زبان،سٹریو ٹائپ اور ادب (حصہ دوم) : ڈاکٹرناصرعباس نیر

ناصرعباس نیر
ڈاکٹرناصرعباس نیر
(۲)
سٹیریو ٹائپ اور ادب
سٹیریو ٹائپ وجود تو زبان کے انشائی وظیفے کی بنا پر آتے ہیں ،مگر سوال یہ ہے کہ انھیں دوام کیسے ملتا ہے ؟
تمام سٹیریو ٹائپ زبان میں وجود میں آتے ہیں ،سماجی و ثقافتی دنیا میں فروغ اور دوام پاتے ہیں۔ان کے فروغ ودوام کا وسیلہ ’آئیڈیالوجیائی سٹیٹ اپریٹس‘ ہوتے ہیں ؛یعنی خاندان ، تعلیمی ومذہبی ادارے اور میڈیا۔ ادب اسی زبان کو ذریعہ بناتا ہے ،جس میں سماجی وثقافتی سٹیریو ٹائپ کی کثرت ہوتی ہے،اور زندگی سے متعلق جن تصورات کو پیش کرتا ہے ،یا جن تصورات پر سوال اٹھاتا ہے ،یا جن تصورات سے گریز کرتا ہے ،ان پر ’آئیڈیالوجیائی سٹیٹ اپریٹس‘ کا اجارہ ہوتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے ادب کی یہ حقیقت کہ وہ بنیادی طور پر تخیلی ہے، مجروح نہیں ہوتی۔ایک معمولی ادیب انھی باتوں کو نئے سرے سے ،قدرے تازہ تشبیہی اسلوب میں پیش کرتا ہے ، جو روزمرہ زندگی کا مانوس حصہ ہوتی ہیں؛ایک اوسط درجے کا ادیب ،روزمرہ کی باتوں کے کم نمایاں پہلوئوں کو رمزیہ واستعاراتی انداز میں پیش کرتا ہے، جب کہ ایک عظیم ادیب معلوم و روزمرہ سے پرے کی دنیا کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔بایں ہمہ ایک عظیم ادیب کا تخیل بھی جس نامعلوم کو مس کرتا ہے، وہ اپنا مفہوم اس معلوم سے فرق، تقابل یا گریز ہی میں واضح کرتا ہے جس وہ خاندان، قوم، تعلیمی ومذہبی داروں اور میڈیا کے ذریعے آگاہ ہوتا ہے۔گویا کسی سطح کے ادیب کو ’آئیڈیالوجیائی سٹیٹ اپریٹس‘ سے مفر نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ادب سٹریوٹائپ کو برقرار رکھتا ہے یا ان کی شکست کرتا ہے یا نئے سٹیریو ٹائپ وضع کرتا ہے؟یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ ادب،زبا ن کے جس انداز کو کام میں لاتا ہے ،وہ خبریہ کم اور انشائی زیادہ ہے۔ یعنی ادب ہمیں باہر کی دنیا کا حقیقی معروضی علم دینے کے بجائے ،اس سے متعلق یا تو ہمارے احساسات ،تخیلات اور خوابوںکو پیش کرتا ہے، یا نئی نئی باتیں ایجاد کرتا ہے،اور نئے احساسات اور نئے خوابوں کی نمود کرتا ہے(اسی میں چھوٹے بڑے ادب کا فرق بھی ہے)۔ ادب سے متعلق بعض لوگوں کی رائے ہے کہ وہ اپنی اصل میں مزاحمت پسند ہے۔ان کے پیش نظر ادب میں استعمال ہونے والی زبان ہوتی ہے ،جو نئی اور کلیشے سے پاک ہوتی ہے،اور استعارہ وعلامت پر مبنی ہوتی ہے۔یہ رائے ایک بنیادی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ استعارہ وعلامت ،عام روزمرہ زبان میں بھی موجود ہوتے ہیں۔صرف کثرت استعمال سے وہ اپنا نیا پن کھودیتے ہیں۔عام زبان اور ادبی زبان میں استعارہ سازی کے عمل میں فرق نوعیت کا نہیں، درجے کا ہوسکتا ہے،نیز ’پوزیشن ‘ یا ’تناظر ‘ کا ہوسکتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ کلیشے سے پاک زبان ،روزمرہ کلیشے زدہ زبان سے انحراف ضرور ہے، مگر مزاحمت نہیں۔ مثلاً جوش کی نظم ’خاتون مشرق‘ میں تازہ ،کلشے شکن زبان استعمال ہوئی ہے، مگر اس میں عورت کے سلسلے میں وہی ’پوزیشن‘ اختیار کی گئی ہے ،جو مشرقی عورت کے سلسلے میں بیسویں صدی میں ہمارے آئیڈیالوجیائی سٹیٹ اپریٹس پیش کررہے تھے ،اور آج بھی جس کی گونج سنائی دیتی ہے۔
