سرخ رس والا سبز پتّا


از : ڈاکٹر معین نظامی
امیر خسرو نے جنوبی ایشیا کے ذرّے ذرّے سے ٹوٹ کر محبّت کی اور اس کے مختلف فطری مناظر اور ثقافتی و سماجی مظاہر کو اپنی شاعری میں والہانہ سراہا۔ انھوں نے اپنی ایک فارسی مثنوی میں برِصغیر کی سماجی زندگی کے ایک سبز و سرخ جزوِ لطیف، پان کی بھی خوب مدح سرائی کی ہے جس میں ان کی مخصوص طبّاعی اور رنگینیِ زبان و بیان نے بہت دل کش لطف آمیزی کی ہے۔ امیر خسرو پان کو ایسا عزیز الوجود پتّا کہتے ہیں جس میں چمنستانوں کے پھولوں کے سے اوصاف پائے جاتے ہیں۔ یہ برِصغیر کی بہترین نعمت ہے۔ پان کا پتّا رگوں اور ریشوں سے بنا ہوتا ہے، اس میں خون نہیں ہوتا لیکن اس کی کرشمہ سازی دیکھیے کہ اسے منھ میں رکھتے ہی اس کی رگ رگ سے خون نکل آتا ہے۔ یہ گدا سے لے کر شاہ تک ہر طبقے میں مرغوب و مقبول ہے۔ دوسرے پتّے شاخوں سے کٹ کر بہت جلد مرجھا جاتے ہیں مگر پان کے کراماتی پتّے مہینوں تازہ و شاداب رہ سکتے ہیں۔
امیر خسرو نے پان کے کچھ ایسے حیران کن طبّی خواص بھی بیان کیے ہیں جنھیں پڑھ کر ہمیں ہمیشہ اپنی محرومی کا احساس شدّت سے جکڑ لیتا ہے کہ ہم کتنے کم نصیب ہیں جو کُرہء ارض پر نصف قرن سے چند برس زائد گزار کر بھی اب تک پان اور پان دان کے آداب و معیارات سے نا آشنائے محض اور اس برگِ سبز کی لذّت و افادیت سے یک سر بے بہرہ چلے آتے ہیں۔ مختلف اوقات میں بعض اہلِ زبان و دل و نظر احباب کی پورے اخلاص سے کی جانے والی کریمانہ کوششیں بھی ہماری اس کور ذوقی کا بال تک بیکا نہیں کر سکیں۔ خسرو بتاتے ہیں کہ پان کھانے سے منھ کی ناگوار بُو کا ازالہ ہوتا ہے، دانت مضبوط ہوتے ہیں، بھوک کی حالت میں کھائیں تو بھوک کی شدّت میں کمی آتی ہے اور سیری کی حالت میں اس کے کھانے سے بھوک چمک اٹھتی ہے۔ درہمیِ دل و دماغ و مزاج کے علاوہ سرِ دست ہمارے دو ہی بڑے مسلّمہ مسئلے ہیں، خرابی معدہ و دنداں۔ کیوں نہ ہم خسرو کی طبیبانہ صلاحیّت پر اعتماد کرتے ہوئے قسمت آزمائی کی کوشش کر دیکھیں۔ کیا خبر ارتقائے ذوق کے مدارج بھی طے ہو جائیں اور افاقہء امراض بھی ہو جائے۔ ہم خُرما و ہم ثواب۔
پان بہت قدیم زمانے سے جنوبی ایشیا کے تہواروں اور روزمرہ کی زندگی میں مقبول چلا آتا ہے۔ یہ ہمارے کئی قدیم لوک گیتوں، کہاوتوں، بجھارتوں اور دو سخنوں وغیرہ میں بھی سرسبز دکھائی دیتا ہے اور کئی تاریخی و نیم تاریخی لطائف و واقعات کا مرکز و محور بھی ہے۔ مختلف مذاہب سے تعلّق رکھنے والے ہمارے کچھ من چلے بادشاہوں اور راجوں مہاراجوں نے تو اپنی بیگمات کو پان دان کے اخراجات کی مد میں الگ سے باقاعدہ جاگیریں بھی دے رکھی تھیں۔ علمائے کرام اور صوفیوں سنتوں کے حلقوں میں بھی اس برگِ سبز کی اتنی ہی پذیرائی تھی جتنی دوسرے معاشرتی طبقات میں۔ بعض علاقوں میں اس کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ اس کی خرید و فروخت ایک باقاعدہ صنعت بن گئی تھی۔ پان کے اجزا کی کمی بیشی سے اس کی بیسیوں اقسام وجود میں آ چکی تھیں اور بعض شہر پان اور پان دان سازی میں بہت مشہور ہو چکے تھے۔
غالباً متأخّر مغل دورِ حکومت میں تجدیدی ذہن رکھنے والے بعض مجتہد دانش وروں نے پان کے طبّی و معاشرتی نقصانات کے بارے میں بھی کچھ لکھا اور عوامی زندگی میں اسے محدود تر کر دینے کے جتن کیے مگر ان کاوشوں کا بھی وہی نتیجہ نکلا جو ایسی مساعی کا ہمارے یہاں عموماً نکلا کرتا ہے۔ وہ اوراقِ پند و نصائح نجانے کدھر گئے لیکن پان کے اوراقِ شاداب آج بھی اسی تازگی و رعنائی سے ہمارے اردگرد موجود ہیں۔
فارسی میں پان کو تانبول، تنبول اور تنبُل بھی کہتے ہیں۔ فارسی کے ایرانی و مقامی شاعروں کے کلام میں کم و بیش ایک ہزار سال سے اس کا ذکرِ لذیذ ملتا ہے۔ فرّخی سیستانی، مسعود سعد سلمان، امیر خسرو، صائب تبریزی اور مرزا بیدل کے علاوہ کئی شاعروں نے پان اور اس کے اجزا، متعلّقات، رواج اور اثرات کو موضوعِ سخن بنایا ہے اور بہت عمدہ نکتہ طرازیاں کی ہیں۔ اردو شاعری بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ کون اہلِ ذوق ہو گا جو اس موضوع پر چند قدیم شعری تخلیقات کے علاوہ مجید امجد کی سدا بہار نظم پنواڑی سے متاثر نہیں ہوتا ہو گا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post