روحِ قدیم کی قسم

از: نوید صادق

 

برسوں پہلے جناب صابر ظفر کا شعری مجموعہ ـ’’دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے‘‘ہاتھ لگا۔ ان دنوں مَیں صابر ظفر کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔بس ماورا پبلی کیشنز پر یہ مجموعہ نظر پڑا۔ کھڑے کھڑے تھوڑی ورق گردانی کی اور دام ادا کر کے ہوسٹل چلا آیا۔مطالعہ کیا،بار بار کیا۔ یاد رہے یہ وہ دور تھا کہ ایک دم کچھ نام نہاد شعرا مارکیٹ میںاپنی کتابوں کی بھرمارکے چکر میں تھے۔ ایک نوآموز قاری کے لیے کتابوں کی دکان پر کھڑے ہو کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا تھا کہ کیا خریدوں، کیا نہ خریدوں؟ صابر ظفر مجھے اچھے لگے:
شہر اپنا ہے وہی، پہلی محبت ہے جہاں

یہ کراچی تو ظفر وال نہیں ہو سکتا

بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا

محبت میں کوئی بھی عمر بھر اچھا نہیں لگتا
صابر ظفر کا تصنع اور بناوٹ کے ناز نخروں سے مبرا کلام بھاتا چلا گیا۔ موضوعاتِ محبت کے بیان کے ساتھ ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں معاشرتی مسائل کی پیچیدگیاں ان کے قلم کا شاہکار قرار پائیں۔ لیکن واضح کرتا چلوں کہ ان دنوں کہ آتش جوان تھے، ان کے معاملاتِ محبت میں رچے بسے اشعار حافظے میں محفوظ ہو گئے، پھر ان کی دیگر شعری مجموعے بھی زیرِ مطالعہ رہے۔ یقین کیجیے یہ ان کے کلام کی تاثیر ہے کہ آج محض اپنے حافظے پر اعتماد کرتے ہوئے یہ اشعار نقل کرتا چلا جا رہا ہوں:
کلام کرتا ہوا، راستہ بناتا ہوا

گزر رہا ہوں میں اپنی فضا بناتا ہوا

کہیں کہیں کوئی تارا، کہیں کہیں کوئی میں

نظر کے سامنے وہ شکل خال خال آئی

صورتِ مرگ فقط راہ کی ٹھوکر نکلی

زندگی تو مرے اندازے سے کم تر نکلی

شہر آئے تو سمندر نے اسے چھین لیا

عکس لائے تھے جو اک گاؤں کے تالاب سے ہم
گریز پا ہے جو مجھ سے اسی کے پاس بہت ہوں

میں اپنے وعدے پہ قائم ہوں اور اداس بہت ہوں

میں گریز کیا کرتا اُس کے ساتھ چلنے سے

زخم تو نہیں بھرتا، راستہ بدلنے سے

ہمارا عشق ظفر رہ گیا دھرے کا دھرا

کرایہ دار اچانک مکان چھوڑ گئے
سلامت ہیں اگر آنکھیں تو چہرہ کیوں نظر آتا نہیں ہے
مگر دیکھو، تمھارے سامنے دیوار ہے، شیشہ نہیں ہے
کہیں کوئی بناوٹ، عدم ابلاغ، قاری سے لفظی ہیر پھیر۔۔۔ کچھ نہیں۔شاعری اپنے قاری سے ایک گفتگو کا درجہ رکھتی ہے، اپنا کتھارسس ہے، قاری کو اپنے تجربات و مشاہدات اور محسوسات میں شریک کرنے کا دوسرا نام ہے۔ جذبوں کی تربیت ہے۔ اور صابر ظفر ان تمام مقاصد سے بخوبی واقف ہیں… لیکن پھر نجانے ایسا کیا ہوا کہ کراچی سے شائع ہونے والی کتب کی لاہور میں عدم فراہمی یا کچھ اور… ہم صابر ظفر کی شاعری سے کٹ گئے تاوقتیکہ2009ء میں صابر ظفر لاہور تشریف لائے، ان سے ہلکی پھلکی ایک ملاقات ہوئی۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ ایک نفیس شاعر۔۔ ایک نفیس اور خوبصورت انسان۔۔۔میں نے ان سے گلہ کرڈالا کہ ان کی کتب لاہور میں نہیں ملتیں۔
صابر ظفرنے کمال محبت کا ثبوت دیتے ہوئے کراچی پہنچتے ہی اپنی کتاب ’’آئینوں کی راہداریاں‘‘ ارسال کر دی۔ اور اس کے بعدیہ سلسلہ چل نکلا۔ لیکن وہ صابر ظفر… جو برسوں پہلے ملے تھے، دوبارہ نہیں ملے۔ یہ تازہ ا ٓمد کتب مجھے اپنے محبوب شاعر سے بارِ دگر ملوانے میں ناکام رہیں۔ شعر میں یہ نیا ذائقہ …کہاں ابتدا، دھواں اور پھول، پاتال، جتنی آنکھیں اچھی ہوں گی، دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے، بارہ دری میں شام اور کہاں … کوئی بات ہے ضرور جو چونکا نہیں رہی، بھا نہیں رہی۔ لیکن میںشاید یہ بات بھول گیا کہ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی گزر چکا، وقت کتنی کروٹیں لے چکا… صابر ظفر… ایک تغیر پسند طبیعت… تجربات، الفاظ کو الٹ پلٹ کر کچھ نیا نکالنے کی کوشش… ہر کتاب ایک نئے تجربہ کی پیش کش… اب تمام تجربوں سے یہ امید کیوں کر رکھی جا سکتی ہے کہ ہر طبع کو ایک دم گوارا ہو جائیں:
ہر طرح کی غزل کہی میں نے