عورتیں اقوام عالم کی بھٹک جائیں گی جب
تورہے گی بن کے اس طوفاں میں اک موج طرب
ان کے آگے ہر نیا میدان ہوگا جلوہ گا ہ
اور ترا اسٹیج ہوگا صرف شوہر کی نگاہ
مژدہ باد اے ایشیا کی دختر پاکیزہ تر
آنچ آئے گی نہ ترے مادرانہ ذوق پر
علم سے ہر چند تجھ کو کم کیا ہے بہرہ مند
لیکن اس سے ہو نہ اے معصوم عورت دردمند
علم اٹھالیتا ہے بزم جاں سے شمع اعتقاد
خال وخد کی موت ہے چہرے کی شان اجتہاد
علم سے باقی نہیں رہتے محبت کے صفات
اور محبت ہے فقط لے دے کے تیری کائنات
تسلیم کرنا ہوگا کہ جوش کی یہ نظم پڑھتے ہوئے (جس کے صرف چند اشعار ہم نے یہاں درج کیے ہیں)ہم مشرقی عورت کے لیے احترام و تحسین کے کچھ نئے احساسات ضرور محسوس کرتے ہیں، اور ’اقوام عالم ‘ یا مغربی عورت کے لیے ناپسندیدگی کی ایک نئی لہر دل میں موجزن پاتے ہیں،اور یہ بھی درست ہے کہ اس کا بڑا سبب جوش کی پرجوش خطیبانہ زبان ہے ،مگر یہ نظم عورت کے روایتی سٹیریوٹائپ (کہ وہ حسن وحیاکی دیوی اور شوہر پرست ہے) کو مستحکم کرتی ہے،نہ کہ ایک جیتی جاگتی ، خود فیصلے کرتی ، خود اپنی نظر سے دنیا کو سمجھتی عورت کو پیش کرتی ہے ۔یوں بھی ا س نظم میں عورت کو ایک مرد متکلم آگاہ کررہا ہے کہ وہ کیا ہے،یعنی اپنے تصور کو عورت کی حقیقت بناکر پیش کررہا ہے۔ ٹھیک یہی خصوصیت سٹیریو ٹائپ کی بھی ہے۔اب کشور ناہید کی نثری نظم ’گھاس تو مجھ جیسی ہے‘ دیکھیے جس میں عورت کے روایتی سٹیریو ٹائپ کوطنزیہ انداز میں توڑا گیا ہے۔
گھاس بھی مجھ جیسی ہے
پائوں تلے بچھ کر ہی زندگی کی مرادپاتی ہے
مگر یہ بھیگ کر کس بات کی گواہی بنتی ہے
شرمساری کی آنچ کی
کہ جذبے کی حدت کی
گھاس بھی مجھ جیسی ہے
ذرا سر اٹھانے کے قابل ہو
تو کاٹنے والی مشین
اسے محمل بنانے کا سودالیے
ہموار کرتی رہتی ہے
عورت کو بھی ہموار کرنے کے لیے
تم کیسے کیسے جتن کرتے ہو
نہ زمیں کی نمو کی خواہش مرتی ہے
نہ عورت کی
عورت کاروایتی سٹیریو ٹائپ ،اسے گھاس کی مانند تصور کرتا ہے،جسے اس وقت کاٹ ڈالاجاتا ہے جب وہ سر اٹھاتی ہے۔ سر اٹھا نا ،خود اپنا علم حاصل کرنا اور اس علم کی مدد سے اپنی ذہنی ،جذباتی اور روحانی نشوونما ہے۔ جب جوش یہ کہتے ہیں کہ’علم اٹھالیتا ہے بزم جاں سے شمع اعتقاد‘ تو وہ گویا عورت کے سر اٹھانے یعنی علم حاصل کرنے ، جسم کے ساتھ ذہن کے حامل ہونے کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کشورناہید کی نظم میں عورت ایک تصور کے طور پر نہیں، ایک حقیقی وجود کے طور پر، اپنی صورتِ حال ،اس صورتِ حال کی بے چارگی کا اظہار کرتی ہے،اور اس بے چارگی سے نجات کی آرزو کرتی ہے۔
