہ تکرار کچھ خاص کہانیوں،احکامات، قانون،تصویروں ،مثالوں،کہاوتوں،مخصوص لفظیات کی مسلسل اشاعت کے ذریعے ہوتی ہے۔تکرار کی ساری حکمت عملی کی بنیاد لفظ یا تصویرکو شے کے طور پر،یعنی واحد، غیر مبدل ،حتمی معنی کی حامل شے کی صورت پیش کرنے پر ہوتی ہے۔دوسری طرف شاعری زبان کی اصل،یا تفریق اساس ساخت کو دبانے کی بجائے مسلسل نمایاں کرتے چلے جانے سے باز نہیں آتی۔پہلی دنیا اور آئیڈیالوجی جن تضادات کو دباتی ہیں ،شاعری ان کے بنائو کو ادھیڑ کر ہی رکھ نہیں دیتی ،اس سارے عمل کو محسوس بھی بناتی ہے۔اسی دوران میں شاعری اپنے مئوقف کی تشکیل کرتی ہے۔
شاعری کا مئوقف ،’میں‘ کی وحدت ناآشنا شناخت میں وجود رکھتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا،وحدت نا آشنائی محرک ہے ،ایک سے زیادہ وحدتیںوضع کرنے ،یا ایک سے زیادہ معانی تشکیل دینے کا۔اب ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ جسے شاعری کا مئو قف کہا جا سکتا ہے ،وہ ان مختلف معانی سے عبارت ہے ،جنھیں پہلی دنیا اور آئیڈیالوجی کے فرق سے اور انھیں شاعری میں غائب رکھ کر قائم کیا گیا ہو۔اس مشکل ،تیکنیکی بحث سے ذرا دیر کو نکلتے ہیں اور میرا جی کی زبانی ایک واقعہ سنتے ہیں۔
۔۔۔جب میں سندھ کے شہر سکھر میں پانچویں یا چھٹی جماعت میں تعلیم پاتا تھا،اس زمانے میں ہمارے ایک استاد ماسٹر لال چند ہوا کرتے تھے،وہ ریاضی اور ہندی کے استاد تھے مگر تعلیم کے علاوہ ان کے ذمے لائبریری کاکام بھی تھا۔چناں چہ انھوں نے طلبا کو لائبریری سے فائدہ اٹھانے مقررہ دن اور وقت بتا رکھا تھا۔اس روز اس وقت وہ ہمیں ایک فہرستِ کتب دیا کرتے تھے اور اس میں سے چھانٹ کر ہم کتابیں لیا کرتے۔ایک دفعہ انھوں نے ہمیں فہرست دی تو طلبا کے جھرمٹ میں بہ مشکل فہرس لے کر جلدی جلدی میں میَں نے ایک کتاب کا عنوان دیکھا’’ الجبرا لمقابلہ‘‘۔
استاد نے کہا اسے کیا کرو گے۔یہ کوئی عام پڑھنے کی کتاب نہیں ہے۔
میں نے خیال کیا تھاکہ تشدد اور اس کے مقابلے کے بارے میں کوئی کتاب ہوگی،دیکھنا چاہیے۔لیکن یہ معلوم کرکے اپنی بے علمی پر خفت سی ہوئی کہ یہ تو حساب وغیرہ قسم کی کوئی چیز ہے۔۔۔۔آج اس واقعے کا آسودہ تعلق میری سمجھ میں آرہا ہے۔یہ تعلق،یہ مفاہمت صرف میری فطرت سے نہیں ہے،بلکہ ہمارے سماجی نظام ،ہمارے سیاسی شعور ،یہاں تک کہ اصولِ قدرت سے ہے[۸]۔
اس واقعے میں وہ سب کچھ ہے جسے ہم واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔زبان کے اندر آدمی کس طور مئوقف تشکیل دیتا ہے،وہ اس واقعے سے واضح ہے۔پہلی دنیا نے الجبر القابلہ کو ریاضی کی کتاب کا واحد ،مستحکم معنی دیا ہے،میرا جی کا اسے ’تشدد اور مقابلے کی کوئی کتاب‘ سمجھنا اس امر کی دلیل ہے کہ میرا جی آئیڈیالوجی کی اس دنیا سے باہر ہیں جہاںہر لفظ پر معنی بہ طور متعین قیمت کے ثبت ہوتا ہے ۔ اس کے بجائے میراجی اس تیسری دنیا میں ہیں جہاں وہ لفظ کوخوابِ غفلت سے بیدار کر سکتے ہیں۔غور طلب نکتہ یہ ہے کہ میرا جی نے ریاضی کی ایک کتاب کو کسی دوسرے علم کی کتاب سمجھنے کی غلطی نہیں کی،بلکہ اپنی فاعلی حیثیت باور کرائی ہے ۔یہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اوائل کا واقعہ ہے،جب دنیا پہلی جنگِ عظیم کی بربادی کے نوحے پڑھ رہی تھی اور برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر میں تحریک ِخلافت چل رہی تھی۔میرا جی نے تشدد کی اس فضا میں اپنا مئوقف تشکیل دیا کہ کیسے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ میرا جی نے پہلے الجبرالمقابلہ کو اس کے متعین معنی سے آزاد کیا اور پھر اسے ایک دوسرے معنی سے وابستہ کیا۔یہ دوسرا معنی ،آئیڈیالوجی (جنگ ،تشدد) کے مقابلے میں ایک مئو قف ہے ۔یہ مئوقف اسی طریقے سے تشکیل دیا گیا ہے ،جو زبان میں معنی خیزی کا عام طریقہ ہے ۔یہ کہ معنی مستقل نہیں،تغیر پذیر ہے ؛تغیر پذیر ہے توانتقال پذیربھی ہے ۔جسے ہم مئوقف کَہ رہے ہیں ،وہ میَں کا معنی کی انتقال پذیری پر اختیار ہے ۔میَں اپنی شناختیں وضع کرنے میں کبھی ایک معنی ،کبھی دوسرے معنی اور کبھی ایک ہی معنی کو ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل کرتی ہے۔یہ سارا عمل ’پوزیشن‘ یا مئو قف اختیار کرنے کا ہوتا ہے۔ یہی کچھ ہمیں شاعری میں بالعموم نظرآتا ہے۔
شاعری میں،میَں یا موضوع ِ انسانی اپنا مجرد اظہار نہیں کرتا۔اس کا اظہار لازماًکسی نہ کسی کے مقابل،کسی نہ کسی کے سلسلے میں ہوتا ہے جس کی طرف کبھی اشارہ واضح اور کبھی نہایت خفی ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں شاعری میں جو ذات ظاہر ہوتی ہے،وہ خود مختار نہیں ہوتی؛وہ ’دوسروں‘ پرانحصاررکھتی ہے۔اس کے خدو خال میں دوسروں کے چہروں کے نقش ہوتے ہیں۔راقم کا مئوقف یہ ہے کہ شاعری میں ،میَں’ دوسروں ‘پر انحصا ر تو رکھتا ہے،مگران کے سلسلے میں ایک فعال پوزیشن بھی اختیار کرتا ہے۔شاعری میں ظاہر ہونے والی ذات جو خدو خال رکھتی ہے ،ان میں دوسروں کے نقش شامل،مگر ان نقوش کے سلسلے میں ،ذات کا ایک مئوقف بھی ہوتا ہے۔ذات،خود آگاہی کا دوسرا نام ہے؛میَں،اپنی شناخت ہے۔خود آگاہی،غیر آگاہی کے مقابل ہے اور میَں کی شناخت،تو کی وجہ سے اور اس کے مقابل ہے۔اس لیے میَں کا تو سے رشتہ تناقضاتی ہے۔شاعری میں ،میَں یاموضوعِ انسانی سماجی دنیا کے سلسلے میں ،اور اس کے مقابل اپنا اظہار کرتی ہے ۔یہ سب شاعری کی آزادہ روی کی شعریات کی دین ہے ۔یہ حقیقت ہمیں اقبال کی شاعری میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
اقبال کو با لعموم ملت اسلامیہ کا ترجمان قرار دیا گیا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ باور کر لیا گیا ہے کہ اقبال نے اپنے فاعلی وجود کی وہی شناخت تسلیم کر لی جو پہلی دنیا کی آئیڈیالوجی کا مطالبہ تھا۔یہاں اس سے بحث نہیں کہ مذہبی یا سیاسی آئیڈیالوجی کسی خاص تاریخی صورتِ حال میں کتنی ناگزیر ہوتی ہے ۔ہمار ا سروکار اس بات سے ہے کہ اگر اقبال کی اصل شناخت ایک شاعر کی ہے تو وہ شاعری کی اس اصل سے دور کیسے جا سکتے ہیں جو دنیاا ور آئیڈیالوجی کے سلسلے میں لازماً مئوقف (یعنی کثیر تناظرات میں کثیرمعانی) رکھنے سے عبارت ہے اور جسے آزادہ روی اور جرأت کے ساتھ سوال اٹھانے کی روش بھی کہا گیا ہے اور جو زبان کی طرح شاعری کی روح کا بنیادی مطالبہ بھی ہے۔اقبال نے ’میں‘ کا صیغہ کم استعمال کیا ہے جو جدید شاعری میں عام ہے۔تاہم اپنی بہترین شاعری کے مجموعے یعنی بال جبریل میں کئی اشعار متکلم کے صیغے میں کہے ہیں۔ان شعار میں ٹھیک وہی مئوقف ہے جو مطلقات سے مبارزت طلب ہوتا ہے۔
صرف چند اشعار دیکھیے:
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقش بند
میری فغاں سے رست خیز کعبہ و سومنات میں
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو،جہاں تیرا ہے میرا
تو ہے محیطِ بے کراں، میں ہوںذار سی آب جو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکم ِسفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
یارب یہ جہانِ گزران خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیںمردانِ صفا کیش و ہنرمند
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند
چپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندہ ء گستاخ کا منہ بند!
