تنقید

بڑے موضوع پر بڑی نظمیں تخلیق کرنے والا یونس خیالؔ : فرحت عباس شاہ

” بستی سے جب نکلے تھے
جانے کتنا روئے تھے
کالی رات ، سفر اور میں “
شاعری کی اب تک اَن گنت تعریفیں بیان کی گئی ہیں ۔ خود میں نے اسے کئی طرح سے بیان کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ ” شاعری جذبات کا بے ساختہ اُبال ہے “ ۔ جس پر میرا اعتراض تھا کہ جذبات کا بے ساختہ اُبال تو گالیاں بھی ہو سکتی ہیں ۔ بہتر ہے اسے جذبات کا جمالیاتی یا تخلیقی بہاو کہہ لیا جائے ۔
آج ڈاکٹر یونس خیال کے جنوری 1991 میں شائع ہونے والے شعری مجموعے ، ” کالی رات ، سفر اور میں “ کا مطالعہ کرتے ہوئے میرے ذہن میں شاعری کی ایک اور تعریف سرسرائی ہے ۔ پھر مجھے ٹی ایس ایلیٹ کی تعریف اور اس میں اپنی طرف سے کی گئی ترمیم بھی یاد آئی ۔ سوچا یہ سب لکھ دینا چاہیے تاکہ قارئین تک مجھ جیسے طالب ِ علم کے تخلیقی و تنقیدی کام کی رَو اور اس کے بیان کا عمل من و عن پہنچ پائے ۔
یونس خیال کی کتاب پڑھتے ہوے مجھے لگا کہ ایک نہایت مہذب انسان، انسانی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا صدیوں سے ہوتی چلی آ رہی بے انصافی اور ظلم و ستم کا انتہائی شائستگی سے جواب دے رہا ہے اور جواب دینے کے ساتھ ساتھ اپنے خوفزدہ ، سہمے ہوئے دل کی حالت اور رنج و ملال سے لبریز جذبات کی آنچ کو بھی دھیما رکھے ہوئے ہے ۔ ” کالی رات ، سفر اور میں “ شاعری کی خالص ترین شکل ہے ۔ مجھے کہنے دیجیے کہ کسی تخلیقی انسان کے مہذب اور جمالیاتی ردِعمل کا نام شاعری ہے ۔ یہ ہے شاعری کی وہ تعریف جو یونس خیال کی شاعری پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں آئی ۔ گویا ایک ادراکی نقاد کےلیےضروری ہے کہ کسی تخلیق پارے کو پڑھتے ہوئےجو پہلا تاثر اس کے ذہن میں آئے اسے اہمیت دے کیونکہ وہیں کہیں اسے اس تخلیق کار کے شہر طلِسمات میں داخل ہونے کے لیے کنجی ملے گی ۔ صنائع بدائع ، تلازمے اور تشبیہہ و استعارے کی پرکھ پرچول کی تنقید اردو زبان و ادب میں ہر بی ایس ، ایم ایس کرنے والا طالب علم کر ہی لیتا ہے لیکن شاعر کے داخلی شہر طلسمات تک رسائی ہر کس و نا کس کے بس کی بات نہیں ہوا کرتی ۔ ویسے بھی اقتدار اور دولت کی ہوس کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں پر بہیمی جبر مسلط کرکے رکھنے والے گروہ ، کلاس یا طبقے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر سچائی سے خوف زدہ رہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ شاعر اور ادیبوں سے بھی ہر جابر سلطان اور آمر کا خوف ثابت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر زبان و ادب کا نصاب ترتیب دیتے وقت حکمران اسے علم کی بجائے اپنے اقتدار کی تائید کرنے والے عناصر کو’’ علم ‘‘ بنا کر اور’’ نصاب‘‘ کہہ کر کتابوں کی فہرست میں شامل کر دیتے ہیں ۔
آپ اگر تھوڑا سا غور فرمائیں گے تو آسانی سے یہ سب گورکھ دھندا آپ کی سمجھ میںآ جائے گا کہ شاعری پڑھاتے وقت شاعر کے احساس کی تفہیم ، اس کے نظریے کے شعور اور سماج کو ترتیب بخشنے، احساس کو شفاف بنانے اور انسانی باطن کو حسن عطاء کرنے کا معجزہ برپا کرنے والے عناصر کی تعلیم دینے کی بجائے مجاز مرسل ، تشبیہ ،استعارہ ، صنعت ِ لف و نشر ، صنعت تضاد اور صنعت فلاں پڑھانے پر ہی سارا فوکس کیوںکیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ان اداروں میں بیٹھے غلامانہ ذہنیت کے مارے ہوئے سرکاری نابغے اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو علم و شعور سے دور رکھا جائے ۔ یہ مصنوعی دانشور ہمیشہ انتہائی چوکس نظر آتے ہیں کہ کہیں ان کے آقاوں کے فلاحی نعروں اور منافقانہ بیانیوں کے پس پردہ ذہنیت کا پردہ فاش کرنے والا اور سماجی و کائناتی ادراک بخشنے والا حقیقی نصاب ترتیب پا کر حقیقی علم کی ترسیل کا باعث نہ بن جائے ۔