قصہ یہ ہے کہ جس طرح زبان ،کلیشے زدہ ہوتی ہے ،یا کلیشے شکن ، اسی طرح کسی مصنف کے اختیار کردہ ’ پوزیشن ‘اور تناظر یا توماخوذ ہوتے ہیں یاپھر اختراعی اور استفہامیہ ہوتے ہیں ۔ اگرپوزیشن و تناظر’طاقت کے کلچر ‘ سے ماخوذ ہیں تو ادب مطابقت پسند ہوگا ؛ کلیشے، سٹیرو ٹائپ کے استقرار کا سبب بنے گا ، جیسا کہ جوش کی نظم بنتی ہے ؛اور اگر پوزیشن یا تناظر اختراعی اور استفہامیہ ہیں تو ادب مزاحمت پسند اور سٹیریوٹائپ شکن ہوگا،جیسا کہ کشور ناہید کی نظم۔(اس سے ہم یہ رائے قائم کرسکتے ہیں کہ ادب کی زبان فریب انگیز ہوسکتی ہے)۔ اس اصول کا اطلاق کلاسیکی ،جدید ،ترقی پسند اور مابعد جدید ادب پر بہ یک وقت ہوتا ہے۔ اگرچہ جدید اور ترقی پسند ادب ،اپنے فلسفہ ء ادب کے اعتبار سے سٹیریو ٹائپ شکن تھے ، مگر ان دونوں کے تحت جو ادب لکھا گیا ،اس میں فرد،فرد کی نفسی ووجودی صورت حال ، کسانوں ،مزدوروں ، عورتوں ،سرمایہ داروں ، جاگیر داروں ،مذہب پسندوں کے بارے میں جو نئے تصورات پیش ہوئے ، وہ بعد میں سٹیریو ٹائپ میں بدل گئے ،کیوں کہ لکھنے والوں نے جو پوزیشن اختیار کی وہ ماخود تھی ، اختراعی اوراستفہامیہ نہ تھی۔ ادب کو سٹیریو ٹائپ شکن ہونے کے لیے مسلسل اختراعی و استفہامیہ پوزیشن اختیار کرنا پڑتی ہے۔ یعنی کسی وقفے، کسی توقف اور کسی غفلت کے بغیر ’موجود ودستیاب و حاضر ‘ کے اندر کی دنیا اور اس کے قرب وجوار کو استفہام کی زد پر لانا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ادب کو لازماً فلسفیانہ تشکیک سے کام لینا چاہیے،اور ایک ادیب کے وجدانی وتخیلی عمل پر تعقلی رخ حاوی رہنا چاہیے۔اس بات پر اصرار تو کوئی کوئی سخت نظریہ پرست نقاد ہی کرسکتا ہے کہ ادب اپنے وجدانی عمل کی قربانی دے کر ایک تعقلی شے بن کررہ جائے ؛کیوں کہ تعقل نظریے کی شرط ہے۔ہم تو اس ہوش مندی کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جس کے بغیر وجدان ،غفلت کا شکار ہوسکتا ہے اور سٹیریو ٹائپ کے دوام و استحکام کا وسیلہ بن سکتا ہے(بہ قول اقبال :صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے؍گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش)۔ ادب بہ ہر حال معنی سازی کا عمل ہے؛زندگی سے متعلق ایک نئی بصیرت کی تخلیق کا ذریعہ ہے؛زندگی کے عمومی نیزشخصی، قومی ،ثقافتی تجربے کوایک ایسے انداز میں ‘جی کر دکھانے ‘ کا عمل ہے ،جس میں ایک طرف اس گہرے بھید کی خبرملے جسے ’فوق انسانی ضرورت ‘کہا جاسکتا ہے ،اور دوسری طرف جس میں حسی ، شعوری، تخیلی عناصر یک جا ہوں۔نیامعنی ،نئی بصیرت، بھید اور انسانی ہستی کی حسی و ورائے حسی سطحیں تبھی یک جا ہوسکتی ہیں اور ایک حقیقی ادب پارہ وجود میں آسکتا ہے ، جب’موجود و دستیاب ‘ کے سلسلے میں ہوش مندانہ ،استفہامی انداز برابر کام کررہا ہو۔
اردو کی کلاسیکی شاعری میں جہاںشیخ و برہمن ، کعبہ ودیر ، کفر ودیں کو ایک ایسے مضمون کے طور پر پیش کیا گیا ہے جوکم وبیش یکساں ہے،وہاں وہ سٹیریو ٹائپ میں بدل گیا ہے ،البتہ جہاں اس میں کوئی نیامعنی پیدا کیا گیا ،وہاں گویا شیخ و برہمن کے مضمون کو سٹیریو ٹائپ میں بدلنے سے بچا لیا گیا ہے۔ ہم یہاں صرف شیخ و برہمن کے سٹیریو ٹائپ سے متعلق چند باتیں عرض کرنا چاہتے ہیں۔چند اشعار دیکھیے:
پہلے انصاف سے سن لیں مری دودو باتیں
تب گنہ گار کہیں شیخ وبرہمن مجھ کو
مادھورام جوہر
کی ترک میں نے شیخ وبرہمن کی پیروی
دیرو حرم میں مجھ کو ترا نام لے گیا
منیز شکوہ آبادی
پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کش مکش
اب میکدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا
یگانہ چنگیزی
خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے تو جان چھوٹے گی
فیض احمد فیض
کلاسیکی شاعری میں شیخ و برہمن کا تصور ابتدا میں رسمی و تقلیدی مذہب کے خلاف ردعمل کے طور پر ظاہر ہوا تھا،مگر بعد میں وہ خود ایک تقلیدی یعنی سٹیریو ٹائپ میں بدل گیا۔سٹیریو ٹائپ کی پہچان یہ ہے کہ اسے سننے یا پڑھنے سے ذہن میں ’شے ‘کا تاثر پیدا ہوتا ہے،نہ کہ ہستی کا۔شے ،میکانکی ہے، جامد ہے ،واحد معنی کی حامل ہے، دوسروں سے الگ تھلگ ہے ،اپنی ماہیت میںناقابل ِ تغیر مگرشے ہونے کے سبب کسی دوسری شے سے قابلِ تبادلہ ہے،یعنی اس کی ذاتی قدر نہیںاور سب سے بڑھ کر تجرید ہے۔کلاسیکی شاعری میں شیخ وبرہمن ’تجریدی شے‘ کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں،ایک ہستی کی صورت نہیں۔ تقریباً ہر شاعر کے یہاں شیخ وبرہمن کو جس طرح پیش کیا گیا ہے ،اس سے خیال کسی مخصوص، انفرادی،جیتی جاگتی ،محسوس کرتی ،ردّعمل ظاہر کرتی ہستی کی طرف نہیں جاتا؛ایک طبقے کے مخصوص طرز عمل کی طرف جاتاہے جو شے کی مانند جامدہے اور جسے پڑھتے ہوئے ہر بار چند منفی انسانی خصوصیات ذہن میں آتی ہیں؛وہ خود بے عمل مگر نصیحت کرنے والا ہے،ریاکار ہے،بات بات پر گناہگار ٹھہراتا ہے اوردوزخ کی وعید سناتاہے،ظاہر پرست ہے وغیرہ وغیرہ۔بہ قول یگانہ:
جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے
اس سٹریو ٹائپ میں شیخ ہو کہ برہمن یا واعظ، وہ ایک’ شخص‘ نہیں ہے جو ان سب باتوں کے سلسلے میں کوئی ردّعمل ظاہر کرتا ہویا کچھ محسوس کرتا ہو،اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں ایک ایسی آگاہی رکھتا ہو جو انسانی تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے،بلکہ وہ ایک تشکیل دیاگیا تصور ہے۔ شیخ و برہمن کے سٹیریو ٹائپ کیوں بنائے گئے، اس کے جواز میں کئی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ان کے ذریعے وحدت الوجود کے انسانی مساوات کے پہلو کو نمایاں کیا گیا۔چوں کہ اس راہ میں ظاہر پرست مذہبی طبقہ رکاوٹ تھا،لہٰذا اسے طنز کا نشانہ بنایا گیا۔نیز عشق،طریقت ،باطنی سچائی ،رسوم وقیود شکنی یعنی’ باطنی، تخلیقی آزادی‘ پر زوردیاگیا۔ایک بات بہ ہر حال واضح ہے کہ یہ سٹیریو ٹائپ ’طاقت کے کلچر‘ کے زائیدہ اور حصہ تھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کلاسیکی شاعری محض مشاعروں اور مخصوص اشرافیہ تک محدود نہیں تھی ،نہ سیاسی طور پر وہ ’معصوم ‘ تھی ،بلکہ سماجی دنیا میں جاری تصورات کی کش مکش کا اہم کردار تھی۔