زبان،سٹریو ٹائپ اور ادب (حصہ سوم) : ڈاکٹرناصرعباس نیر ّ

ناصرعباس نیر
ڈاکٹرناصرعباس نیر ّ
(۳) نو آبادیات ، سٹیریو ٹائپ اور برگشتگی
نو آبادیاتی عہد سٹیریو ٹائپ سازی میں بے مثال کہا جاسکتاہے۔سٹیریو ٹائپ ’طاقت کے کلچر‘ میں کتنا بنیادی کردار اداکرتے ہیں، طاقت پر اجارے کی کوششوں میں کتنا معاون ہوتے ہیں،جن طبقات کے لیے یہ وضع ہوتے ہیں ،انھیں کس طرح حاشیے پر جا دھکیلتے ہیں، اور انھیں بے دست و پا کردیتے ہیں ،اور کس طرح اپنے حاشیائی مقام سے نجات ،اپنے متعلق وضع اور رائج کیے گئے سٹیریو ٹائپ کو توڑنے پر منحصر ہوتی ہے، یہ سب ہمیں نوآبادیاتی اور اس کے بعد کے عہد میں دکھائی دیتا ہے۔نیز سٹیریو ٹائپ کس طرح مخصوص سماجی شناخت ’ایجاد‘ کرتے ہیں اورجب یہ شناخت تاریخ کی کتابوں ، اخباروں ،رسالوں، نصابوں اور عام گفتگوئوںکے ذریعے سماج میں پھیلتی ہے تو کیسے یہ شناخت لوگوں کے لیے ’فطری ’بن جایا کرتی ہے،اس کا مشاہدہ بھی نو آبادیاتی مطالعات میں کیا جاسکتا ہے۔اس عہد میں یورپی حکمرانوں نے ایشیا، مشرق ، اس کی تہذیب ،باشندوں،ان کے رہن سہن، اقدار،ان کے سماجی رویوں، ان کی علمی ،معاشی، سیاسی صورتِ حال سے متعلق سٹیریو ٹائپ وضع کیے گئے ،جنھیں نئی طرز کی تاریخ نویسی، اخبارات، رسائل،نصابات اور نئے ادب کے ذریعے استحکام اور دوام بخشا گیا۔مابعد نوآبادیاتی اصطلاح میںایشیا ،مشرق اور ہندوستان’کنسٹرکٹ‘ تھے۔صاف لفظوں میں سٹیریو ٹائپ تھے۔ اس سٹیریو ٹائپ کے مطابق: ایشیا و مشرق وہندستان :تہذیب سے عاری ، عقل سے محروم ، ڈسپاٹک ، توہم پرست ، ذات پات کے بندھنوں میں اسیر، کاہل ، حیوانی ،مجرمانہ خصوصیات کا حامل ہے۔ن۔م ۔راشد کی نظم ’من وسلویٰ‘ میں ’ایشائی سٹیریو ٹائپ ‘ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے
’’کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ
جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے
اور اس کا آغوش آرزومند وا مرے انتظار میں ہے ْْْْْْ
اور ایشیائی
قدیم خواجہ سراوں کی اک نژاد کاہل
اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جارہے ہیں‘‘
راشد نے یہ نظم ایران میں قیام کے دوران میں لکھی تھی جس کا مطلب ہے کہ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں بھی ’راہزن‘ یعنی اوائل بیسویں صدی کے برطانوی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی، ایشیائی لوگوں کو ’خواجہ سرائوں کی نژاد کاہل‘ سمجھتے تھے؛یعنی وہ مرد نہیں ہیں؛جرأت، آزادی، تخلیق ،ذمہ داری،عزت نفس جیسی اعلیٰ انسانی خصوصیات سے عاری ہیں۔ بعض لوگ آج بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ ایشیائی تھے ہی ایسے،اور اب تک ہیں۔ ان کے پاس پہلی دلیل یہ ہے کہ اگر آج بھی مغرب کے مقابلے میں ہم علمی، معاشی ،ثقافتی ،سیاسی ہر اعتبار سے پس ماندہ ہیںتو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ہیں ہی نژاد کاہل۔ دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر ہم کاہل اور پس ماندہ نہ ہوتے تو پہلے یورپی اور بعد میں امریکی کیوں ہمیں اپنی کالونی بناتے؟ تیسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آج ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ مغرب ہی سے آیا ہے،ہمارا اپنا کیا ہے؟ پہلی دونوں دلیلیں ’تاریخی وثقافتی حافظے کی مکمل گم شدگی ‘ کی پیدا کردہ ہیں۔رومیلا تھاپر، رناجیت گوہا،ہربنس مکھیا ،ششی تھروور اور ان سے پہلے مولانا محمد میاں ،حسین احمد مدنی اور اب اروند شرمانے اپنی کتابThe Ruler’s Gaze میں تاریخی دلائل سے واضح کیا ہے کہ قبل نوآبادیاتی عہد کا ہندوستان کوئی پس ماندہ ملک نہیں تھا،جیسا کہ برطانوی تاریخوں میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اروند شرما نے اپنی کتاب کے باب ’ہندوستانی معاشرے کی برطانوی عکاسی‘ میں یہ لکھا ہے کہ بینٹنک اور سلیمن کی ٹھگی کے انسداد کے بیانیے سراسر’مبالغے ‘ اور ’ غلط نمائندگی‘ کی مثال ہیں؛ ٹھگ چند ڈاکو تھے جو ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے نہیں تھے،اور ان میں سے اکثر برطانیہ کی ظالمانہ ٹیکس پالیسیوں سے پیدا ہونے والی غربت کا ردّعمل تھے،لیکن انسداد ٹھگی کا بیانیہ اس مبالغہ انداز میں پیش کیا گیا جیسے پورا ہندوستان ان کی لپیٹ میں تھا اور اس عظیم برائی سے انگریزوں کی رحم دل حکومت نے نجات دلائی۔ چوں کہ انگریزوں کو ’خیالات کے پھیلائو‘ کے ذرائع پر اختیار تھا،اس لیے انسداد ٹھگی کا بیانیہ خود ہندوستانیوں نے اس زمانے میں اور بعد کے زمانوں میں بھی تسلیم کرلیا اور ان کے دلوں میں ایک طرف یہ خیال بیٹھ گیا کہ ہندوستانی ٹھگ ،چور، لٹیرے تھے ،دوسرا یہ کہ برطانوی قانون پسند، انصاف پسند اور رحم دل ہیں۔ اروند شرما نے ہندوستانیوں کے جاہل ،علم دشمن ہونے کے نوآبادیاتی سٹیریو ٹائپ کا جواب بھی لکھا ہے ۔ وہ خود برطانوی حکمرانوں کی مرتب کردہ تعلیمی رپورٹوں: مدراس پریزیڈنسی کی مقامی تعلیم کے سروے(۱۸۲۲ء تا ۱۸۲۶ء) ، بنگال میں تعلیم کی صورتِ حال (۱۸۳۵ء تا ۱۸۳۸ء) اور لائٹنر کی پنجاب میں تعلیم کی تاریخ(۱۸۸۲ء) کا حوالہ دیتے ہیں،جن میں یہ بات مشترک ہے کہ ہر گائوں میں ایک سکول تھا، جن کے لیے وقف موجودتھے ،اور یہ اس وقت بھی کام کرتے رہتے تھے جب مقامی حکمران بدل جایاکرتے تھے۔جب سنتالیس میں انگریزوں نے ہندوستان چھوڑا تب خواندگی کی شرح فقط بارہ اعشاریہ دو فیصد تھی۔ جب آبادی کا اتنا معمولی حصہ خواندہ ہو تو اس کے لیے یہ بات قبو ل کرنا آسان تھا کہ ہندوستانی واقعی ’جاہل اور تہذیب سے عاری ‘ ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نو آبادیات کے ساتھ ہی جدید علوم اور جدید ٹیکنالوجی بھی آئی، اور یہ بھی درست ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں جدید انگریزی تعلیم یافتہ طبقے نے فعال کردارادا کیا، لیکن پورے نو آبادیاتی عہد میں نہ تو پورا ہندوستان جدید ہوا، نہ تعلیم یافتہ ہو ا، نہ یہاں غربت دور ہوئی،اور نہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی کی تخلیق میں نو آبادیاتی ہندوستان نے کوئی حصہ لیا۔ اس موضوع پر تفصیلی بحثیں راقم کی کتابوں : مابعد نوآبادیات ،اردو کے تناظر میں اور اردو ادب کی تشکیل جدید میں موجود ہیں،یہاں ہم اپنی گفتگو اس نکتے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں کہ جب کوئی طبقہ یا قوم اپنے متعلق قائم کیے گئے سٹیریو ٹائپ قبول کرلیتی ہے تو کس قسم کے نفسیاتی اثرات اور ثقافتی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
