سیّد آنس معین کی یاد میں

 از: نعیم رضوان

بہت سی باتیں ابھی وضاحت طلب ہیں لیکن
مری کہانی کا حُسن ہی اختصار میں ہے !
خود کشی کرنے والے شعرا میں ایک اہم نام ، اپنے دور کا کیٹس اور ننھا سقراط کہلانے والا نوجوان، کتابِ زیست کی یکسانی سے اکتاہے کر ۵ فروری ۱۹۸۶ء کو آخری ورق پڑھنے کی عجلت میں ٹرین کے نیچے آ کر جان دے دی ۔ اس وقت ان کی عمر صرف چھبیس برس تھی ۔
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا !
آنس معین ۲۹ نومبر ۱۹۶۰ء کو لاہور میں فخرالدین بلے کے ہاں پیدا ہوئے ۔ شاعری کا آغاز ۱۹۷۷ء میں کیا اور نو برسوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ غزلیں اور ڈھیروں نظمیں کہیں ۔ وہ اپنا کلام چھپوانے ، سنانے اور مشاعروں میں شرکت سے گریز کرتے تھے ۔ ان کی شاعری میں ظاہرو و باطن کی کشمکش تسلسل سے نظر آتی ہے جو بالآخر ان کی موت پر منتج ہوا ۔
اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنس
باہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے
میں جستجو میں ہوں آئینے کو کھرچ رھا ہوں
میں رفتہ رفتہ مٹا رھا ہوں نشان اپنا !
میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا ۔۔۔ !!
پھر اِس چٹان میں اِ ک پھول نے شگاف کیا
تیرگی من میں نہ در آئے کہیں
آنکھ شب کے درمیاں مت کھولنا
ہاتھ میں لے کر پتھر جب میں پاس کھڑا تھا ندی کے
کانپ رہا تھا پانی پر اِک چہرہ سہما سہما سا !
جوش ملیح آبادی نے آنس کو کمسن سقراط کا نام دیا تھا جب کہ فیض احمد فیض کا کہنا تھا کہ میں نے ایسا زیرک دانش شور آج تک نہیں دیکھا ۔ ڈاکٹر وحید قریشی نے صحیح کہا ہے کہ آنس معین اپنے عہد سے آگے کا شاعرہےوہ اکیسویں صدی کا شاعر ہے ۔ آنس کو خود بھی اس بات کا اندازہ تھا اسی لیے تو کہا ہے
میری قامت سے ڈر نہ جائیں لوگ
میں ہوں سورج مجھے دیا لکھنا !!
چپ رہ کر اظہار کیا ہے، کہہ سکتے تو آنس
ایک علیحدہ طرزِ سُخن کا تجھ کو بانی کہتے
آنس معین کا کلام کتابی صورت میں ابھی تک شائع نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود ادبی دنیا میں آنس کی کمی زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ اس کی چونکا دینے والی آواز اور منفرد لہجہ قاری کو اپنے سحر سے نہیں نکلنے دے گا ۔
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا !
ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے !
ذرا تو کم ہوئیں تنہائیاں پرندے کی !
اب ایک خوف بھی اس آشیاں میں رہتا ہے
جیون کو دکھ ، دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے
بچے لیکن سوئے ہوئے تھے،کس سے کہانی کہتے
مجھ سے پوچھو پیڑ سے پتے کس نے چھینے
میں نے ہوا کے قدموں کی آواز سنی ہے
اس بند گھر میں کیسے کہوں کیا طلسم ہے
کھولے تھے جتنے قفل وہ ہونٹوں پہ پڑ گئے
سوچ رھے ہو سوچو لیکن بول نہ پڑنا
دیکھ رھے ہو شہر میں کتنا سناٹا ہے
ڈرنا ہو تو انجانی آواز سے ڈرنا
یہ تو آنس دیکھا بھالا سناٹا ہے
عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے
خالی ہے مکاں پھر بھی دیے جاتے ہو دستک
کیا روزنِ دیوار سے اندر نہیں دیکھا !
درکار تحفظ ہے پر سانس بھی لینا ہے
دیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھنا !
رہتا ہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گا میں
جائے اماں اک اور بھی ہوتی ہے گھر کے بعد
ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے
ان لوگوں کا جھک کر ملنا اور برا ہے
بڑے پرندوں کی نیچی پرواز سے ڈرنا
زمیں ہے آنگن اور آسماں سائبان اپنا
گھٹا گھٹا سا ہے پھر بھی کتنا مکان اپنا
آنس تم بھی سامنے رکھ کر آئینہ
زورسے اک آواز لگاؤ ،لوٹ آؤ
اور آخر میں آنس کی آخری غزل سے ایک شعر :
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post