امیرخسرو کی جمالیات : ڈاکٹر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹرشکیل الرحمن
ڈاکٹر شکیل الرحمٰن
امیرخسرو کا تصوّر کیجیے محسوس ہو گا جیسے غالبؔ کے جلوۂ صد رنگ کی معنویت واضح ہوتی جا رہی ہے۔
ایک شخصیت میں اتنے جلوؤں کا سمٹ آنا یقیناً غیر معمولی بات ہے۔ دُنیا کی تاریخ میں بڑے دانشوروں کی کمی نہیں لیکن بہت کم سوچنے والوں اور دانشوروں کی شخصیتیں ایسی ہیں کہ جن کی اتنی جہتیں ایک ساتھ ظاہر ہوئی ہوں۔ اپنی شخصیت کا اظہار اتنی شدّت سے دُنیا کے بہت کم دانشوروں اور فنکاروں نے کیا ہے۔ جب بھی امیرخسرو کے متعلّق سوچتا ہوں ایک ایسے اساطیری پیکر کا تصوّر پیدا ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ اپنے جانے کتنے پَر کھولتا ہے، ایک پَر کھلتا ہے اور جلوہ تمثالِ ذات اور جلوۂ تمثالِ خیال کی ایک دُنیا نظر آنے لگتی ہے۔
امیرخسرو بلاشبہ ایک بڑے جینیس (Genius) تھے ایک جینیس، اپنے عہد کی اعلیٰ قدروں کی آمیزش اور عمدہ روایات کے شعور کا معنی خیز اشارہ بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت تہذیبی واقعات اور خوبصورت تاریخی اور ثقافتی حادثات کے مطالعے کا موضوع بن جاتی ہے، آپ چاہیں تو اس کی شخصیت، اُس کی فکر و نظر اور اس کی تخلیقات سے زمانے کو پڑھ لیں یا زمانے سے اُس کی شخصیت کا مطالعہ کریں اُس کے افکار و خیالات کا تجزیہ کریں اور اُس کی تخلیقات کا جائزہ لیں، ایک بڑی سچائی یہ بھی ہے کہ وقت اور زمانے کے ساتھ اُس کی شخصیت بھی عہد کے بعض اہم ترین رجحانات، واقعات اور خوبصورت حادثات کی تخلیق و تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔
تمدنی اقدار و روایات کے نئے احساس سے ایک جینیس صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نہیں اُبھارتا، ان کی ترکیب اور آمیزش میں حصّہ لے کر ان کی نئی صورتوں کا خالق اور ان کی علامت بن جاتا ہے اعلیٰ اور عمدہ روایات کا رَس پی کر اور موجود تہذیبی قدروں کی آمیزش میں ایک بڑے فنکار کی طرح حصہ لے کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے اور—
جب یہ کہتا ہے۔
’روشنی!‘
تو واقعی روشنی ہو جاتی ہے!
جینیس وہ ہے کہ جس کی شخصیت میں تہذیب و تمدّن کی اعلیٰ قدروں کی ایسی ترکیب اور آمیزش ہو کہ اُن کی عمدہ اور عمدہ ترین صورتیں اُجاگر ہو جائیں، قدریں جلوہ بن جائیں خود اُس کی شخصیت ان جلوؤں کا آئینہ ہو۔
امیرخسرو کی شخصیت، ہندوستانی اور عجمی (وسط ایشیائی + ترکی + عربی+ عجمی) قدروں کی آمیزش کے جلوؤں کو پیش کرتی ہے، خود اُن کی شخصیت ہندی اور عجمی قدروں کی اعلیٰ تر صورتوں کا آئینہ نظر آتی ہے، انھوں نے موجود تہذیبی قدروں اور روایتوں کے نئے احساس سے اپنی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں کو شدّت سے اُبھارا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ ان کی ترکیب اور آمیزش میں نمایاں حصہ لے کر ان کی نئی صورتوں کے خالق اور ان کی علامت بھی بن گئے!
امیرخسرو نے کلاسیکی روایات کا رَس پیا تھا اور جو یہ رَس پی لیتا ہے اُس کی شخصیت فعال بن جاتی ہے، آپ چاہیں تو اُن کی شخصیت سے اُن کے زمانے کو پڑھ سکتے ہیں اور عجمی ہندی عمدہ قدروں کی آمیزش کا مطالعہ بھی کرسکتے ہیں لہٰذا امیرخسرو کے متعلق سوچنا ہندوستانی تہذیب کی اُس روح کے متعلق سوچنا ہے جو ترکیب و آمیزش کے بعد مشترکہ تہذیب کی روشن ترین صورت ہے۔
اعلیٰ ذہن، تجربوں کی بہتر روشنیوں اور تجربوں کے سرچشمے اور ماحول اور معاشرے کا نتیجہ ہے، پھیلے ہوئے اور تہہ دار اجتماعی یا نسلی لاشعور کی وجہ سے بعض ذہن تجربوں کی بہتر روشنی پینے اور روایات اور تجربات کے سرچشمے اور معاشرے کی اعلیٰ اقدار سے فیض یاب ہونے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور اپنے ذہنی عمل اور اپنے تجربوں سے ایک ساتھ کئی عہد میں منفرد نظر آتے ہیں۔
۱۲۵۳ء سے ۱۳۲۵ء کے درمیان تہذیبی قدروں کی آمیزش سے جو فضا بنی تھی اُس میں صدیوں کے تجربوں کی روشنی تھی اور اس کی تشکیل میں اَن گنت نسلوں کے افراد کے خونِ جگر سے چراغ روشن تھے، امیرخسرو کے پھیلے ہوئے اور تہہ دار اجتماعی لاشعور اور ان کے تخلیقی ذہن سے ان میں سے بیشتر نوری لکیریں ٹکراتی رہی ہیں، کسی عہد میں تہذیبی اور ثقافتی قدروں کا بہاؤ محض خاموش بہتی ہوئی ندی کا بہاؤ نہیں ہوتا اس میں اُتار چڑھاؤ ہوتے ہیں، اُبھرنے کا رجحان ہوتا ہے پھسلنے اور نیچے گرنے کی کیفیت ہوتی ہے، دُہرانے کا عمل ہوتا ہے۔ تسلسل میں یکسانیت بھی ہوتی ہے، رکاوٹیں بھی آتی ہیں، ایک جینیس تجربوں کی اس دُنیا میں ان کا شعور حاصل کرتا ہے اور اپنے تخلیقی ذہن سے اُن کی نئی صورت بھی خلق کرتا ہے۔ اس عمل میں اس کی شخصیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، ترکیب اور آمیزش کے انفرادی تخلیقی عمل کے پیچھے کئی نسلوں کے تجربے ہوتے ہیں، انفرادی تخلیقی عمل سے ان تجربوں کی ایک نئی اور بہتر صورت اُبھرتی ہے اور جینیس صدیوں کے تجربوں کی علامت کی صورت پہچانا جاتا ہے۔
امیرخسرو کا مطالعہ اسی سچائی کے پیشِ نظر کرنا چاہیے، اُن کی شخصیت اعلیٰ قدروں کی آمیزش کا خوبصورت نمونہ ہے اور ان کی تخلیقات اس آمیزش کی عمدہ مثالیں ہیں۔
٭٭
امیرخسرو فارسی زبان کے بڑے شاعر تھے، اہلِ ایران بھی انھیں اپنی زبان کا بڑا شاعر تسلیم کرتے ہیں، مرزا غالبؔ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ان کے چشمۂ فکر سے زیادہ فیض یاب ہوئے ہیں، ہندوستان کی کئی زبانیں جانتے تھے، ہند کی زبانوں اور بولیوں پر ایک معلّم کی نظر رکھتے تھے، لسانیات کے علما کے لیے اُن کا بیان آج بھی اہمیت رکھتا ہے، زبانِ دہلی یا ہندوی یا کھڑی میں شاعری کی، دوہے لکھے، ہندوستانی موسیقی کی نئی ترتیب میں نمایاں تاریخی کر دار ادا کیا اور اس میں نئی روح پھونک دی، ہم اُنھیں ایک مؤرخ کی حیثیت سے بھی جانتے ہیں، انتہائی ذہین اور حد درجہ بالغ النظر دانشور اور فنکار تھے، لطیفہ گو تھے، صوفی تھے، شاہی درباروں سے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے حجرے تک، قلعوں کی دیواروں سے دلّی کی گلیوں تک، انھوں نے سماجی، سیاسی، معاشرتی اور روحانی تجربوں اور قدروں کا مطالعہ کیا تھا، ان سے ان کے اجتماعی یا نسلی لاشعور میں زبردست تحرک پیدا ہوا، اُن کے تجربے وسیع تر ہو گئے، ماضی کی بہتر اور معتبر روشنیوں تک پہنچ گئے، انفرادی تجربوں میں تہہ داری آ گئی، تجربوں نے زندگی کی معنویت کا جو احساس عطا کیا تھا امیرخسرو نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ ہمیں سونپا ہے لہٰذا اُن کی روایت کی روشنی بہت بڑی نعمت ہے۔
اس المیے کی خبر ہے کہ امیرخسرو کا بچا ہوا جو سرمایہ ہے وہ پچاس فیصد بھی نہیں ہے، جو کچھ موجود ہے نعمت سے کم نہیں، اپنی تہذیبی زندگی کی یہ سوغات غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے، افسوس کہ اپنی تہذیب کا ایک بڑا سرمایہ وقت کی نذر ہو گیا۔ اُردو یا ہندی کلام سے محرومی ایک بڑا المیہ ہے۔
امیرخسرو ۵۳-۱۲۵۲ء میں پیدا ہوئے اور ۱۳۲۵ء میں انتقال کیا، اُن کی زندگی روشنی کی ایسی لکیر نظر آتی ہے جو اس ملک کی سیاسی اور تہذیبی تقدیر کی اہم لکیروں کے اندر سے گزرتی ہے اور انھیں واضح کرتی جاتی ہے۔ حکومتوں کے عروج و زوال، درباروں کی ادبی اور تہذیبی فضاؤں، سرحدوں کے ہنگاموں، بعض سلطانوں اور شہزادوں کی انسان دوستی اور بعض بادشاہوں کے مغرورانہ احساسات، رقص و سرود کی محفلوں کی کیفیتوں، منگولوں کے حملوں، شکست و فتح کی کہانیوں، کھڑی یا ہندی، برج اور پنجابی کی آوازوں کے آہنگ اور ان کی شیریں کیفیتوں، لوک گیتوں کی پُراسرار دھمک اور تھرتھراہٹوں، صوفیاء اور علما کے مقدس اور پاکیزہ تصورات کی روشنیوں اور سماع کی محفلوں میں فارسی، ہندی، برج، پنجابی اور اودھی، آوازوں کی دل چھو لینے والی کیفیتوں، عربی، ترکی اور عراقی سازوں اور اُن کے آہنگ کی خلق کی ہوئی پُراسرار فضاؤں، حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی ہمہ گیر شخصیت کے جمال اور مختلف طبقوں کے لوگوں پر اس عظیم تر شخصیت کے گہرے اثرات اور تہذیبی قدروں کی خوشگوار باطنی آمیزش کی بہتر صورتوں کا مطالعہ امیرخسرو کی زندگی سے ہو جاتا ہے۔
ہندوستان کی مٹّی پر جنم لیا اور اسی ملک کی خاک میں دفن ہوئے، نسلاً ترک تھے، خود کو ہندوستانی سمجھتے اور کہتے تھے۔ اُن کی فکر نے اس مٹّی سے جنم لیا تھا کہ جس میں دو بڑی تہذیبوں کا لہو شامل ہو رہا تھا۔ وہ خود اس مٹّی اور اس فضا کی علامت بن گئے جن میں معاشرتی اور مابعد الطبیعاتی خیالات اور تجربات کی آمیزش ہو رہی تھی، مشترکہ تہذیب کی خوبصورت ترین قدروں کا خود عنوان بن گئے، اُن کی شخصیت میں دو بڑی تہذیبوں کی آمیزش کو علیحدہ کر کے دیکھنا ممکن نہیں، وہ ہندوستان کے تھے اور ہندوستان اُن کا تھا، اپنی شخصیت کا اظہار کیا اور شخصیت کا یہ اظہار ہندوستان کی شخصیت کا اظہار تھا، اجنتا، تاج محل اور دیوانِ غالب کی طرح!