ہر طرح کے خیال سے گزرا
تجربے تو تجربے ہوتے ہیں، کہیں بات بن جاتی ہے تو کہیں… لیکن اس سارے میں صابر ظفر اُس صابر ظفر کو نہیں بھولے جو مجھے پسند تھا، اُس صابر ظفر کی جھلکیاں ہر کتاب میں نظر آتی رہیں یہاں تک کہ بات ان کے چالیسویں شعری مجموعہ ’’روحِ قدیم کی قسم‘‘ تک آن پہنچی۔ ـــ’’روحِ قدیم کی قسم‘‘ میں صابر ظفر ایک بار پھر اپنے بھرپور انداز … دل کش انداز میں سامنے ہیں۔اسے مراجعت پر مبنی رویہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ صابر ظفر نے اپنے آپ کو دہرانا شروع کر دیا ہے۔ اپنے آپ کو دہرانے کا عمل صابر ظفر کی سرشت ہی میں نہیں، یقین نہ آئے تو ان کے چالیس شعری مجموعے اٹھا کر دیکھ لیں۔
ایسا لگتا ہے شاعر نے عمر بھر جو دیکھا، جن تجربات سے گزرا ان کی بازیافت بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ ان سب سے الگ تھلگ ایک طرف بیٹھا ان سب کا جائزہ لے رہا ہے… گویا ایک احتساب کا عمل چل رہا ہے۔ اس احتسابی عمل میں کچھ بھی تو اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں۔ معاملات محبت کہ ’’ابتدا‘‘ سے ’’روحِ قدیم کی قسم ‘‘ تک شاعر کا مطمح نظر رہے ہیں… ایک فلم کے مانند اس کے سامنے ہیں۔ یادیں ہیں، باتیں ہیں، سرخوشی کی جھلکیاں، ملال کی کیفیات… اور ان سب کے بیچوں بیچ غلط کو غلط اور درست کو درست جاننے اور بعدازاں اس کے اظہار… شعری اظہار میں بھرپور جدتِ فکر کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے:
آیا نہیں کوئی جانے والا

آنکھیں بڑی منتظر رہی ہیں

میں کیسے تجھ کو بتاؤں وصال کا مطلب

کبھی ترا کبھی اپنا پتا نہیں ملتا

شاید وہ ملن تھا الوداعی

دل نے کبھی چشمِ تر نے دیکھا

غم یہی ہے کہ تیرے ہوتے ہوئے

ایک غم جائے، ایک غم آئے

بس اک تم ہو، نہیں چلتے، مرے ساتھ

اِدھر دیکھو زمانہ چل رہا ہے

میں ڈوبتا ہوں کسی ماورائی لذت میں

ترا خیال میں آنا ، وصال ہی تو ہے

میلا نہ کیا کرو ظفر دل

ہوتے ہیں محبتوں میں گھاٹے

پھر ظفر نے کسی سے بات نہ کی

اُسے آزار جانے کیا پہنچا
صابر ظفر کی شاعری انھی موضوعات کو محیط نہیں، اور یہ آزار جس کا ذکر مذکورہ بالا شعر میں آیا، بات آگے بڑھانے کو بہت ہے۔ انسانی زندگی کا آغاز، ترقی کے مدارج، ترقی کے ثمرات لیکن اس کے نتیجے میں فرد کی فرد سے دوری، معاشرہ… ایک بڑی اکائی کی متعدد اکائیوں میں تقسیم، کائنات میں انسان کی حیثیت، انسان اور اس کے تخلیق کنندہ کا تعلق، تخلیق کنندہ کی اپنی تخلیق سے بے اعتنائی، اپنی مٹی کی اپنوں کے ہاتھوں بے حرمتی، … صابر ظفر کے شعر کا کینوس وسیع ہے:
ہماری خاک کیسے اڑ رہی ہے