سٹیریوٹائپ کسی طبقے یا شے سے متعلق ایک تجریدی تصور ہے۔ جب سٹیریو ٹائپ قبول کرلیے جاتے ہیں، یعنی جو علم یورپ نے ایشیا کے بارے میں ’پیداکیا، اسے ایشیائی یاہندوستانی باشندوں نے قبول کر لیا، اس علم کو اپنی شناخت کا مستند ذریعہ تسلیم کرلیا، دنیا و سماج کے ساتھ اپنے رشتوں کو ان کی روشنی میں سمجھنا شروع کردیا تو گویا انھوں نے ایک ’تجریدی تصور‘ کے تحت جینا شروع کیا۔ تجرید، کسی حقیقی ،قابل محسوس شے کا عکس ہوتی ہے نہ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ وہ ایک نئی ، خود اپنے آپ میں قائم تصور ہوتی ہے؛یہی خصوصیت سٹیریو ٹائپ کی بھی ہے۔ اسی بنا پر تجریدآدمی کے لیے ’غیر ‘ ہوتی ہے؛تجرید اور غیر آدمی کی حقیقی دنیا سے نہیں پھوٹے ہوتے مگر آدمی کی حقیقی زندگی پر حاکمانہ اقتدار رکھتے ہیں۔آدمی اپنی شناخت ،اپنے اصل ،ٹھوس ،منفرداور مستند وجود کے طور پر نہیں کرپاتا۔وہ شناخت تو رکھتا ہے ،اس کے تحت جیتا بھی ہے ، مگر وہ کسی اور طاقت ،جس کو وہ پوری طرح گرفت میں نہیں لاسکتا، کی قائم کردہ شناخت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں برگشتگی پیدا ہوتی ہے۔ نو آبادیاتی عہد کے سٹیریو ٹائپ نے برصغیر کے باشندوں کے یہاں برگشتگی پیدا کی۔ ایرخ فرام کا خیال ہے کہ اگر ہم قدیم زمانے کی بت پرستی کے مفہوم پر غور کریں تو برگشتگی کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔اس کے نزدیک توحید اور شرک میں بنیادی فرق بھی اس برگشتگی کا پیدا کردہ ہے جو خود بت بنانے اور اس کے آگے سر بسجود ہونے سے عبارت ہے۔ ’’توحیدی تصور میں خدا ناقابل شناخت اور ناقابل تعین ہے۔۔۔بت پرستی میں انسان خود اپنی ایک جزئی صفت کے اظہار کے آگے سربسجود ہوجاتاہے‘‘۔( ایرخ فرام ، صحت مند معاشرہ، ترجمہ قاضی جاوید،فکشن ہائوس، لاہور، ۲۰۱۶ء ،ص ۱۳۴)۔ سٹیریو ٹائپ بھی ایک بت ہے ،فرق یہ ہے کہ اسے آدمی خود نہیں کوئی دوسر اآدمی یا گروہ بناتاہے۔ جس طرح بت کے آگے سجدہ کرنے سے آدمی اپنی تخفیف کرتا ہے، سٹیریو ٹائپ کے تحت جینے سے بھی آدمی ،جس میں خدا کے بے پایاں ہونے کی صفت مضمر ہے،اپنی تخفیف و بے توقیری سے گزرتاہے۔ نو آبادیاتی برگشتگی کا نشانہ اپنا ماضی ہوتا ہے۔ ساحر کے لفظوں میں نو آبادیاتی باشندہ محسوس کرتا ہے کہ’’میراماضی مری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں‘‘ ،یا اسمٰعیل میرٹھی کے مطابق یہ خیال کرتا ہے :’’کہ ایشیا کی ہر اک چیز پر پڑی دھتکار‘‘۔ نو آبادیاتی باشندے کی ماضی سے برگشتگی ، جدید فرد کے انقطاعِ ماضی سے مختلف ہے،جس میں ماضی کی ان روایات سے لاتعلق ہوا جاتاہے،جو حال میں اپنی موزونیت کھوچکی ہوتی ہیں؛نیز اگر جدید فرد ماضی سے بیگانہ ہوتا بھی ہے تو اس کی بیگانگی خالص تخلیقی وجوہ سے ہوتی ہے؛وہ اس تصور کا حامل ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایک نیا زمانہ حال خلق کرنے کی دیوتائی صلاحیت ہے۔