امیرخسرو نے صدیوں قبل ہندوستان کی شخصیت کا اظہار کیا تھا!
٭٭
امیرخسرو کی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہوئے مندرجۂ ذیل خصوصیات توجّہ طلب بن جاتی ہیں:
٭ صدیوں کے وسط ایشیائی افکار و خیالات سے ذہن کا رشتہ قائم ہے، تہذیبی آمیزش سے اُن کی فکر تازہ اور روشن ہے۔
٭ موجود سچائیوں سے لاشعور متحرک ہوتا ہے اور نسلی شعور بھی بیدار ہوتا ہے۔
٭ تصوّف اور صوفیانہ تجربوں کا رشتہ تہذیبی آمیزش کی خلق قدروں سے گہرا ہے۔
٭ احساسِ جمال گہرا اور تہہ دار ہے، خسرو کی جمالیات ادبیات میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
٭ امیرخسرو ایک گہرا رومانی شعور رکھتے ہیں، اُن کی رومانیت اپنے کئی تابناک پہلوؤں سے متاثر کرتی ہے۔
٭ خسرو کی جمالیات اور ان کی رومانیت محبوب کے پورے وجود کے جلوؤں کو بھی اپنے دائرے میں لیے رہتی ہے اور فطرت کے جلال و جمال کو بھی۔
٭ امیرخسرو عشق اور روح کی پاکیزگی کے تازہ احساس کو عطا کرتے ہوئے خوب صورت علامتوں اور استعاروں کا استعمال کرتے ہیں۔
٭ فنکار کی شخصیت ہندوستان کی مٹّی میں اس قدر جذب ہے کہ اس ملک کی مٹّی کی بھینی بھینی خوشبو ملتی رہتی ہے۔
٭ جس طرح مصور رنگوں کا انتخاب کرتا ہے اسی طرح لفظوں کا انتخاب ملتا ہے۔ یہ الفاظ کبھی رنگوں کی طرح سرد اور کبھی تیز رنگوں کی مانند ہوتے ہیں۔
٭ صدیوں پرانی کہانیوں، اسطوری قصّوں اور ضرب الامثال سے ذہنی اور جذباتی رشتہ قائم ہے۔
٭ حسّی حقیقت پسندی بصیرت بھی عطا کرتی ہے اور جمالیاتی آسودگی بھی بخشتی ہے۔ حسّی حقیقت نگاری میں ’وژن‘ روزن بن جاتا ہے۔
٭ فطرت کے حسن و جمال سے ذہنی وابستگی خوب صورت جمالیاتی تجربے عطا کرتی ہے، خوبصورت مناظر، درختوں، پھولوں، پھلوں اور پرندوں سے جذباتی وابستگی غور طلب ہے۔
٭ تاریخی واقعات کو نقش کرتے ہوئے رُجحان عمومی بھی ہے، کسی بھی بادشاہ یا سلطان کے دَور کا واقعہ شہنشاہیت کے ہر دَور یا زمانے کا واقعہ بن جاتا ہے۔
٭٭
امیرخسرو کی فکر نے ہندوستان کی مٹّی سے جنم لیا تھا ساتھ ہی اُن کے نسلی شعور نے انھیں وہ ترک ذہن بھی عطا کیا تھا کہ جو پھیل کر لپک کر ہر خوبصورت شئے کو کھینچ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ترک ذہن کا رشتہ وسط ایشیا کی صدیوں پرانی تہذیب، تاریخ اور روایات سے ہے۔
امیرخسرو کے والد امیر سیف الدین محمود لاچین کشی کا تعلق وسط ایشیا کے ایک ترک قبیلے سے تھا۔ چنگیزی حملوں سے پریشان ہو کر لاچین قبیلہ کِش۱؎ سے نکل کر بلخ میں آباد ہوا، کش کو ترکوں نے اپنی خوبصورت روایات کے سچیّ شعور اور اپنے بہتر تجربوں سے ایک تہذیبی مرکز کی حیثیت دے رکھی تھی، چنگیزیوں نے اسے تباہ کر دیا اور صرف یہی نہیں لاچین قبیلے کو بلخ میں بھی سکون سے رہنے نہ دیا اور اس قبیلے کے سیکڑوں افراد امیر سیف الدین لاچینی ِ کشی کے ساتھ ہندوستان آ گئے، امیر سیف الدین لاچینی ِ کشی اپنے قبیلے کے نامور جنگجو سپاہی اور شہسوار تھے، وسط ایشیائی ترکوں کی عمدہ روایات اور اقدار کے شعور کو لیے ہندوستان کی مٹّی پر قدم رکھا، کش میں اپنے قبیلے لاچین کے کارناموں کی یادیں تازہ تھیں۔ امیرخسرو نے اپنے والد کو فرشتہ اور خاموشی پسند کہا ہے، یہاں امیر عماد الملک کی لڑکی دولت ناز سے شادی کی، پٹیالی میں جو جاگیر ملی اس کی مٹّی کو آنکھوں سے لگایا، دولت ناز نے ابوالحسن یمین الدین محمود کو جنم دیا جو ہمیں امیرخسرو کی شخصیت میں حاصل ہوئے۔ عماد الملک کا گھرانہ مشترکہ تہذیبی قدروں کی آمیزش کا نمونہ تھا۔ دولت ناز ایک ایسے گھرانے کی خاتون تھیں کہ جس میں مشترکہ تمدن کی روشنی پہلے سے موجود تھی، نفسیاتی نقطۂ نگاہ سے یہ سچائی بھی اہم ہے کہ عماد الملک اور دولت ناز سے رشتے نے مشترکہ تمدن کی قدروں کا احساس عطا کیا اور اس ملک کی مٹّی کی خوشبو پانے میں مدد کی۔
۔۔۔۔۔۔
۱؎ ترکوں کا ایک قبیلہ لاچین کے لقب سے مشہور ہے۔ حضرت امیرخسروؒ اسی قبیلے سے ہیں۔ اُن کے والد کا نام سیف الدین محمود ہے، ترکستان میں ایک شہر کش ہے، وہاں کے رہنے والے اور اپنے قبیلے کے رئیس تھے، فرشتہ اور دولت شاہ نے لکھا ہے کہ بلخ کے امرا میں تھے، چنگیز خاں کا فتنہ اُٹھا تو سیف الدین ہجرت کر کے ہندوستان میں آئے اور سلطان محمد تغلق کے دربار میں ایک بڑے عہدے پر مامور ہوئے۔ (مولانا شبلی نعمانی، حیاتِ خسرو، ص۴)
٭ امیرخسرو۱؎ ۵۳-۱۲۵۲ء میں پٹیالی (مومن آباد) ضلع ایٹہ اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور ۱۳۲۵ء میں دہلی میں انتقال کیا۔ ۷۲ سال کی عمر پائی۔ عمر صرف آٹھ سال تھی کہ ۶۵۹ھ میں والد ایک جنگ میں شہید ہو گئے، کہا جاتا ہے اس چھوٹی سی عمر میں اپنے والد سیف الدین لاچینی کشی کی وفات پر یہ شعر کہا تھا جسے اُن کا پہلا شعر تصور کیا جاتا ہے:
سیف ازسرم گزشت و دل من دونیم شد
دریائے من رواں شد و دُرِّ یتیم ماند!
(خسرو)
والد کی فرشتہ صفت سیرت سے متاثر تھے۔ ’غرّۃ الکمال‘ کے دیباچے میں تحریر کیا ہے کہ میرے والد بہت کم سخن تھے، ترک کی نسبت مشہور ہے کہ وہ خواب میں فرشتہ ہوتا ہے۔ وہ تو بیداری میں فرشتہ تھے۔ مجھ میں جو تھوڑی بہت صلاحیت پیدا ہوئی وہ اُن ہی کی تربیت کی وجہ سے! اپنی مثنوی ’مجنوں لیلیٰ‘ میں اپنی والدہ۲؎ اور اپنے چھوٹے بھائی کے انتقال پر ضبط کرتے اور بلکتے ہوئے ملتے ہیں، تربیت ننھیال میں ہوئی، عماد الملک علم پروری اور فن نوازی میں پیش پیش رہتے تھے، ان کے مکان پر دلّی کے علما و فضلا جمع ہوتے، مختلف موضوعات پر باتیں اور بحثیں ہوتیں،عماد الملک کا گھر علمی اور ادبی تجربوں کا پہلا گھر تھا جو امیرخسروکو ملا، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒء بھی کچھ عرصہ اس گھر میں رہے۔جب آٹھ سال کے تھے تو اپنے والد کے ساتھ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے حضور پہنچے، ۶۷۱ھ میں جب عمر بیس سال تھی مرید بنے۔ ’غرّۃ الکمال‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے میں نے کم عمری میں بیت اور رباعی کہنا شروع کی جنھیں سن کر علما کو حیرت ہوتی، علمائے وقت نے میری کافی حوصلہ افزائی کی، کم عمری ہی سے مطالعے کا شوق پیدا ہوا اور عموماً مطالعے میں مصروف رہتے، درسی کتابوں سے گریز کرتے، کلام اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں ان سے مدد نہیں ملتی تھی۔ سعدی، سنائی، خاقانی، انوری اور نظامی کے کلام میں کشش محسوس کرنے لگے۔ لہٰذا ان شعرا کا انھوں نے گہرا مطالعہ کیا۔ ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ مجھے فنِ عروض سے کوئی دلچسپی نہیں رہی، میں اس فن کا محتاج نہ رہا، میں تو اپنی موزونیِ طبع کی وجہ سے اشعار میں نکتے اور باریکیاں پیدا کرتا ہوں:
اے کہ می گوئی مرا خسرو نمی دانی عروض
من چہ محتاجِ عروضم تا کنم گفت و شنو
نظم سنجیدہ ہمی گویم ، بموزونیِ طبع
نکتۂ سنجیدہ باشد وقت سنجیدن گرو!