کبھی دیکھو اکیلا پن ہمارا

پرچھائیں کوئی جو آئے جائے

کیا کہیے، گریز ہے کہ رم ہے

الجھی تھی نمو نئی پرانی

تخلیق ہوئے تضاد میں ہم

نہ ہوتے تم تو شاید پھر بھی چلتا

یہاں جو کام جیسا چل رہا ہے

کوئی منزل نہیں پھر بھی مسلسل

ظفر جو چل رہا تھا، چل رہا ہے

میں بہلتا رہا ہوں بچوں سا

دیر لے کر، کبھی حرم لے کر

کیا جبر یہ پے بہ پے نہیں ہے

جو تھا، نہیں تھا، جو ہے، نہیں ہے

گزرے ہو عدم سے تو بتاؤ

کیا وہ کبھی تھی، جو شے نہیں ہے
اس سارے میں صابر ظفر اپنے اردگرد پھیلی حقیقتوں… تلخ حقیقتوں کو فراموش نہیں کرتے۔کہیں وہ ماضی کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں تو کہیں حالات کے تجزیہ پر مائل دکھائی دیتے ہیں۔ ہم فرد سے معاشرہ اور معاشرہ سے قوم کی جانب سفر میں ناکام رہے ہیں۔ اس ناکامی کی وجوہات کا سراغ لگانے میں ماضی کلیدی کردار ادا کرتا نظر آتا ہے اس پر شاعر کی بصیرت اور دہائیوں پر محیط بصری مشاہدہ… لیکن ایسا بھی نہیں کہ سدھار کا کوئی راستہ ہی باقی نہ رہا ہو:
کیا عجب قافلہ تھا وہ جس کو

حاجتِ سایۂ شجر نہ ہوئی

اِس دکھ کے بھنور میں ہوں ظفرؔ کچھ نہیں کھلتا

دل ڈوب رہا ہے کہ وطن ڈوب رہا ہے
یہ زمانہ کبھی نہ سدھرے گا

جیسے تیسے نباہ کر لیجے

آوارگی میں ہوش کسی کا نہیں رہا

منزل کہاں ہے اور ہے صابر ظفر کہاں

خود اتنی کھوکھلی کر دی ہیں تم نے اِس کی جڑیں

ہوا چلی تو سمجھنا کہ یہ شجر بھی گیا

برسیں گی کرم کی بارشیں بھی

فی الحال تو لاشیں گر رہی ہیں

ہم خاک سے ابھریں تو کوئی راستہ دیکھیں

سنتے ہیں کہ نقشِ کفِ پا اپنی جگہ ہے
صابر ظفر کا شعری سفر مکمل اعتماد اور شعری رکھ رکھاؤ کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اس مجموعۂ غزل ’’روحِ قدیم کی قسم‘‘ پر جتنی گفتگو ہو چکی اور جتنی ہو گی، اس سے کہیں زیادہ بات ہو سکتی ہے لیکن اپنی کوتاہی کا اعتراف بنتا ہے کہ صحت سے متعلقہ مسائل کے باعث بھرپور توجہ نہ دے سکا۔اس کی تلافی لازم ہے۔سو ادھار رہی۔بلکہ اب تو جی چاہتا ہے کہ صابر ظفر کے چالیس شعری مجموعے سامنے ہوں، ان کا ایک کڑا انتخاب کیا جائے اور اس کے بعد ایک تجزیہ کہ اردو شعر کا رنگ چوکھا کرنے میں ان کا حصہ کتنا ہے۔ چند اشعار کے ساتھ اجازت چاہوںگا:
ہم نے بھی دیا جلا رکھا ہے

آؤ کبھی اس طرف ہواؤ

دن کو تو خیر دھوپ میں جلتا رہا مگر

شبنم سے شب کو سبزۂ پامال نم ہوا

ہم ہیں جس گل کے چاہنے والے

وہ ازل سے ابد تلک ہے کِھلا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post