جب کہ نو آبادیاتی باشندہ دوسرے یا غیر کی پیدا کردہ تجریدات کے سبب ماضی سے برگشتہ ہوتا ہے۔ جس طرح بت پرست ، خود اپنی کسی ایک صفت کو مجسم کرکے ، اپنی بے پایانی سے برگشتہ ہوتا ہے، اسی طرح نو آبادیاتی باشندہ ، اپنے ثقافتی ماضی کے محض ایک جز پر توجہ کرکے، اس کی بے پایانی سے برگشتہ ہوتاہے۔ وہ اپنی ثقافتی تاریخ کو ’جدید یورپ کی آمد‘ سے شروع کرتا ہے،اور انھی چیزوں ، علوم، اداروں، نظریات، متون سے وابستگی اختیار کرتا ہے جو جدید یورپ کی راست یا بالواسطہ دین ہیں۔اس سے پہلے کا زمانہ تاریک عہد سمجھا جاتاہے ،اور اس سے بے زاری اور حقارت کا رویہ اختیار کیا جاتاہے۔ ’جدید یورپ کی آمد‘اس کے ثقافتی ماضی کا ایک جز ہے، مگر اسے کل سمجھا جاتاہے۔وہ بت پرست کی مانند ہی اپنی طویل ثقافتی تاریخ کے محض ایک جز کو حتمی سمجھ کر اس کی پرستش کرتا ہے۔ مابعد نوآبادیاتی ادب ، اس سٹیریو ٹائپ پر استفہام قائم کرتا ہے۔ اردو میں انتظار حسین کا فکشن اس کی سب سے اہم مثال ہے۔ نو آبادیاتی عہد میںجدید اردو فکشن کی تاریخ کو مغربی فکشن کی آمد سے سمجھا گیا۔ انتظار حسین اپنے جدید فکشن کوقدیم ہندوستانی و سامی کہانیوںپرا ستوار کیا۔ انھوں نے جدید مغربی فکشن کی نفی نہیں کی، یعنی خود کو ماضی کے احیا پسند کے طور پر پیش نہ کیا ،بلکہ اردو میں جدید مغربی فکشن کو مشرق کے فکشن کی طویل روایت کا ایک باب سمجھا۔ ان کے افسانے ’زرد کتا‘، ’آخری آدمی‘، ’شہر افسوس‘ ،نرناری’،’شہر زاد کی موت‘، ’ مورنامہ‘ اس امر کی مثال میں پیش کیے جاسکتے ہیں۔
انیس اشفاق کا تازہ ناول ’’خواب سراب‘‘ بھی اختراعی اور استفہامیہ پوزیشن کی مثال ہے۔ اس میں مرزا ہادی رسوا کے مشہور ناول ’’امراو جان ادا‘‘ میں امرائو سے متعلق عمومی طور پر اور لکھنئو کی طوائف سے متعلق خصوصی طور پرنو آبادیاتی عہد کے سٹیریو ٹائپ تصور کی فکشنی چھان بین کی ہے۔ ناول کا کبیری کردار علی حیدر امرائو جان ادا کے ایک دوسرے متن کی تلاش میں نکلتا ہے ، جس کے بارے میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چھپے ہوئے امراو جان ادا کے نسخے سے مختلف ہے۔ اس میں امراو کو لکھنئو کے اشراف خاندان کی فرداور فیض علی سے اس ایک بیٹی بتائی گئی ہے۔ تلاش اس ناول کا مرکزی موتیف ہے۔ علی حیدر ناول کے دوسرے اور مختلف نسخے اور اس کے ’حقیقی‘ کرداروں کو تلاش کرتے ہوئے ، در اصل اس لکھنئو کو تلاش کرتا ہے ، جو بھلا دیا گیا ہے، مٹادیا گیا ہے،جس سے لوگ برگشتہ ہوچکے ہیں،اور جو کربلائوں، حویلیوں، باغوں ،درگاہوں سے عبارت ہے اور جہاں کے لوگ اپنی ثقافت ،اپنے حقیقی وجود سے جڑے ہیں۔علی حیدر وہ نسخہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ،اور امرائو کی بیٹی کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے،اور اس دوران میں وہ کئی دل چسپ ،زیادہ تر نسوانی کرداروں سے ملتا ہے۔ پورے ناول میں لکھنئو کے کلچر سے متعلق رائج ہونے والے اس سٹیریو ٹائپ کو شکست کی گئی ہے ،جس کے مطابق لکھنئو ایک مردہ ،زوال یافتہ کلچر کا حامل تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post