(امیرخسرو)
۔۔۔۔
۱؎ یمین الدین ابوالحسن امیرخسرو دہلوی
۲؎ l اے مادرِ من کجایٔ آخر روی از چہ نمی نمایٔ آخر
l ہرجا کہ زپائی تو غباریست مارا زبہشت یادگاریست (امیرخسرو)
٭ امیرخسرو کا پہلا دیوان ’تحفۃ الصغر‘ ہے (۱۲۷۳ء) کہ جس میں سولہ تا اُنیس سال کا کلام ہے۔ ’قرآن السعدین‘ پہلی مثنوی ہے (۱۲۸۹ء)جو ۳۸ سال کی عمر میں مکمل ہوئی، اوّلین نثری مجموعہ ’خزینۃ الفتوح‘ ہے (۱۳۱۱ئ)اُس وقت تک عمر ساٹھ سال ہو چکی تھی۔ ’تحفۃ الصغر‘ کے بعد ’وسط الحیاۃ‘ (۶۸۳ھ) ’غرّہ الکمال‘ (۶۹۳ھ) ’بقیہ نقیہ‘ (۷۲۰ھ) اور ’نہایۃ الکمال‘ (ستّرسال کی عمر میں) جیسے وواوین کے خالق ہیں۔ ’قران السعدین‘ (۶۸۸ھ) ’مفتاح الفتوح‘ (۶۹۱ھ) ’یاد دل رانی خضر خاں‘ (۷۱۵ھ) ’نُہ سپہر‘ (۷۱۷ھ) اور ’تغلق نامہ‘ (ساٹھ ستر سال کی عمر میں) امیرخسروکی تاریخی مثنویاں ہیں، دیگر مثنویات میں کہ جن میں خمسہ، پنج گنج وغیرہ شامل ہیں ’مطلع الانوار‘(نظامی کے مخزن الاسرار کا جواب) (۶۹۸ھ) ’شیریں خسرو‘ (نظامی کے خسرو شیریں کا جواب) (۶۹۸ھ)’مجنوں لیلیٰ‘ (نظامی کے ’لیلیٰ و مجنوں‘ کا جواب) (۶۹۹ھ) ’آئینۂ سکندری‘ (نظامی کے سکندر نامہ کا جواب) (۶۹۹ھ)’ہشت بہشت‘ (نظامی کے ہفت پیکر کا جواب) (۷۰۱ھ) فارسی ادب میں اضافہ ہیں۔ ’شیریں خسرو‘میں چار ہزار سے زیادہ اشعار ہیں۔ ’مطلع الانوار‘ میں تین ہزار سے زیادہ، ’مجنوں لیلیٰ‘ میں دو ہزار سے زیادہ، ’آئینہ سکندری‘ میں چار ہزار چار سو پچاس اور ’ہشت بہشت‘ میں تین ہزار تین سو سے زیادہ اشعار ہیں۔ نثری تصنیفات میں ’اعجاز خسروی‘ (رسائل الاعجاز) (۷۱۹ھ)، ’تاریخ علاءٔ‘ (خزائن الفتوح) (۷۱۱ھ) ’افضل الفوائد‘ (۷۱۹ھ) کے نام اہم ہیں۔ ’غرّۃ الکمال‘ کا دیباچہ بھی امیرخسرو کی نثر کا ایک عمدہ نمونہ تصوّر کیا جاتا ہے، دیوان سوم ’غرّۃ الکمال‘ کے اس طویل دیباچے میں امیرخسرو نے فارسی اور عربی فصاحت و بلاغت پر اظہارِ خیال کیا ہے، اس دیباچے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ شاعری کے حسن کے تعلق سے امیرخسرو کا جمالیاتی نقطۂ نظر پہلی بار واضح ہوا ہے۔ ’خزینۃ الفتوح‘ یا ’تاریخ علائی (۱۲-۱۳۱۱ء) میں علاؤ الدین خلجی کے حالات ہیں، ’اعجازِخسروی‘ (۲۰-۱۳۱۹ء) میں نثر نگاری کے اصول اور قاعدوں پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ ’افضل الفوائد‘ (۲۰-۱۳۱۹ء) میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے ملفوظات ہیں، ’جواہرِخسروی‘ میں گیت، پہیلیاں، دوہے اور کہہ مکرنیاں ہیں۔ ’اعجازِ خسروی‘ میں پانچ رسائل ہیں ان میں آخری رسالہ امیرخسرو کے اُن مکاتیب پر مشتمل ہے کہ جو احباب کے نام لکھے گئے۔
٭ امیرخسرو نے سات سلطانوں اور بادشاہوں کے عہد میں سانس لی۔ محمد غیاث الدین بلبن (۱۲۶۵ء-۱۲۸۷ء)، معز الدین کیقباد (۱۲۸۷-۱۲۹۰ء)، جلال الدین فیروز خلجی (۱۲۹۰ء-۱۲۹۵ء)، محمد علاء الدین خلجی (۱۲۹۵- ۱۳۱۵ء)، مبارک شاہ قطب الدین خلجی (۱۳۱۶-۱۳۲۰ء)، غیاث الدین تغلق (۱۳۲۰-۱۳۲۴ء) اور محمد بن تغلق (۱۳۲۴-۱۳۵۰ء) عہد خسرو کے سلاطین تھے۔ امیرخسرو دو سال سلطان بلبن کے بھائی کشِلو خاں کے ساتھ رہے، بغرا خاں ابن سلطان بلبن کے دربار سے تین سال وابستہ رہے، پانچ سال سلطان محمد فرزند بزرگ سلطان بلبن کے قریب رہے، امیر علی حاتم کے ساتھ دو سال گزارے، سلطان معز الدین کیقباد کے دربار میں ایک سال اور جلال الدین فیروز خلجی کے دربار میں پانچ سال رہے۔ اسی دربار میں ملک الشعرا کا خطاب ملا۔ محمد علاء الدین خلجی کے دربار سے بیس سال وابستہ رہے۔ پھر مبارک شاہ قطب الدین خلجی اور غیاث الدین تغلق کے دربار میں چار چار سال رہے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے پاس رہنے لگے۔
امیرخسرو کئی زبانوں سے واقف تھے، پانچ زبانوں میں شاعری کی، برج کے گیتوں کی مٹھاس، کھڑی کے آہنگ، پنجابی اور ملتانی بولیوں کے لوک گیتوں کے رَسوں سے آشنائی ہو چکی تھی، اسی طرح اودھی کی شیرینی کو بھی چکھ چکے تھے۔ جہاں جہاں گئے اُن علاقوں کی زبانوں اور بولیوں سے دلچسپی لی۔ کہا جاتا ہے سنسکرت زبان میں بھی شاعری کی تھی۔ فارسی زبان میں پانچ لاکھ سے زیادہ اشعار لکھے، پانچ مثنویوں میں اٹھارہ ہزار سے کم اشعار نہ ہوں گے۔ ہندوستانی زبانوں کا ذکر اس طرح کیا ہے اور انھیں ’ہندوی‘ کہا ہے:
سندی و لاہوری و کشمیر و کبر
(ڈوگری)
دھور سمندری ، تلنگی و گجر
(تمل) (گجراتی)
معبری و گوری و بنگال و اودھ
(گھاٹی) (پہاڑی) (اودھی)
دہلی و پیرا منش ، اندر ہمہ حد
ایں ہمہ ہندویست زایام کہن
عامہ بہ کارست بہ ہر گونہ سخن
٭٭
’ہندوستانی‘ موسیقی میں امیرخسرو کا نام ایک اور متحرک خوبصورت روایت ہے۔ موسیقی میں اُن کے تخلیقی کار نامے غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ایک بڑے تخلیقی موسیقار تھے کہ جنھوں نے ہندوستانی موسیقی میں انتہائی عمدہ اور نفیس تجربے کیے، ایسے تجربے جو آج بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے، امیرخسرو اپنی پوری صدی کے موسیقاروں میں بلند درجہ رکھتے ہیں، اُن کا قد اونچا نظر آتا ہے، ایک ایسے جینیس کی پہچان ہوتی ہے کہ جس نے اپنی اعلیٰ اور نفیس روایتوں کا رَس پیا ہے اور اپنی تخلیقی فکر و نظر سے اس میں اور شیرینی اور مٹھاس پیدا کی ہے، بلاشبہ امیرخسرو کلاسیکی ہندوستانی موسیقی کی نئی تاریخ کے عنوان ہیں، فنِ موسیقی پر ان کی نظر جتنی گہری ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اُن کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے کلاسیکی موسیقی کو ازسرِ نو زندہ کیا اور اس موسیقی کو نئے انداز سے مرتب کیا۔ ہندوستانی موسیقی کو نئے آہنگ اور نئے بولوں اور گیتوں سے آشنا کیا، وہ نئے تغزل اور نئی غنائیت کے خالق ہیں، ہندوستانی موسیقی کے متعلق کہتے ہیں۔
’’ہندوستانی موسیقی ایک آگ ہے جو قلب و نظر اور روح کو جلاتی ہے۔‘‘
(امیرخسرو،مثنوی نہ سپہر)
فارسی غزل کو مشترکہ تمدن کا آہنگ ملا اور یہ غزل درباروں اور عوامی محفلوں دونوں میں بے حد مقبول ہو گئی۔ امیرخسرو سے منسوب کئی راگ ہیں۔ (قران السعدین اور اعجازِ خسروی میں انھوں نے کچھ راگوں کا خود ذکر کیا ہے) راگوں کا مطالعہ کرنے والے کہتے ہیں انھوں نے یقیناً قدیم شاستروں کا مطالعہ کیا ہو گا تب ہی ہندوستان کے کلاسیکی راگوں کو ایرانی اور عربی موسیقی کی لہروں سے ہم آہنگ کیا۔ ایرانی دھُنوں کو ہندی موسیقی میں داخل کیا اور ساتھ ہی ان دونوں کے راگوں یعنی ایرانی اور ہندی کی آمیزش سے کچھ راگنیاں خلق کیں۔ قول، ترانہ، گل، بسیط، نقش وغیرہ جواب بھی مقبول دھُنیں ہیں، امیرخسرو کی دین ہیں، آج بھی اُن کے بول دل کو بھاتے ہیں، مثلاً:
حضرت نظام الدین اولیاء پیر مشائخ نور
آن پڑے دربار تہارے خسرو پر کرپا کرو
(راگ مجیر)
چنگے کام ہوئے آسان ، تن چین پر بیٹھے ہی
دربار ہوئے اپن آرام
اولیاء کے چرن ہوئے شام
تت چین مٹت دِلدّر دھام
(راگ سازگری)
جے جے نظام الدین جگ تارن ، تاپر میں پران کروارن
خسرو کے پربھو، احمد کے پوت تن من اور دھن کروں نثارن
(راگ فرغانہ)
نجام الدین پیر اولیاء نجام الدین شان اولیاء خسرو
آن پڑے چرنن میں کرپا کرو بھر کبیریا
(راگ صنم خیال)
بن کے پنچھی بھئے باورے ، ایسی بین بجائی سوانورے
تار تار کی تاد نرالی ، جھوم رہیں سب بن کی ڈالی
پن گھٹ کے پنہاری ٹھاڑی ، بھول گئیں خسرو پنہا بھرن کو
(راگ موافق)
سلطان جی صاحب نجام الدین اولیاء تو ہے
بل بل جاؤں ،موہے پیر تو سون دیا چرنن تیرے
گنے خسرو پایا میں نے اپنا ایسوپیر مورے تم نجام الدین اولیاء
(راگ سرپردہ خیال)
’راگ صنم، ’راگ غنم،’راگ عشّاق‘، ’راگ موافق‘، ’راگ زنگولہ‘ وغیرہ کے بول بے حد مقبول ہوئے۔ امیرخسرو نے ڈھولک اور طبلے کے لیے جو بول بنائے وہ بالکل انوکھے ہیں، دل میں اُتر جاتے ہیں، اسی طرح انھوں نے فارسی بحور و اوزان کے پیشِ نظر ستر تالیں مرتب کیں، ستار اور ڈھولک کے موجد امیرخسرو ہی ہیں۔ ہندوستانی گائیکی میں دھرو، ماٹھا، دھوما اور دھرپد رائج تھے، امیرخسرو نے ترانہ، خیال، قول وغیرہ کو شامل کر کے موسیقی کو کلاسیکی آہنگ اور نئے آہنگ کا ایک خوبصورت سنگم بنا دیا۔ اپنے عہد کے اتنے بڑے فنکار تھے کہ آہنگ کے شعور کا اظہار برملا کیا کرتے تھے، باگیری، رام کلی اور سوہنی کو قوّالی میں برتا اور اپنے فن کا پُراثر مظاہرہ کیا۔ اور قوالی! انھوں نے اسے اتنا مقبول کیا کہ درباروں سے خانقاہوں تک دھوم مچ گئی اور اُس عہد کے معروف قوال، مطرب، چنگ نواز، ربابی، کمانچی مستی میں جھوم جھوم گئے۔ ’قران السعدین‘ اور ’اعجازِ خسروی‘ میں امیرخسرو نے اپنے ایجاد کردہ جن راگوں کا ذکر کیا ہے اُن میں چندیہ ہیں:
سازگری: پوروی گورا اور گن کلی سے مل کر بنا ہے۔
فرغانہ: گن کلی اور گورا کے آہنگ سے خلق ہوا ہے۔
صنم کلیان اور ایک فارسی راگ کی وحدت ہے۔
عشّاق: بسنت اور نوا کی آمیزش کا نتیجہ ہے۔
زیلف: راگ کھٹ جونپوری اور شہناز کی وحدت ہے۔
تاریخی حقائق پر مبنی جو مثنویاں ہیں اُن میں اُن کے اپنے جذبات و احساسات بھی موجود ہیں۔ ’قران السعدین‘ (۶۸۸ھ) ’مثنوی نُہ سپہر‘ (۷۱۸ھ) اور ’مثنوی تغلق نامہ‘ (۷۲۴) میں تاریخی واقعات فنکار کے اپنے احساس اور جذبے کے ساتھ اس طرح پیش ہوئے ہیں کہ وہ حسّی حقیقت پسندی کے عمدہ نمونے بن گئے ہیں۔
مؤرخ امیرخسرو نے پچاس سال کی تاریخ مرتب کر دی ہے لیکن ایک نقّاش اور مصوّر فنکار اپنی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں کا احساس دیتا جاتا ہے۔
مثنویوں کا مطالعہ کرتے ہوئے واقعات کے حسنِ انتخاب، جذباتی اور حسّیاتی کیفیات، خیال افروزی، تخیل پسندی، منظر نگاری اور نفسیاتی نکتہ آفرینی وغیرہ پر نظر رکھیں تو محسوس ہو گا وہ حسّی حقیقت پسندی کے ایک بڑے فنکار ہیں۔
’غرّۃ الکمال‘، ’تحفۂ الصغر‘ اور ’وسط الحیوۃ‘ کے قصیدوں میں بعض کرداروں اور واقعات کی پیشکش میں حسّی حقیقت نگاری کی عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ ’شیریں خسرو‘، ’آئینہ سکندری‘، ’ہشت بہشت‘، مطلع الانوار‘، ’مجنوں لیلیٰ‘ میں جذبات اور احساسات کی پیشکش غیر معمولی نوعیت کی ہے، حسّی حقیقت پسندی کے وہ جلوے توجّہ چاہتے ہیں جہاں موسموں اور عمارتوں کی تفصیل ملتی ہے، طربیہ اور المیہ فضاؤں کا آہنگ موجود ہے۔ مختلف مہمّات کے ذکر میں سچائیوں پر نظر رکھنے والا فنکار اپنے جمالیاتی اور رومانی مزاج سے بھی پہچانا جاتا ہے، امیرخسرو منگولوں کے قیدی ہیں، اُن کا ذہن ایک سے زیادہ تصویریں بناتا ہے۔ منگولوں کے سرپر بال نہیں ہیں، چھوٹی چھوٹی نیلی آنکھیں ہیں، ناک چپٹی ہے، نتھنے پھیلے ہوئے ہیں، داڑھی کے چند بال نظر آرہے ہیں لیکن مونچھیں لمبی ہیں، چوڑا چہرہ ٹمٹما رہا ہے، اپنی زبان میں چیخ رہے ہیں، ڈرامائی کرداروں کا تحرک ملتا ہے، ایک تصویر بکھر کر کئی تصویروں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور کئی تصویریں مل کر ایک تصویر بن جاتی ہے:
فرونۂ کہ مرا پیش کردہ رہ می رفت
نشستہ برفرسے چوپلنگ درکہُسار
کشادہ ازذہنش نکہتے چوبوئے بغل
فتادہ برزنخش سبلتے چوموئے زہار
زماندگی قدمے گرہماندے تشنہ
گہے طغانہ کشیدے بخشم گرتکمار!