ہر بڑا تخلیق کار اپنے اندر راز ہائے سربستہ کی پوری کائنات سموئے ہوئے ہوتا ہے ۔ ہمارے نصاب اور ہمارے ناقدین اس کائنات سے اسی لیے پہلو کترا کر نکل جاتے ہیں کہ اس میں داخل ہونا اور پھر بچ بچا کے نکلنا دونوں آسان نہیں ہوتے ۔ بحیثیت ایک ادراکی نقاد کے یونس خیالؔ کے اس شہر طلسمات میں داخل ہونا میرے لیے بہت سوگوار حیرت کا باعث تھا۔ اس لیے کہ یہاں ہر دیوار پر انسان کے غیر انسانی اور سماج دشمن رویوں اور کردار پر شکوے، نوحے اور بین کندہ تھے اور وہ سب اتنا جیتا جاگتا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے دل کا گریبان پکڑ کے اور ضمیر کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھا گیا ہو کہ کیا تمہیں اس لیے نائب بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اس شہر طلسمات میں قدم دھرتے ہی یوں لگا جیسے پرانے سوکھے خون کی باس اور جھپٹ پڑتی پرچھائیوں کی خراشتی سسکاریوں نے دل کو تیز نوکیلے ناخنوں سے دبوچ لیا ہے ۔ منڈیروں اور چوکوں ، چوراہوں کی بالکونیوں سے اُمڈ اُمڈ پڑتا خوف ، راستوں پر اُگ آنے والی صلیبیں ۔۔۔ الحفیظ الامان ۔۔ ۔ ایک نظم دیکھیے : ” جنگل بستی “
دہلیزوں پر خوف کے پہرے
گلیوں میں چیخیں ، آوازیں
دیواروں سے لپٹے سانپ
سڑکوں پر بے جان پرندے ، بکھرے پر
سب رستے سنسان
اس بستی سے تو بہتر تھا
جنگل میں انسان ۔
نظم میں خوں ریزی کے بعد کا ماحول ، کسی مفتوحہ شہر کی تصویر اور جا بجا بکھرے پڑے بےبسی کے نشانات انسانی تہذہبی ارتقاء اور سماجی شعور کے منہ پر طمانچے مار مار کر لال کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔کچھ اسی طرح کامنظران کی نظم ” انسان “ میں بھی دکھائی دیتاہے:
من مندر کی دیواروں پر
ہلکے گاڑھےسرخی مائل چھینٹے
چھت کے شہتیروں سےلٹکے
اندھے کالے جالے،خوفناک چمگادڑ
فرش پہ بکھری کھوپڑیاں
کچھ بے چہرہ سی آنکھیں
چاروں جانب پھیلی جلتے جسموں کی بد بُو
باہر سونے کا دروازہ چاندی کے دربان
رنگ برنگی خوشبوؤں میں لپٹا قبرستان
کہنے کو انسان۔
یہ ہے وہ آفاقی اور زمانی شاعری جو پتھر کے زمانے سے لیکر آج تک کی نام نہاد مہذب دنیا اور منافق انسانوں کے چہروں سے جھوٹی تہذیب اور جعلی شعور کی نقابیں اتار کر آئینہ دکھاتی ہے ۔ اگر بتیس سال پہلے شائع ہونے والی نظمیں آج کے غزہ کی تصویر پیش کریں تو مجھے انہیں عظیم نظمیں کہنے سے کون روک سکتا ہے ۔
کیا نظم میں اعلیٰ کرافٹ ، بلند بانگ آہنگ اور موٹے الفاظ یا یونانی فلسفیوں کے نام اور جھوٹی کہانیاں ہونا کوئی بہت ضروری اور اہم ہوتا ہے ؟ بالکل نہیں ۔ نظم شدت جذبات سے مغلوب ہو کر خود سے باتیں کیے جانے کا نام ہے ۔ بڑا تخلیق کار اپنے محسوسات ،علم ، شعور ، ادراک ، نظریے اور اظہار کی قوت کی رفعت و وسعت اور گہرائی کے مطابق باتیں کرے گا ۔ اگرچہ پرستار لڑکیوں میں گھرے کرکٹر کو آٹو گراف دیتے دیکھ کر اپنی غربت اور بے مائیگی کے احساس کا شاعرانہ بیان بھی اپنی جگہ حسن و معانی رکھتا ہے ۔ مگر انسانی وحشت کے ازلی و ابدی المیے اور بربریت کے بار بار دہرائے گئے واقعات پر آنسووں بھرا احتجاج اور زخم آلود مذمت کا ادبی درجہ کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔
ڈاکٹر یونس خیال کی نظموں میں بات ماضی اور حال میں کی جانے والی انسانی درندگی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ شاعر کے دل میں انسان کے انسانوں پر ڈھائے گئے ستم کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئےمستقبل میں کچھ بہتر امید کا دم ٹوٹنا اور خدشات کا جنم لینا اس سے بھی بڑے المیے کی نشاندہی کرتا ہے ۔ نظم ”خوف“ میں بات کرنے کااندازدیکھیے:
شہر کی دیوار پر
لکھے گئے
پھر نئی ترتیب سے
کالے حروف
اس سے پہلے بھی
نہ جانے
اس طرح کی کالی تحریروں کو پڑھ کر
کتنے انسانوں سے
بینائی چِھنی ہے
اب بھی
ایسے ہی کئی خدشوں کی چیخیں
مرے اندر سنائی دے رہی ہیں۔
” خوشبو کا پہاڑ “ ، ” جس دن تیری یاد نہ آئے “ ، ” تنہائی کا دکھ “ ، ” آسماں سے کون بچھڑا “ ، ” تلاش “ ، ” زاد ِ سفر “ اور ” نئے سال کا پہلا سورج “ جیسی نظموں کااگربغورجائزہ لیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ جبر ، تسلط ، ظلم و ستم ، شکست و ریخت ، بے حسی ، بےبسی ، قتل و غارت گری ، کشت و خون جیسی قیامت آثار دنیا اور جہنم آثار زندگی کے اتھاہ کرب سے گزر کر بھی اپنی ادھوری محبتوں اور کمزور وعدوں کی چھچھلتی چھاوں میں عارضی سکون سے جینے کی ہمت کشید کرنے والا شاعر یونس خیال تمام تر ناتوانی اور بےبسی کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا بلکہ اپنے جیسے دوسرے مظلوموں کے دکھ میں شرکت کا اعلان کرکے ان کے دکھ میں اکیلا ہونے کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے دنیا پر انسان کے روپ میں مسلط حیوان طبقہ شاعر کے مشاہدے ، شعور اور انسانی احساس سے خوفزدہ رہتا ہے ۔
ظالم طبقے اور اس طبقے کے ہرکاروں کو معلوم ہے کہ شاعر مظلوم کو نہ صرف ظالم کی شناخت کرواتا ہے بلکہ اس کو حوصلہ اور ہمت دے کر ظلم کے خلاف بغاوت پر اُکساتا بھی ہے ۔ ہردورکے جابرانہ نظام کو پتہ ہےکہ یونس خیال اوراس کے قبیلے کےہرشاعرکو ان کے جبر و ستم کا پورا شعور بھی ہے اور دنیا بھر پہ مسلط کی جانے والی تباہی کا پورا پورا علم بھی ۔ وہ اس شعور کو آگہی کی روشنی میں ڈھال کرلوگوں پر حقیقت کو واضح بھی کریں گے اور امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے مظلوم طبقے کے دکھ میں شریک ہوکر اس شرکت کو رواج دینے کی کوشش بھی کریں گے ۔ اسی لیے یہ ظالم طبقہ یونس خیال اور اس کے قبیلے کے ہر شاعر سے خوفزدہ رہتا ہے ۔نظم دیکھیے ’’مجھے اپنے ماتم سے فرصت ملی تو‘‘
زمیں کی رگوں سے
لہو پھوٹ کر بہہ رہا ہے
ہوا زرد چادر سے بالوں کو ڈھانپے
گئے موسموں کو صدا دے رہی ہے
پرندوں کے پر
ٹوٹ کر گر رہے ہیں
ہرے جنگلوں کی جڑیں
جانے
کس خوف سے سوکھ کر جل گئی ہیں
درختوں کی شاخوں کی آنکھیں بھی
پتھرا گئی ہیں
پہاڑوں سے لپٹی ہوئی برف
سورج نے
پگھلا کے رکھ دی
مجھے ان کا دکھ ہے
اس نظم کےدوسرے حصے میں شاعرنے زمین اورمعاشرے میں پھیلے کمزورطبقات کےدکھوں میں اپنے ذاتی دکھ کی آمیزش سےذات اورکائنات کے فاصلوں کوکم کرنے کرتے ہوئے قاری کواپنی طرف اچانک متوجہ کیاہے:
مجھے سب کا دکھ ہے
زمیں کا،ہواکا
پہاڑوں ،پرندوں ،ہرے جنگلوں کا
گئے موسموں کا !
میں ان سب کے دکھ کی نوابن کے
اک روزنوحہ لکھوں گا
اگرزندگی میں
مجھے اپنے ماتم سے فرصت ملی تو !

مجھے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس مختصر لیکن نہایت گہرے مجموعہ کلام کی فقط چند نظموں کے احاطے کی کوشش کر پایا ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے زمانوں کے ناقدین اس بڑے شاعر کی غزلوں اور قطعات میں سے بھی بڑےموضوعات اور کیفیات کے شہر برآمد کریں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

تنقید

شکیب جلالی

  • جولائی 15, 2019
از يوسف خالد شکیب جلالی—————-ذہنی افلاس اور تخلیقی و فکری انحطاط کی زد پر آیا ہوا معاشرہ لا تعداد معاشرتی
تنقید

کچھ شاعری کے بارے میں

  • جولائی 15, 2019
      از نويد صادق مولانا شبلی نعمانی شعرالعجم میں لکھتے ہیں: ’’ سائنس اور مشاہدات کی ممارست میں