ان اشعار کی روایتی تاویل یہی ہے کہ ’باخدا دیوانہ باش وبا محمد ہوشیار‘۔یعنی خدا کے سلسلے میں گستاخی روا ہے ،مگر پیغمبر کے سلسلے میںنہیں۔یہ تاویل کچھ غلط بھی نہیں،مگردیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ تاویل بھی شاعری کی اصل سے ماخوذ ہے۔ایک تو یہ تاویل ایک ایرانی شاعر کی وضع کردہ ہے اور دوسرا یہ کہ خدا کے ساتھ دیوانگی کا،معروف عقائد کو شکست دینے والا،غیر رسمی ،تو کَہ کر مخاطب کرنے والارویّہ بڑی حد تک وہی ہے جو اپنی شناخت متعین کرنے کے سلسلے میں زبان میں موجود ہے۔اقبال کے مندرجہ بالا تمام اشعار میںبندہ وخدا،میَں اور تو کی جدلیات کام کررہی ہے۔(ان کی فارسی نظم ’محاورہ مابین و خدا میں ‘بھی یہی جدلیات زیادہ شدت سے موجودہے)ان اشعار کے معانی نہ تو اقبال کی شخصیت و عقائد سے متبادر ہو رہے ہیں اور نہ خدا کے اسلامی عقیدے سے،بلکہ میَں اور تو کی وہ جدلیات تمام معانی کا سرچشمہ ہے ،جس میں نہ تو میَں کا واحد معنی مستحکم ہوتا ہے اور نہ تو کا؛دونوں کی شناختیں اتار چڑھائو،روانی ،ردو بدل کی حالت یعنیstate of flux میں ہوتی ہیں۔اگرا س کے برعکس ہوتا تو بندہ و خدا کا رشتہ ایک ہی ڈگر پر سدا قائم رہتا اور دونوں میں مکالمے کی کوئی روایت نہ ہوتی ۔مکالمہ وہیں ممکن ہوتا ہے جہاںکسی ایک اتھارٹی کا ایساغلبہ نہ ہوجو دوسرے فریق کو محض اپنی حقیقی یا علامتی موجودگی سے خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہو۔غورکیجیے:کیا ان اشعار میں تْوکی ایک ہی شناخت ہے؟یہاں خدا کے علاوہ ،خدا سے متعلق وہ تصورات بھی موجود نہیں ہیں جنھیں ملاّیاریاست پیش کرتی ہے،اور ان تصوراتِ خدا کی مدد سے اپنے اپنے نظامِ اعتقاد کو مستحکم کرنا چاہتی ہے ؟نیز کیا میَں نے تْو کے ساتھ مکالمے میں فعال پوزیشن اختیار نہیں کی ؛تسلیم و رضا کی منفعل روش کے بجائے ،استفہامیہ اسلوب اختیار نہیں کیا؟روایتی تنقید اسے انسان کی عظمت کا بیانیہ کہتی ہے۔اصلاً اس کی بنیاد میَں اور تْو کی اسی جدلیات میں ہے،جو زبان کی ساخت میں اتری ہوئی ہے۔جس طرح ،میَں تْو کے ساتھ تفریقی رشتہ قائم کرکے،تْو کی شناخت کو تہ و بالا (Subvert)کرتی ہے،اسی طرح بندہ اپنی شناخت کے لیے خدا کے روایتی تصور کو تہ و بالا کرتا ہے۔دونوں ایک دوسرے پر منحصر بھی ہیں اور ایک کش مکش کی صورتِ حال میں بھی گرفتار ہیں۔میَں جب تْو کے مقابلے میں خود کوذرا سی آبِ جوخیال کرتا ہے ،تو اپنی شناخت تفریقی اصول کے تحت کرتا ہے؛آب ِجو،محیطِ بے کراں کے تقابل میں ہے۔تْو نے میَں پر ایک خاص شناخت عائد کرنے کا اقدام کیا،میَں نے انکار کیااور ایک اور شناخت پر اصرار کیا۔اہم بات یہ ہے کہ میَں نے اپنے لیے دو شناختوں کی تجویز پیش کی:یا مجھے ہم کنار کر،یا مجھے بے کنار کر۔یہاں بھی تْو کے ساتھ انحصار اور آزادی،کشش و گریز کا متناقض رشتہ دکھائی دیتا ہے۔