’تغلق نامہ‘ کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے:
کسے داند کہ ہول معرکہ چیست
کہ چندے در زناگیر و غازیست
دلیرے کو صفِ مرداں بدیداست
نہ بارش دیدہ درخواب آرمیدست
گدئے راز بیداندر زیر تو سن
کہ صفِ تیغ داند باغ سوسن
رود یکسر چوبار آں جاکہ یکسر
جو برگِ بید بار و تیغ و خنجر
نبذ از دوکز آید ببر و باشیر
چونیلوفر سپر برآب شمشیر
چودرہجا برخشد تیغ بے رنگ
پدید آید کہ ہوشنگ است یا شنگ
نہ شیراں راکند کس مملہ تعلیم
نہ روبہ را ، گریز وحیلہ تسلیم
بنا شدہم شجاع و ہم خردمند
بجز غازی ملک سیر عدوبند
میدانِ جنگ کو خواب گاہ، صفِ تیغ کو باغِ سوسن، تلوار اور خنجر کو بید کے پتوّں کی حرکت اور ڈھال کو کمل کا پھول بنانے والا اور ان صورتوں میں دیکھنے والا فنکار اپنے تخلیقی شعور کو نمایاں کرتا ہے، فنکار کا احساس جمال بھی توجّہ طلب ہے۔
٭ امیرخسرو کا حسّی حقیقت پسندانہ رجحان ’نہ سپہر‘ میں مبارک خلجی کی عیش و عشرت اور جنگوں اور درباروں میں اس کے لطیف لمحوں کو پیش کرتے ہوئے آنے والے المناک لمحوں کا احساس جس طرح عطا کرتا ہے وہ بڑی بات ہے۔ آرٹ تاریخ سے آگے نظر آتا ہے، فنکار خسرو اکثر تاریخ نویس خسرو سے آگے نظر آتے ہیں۔ مبارک خلجی اور کیقباد (قران السعدین) کے عہد کی سچائیوں کو تخلیقی صورتوں میں پیش کرتے ہوئے امیرخسرو کا حسّی حقیقت پسندانہ رجحان متاثر کرتا ہے،اپنی ’وصف نگاری‘ کا انھیں خود بھی احساس تھا ’نہ سپہر‘ میں کہتے ہیں:
من از دیدۂ خویش گویم سخن
نہ زا افسانہ و داستانِ کہن!
داستانِ کہن سے اُن کی دلچسپی نہیں ہے، جو کچھ کہتے ہیں اُن کے اپنے تجربے ہیں، اپنے دیکھے اور محسوس کیے واقعات و کردار ہیں، علاء الدین خلجی کی مہمات (خزائن الفتوح) کی تصویروں میں حسّی رجحان توجہ طلب ہے، فنکار کی جذباتی کیفیتوں کو سچائیاں جو صورتیں عطا کرتی ہیں اُنھیں علاء الدین خلجی کے مرثیے میں دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے، شاعر کے تجربے انسان کے پورے سفر کے تجربوں سے رشتہ قائم کر لیتے ہیں، زندگی کی سچائیوں اور فنکار کے جذبوں کی آمیزش سے شاعری جنم لیتی ہے اور یہ شاعری شاعر کی انفرادیت کو لیے منفرد تجربہ بن کر متاثر کرتی ہے، ایک مؤرخ واقعات کو پیش کرتے ہوئے تاریخی اور تمدنی قدروں کا تعین کرتا ہے اور تفصیل بیان کرتے ہوئے خود بھی ایک تماشائی رہتا ہے اس کے برعکس ایک فنکار تاریخی اور تمدنی قدروں کو اپنے احساس اور جذبے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور واقعات اور کردار پیش کرتے ہوئے خود بھی ایک تماشا بن جاتا ہے، اس کی ذات، اس کے خیالات تجربات اور تاثرات اور اس کی نفسیاتی کیفیات، تاریخی اور تہذیبی قدروں سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہیں اور توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ جلال الدین خلجی کی تخت نشینی کے ذکر میں امیرخسرو کی مسکراہٹوں کے پیچھے جذباتی المیت موجود ہے، یہ محض تصویر کشی، مرقع نگاری، حقیقت نگاری یا تاریخی نقاشی نہیں ہے، جذبات کے مختلف رنگوں سے حسّی حقیقت نگاری یا نقّاشی ہوئی ہے، اُن کے کلام کے ایسے واقعات اُن کی حسّی، جذباتی اور ذہنی کیفیتوں کو پیش کرتے ہیں۔
٭ امیرخسرو کی ایسی بیشتر تخلیقات بادشاہوں اور سلطانوں کی فرمائش پر سامنے آئی ہیں۔ جن میں تاریخی واقعات، کردار اور حادثات ہیں، ان سے ایک تاریخ داں قرونِ وسطیٰ کی زندگی اور تہذیبی قدروں کو سمجھنے اور سمجھانے میں یقینا مدد لے سکتا ہے لیکن کسی لمحہ یہ فراموش کرنا نہیں چاہیے کہ امیرخسرو بنیادی طور پر ایک فن کار ہیں۔ ’غرۃ الکمال‘ اور ’وسط الحیوۃ‘ وغیرہ میں جو قصیدے ہیں اور اُن میں شخصیتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اُن میں کسی کی ’منفرد شخصیت‘ اُبھر کرسامنے نہیں آتی، ایک بادشاہ یا سلطان دوسرے بادشاہ یا سلطان سے مختلف نظر نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے۔ امیرخسرو نے تمام بادشاہوں کی ایک سی تعریف کی ہے۔ اس کا سبب کیا ہے ایک تاریخ نویس تو ہر سلطان کی شخصیت اور اس کے دَور یا زمانے کی خصوصیات کو علیحدہ کر کے دیکھتا ہے۔ ایسی یکسانیت نہیں ہوتی، بات یہ ہے کہ امیرخسرو نے ایک فنکار کی طرح بادشاہوں اور سلطانوں کے ’مزاج‘ سے دلچسپی لی ہے، ایک سلطان دوسرے سلطان سے مختلف نہ تھا، درباری زندگی ہو یا شکار گاہ، شراب کی محفل یا جنگ کا میدان، ہر جگہ ایک ہی قسم کے مزاج کی پہچان ہوتی تھی، شکل و صورت کے بدل جانے اور بعض واقعات کے مختلف ہو جانے سے ان کرداروں کے عمل پر مجموعی طور پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا، مثنویوں اور قصیدوں کا بغور مطالعہ کریں تو محسوس ہو گا کہ ایسے تمام کرداروں کے عمل میں انھیں یکسانیت نظر آئی ہے، بعض اہم واقعات میں بھی یکسانیت ہے، علاء الدین خلجی ہو یا کیقباد، جلال الدین خلجی ہو یا مبارک خلجی، یہ سب اپنی انفرادیت سے پہچانے نہیں جاتے، مزاج اور شاہی اقدار کی یکسانیت سے پہچانے جاتے ہیں۔یہ سب ایک نظامِ زندگی اور بڑے اُونچے طبقے کے کردار ہیں، بنیادی طورپر ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ تاریخی نقوش کی پیشکش یا تاریخی نقاشی یا محض تصویر کشی نہیں ہے، قرونِ وسطیٰ کے مزاج کی فنکارانہ پیشکش ہے، اس تہذیب کی حسّی حقیقت نگاری ہے۔ ’قران السعدین‘، ’مفتاح الفتوح‘ دولرانی خضر خاں، تغلق نامہ‘، ’خزائن الفتوح‘ سے آپ چاہیں تو کچھ واقعات علیحدہ کر کے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان میں بعض واقعات ایک خاص دَور کے ہیں اور بعض واقعات ایک دوسرے خاص دَور کے، آپ ان سے سیاسی اور تہذیبی حالات کو بھی کسی حد تک سمجھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن انھیں اس طور بھی دیکھئے کہ یہ فنکار کے تجربوں کی وسعت ہے، اس کے تجربوں کی گہرائی ہے۔ کرداروں کے عمل کی داستان کی پیچیدگی ہے، اس طرح فنکار شناسی میں مدد ملے گی، فنکار امیرخسرو جب علاء الدین خلجی کا مرثیہ لکھتے ہیں، کیقباد کی محفلوں کا ذکر کرتے ہیں، جلال الدین خلجی کی تخت نشینی کے ذکر میں اپنے احساسات کو نمایاں کرتے ہیں، جنگ کی تباہی اور بربادی کے مناظر پیش کرتے ہیں، ملک گیری کی ہوس پر تلملاتے ہیں، زندگی میں توازن اور نظم و ضبط کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے خوابوں سے ایک خوبصورت معاشرے کی جھلک دکھاتے ہیں، سسکیاں لیتے ہیں، مسکراتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان تخلیقات کے پیچھے ایک فنکار کا درد مند دل ہے، اس کے اپنے تجربے بھی ہیں، اس کے اپنے کچھ خواب بھی ہیں کہ جنھیں وہ عزیز رکھتا ہے۔ امیرخسرو کی حسّی کیفیتوں کا مطالعہ ان کی تخلیقات میں ایسے ہی مقامات پر ہوتا ہے۔
یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ امیرخسرو کی بیشتر تخلیقات بادشاہوں کی فرمائش کا نتیجہ ہیں، یہ وہ زمانہ ہے جب دو بڑی تہذیبیں ایک دوسرے سے قریب ہو چکی تھی اور اُن کی فطری آمیزش ہو رہی تھی اور عمدہ اور اعلیٰ تہذیبی قدروں کی نئی تاریخی تشکیل ہو رہی تھی، انسان دوستی، محبت، رواداری اور زندگی کی نعمتوں کا نیا احساس پیدا ہو رہا تھا۔ ہندوستان کی مٹّی کی اپنی خوشبو، نئی خوشبوؤں سے مل کر پورے ماحول کو معطّر کرہی تھی، شہنشاہیت کا غرور اپنی جگہ پر تھا، ہر طبقے میں انسان اور انسان کے باطنی رشتے کا احساس جاگ اٹھا تھا، ایک بڑا اور ہمہ گیر نظامِ اخلاق جنم لے چکا تھا، فنکار ہمیشہ ایسے معاملات میں زیادہ حسّاس ہوتا ہے، زندگی کو دیکھنے کے لیے اُس کے پاس اپنا ’وژن‘ ہوتا ہے، یہ وہ زمانہ ہے جب درباروں میں بھی اعلیٰ اخلاقی اور نئی تہذیبی قدریں جمع ہو رہی تھیں، ایک اہم ترین تخلیقی نظام کے خوب صورت سائے شہنشاہیت کی تیز دھُوپ میں جلنے والوں کو راحت اور سکون بخش رہے تھے۔ غیاث الدین بلبن کے وقت سے یہ سائے گہرے ہوتے گئے ہیں، بادشاہوں، سلطانوں کے دربار کے علاوہ امرا کے بھی اپنے دربار تھے اور ہر دربار میں تہذیبی آمیزش ہو رہی تھی، اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تحت ایک تخلیقی نظام کی تشکیل ہو رہی تھی، درباروں میں خراساں، ترکستان، مصر، شام، عراق (بغداد) روم اور جانے کہاں کہاں کے فنکار جمع ہو رہے تھے، شاعری، تصوّف اور موسیقی کی دنیا میں اسی آمیزش کی وجہ سے ایک انقلاب آ گیا اور مشترکہ تہذیب کی بنیاد مضبوط ہوئی۔ سلطانوں نے امیرخسرو سے صرف فرمائش ہی نہیں کی بلکہ ان کی فرمائش پر جو کچھ لکھا گیا انھوں نے خود پڑھا، درباروں میں انھیں سنا، دوسرے ملکوں میں بھجوایا تاکہ فتح ناموں کے مطالعے سے دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کو خبر ملے کہ ان کے کارنامے کیا ہیں۔