بہ قول آفتاب احمد:’’زاہدیت کے خلاف شاعر کی بغاوت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اس گھٹی ہوئی رسمیت کے عوض اپنی روحانی آزادی کو تج دینے پر تیار نہیں ہوا۔شاعر کے نظام اقدار میں سب سے بڑی قدر اپنی آزادی کو برقرار رکھنا ہے ‘‘۔( آفتاب احمد،’’شاعری میں کفر‘‘ مشمولہ اردوادب ، شمار ہ ۱،طبع دوم ۲۰۱۷(۱۹۴۸ء)، ص ۲۸)۔اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ’روحانی آزادی‘ کے حصول کی جدوجہد محض داخلی سطح پر نہیں کی گئی بلکہ حقیقی،سماجی دنیا کے تناظر میں کی گئی ہے۔نیز اس آزادی کے ثمرات بھی شخصی نہیں ،سماجی ہیں۔ شیخ و برہمن کے سٹیریو ٹائپ کو غیر معمولی مقبولیت اس لیے ملی کہ وہ اس گھٹن کو کم کرتے تھے جو مذہبی ظاہر پرستی کی پیدا کردہ تھی،اور جسے عام لوگ بھی شدت سے محسوس کرتے تھے۔ آفتاب احمد نے شیخ و برہمن کے سٹیریو ٹائپ کو ’کفر کی تمثیلیں ‘ کہاہے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے، لیکن کچھ لوگ انھیں علامت کہتے ہیںجو درست نہیں۔ تمثیل ہر چند دہرے مفہوم کی حامل ہوتی ہے ،مگر دونوں مفاہیم واضح ہوتے ہیں،جب کہ علامت کے مفاہیم غیر متعین ہوتے ہیں ،جنھیں صرف قرأت کے دوران ہی میں متعین کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ شیخ وبرہمن وواعظ کے مفہوم کے بارے میں دو رائے نہیں، اس لیے یہ سٹیریو ٹائپ ہی ہیں، علامت نہیں۔
کلاسیکی شاعری کے یہ سٹیریو ٹائپ ہمیں ایک مشکل سے بھی دوچار کرتے ہیں۔ کوئی بھی تصور، خواہ وہ کتنا عظیم ہو، یا کوئی بھی طرز فکر خواہ کس قدر وہ رسمیت کو چیلنج کرنے والا ہو،جب خود ایک رسم بن جاتاہے ،یعنی سٹیریو ٹائپ تو وہ کیوں کر اس آزادی کو ممکن بناسکتا ہے ،جس کا دعویٰ وہ اوّل اوّل کرتا ہے؟ شیخ وبرہمن ابتدا میں رسمیت کے خلاف بغاوت تھے، لیکن جب یہ خود رسم یا سٹیریو ٹائپ بن گئے تو ان کے ذریعے شاعر روحانی آزادی کیوں کر حاصل کرسکتا ہے؟ کلاسیکی شاعر ہو یا جدید یا مابعد جدید،اسے روحانی آزادی کی جدوجہد نئے سرے سے ،ایک اپنے نئے ڈھنگ سے، خود اپنے لسانی و تصوری وسائل کی مدد سے کرنا ہوتی ہے،ورگرنہ وہ صرف کلیشے پیش کرتا ہے یا تکرار کی مشقت کرتا ہے۔زیادہ سے زیادہ وہ ایک مضمون(شیخ و برہمن ) میں ایک نیا پہلو دریافت کرکے چونکا سکتا ہے، روحانی یا تخلیقی آزادی سے محروم رہتا ہے۔دوسرے لفظوں میں اکثر شاعروں نے شیخ و برہمن کے سلسلے میں جوپوزیشن اختیار کی وہ ماخوذ تھی، استفہامی یا اختراعی نہیں تھی۔ لہٰذا ہم یہ رائے قائم کرسکتے ہیں کہ شیخ وبرہمن کے سٹیریو ٹائپ نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ہندوستانی سماج میں مذہبی رسمیت کے خلاف ایک عمومی فضا تو قائم کی، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کی مددسے ہر شاعر تخلیقی ورحانی آزادی کی جدوجہد میں بھی کامیاب ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی میں سوائے دو ایک ترقی پسندشاعروں کے ان سٹیریو ٹائپ کو ترک کردیا گیا۔ترقی پسند شعرا نے بھی انھیں نئے سیاسی مفہوم میں استعمال کیا ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post