میَں یا موضوعِ انسانی کی فعال پوزیشن ،اس انکار کا دوسرانام ہے جو پہلی دنیا، آئیڈیالوجی ،ریاست،ملاّیا کسی بھی کی طرف سے معنی سازی پر اجارے کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔معنی سازی پر اجارے کا مطلب ،اس یقین کو راسخ کرنا ہے کہ فقط ایک دنیا ممکن ہے۔اس سے انکارکا مطلب یہ ہے کہ ایک اور دنیا بھی ممکن ہے۔شاعری،اسی ممکن دنیامیں ہمارا یقین راسخ کرتی ہے جو تفریقی ،جدلیاتی شعریات سے عبارت ہے ۔یہی شعریات اقبال سے پہلے،ابوالعلا معری،رومی ، میر و غالب کے یہاں اور بعد کے شعرا کے ہاں کارفرما ہے۔مثلاً معری کہتے ہیں: کن عابدً اللہ دون عبیدہ ؍فالشرح یعبد والقیاس یحرر(یعنی اللہ کے عبادت گزار بنو،نہ کہ اس کے غلاموں [یعنی فقہیوں اور ملائوں کے]کے ،اس لیے کہ شریعت انسان کو غلام بناتی ہے جب کہ عقل آزاد کرتی ہے۔ترجمہ محمد کاظم)۔میر کہتے ہیں: میر کے دین و مذہب کو کیا پوچھتے ہو ان نے تو؍قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا،کب کا ترک اسلام کیا؛غالب کا مشہور شعر ہے: طاعت میں تارہے نہ مے و انگبیں کی لاگ؍دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو ؛اور جون ایلیا کا شعر ہے:حاصل کن ہے یہی جہانِ خراب؍یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں۔اس طور شاعری ،پہلی دنیا کے نظامِ اعتقادات،اور ان کی علم بردار علامتوں،اساطیری بیانیوں کو زیر وزبر کرتی رہتی ہے ،اپنے مئو قف کی اس منقار سے جو خاموشی سے سرگرم کار رہتی ہے۔بلاشبہ شاعری اپنی تہذیبی جڑوں میں اتری ہوتی ہے ،مگر ان سے شاعری کا رشتہ لاگ اور لگائو کا یعنی انحصار و آزادی کا ہوتا ہے۔شاعری اپنااوّلین تصور،اپنی تہذیب کے آئنے میں اپنے نظارے سے کرتی ہے مگرا سی کو اپنا’ غیر‘ بھی سمجھتی ہے اور اس پر سوال قائم کر کے ،ایک اپنا مئوقف تشکیل دیتی ہے۔وہ تہذیب کی اس شریعت کی غلامی سے انکار کرتی ہے ،جنھیں کچھ طبقے اپنی آئیڈیالوجی ،علامتوں،بیانیوں کی صورت حتمی سچائی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان طبقوں کے موعودہ بہشت کو اپنی آزادی کے دوزخ میں ڈالنے میں ،شاعری کو ذرا تامل نہیں ہوتا۔
یہ تمام معروضات بالواسطہ تھیوری کی اہمیت باور کراتی ہیں۔روایتی تنقید،شاعری و فکشن کی تشریح سے سروکار رکھتی ہے اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ نفسیاتی ،سماجی تناظر سے مدد لیتی ہے۔ان دونوں تناظرات میں قدر ِ مشترک یہ ہے کہ دونوں ادب کے معنی کا سرچشمہ،ادب سے باہر مصنف کے ذہن یا سماج میں تلاش کرتے ہیں۔دونوں ادب کو مصنف کی منشا اور سماج پر منحصر سمجھتے ہیں،اس تناقضاتی رشتے کی تفہیم سے قاصر رہتے ہیں جو بہ یک وقت انحصار و کش مکش،کشش و گریزسے عبارت ہے۔ جب کہ تھیوری معنی کو زبان اور اس سے ماخوذ شعریات میں دیکھتی ہے۔تھیوری اس فصل کو مٹانے کی کوشش کرتی ہے جسے روایتی تنقید نے ادب اور خود میں فرض کیا ہے۔تھیوری اسی آزادنہ غورو فکر، آزاد مشربی کی نظری طور پر حامی ہے ،جو ادب کی شعریات میں ،اس کی روح میں جاری و ساری ہے۔ادب ،مطلقات پر جس جرأت کے ساتھ سوال قائم کرتا ہے ،اور ہمارے لیے ایک نئی،تیسری دنیا ایجاد کرتا ہے،تھیوری نہ صرف ان سوالات کو ،ان کے حقیقی سیاق میں نمایاں کرتی ہے ،بلکہ خود بھی یقین رکھتی ہے کہ ہماری دنیا میں کوئی نظریہ ،طاقت کی جستجو سے خالی نہیں؛کوئی طاقت محض مادی نہیں ہوتی ؛طاقت کئی لسانی ،کلامیاتی ،بیانیاتی ،میڈیائی پیرائے اختیار کرتی ہے ؛اور کوئی طاقت خلا میں وجود نہیں رکھتی،وہ لازماًاپنا معروض منتخب کرتی ہے۔ تھیوری طاقت کی داخلی و خارجی صورتوں اور قسم قسم کی حکمت عملیوں کو منکشف کرتی ہے۔اس اعتبار سے تھیوری کی روش نئے بایاں بازو کی فکر سے مماثل ہے جس کی پہچان بہ قول راجر سکرٹن یہ ہے کہ ’’ جس جبر کی دنیا پر حکم رانی ہے ،وہ داخلی و خارجی سطحوں پر عمل آرا ہوتا ہے۔یہ جبر عوام کو استحصال کی زنجیریں پہناتا ہے اور ساتھ ہی خاص قسم کا ضمیر،ایک داخلی استبداد پیدا کرتا ہے جو روحوں میں رینگتا اور انھیں پامال کرتا ہے‘‘[۹]۔ تھیوری کا بڑا مقصد ،آزادی و نجات ہے ،جسے ادبی متن کی معنی سازی کی جمالیاتی ،لسانی ،تہذیبی جڑوں کی دریافت سے انجام دیا جاتا ہے۔
حوالہ جات وحواشی
۱۔ کارل پاپر،Unended Quest،روٹلیج ،لندن، ۱۹۷۶، ص ۱۸۰تا ۱۸۷
۲۔ کرسٹو فر رولسن اور راجیشور مٹاپلی،Modern Criticism،اٹلانٹک ،نئی دہلی، ۲۰۰۲، ص ۱۲۹
۳۔ ۱۹۸۴ جارج آوریل کا مشہور ناول ہے ،جو۱۹۴۹ میں پہلی مرتبہ شایع ہوا۔اس ناول میں عوامی ذہن پر گرفت رکھنے کی ریاستی تدبیروں کا بیانیہ لکھا گیا ہے۔ جب کہ The Brave New Worldآلڈس ہکسلے کا ناول ہے،جو ۱۹۳۲ میں پہلی بار چھپا۔دونوں ناول اصل میں دنیا کے یوٹوپیائی تصور کی نفی کرتے ہیں۔
۴۔ژاک دریدا ، Writing and Difference(ترجمہ ایلن باس )روٹلیج اینڈ کیگن پال،لندن ،۱۹۷۸ ، ص۱۲
۵۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ،شرح غزلیاتِ غالب،فارسی،جلد دوم،پیکجز لمٹیڈ ،لاہور،س ن ، ص ۶۹۰ــ۔۶۹۱
۶۔بہ حوالہ اینڈریو جے لینڈ،A Traditional Mu’tazilite Qur’an Commentary،لیڈن ،نیدرلینڈ،۲۰۰۶،ص ۱۳۹
۷۔ ایضاً
۸۔میرا جی ،’’کتاب ِپریشاں‘‘،مشمولہ میرا جی :ایک مطالعہ ،(مرتبہ جمیل جالبی)،سنگ ِ میل پبلی کیشنز لاہور، ۱۹۹۰،ص ۵۳۸ـ۔۵۳۹
۹۔ راجر سکرٹن،Thinkers of the New Left،لانگ مین گروپ لمیٹڈ،یو کے،۱۹۸۵،ص۲

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post