ان حالات میں امیرخسرو جیسے فنکار کے لیے بڑی اُلجھن تھی، وہ درباروں سے وابستہ تھے لیکن اعلیٰ نظامِ اخلاق سے ذہنی اور جذباتی طور پر زیادہ وابستہ تھے جس نے زندگی کی نفیس قدروں اور عمدہ نعمتوں کا احساس عطا کیا تھا اور جس نظام کے وہ خود بھی ایک خالق تھے، امیرخسرو اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ درباروں میں دغا بازی، بے رحمی، سخت دِلی، حرص اور سفّاکی کے باوجود سلطان جاہل نہیں ہیں، علوم کے قدر داں ہیں، علوم حاصل کرنے کا ذوق رکھتے ہیں، عالموں کی عزّت کرتے ہیں، اُن کی علمی فیاضیاں حیرت انگیز ہیں، درباروں میں ایک سے ایک روشن چراغ ہیں، ایسے علما و فضلا اور شعرا اور فنکار ہیں جو سچائیوں کا بہتر احساس رکھتے ہیں، یہ سب اُن کی طرح ایک بڑے تخلیقی نظام کے خالق ہیں، اُن کی نظر ہر پہلو پر ہے، بخوبی سمجھتے ہیں کہ شہنشاہ کیا چاہتے ہیں اور زندگی کے تقاضے کیا ہیں، کوئی فنکار خوشامد میں کس طرح اعلیٰ اخلاقی اقدار کو پامال کر رہا ہے۔ کسے فقر، تصوف شاعری اور زندگی کی سچائیوں کا احساس ہے، ایک طرف مولانا نصیرالدین رازی اور مولانا علاء الدین شریف ہیں تو دوسری طرف قاضی ضیاء الدین اور مولانا حمیدہ الدین ملتانی، ایک جانب خواجہ حسن دہلوی اور صدر الدین عالی ہیں تو دوسری جانب عارف عبدالحکیم اور شہاب الدین! مذہبی اور اخلاقی اقدار پر مولانا حسام الدین درویش اور مولانا شہاب الدین کے دل میں اُتر جانے والی تقریریں گونج رہی ہیں۔ مولانا وجہہ الدین کابلی، محی الدین کاشانی، قاضی زین الدین، مولانا شرکتی، تاج الدین مقدم، قاضی فخر الدین کرمانی گل محمد شیرازی، بدر الدین بلوّری، نظام الدین کلاتی اور جانے کتنے بزرگوں، شاعروں، درویشوں اور فنکاروں کی نگاہیں سچائیوں پر گڑی ہوئی ہیں۔
فنکار امیرخسرو اپنی بہتر تخلیقی صلاحیتوں سے ایسی تخلیقات میں ایک بڑے فنکار کی طرح اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ انھیں اس زندگی کو پیش کرنا تھا جسے وہ کر رہے تھے جس پر گزر رہے تھے اور جو زندگی اُن پر گزر رہی تھی، کوئی اور ہوتا تو وہ مبالغے کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتا اور ایک سے زیادہ مقاصد میں کامیاب ہو جاتا۔ انھیں تو موجود سچائیوں کو پیش کرنا تھا لہٰذا حسّی حقیقت پسندی کے رجحان کو اُبھارا اور اپنے جذبے اور احساس کے ساتھ سچائیوں کی حسّی تصویر کشی شروع کی، یہ نہ بھولیے کہ ایک جینیس نے اس چیلنج کو قبول کیا تھا، اپنی تہذیب کے بہتر مطالعوں کے شدید احساس کے ساتھ ایک ایسے ذہن نے ان حقائق کو ازسرِنو خلق کیا ہے کہ جس نے اپنی تہذیب کی روشنیوں سے چراغاں کیا تھا۔
سلطانوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے واقعات پیش کرتے ہیں لیکن کم و بیش ایسی تمام تخلیقات میں کسی نہ کسی طرح واقعات سے گریز کی صورت نکال لیتے ہیں، واقعات و حادثات کے ساتھ زندگی کے تقاضوں کا احساس عطا کرتے ہیں، ان کا وژن‘ توجّہ چاہتا ہے اس کے ساتھ ہی وہ ہندوستانی فضاؤں کے حسن اور مشترکہ تہذیب کی جمالیات سے دلچسپی لینے لگتے ہیں، جو حضرات ان کی ایسی تخلیقات کو تاریخ سمجھ کر پڑھتے ہیں انھیں اکثر اُلجھن ہوتی ہے، کوئی ایسے تجربوں کو مبالغہ آرائی تصوّر کر کے نظر انداز کر دیتا ہے، کوئی انھیں عبارت آرائی اور زورِ سخن سمجھ کر ہلکی سی داد دیتا ہے اور تاریخی واقعات تلاش کرنے لگتا ہے اور کوئی یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ایسی تخلیقات میں تاریخی حقیقتیں سب کچھ ہیں یہ کہتا ہے کہ وہ داستان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ شاعری کے ساغر میں حقیقت ہمیشہ عریاں نظر آتی ہے۔ (مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی: مقدمہ قران السعدین) مولانا شبلی نعمانی نے بھی اس فنکاری کی داد نہیں دی، لکھتے ہیں:
’’’قران السعدین‘ میں انھوں نے کیقباد اور بغرا خاں کا حال لکھا ہے لیکن اصلی واقعہ کو چھوڑ کر خاص خاص چیزوں کی تعریف میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ واقعات کا سلسلہ بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور کلام نہایت بے ربط ہو جاتا ہے۔ ‘‘ (مولانا شبلی نعمانی: حیاتِ خسروص-۵)
حقیقت یہ ہے کہ ایسی تخلیقات میں کلام کے بے ربط ہونے اور واقعات کے سلسلے کے بالکل ٹوٹ جانے ہی سے امیرخسرو کی ہند ترک جمالیات کی بعض خوبصورت قدریں اُجاگر ہوتی ہیں۔ ذہین فنکار نے اپنے حالات کے پیشِ نظر اسے اپنا عیب کہہ کر خود کو بچا لیا ہے اور حسّی حقیقت پسندی اور رومانیت کے عمدہ تجربے آنے والی نسلوں کو عطا کیے ہیں۔ امیرخسرو نے اسے اپنا عیب کہا ہے اور کئی اشعار میں اپنے اس عیب یا کمزوری کا ذکر کیا ہے، خاکساری فنکار کی فطرت میں ہے، اچھے شاعر کی چار خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں حکیم سنائی، انوری اور نظامی کی طرح کسی طرزِ خاص کا موجد نہیں ہوں، اچھے شعرا کے کلام میں غلطیاں اور لغزشیں نہیں ہوتیں اور میرا کلام لغزشوں سے خالی نہیں، ہاں، میں سرقہ نہیں کرتا اور میرا کلام صوفیوں اور واعظوں کے انداز کا نہیں ہے، مولانا شبلی اسے امیرخسرو کی انصاف پرستی اور بے نفسی کہتے ہیں، اسے خاکساری کہنا چاہیے۔ الغرض اس گریز اور واقعات کے سلسلے کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے عمارتوں، حوضوں، صحراؤں، رسوم و رواج، آب و ہوا،جانوروں اور پرندوں، پھول اور پھلوں، شہروں اور عورتوں کے متعلق اُن کے حسّی حقیقت پسند تجربے سامنے آئے ہیں۔ مثنوی ’قران السعدین‘ میں واقعات کے سلسلے کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے موسموں، شکار گاہوں، دہلی کی عمارتوں اور جلوسوں کی حسّی حقیقت نگاری ہوئی ہے، امیرخسرو نے جزئیات پر اتنا زور دیا ہے کہ فنکار کی کیفیتیں قاری کے جذبہ و احساس کے قریب آ جاتی ہیں، گریز کے تجربوں میں اشیا و عناصر اور کردار کی جہتیں توجّہ چاہتی ہیں، موجود حقیقتوں میں فنکار نئی جاذبیت پیدا کر دیتا ہے، ماحول اور فضا کا انوکھا پن بھی متاثر کرتا ہے۔ اس طرح امیرخسرو ’جدّت و اختراع‘ کی اصطلاح کو اور زیادہ پُر معنی بنا دیتے ہیں، ’جامع مسجد‘، ’منارہ‘ اور ’حوض شمسی‘ اور مثنوی ’نہ سپہر‘ میں قطب الدین مبارک شاہ کے شکار اور اُس کی محفلوں اور بعض کرداروں کے عمل اور ردِّ عمل کے تاثرات موجود حقیقتوں کی نامحسوس کیفیتوں کو بھی محسوس بنا دیتے ہیں، ’قران السعدین‘ میں کاغذ، کشتی، دریا، ’شمع‘، ’صراحی‘ اور ’جام‘ پر اُن کی نظمیں ان کے ’وژن‘ کو بہتر طور پر سمجھاتی ہیں۔
’قران السعدین‘ نے بعض تاریخ نویسوں کی مدد کی ہے مثلاً ضیاء الدین برنی کی ’تاریخ فیروز شاہی‘ میں بغرا خاں اور کیقباد کے تعلق سے کئی باتیں اِسی تصنیف کے پیشِ نظر لکھی گئی ہیں، عبدالقادر بدایونی نے اپنی معروف تاریخ ’منتخب التواریخ‘ میں ’قران السعدین‘ کے حوالے دیئے ہیں، فرشتہ نے اس تصنیف سے استفادہ کیا ہے اور کئی اشعار نقل کیے ہیں۔
امیرخسرو نے یہ مثنوی سلطان معز الدین کیقباد کی فرمائش پر لکھی تھی، (۱۲۸۹ء -۶۸۸ھ) میں مکمل ہوئی، اس میں تین ہزار نوسو چوالیس اشعار ہیں، ابتدا حمد سے ہوئی ہے، پھر نعت اور معراج رسول اور اس کے بعد کیقباد کی تعریف و توصیف۔ سلطان کی مدح کے بعد دہلی کو ایک پیکر کی صورت پیش کیا گیا ہے۔ اس شہر کی شخصیت محسوس ہونے لگتی ہے، خدا بخش لائبریری (پٹنہ) رضا لائبریری (رام پور) برٹش میوزیم (لندن) کیمبرج یونیورسٹی، برلن لائبریری اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اس کے عمدہ نسخے موجود ہیں۔
’قران السعدین‘ کے شاعر کی عمر چھتیس برس سے زیادہ نہیں ہے۔ کیقباد اور بغرا خاں اس مثنوی کے مرکزی کردار ہیں، کیقباد کی فرمائش یہ تھی کہ ایسی مثنوی لکھی جائے کہ باپ کے خلاف اس کے جذبات کی قدر کی جائے، اگر باپ کے ہوتے وہ خود کو سلطنت کا حقدار اور حکومت کرنے کا مستحق سمجھتا ہے تو یہ غلط نہیں ہے۔ امیرخسرو جس نظامِ اخلاق اور جس تہذیب کے خالق اور دلدادہ ہیں اُس نظام اور اُس تہذیب میں یہ بات ہی غلط ہے۔ غیاث الدین بلبن کے بعد کیقباد (معزالدین) دہلی کا سلطان بنتا ہے، اُس کا باپ بغرا خاں بنگال کا حاکم ہے۔ کیقباد عیش و عشرت میں ڈوب جاتا ہے، بغرا خاں کو یہ بات پسند نہیں آتی، وہ دہلی کی طرف بڑھتا ہے، دوسری جانب کیقباد کا عالم یہ ہے کہ وہ بغرا خاں کو تخت دینا نہیں چاہتا لہٰذا خطرے کے احساس کے ساتھ اپنی فوج کے ساتھ بڑھتا ہے۔ دونوں کی ملاقات سرجوندی کے کنارے ہوتی ہے۔ امیرخسرو نے اسے دو چمکتے اور تابناک ستاروں(قران السعدین‘کا ملاپ قرار دیا اور باپ بیٹے کی خط و کتابت میں احساسات اور جذبات کی فطری عکاّسی کی، دوکرداروں کے جذباتی رشتوں سے سوچ اور فکر کی سطح اور بلند ہو گئی ہے۔ بغرا خاں کے سینے میں دھڑکتا دل امیرخسرو کے الفاظ میں، تڑپتا ہوا ملتا ہے، فنکار کا ’وژن‘ بغرا خاں کے خط میں جس شدّت سے اُبھرا ہے اس کی مثال اس نظم میں اور کہیں نہیں ملتی:
جز بہ تمنّائے تو سودام نیست
بہتر ازیں ، ہیچ تمنّا نیست
گرچہ کہ سلطان جہانم نہ ملک
تاج دہ و تخت ستانم بہ ملک
لیک چودد رم زنوائے نیک بخت
نے خوشم از تاج و شادم ز تخت
بخت من از پائے برا فلاک سود
باتو چویک دم نہ نشینم چہ سود
باپ کی جذبات کی اس حسّی اور جذباتی تصویر کشی کا اثر کیقباد پر ہوتا ہے اور اس کا تیور اور لہجہ بدل جاتا ہے، باپ کو دیکھ کر بیٹا تخت سے اُتر جاتا ہے، دونوں ایک دوسرے سے لپٹ جاتے ہیں۔ اور محبت کا جوش ایک مثال بن جاتا ہے، بغرا خاں اپنے بیٹے کے سہارے تخت پر بیٹھتا ہے۔
امیرخسروکا کارنامہ یہ نہیں ہے کہ انھوں نے صداقتوں اور تاریخی واقعات کو پیش کر دیا ہے اُن کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ایک ڈراما خلق کر دیا ہے اور اپنے تہذیبی شعور سے جذبات کی سطح بلند کر دی ہے۔ خود کیقباد کو سچائی کا احساس عطا کیا ہے، جذباتی کیفیتوں کو حد درجہ محسوس بنا دیا ہے، اِس تاریخی ملاقات کے واقعات سے گریز کر کے دونوں جانب فوجیوں کی زندگی کے نقوش اُجاگر کیے ہیں۔ جزئیات کی پیشکش میں اُن کی فنکاری متاثر کرتی ہے۔
’قران السعدین‘ فنّی نقطۂ نظر سے ایک شاہکار ہے۔تاریخی واقعات میں ڈراما اور فکشن دونوں کی خصوصیات شامل ہو گئی ہیں، تاریخ اور اس کے واقعات فکشن کے سانچے میں ڈھل گئے ہیں، موضوع مختلف مناظر میں تقسیم ہو کر ڈرامائی انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے، تغزل کا ایک عمدہ معیار بھی ہے۔ امیرخسرو کی رومانیت بھی متاثر کرتی ہے اور اُن کا جمالیاتی شعور بھی اثر انداز ہوتا ہے، ممدوح کی ذات اور شخصیت اپنی جگہ پر، تعریف اور توصیف ضروری تھی لیکن بات اسی حد تک نہیں ہے، فنکار مرقع نگار نے کہانی اور اس کے واقعات کے کئی پہلوؤں کو پیش کیا ہے، ممدوح بھی اس فکشن اور ڈرامے کا ایک متحرک کردار بن جاتا ہے۔ اس فسانے میں جزئیات نگاری، ماحول اور فضا کی تشکیل، تخئیل آفرینی اور پھر ڈرامائی تصادم، جذبات کی کشمکش اور کلائمکس سب توجہ طلب بن جاتے ہیں، ’قران السعدین‘ کے ڈرامے میں مناظر تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں اور ہر منظر ایک نقش چھوڑ جاتا ہے، انسان کی اخلاقی خوبیوں پر فنکار کا یقین پورے فسانے میں ایک تنظیم پیدا کیے ہوئے ہے، انسان اور اس کی انسان دوستی پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے۔ بغرا خاں اور کیقباد دونوں کی شخصیتوں کے جوہر کی پہچان آخری منظر میں ہو جاتی ہے۔
بلبن نے بغرا خاں کو لکھنوتی کی حکومت دی تھی، جب بلبن کا انتقال ہوا تو بغرا خاں کا بیٹا معزالدین کیقباد ۶۸۶ھ میں تخت نشین ہوا، دلّی کا حاکم اور سلطان بن گیا۔ اُس وقت اُس کی عمر زیادہ نہ تھی۔ اٹھارہ اُنیس برس کا تھا۔ سلطان بنتے ہی عیّاشی میں ڈوب گیا۔ اس کی زندگی کا اسلوب ہی بدل گیا۔ عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے اُس نے جمنا ندی کے کنارے ایک خوبصورت محل بنوایا اور وہیں رہنے لگا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے محل کے گرد ایک شہر آباد ہو گیا۔ گانے والیوں اور رقص کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں نے مسکن بنا لیا۔ دربار کا ہے کو تھا عیاشی کا مرکز تھا، ہر طبقے کے لوگ دربار میں آتے اور کیقباد کے ساتھ عیش و عشرت کے لمحوں کو رنگین بناتے، امیرخسرو نے اس محل کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ بلبن نے جن عمدہ قدروں کی تشکیل کی تھی وہ ساری قدریں شکستہ ہو گئیں۔ عیّاشی کی زندگی بسر کرتے ہوئے کیقباد کو حاکم کے فرائض بھی یاد نہ رہے۔ نظام الدین باربک نے کیقباد کو اپنی مکمل گرفت میں لے رکھا تھا، سلطان کو ہر وقت نشے میں رکھتا اور خود حکومت کرتا۔ بغرا خاں کو حالات معلوم ہوئے تو وہ بے حد دُکھی ہوا۔ بیٹے کو خط لکھے، اُسے سمجھانے کی کوشش کی، جب یقین آ گیا کہ تحریروں کا کوئی اثر نہ ہو گا تو کیقباد سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، کیقباد راضی ہو گیا، نظام الدین باربک کے حق میں یہ بات اچھی نہ تھی۔ پھر بھی سلطان کی مرضی کے آگے جھکنا پڑا۔ باپ بیٹے کو اودھ میں ملنا تھا، باربک کی خواہش یہ تھی کہ باپ بیٹے میں جنگ ہو، یہی وجہ تھی کہ وہ ایک فوج لے کر اودھ کی جانب روانہ ہوا۔ بغرا خاں نے ایک بڑی فوج دیکھی تو سخت پریشان ہوا لیکن ضبط اور تحمل سے کام لیا۔ سرجو ندی کے کنارے باپ بیٹے ملے۔ دونوں بغل گیر ہو کر روتے رہے۔ بغرا خاں نے کیقباد کو تخت پر بٹھایا لیکن کیقباد فوراً تخت سے اُتر آیا، اُس نے ضیافت کا انتظام کیا، رقص و سرود کی محفلیں منعقد کیں۔ لکھنوتی واپس جانے سے پہلے بغرا خاں نے کیقباد کو کئی تحفے دیئے اور فرائض کا احساس دلایا۔ امیرخسرو نے وہ المناک منظر انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا ہے جب بغرا خاں واپس جارہا ہے اور باپ بیٹے دونوں زار و قطار رو رہے ہیں۔
’قران السعدین‘ میں ہر باب یا منظر کے بعد غزل ملتی ہے جو تبصرہ بھی ہے اور تنقید بھی، کشمکش اور تصادم کی تصویریں بھی ہیں اور رومانی ذہن کے کرشمے بھی۔ ایک خوبصورت دل چھو لینے والی غزل ہے جس میں وہ کہتے ہیں۔ اُس وقت یا لمحے کا کیا کہنا جس لمحے عاشق اپنے محبوب کے پاس پہنچے اور محبوب کا آرزو مند اُسے پالے/ محبوب کے گل جیسے رخسار پر آنکھ لگی ہو کچھ اس طرح کہ پلکوں کا کانٹا بھی چبھے توا سے خبر نہ ہو/ اُس تلخی کے لطف کا کیا کہنا جو ہجر کے بعد کی کٹی جلی باتوں سے ملتا ہے، اس طرح عشق کے خمار کو توڑنے کی دوا بھی حاصل ہو جاتی ہے/ وصل کی لذّت کو وہی جانتا ہے جو بہت ہی لمبی دُوری کے بعد اپنے محبوب سے جذب ہو جائے/ محبوب آئے یا نہ آئے، تم یہی جپتے رہو، وہ آتا ہی ہو گا! اسی بات سے اپنے دل کو تسلّی دیتے رہو/غزل یہ ہے، تغزل کا لذّت آمیز انوکھا رَس ہے جو کلامِ خسرو کی پہچان ہے:
خرّم آں لحظہ کہ مشتاق بیاری برسد
آرزو مند نگاری بہ نگاری برسد
دیدہ بر روئی چوگل بنددو نبود خبرش
گرچہ دردیدہ زِنوکِ مژہ خاری برسد
ای خوشا تلخیِ پاسخ کہ دہد بعد از ہجر
کہ خماری شکن از بہرِ خماری برسد
لذّتِ وصل ندارد مگر آں سوختۂ
کہ پس ازدوریِ بسیار بیاری برسد
خسرو ایار تو گر می نرسد خود میگو
بہر تسکین دلِ خویش کہ آری برسد!
(قران السعدین)
امیرخسرو کی ایک مشہور غزل:
شد ہوا سرد کنوں آتش و خرگاہ کجاست!
’قران السعدین‘ ہی میں ہے۔ پہلے شعر میں پیاری سی چاہت ہے، حسن اور لذّت کی تلاش ہے، کہتے ہیں:
شد ہوا سرد کنوں آتش و خرگاہ کجاست
بادۂ روشن و رخسارۂ دل خواہ کجاست
ہوا میں خنکی آ گئی ہے لہٰذا آتش و خرگاہ کی تلاش ہے۔ اور تلاش ہے بادۂ روشن کی، چہرۂ محبوب کی اور دمکتے رخسار کی۔ نہ ہَوا کی خنکی نے جو سرور پیدا کر دیا ہے اس سے حسن اور اس کی لذّت کا احساس شدّت سے جاگا ہے۔ کہتے ہیں:
وی ہمی رفت وزبس دیدہ کہ غلطیدہ بخاک
گفت یارب کہ کجا پائے نہم راہ کجاست
محبوب کی حیرت زدہ آنکھوں کا تصوّر کیجیے جو انتہائی بھولے پن سے پوچھ رہی ہیں۔ اے خدا! میں پاؤں کہاں رکھوں، راستہ تو ہے ہی نہیں، تمام لوگوں نے راستوں پر اپنی آنکھیں بچھا رکھی ہیں جس کا پیکر نکلا تھا کہ خلق نے اپنی آنکھیں بچھا دیں۔ ہر جانب آنکھیں تھیں، محبوب نے کسمساتے ہوئے کہا مَیں کدھر سے جاؤں، راستہ تو ہے ہی نہیں۔ تصور کیجیے ایسے تصویر کا کہ جس میں حسن کو دیکھنے کے لیے بس آنکھیں بچھی ہوئی ہیں۔ فرماتے ہیں:
ماہ من کو رشد ایں دیدہ زبیداریِ شب
آخر از زلف پُرسی کہ سحرگاہ کجاست
سیاہی ہے، ہر جانب تاریکی پھیلی ہوئی ہے، تیری زلف نے اس سیاہی کو جنم دیا ہے، شب بیداری سے میری آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے، اپنی زلف سے کیوں نہیں پوچھتا کہ آخر صبح کہاں ہے؟ پہلے شعر میں حسن اور لذّت کی تلاش ہے، دوسرے شعر میں محبوب کا معصوم سا سوال ہے۔ ہر جانب آنکھیں بچھی ہوئی ہیں راستہ کہاں ہے؟ اور تیسرے شعر میں تلاشِ صبح ہے، تینوں اشعار میں تغزل کا معیار بلند ہے۔ پہلے اور تیسرے شعر میں درد کی لطافت ہے اور دوسرے شعر میں ایمائی نکتہ آفرینی—!
امیرخسرو نے عشقیہ جذبات کو لطیف انداز میں پیش کیا ہے اور اکثر دل نواز محویت کا عالم طاری کر دیا ہے۔ اِن اشعار میں حیرانی اور استفسار کی جو کیفیت پائی جاتی ہے وہ توجہ طلب ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اندرونی نغمے کے ارتعاش نے فضا کی تشکیل کی ہے۔
امیرخسرو نے اس مثنوی میں دہلی کی جو تصویر کھینچی ہے اور اس شہر کے متعلق جو باتیں کی ہیں اُن سے دہلی کی شخصیت محسوس ہونے لگتی ہے، تمدنی اور تہذیبی زندگی کے نقوش بھی اُجاگر ہوئے ہیں اور اس شہر کا حسن و جمال بھی سامنے آیا ہے۔ ’قران السعدین‘ کے مطابق اُس وقت دہلی شہر دو پُرانے اور ایک نئے حصار سے گھرا ہوا تھا، خوبصورت گھر اور سجے سجائے مکانات تھے، لوگوں کا احساسِ جمال حد درجہ بالیدہ تھا، آرائش کی جانب خاص توجہ دی جاتی تھی، یہ شہر پہاڑی پر آباد تھا اور اس کے اِرد گرد باغ لگائے گئے تھے، ہر موسم میں خوبصورت پھول نظر آتے تھے۔ سبزے پُر کشش تھے۔ بازار میں ہندوستان اور خراسان کے پھل اور میوے بھرے پڑے تھے۔ انسان دوستی کا جذبہ بیدار تھا، لوگ علم حاصل کرنا چاہتے تھے، ادب اور موسیقی سے بھی کم دلچسپی نہیں تھی، سپہ گری کا فن مقبول تھا، جامع مسجد، حوض سلطانی اور مینارہ وغیرہ کے اپنے جلوے تھے، مسجد میں نو گنبد تھے، حوض سلطانی دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ پانی اتنا صاف شفّاف تھا کہ شب میں بھی اس کی تہہ نظر آتی تھی۔ لوگ اس کا پانی پیتے، جمنا سے حوض سلطانی تک کئی نہریں نکالی گئی تھیں، یہاں لوگ تفریح کے لیے آتے، جمنا کے کنارے کیلو کھری میں جو شاہی محل تھا اس کا عکس دریا میں پڑتا تھا۔ باغ کے درختوں کی شاخیں محل کے اندر پہنچ گئی تھیں۔ امیرخسرو نے بہار اور خزاں دونوں موسموں کے جلال و جمال کو حد درجہ محسوس بنا دیا ہے:
حضرت دہلی کنفِ دین و داد
جنت عدن ست کہ آباد باد
ہست چو ذات ارم اندر صفات
خرسہا اللہ عن الحادثات
(قران السعدین)
گوشہ بر خانہ بہشتے شگرف
گشتہ بہ صفت زر بے صرفہ صرف
مردم یک خانہ و صد خرمی
خانۂ یک مردم و صد مردمی
(قران السعدین)
مسجد او جامع فیضِ الٰہ
زمزمۂ خطبۂ او تا بماہ
گنبدِ او سلسلہ پیوند راز
سلسلہ چوں کعبہ شدہ حلقہ ساز
(قران السعدین)
دیدن او رآطہ افگندہ ماہ
بلک فتادش گہ دیدن ماہ
ماہ نہ حسپد ہمہ شب تا سحر
کزمہ سخنش خلہ دارد بہ بر
زاں خلد ہر یار کہ در ابر داد
برق زجاجست و دگر جاں فتاد
(قران السعدین)
تاخضر آب خوش او نوش کرد
آب خوش چشمہ فراموش کرد
(قران السعدین)
ہر کہ دریں ملک دمے آب خورد
گشت دل از آب خراسانش سرد
مہر فلک گرم شد اندر وفاش
گرم ازاں گشت جہاں را ہواش
(قران السعدین)
گل ہمہ سالہ بہ چمن خوش نسیم
خاک زگلہا شد و پُرزد و سیم
خط تر سبزہ بہ صحراؤ کشت
نسخہ گرفتہ ز سوادِ بہشت
(قران السعدین)
ہر چہ زصنعت بہمہ عالم ست
ہست درایشان و زیادت ہم ست
بیشتر از علم و ادب بہرہ مند
و اہل سخن خود کہ شمارد کہ چند
چو زسخن بگذری آہنگ و ساز
نغمہ مرغانِ بریشم نواز
و از ہنر نیزہ و پیکان و تیر
ہر کہ در آید بہ نظر بے نظیر
(قران السعدین)
اے دہلی وائے بتانِ سادہ
پگ بستہ و ریشۂ کج نہادہ
فرماں نبرد ازاں کہ ہستند
از غایت ناز خود مرادہ
جائے کہ برہ کنند گلگشت
در کوچہ دمد گل بیادہ
شان در رہ و عاشقاں بہ دنبال
خوں ناب زدید ہاکشادہ
ایشاں ہمہ باد حسن درسر
و اینہا ہمہ دل بیاد دادہ
(غزل، قران السعدین)
دہلی کے اس عاشق کا یہ خیال ہے کہ شہر دہلی کے دین اور انصاف کی دھوم مچی ہوئی ہے، دہلی عدن کی جنت ہے، اس کے جمال پر نظر ڈالیے تو محسوس ہو گا یہ باغِ ارم ہے۔ اس کا قصّہ سن کر مکّہ بھی اس پر عاشق ہو گیا ہے اور ہندوستان کا طواف کرنے لگا ہے:
گر شنود قصّہ ایں بوستاں
مکّہ شود طائفِ ہندوستاں
شہر نبی را بر سر او قسم
شہر خدا گشتہ زہتیش اصم
قبہ اسلام شدہ درجہاں
بستہ اور قبۂ ہفت آسماں
(قران السعدین)
دہلی کا ہر گھر ایک گوشۂ بہشت ہے، اس کی آرائش و زیبائش پر کافی رقم خرچ ہوتی ہے، ہر گھر میں خوشیاں ہیں، دہلی کے عاشق کا کہنا ہے کہ جامع مسجد کے خطبہ کی آواز چاند تک پہنچتی ہے۔ اس کے گنبد میں جانے کتنے راز پوشیدہ اور پیوند ہیں۔مینارہ دیکھ کر چاند کی ٹوپی گر گئی ہے۔ حوض کا پانی ایسا ہے کہ خضر پی لیتے ہیں۔ تو اپنے چشمے کو بھول جاتے ہیں۔ آفتاب دہلی کا عاشق ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ہَوا گرم ہو جاتی ہے۔آب و ہَوا ایسی ہے کہ پورے سال باغوں میں پھول کھلے رہتے ہیں، شہر کے لوگ فرشتوں کی سیرت رکھتے ہیں، صنعت، علم و ادب، سازو نغمہ، نیزہ، پیکاں غرض سب سے دلچسپی ہے۔ محبوبوں کا کیا کہنا، جس راہ سے گزرتے ہیں اُس راہ میں خوشبو پھیل جاتی ہے، ان کے پیچھے جو عاشق چلتے ہیں اُن کی آنکھوں سے خون جاری رہتا ہے۔ محل جنت سے کم نہیں ہے، دروازے پر طوبیٰ کی شاخ ہے۔ محل کے نیچے جمنا بہہ رہی ہے اس میں محل کا عکس پڑ رہا ہے، کہتے ہیں یہ عروس کے لیے آئینہ ہے۔ جشنِ نوروز میں آرائش و زیبائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نظارے کا مقابلہ ایران، توران اور خراسان کے دربار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ امیرخسرو کا آزاد ذہن کتنا متحرک اور حسنِ دہلی سے کس قدر سرشار ہے اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، ’جامۂ ہندی، کی تعریف اس طرح کی ہے کہ یہ اس قدر باریک ہے کہ پہنو تو جسم نظر آئے، بعض کپڑے ایسے کہ انھیں لپیٹو تو انگلیوں کے ناخن میں آ جائیں اور کھولو تو دنیا کو چھپا لیں:
جامۂ ہندی کہ ندانند نام
کز تنکی تن بہ تماید تمام
ماندہ بہ پیچیدہ بہ ناخن نہاں
بار کشائش بہ پوشیدہ جہاں
(قران السعدین)
یہاں فنکار نے موضوع سے گریز کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، مثنوی کا یہ حصّہ موضوع سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک علیحدہ حیثیت رکھتا ہے، امیرخسرو کی واقعہ نگاری اور تاریخ نگاری کے ساتھ اُن کی تخئیل نگاری اور سحر بیانی کا بھی احساس ملتا ہے۔ شاعر کا رومانی ذہن متحرک ہوتا ہے تو موضوع کی جمالیاتی خصوصیتیں بھی اُجاگر ہونے لگتی ہیں۔
اگرچہ یہ مثنوی کیقباد کی فرمائش پر لکھی گئی لیکن اس مثنوی میں امیرخسرو کا آزاد ذہن حد درجہ متحرک محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے آزاد ذہن کو محکوم بنا کر رکھنا نہیں چاہتے تھے، اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر بڑا اعتماد تھا، خود کہا ہے کہ میں نے کچھ پانے کی تمنّا یا حرص میں یہ مثنوی نہیں لکھی، میری شاعری ایک خزانہ ہے، اس کے سامنے گنجِ زر کی بھلا کیا حیثیت ہے۔ شاعری کی وجہ سے مجھے جو کچھ ملتا ہے انھیں تقسیم کر دیتا ہوں، اگر سلطان مجھے فریدوں و جمشید کا خزانہ بھی دے دے تو وہ میرے ایک حرف کا صلہ بھی نہ ہو گا:
من کہ نہادم ز سخن گنج پاک
گنج زر اندر نظرم چیست خاک
دردہدم گنج فریدون و جم
ہدیۂ یک حرف بود بلکہ کم!
(قران السعدین)
اِسی روییّ کی وجہ سے انھوں نے اپنے آزاد رومانی ذہن سے زیادہ کام لیا ہے، کیقباد کو نصیحت بھی کرتے ہیں اور اس کے کردار پر تبصرہ بھی کرتے ہیں:
ترک طمع گیر زخود شرم دار
تانشوی چوں خجلان شرمسار
گرسند زانی کہ دریں تنگ نائے
نان زملک می طلبی نزخدائے
غرّہ بہ نزدیکی سلطان مشو
بلبل باغی مگس خواں مشو
ہست وے از خرمنِ ہستی خسے
تاتوچہ باشی کہ گمی زوبسے
(قران السعدین)
اُس وقت کے ماحول پر اس طرح تبصرہ بھی کرتے ہیں:
خوں خوردن شان بآشکار است
گرچہ پنہاں خورند بادشاہ!
(قران السعدین)
یعنی شراب تو چوری چوری پیتے ہیں لیکن خون برملا پیتے ہیں!
’قران السعدین‘ کی کہانی ’الم طربیہ‘ ہے یعنی خوش انجام المیہ، امیرخسرو نے اس میں کشمکش اور تصادم کو اُجاگر کر کے ایک خاص تناسب پیدا کر دیا ہے، دو مختلف زاویہ نگاہ ہیں، بغرا خاں کے کردار سے حکومت کرنے کے اُصولوں کا تاثر مل ہی جاتا ہے اگرچہ کیقباد کے رنگین قاعدوں اور طریقوں کو اُبھارنے کی ہر ممکن کوشش موجود ہے۔ احساس اور رجحان کے اختلاف کی وجہ سے المیہ میں شدّت پیدا ہوتی ہے، تصادم عروج پر نظر آنے لگتا ہے، باپ بیٹے جب بغل گیر ہو جاتے ہیں تو المیہ کا سلجھاؤ ’الم طربیہ‘ کو نمایاں کر دیتا ہے اور کہانی انجام کو پہنچتی ہے۔
امیرخسرو ایک اچھے ڈراما نگار اور تمثیل نگار کا بھی ذہن رکھتے ہیں، دوسری تخلیقات خاص طور پر ’تغلق نامہ اور ’قران السعدین‘ میں یہ ذہن زیادہ متحرک نظر آتا ہے، نظام الدین باربک ایک تیسری شخصیت کی صورت کشمکش میں حرارت اور شدّت پیدا کرتا ہے، ٹکراؤ کے ماحول میں باپ بیٹے کی محبت اپنی خوشبو بکھیرتی ہے۔ ’قران السعدین‘ الم و طرب کی آمیزش کا ایک ایسا ڈراما ہے کہ جس میں مختلف مناظر جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں، غالباً یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ یہ تاریخی کہانی فنکار امیرخسرو کی فکر و نظر سے آخر میں جذباتی طربیہ بن جاتی ہے (جذباتی المیہ کا انجام عموماً خوشگوار ہوتا ہے) اچانک کردار کے باطن میں تبدیلی آ جاتی ہے، یہ تبدیلی انقلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے، کردار کا زاویۂ نگاہ ہی تبدیل ہو جاتا ہے، امیرخسرو کے احساسِ تغزل اور شعری کیفیات کی وجہ سے یہ مثنوی ممتاز درجہ حاصل کر لیتی ہے۔
’مفتاح الفتوح‘ (۱۲۹۰ء) خضر خاں دولرانی (۱۳۱۵ء) ’نُہ سپہر‘ (۱۳۱۹ء) ’تغلق نامہ‘ (۱۳۲۵ء) ’مطلع الانوار‘ (۱۲۹۸ء) ’شیریں خسرو‘ (۱۲۹۸ء) ’مجنوں لیلیٰ‘ (۱۲۹۹ء) ’آئینۂ سکندری‘ (۱۲۹۹ء) ’ہشت بہشت‘ (۱۳۰۱ء) میں جذبات کی مختلف سطحوں، حسّی کیفیتوں اور گریز کے خوبصورت عمل، جزئیات نگاری اور جہت ساز ذہن کا مطالعہ کیا جائے تو امیرخسرو کی وہ دنیا ملے گی جو تاریخی واقعات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے اور امیرخسرو کو تاریخ نویس ثابت کرنے کی کوشش میں اب تک نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ ان تخلیقی کارناموں سے زیادہ سے زیادہ جمالیاتی انبساط حاصل کرنا چاہیے، آرٹ کی بہتر خصوصیات کے پیشِ نظر انھیں سمجھنا اور پہچاننا ضروری ہے۔ ’مفتاح الفتوح‘ میں جلال الدین خلجی کی چار فتوحات کو پیش کیا ہے، مثنوی ذولرانی خضر خاں میں خضر خاں (علاء الدین خلجی کے بیٹے) اور گجرات کی شہزادی دیول دیوی کی محبت کی کہانی ہے، انجام المیہ ہے۔ ’نہ سپہر‘ میں نواب ہیں، ہر باب کی بحر جداگانہ۱؎ ہے۔ پانچ ہزار چار سو نو اشعار ہیں، درمیان میں غزلیں بھی ہیں۔ پہلے باب میں حمد، نعت، منقبت اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی مدح ہے، شاہ مبارک اور اُس کی تخت نشینی کی تفصیل ہے، دکن کی جانب روانگی اور راجہ رام دیو کے وزیر راگھو کی شکست وغیرہ کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں مبارک شاہ کی تعمیرات، تلنگانہ اور وارنگل پر حملے اور دہلی کی تعریف و توصیف ہے۔ تیسرے باب میں ہندوستان ایک جنت کی صورت ملتا ہے، چوتھے باب میں امیرخسرو کی نصیحتیں ہیں، پانچواں باب ہندوستان کے خوبصورت ماحول کو پیش کرتا ہے، سردی کے موسم کی تعریف ملتی ہے نیز بادشاہ کی دلچسپیوں کا ذکر ملتا ہے۔ چھٹا باب اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ امیرخسرو نے شہزادہ محمد کی پیدائش کو موضوع بنا کر زائچہ اور فال نامہ وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ ساتویں باب میں بہار کے موسم پر ایک فنکار شاعر کی نظر ملتی ہے، دہلی کی آرائش و زیبائش، شہزادے کی پیدائش پر جشن منانے اور موسیقی کے آلات کی تفصیل ہے۔
آٹھواں باب عشقِ حقیقی کے موضوع پر ہے اور آخری یعنی نویں باب میں شعرائے دہلی کا تعارف ہے۔ ’تغلق نامہ۲؎‘ میں غیاث الدین تغلق کی فتوحات کی تفصیل ملتی ہے۔یہ ایک المیہ ڈرامہ ہے۔ اس کے المناک واقعات اور سانحات صرف اس لیے اہم نہیں کہ یہ دلّی کی سسکتی زندگی کی تاریخ پیش کرتے ہیں اور اس میں حقیقی تاریخی کرداروں کا عمل اور ردِّ عمل ملتا ہے بلکہ ان واقعات کو پیش کرنے والا اور ان کرداروں کے عمل اور ردِّ عمل کے ڈرامے کو پورے تصادم کے ساتھ اُجاگر کرنے والا ایک بڑا فنکار ہے، اس کے لفظوں میں اس کے اپنے جذبوں کا آہنگ ہے، حسّی حقیقت نگاری کے بعض ایسے پہلو ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں، احساس، جذبہ، حس، وجدانی کیفیت اور ’وژن‘ نے حسّی حقیقت پسندی کی سطح بلند کر دی ہے۔ امیرخسرو کا ابلاغ پُر اثر ہے، سرور و انبساط عطا کرتے ہوئے حسّیات کی اوپری سطح سے گہرائیوں میں اُتر جاتا ہے، تاریخی واقعات و حادثات پر مشتمل مثنویوں کا مطالعہ صرف المیات کے جمال کے پیشِ نظر کیا جائے تو جمالیاتی آسودگی اور جمالیاتی انبساط زیادہ حاصل ہو گا۔ ’تغلق نامہ‘ میں اپنے شعری اسلوب کی توانائی سے حسّی تصویر کشی میں تخلیقی صلاحیتوں کو شدت سے اُبھارا ہے، بعض مقامات پر ایسی فضا خلق کر دی ہے کہ عمدہ ڈراموں کے مناظر سامنے آنے لگے ہیں، المیہ کا حسن اُجاگر ہوا ہے۔ حرکت اور آہنگ سے فضا بندی کی گئی ہے۔ مثلاً:
سپاہے تشنہ و بے آب و پُرگرد
دراں گرد از خوئ خویش آبخور کرد
رسید اندر مقامِ حرب گہ تیز
زِ آبِ تیز شمشیر آتش انگیز
رواں گشتند ہرسُو کا روا راں
کہ آرانید صف ہائے سواراں
نفیر چاؤ شاں برشد بعیُّوق
علم ہارا بہ گردوں رفت منجوق
صفِ پیلاں چوُ صفِ ابر آزار
ہرابرے ، برق ، حملہ باد رفتار
بہ پشتِ پیل ترکاں تیر درشت
چو کوہے کو ، بہ پشتِ کوہِ نبشت
پس پیلاں سواراں صف کشیدہ
بجوش از پشت ماہی تف کشیدہ
میانِ قلب ، مرتد چتر برسر
تہہِ چتر سماروغ خوردۂ تر
ہمہ خان و ملوک اندر چپ و راست
بہ سختی در نشتہ از پئ خاست
سلیح و ساز ہر یک خروانہ
ز آہن گشتۂ دریا روانہ
زبانِ کوس گردوں رہ نہادہ
ولے زاں زہ بلا وفتنہ زادہ
گرفتہ نیزہ برکف پہلواناں
دُعا برمال وجانِ رفتہ خواناں
جہانِ لشکر آتش وار سرکش
ہمی جنبید چو طوفانِ آتش
تصویر اس طرح سامنے آتی ہے، سپاہی رات بھر سفر کرتے رہے ہیں، گردو غبار میں چلتے چلتے ان کے حلق خشک ہو گئے ہیں، اپنے پسینے کی بوندوں سے حلق تر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سپاہیوں کی صفیں جم رہی ہیں، جنگ کا بگل بجا، ہاتھیوں کی صف برسات کی کالی گھٹا کی طرح آگے بڑھ رہی ہے، ہر ہاتھی بجلی کی طرح حملہ کرنے اور آندھی اور طوفان کی طرح چلنے والا ہے۔ اِن ہاتھیوں پر تیر انداز تیر لیے بیٹھے ہیں، ادھر سواروں کی صفیں موجوں کی طرح بڑھتی آرہی ہیں۔ لشکر کے درمیان مرتد چتر لگائے بھیگی گھاس کی طرح بیٹھا ہے۔ لشکر کے سردار اشارے کے منتظر ہیں، سردار شاہانہ اسلحوں سے سجے ہوئے ہیں، نقّارہ کی آواز سے آسمان دہل رہا ہے، پہلوان نیزوں پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں، یہ لشکر کا ہے کو ہے آگ کا طوفان ہے جو بڑھ رہا ہے! یہ خرویات کی بہترین تصویروں میں ایک تصویر ہے۔
امیرخسرو کے کلام کی رومانیت اور جمالیات کو ممتاز درجہ حاصل ہے۔ اس رومانیت اور جمالیات میں ’ہیومنزم‘ کے جوہر ہی سے مختلف رنگوں کی شعاعیں پھوٹی ہیں، ’ہیومنزم‘ کلام کی رُوح ہے، امیرخسرو نے انسان کو بلند تر درجہ عطا کر کے اسے کائنات کے مرکز پر کھڑا کر دیا ہے۔ تمام رومانی افکار و خیالات اور جمالیاتی تصورات کا سرچشمہ انسان ہے۔ حسنِ مطلق اور حسنِ کائنات دونوں کو محسوس کرنے اور دیکھنے کا ’وژن‘ انسان ہی رکھتا ہے، انسان اور انسان کا رشتہ عظیم ہے، اسی رشتے اور اسی محبت سے کائنات کا حسن و جمال قائم ہے۔ انسان کو ’دُرِ پاک‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے اور کہا ہے اے در پاک (انسان) تیری تلاش میں آسمان مدّتوں خاک چھانتا رہا تب کہیں تو ملا ہے:
چنبرِ نہ چرخ بسے بیخت خاک
تاتو بروں آمدی ای دُرِّ پاک!
(مطلع الانوار)
انسان پر نگاہ ڈالتے ہیں، اس کے ذہن کے کرشموں اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر سوچتے ہیں تو اُنھیں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک قطرے سے گوہر بنا وجود اپنے اندر نو سمندر رکھتا ہے، ایک قطرے میں نوسمندروں کا جلال و جمال ہے:
ساخت زیک قطرہ چومردم گہر
طرفہ کہ نہ بحر بیک قطرہ دَر
(مطلع الانوار)
امیرخسرو کی نظر میں انسان کائنات کی زندگی ہے، وہ روح کی مانند کائنات میں سَما جاتا ہے اور اس میں تحرک پیدا کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سچائی ہے کہ یہ دُنیا اتنی چھوٹی ہے کہ انسان کا وجود اس میں سماہی نہیں سکتا:
جان و جہانِ ہمہ عالم توئی
وانک نگجند بجہاں ہم توئی!
(مطلع الانوار)
امیرخسرو علم و حکمت، عقل و شعور و آگہی اور شخصی آزادی اور آزادیِ روح وغیرہ کی اہمیت کے اُس وقت قائل ہیں جب یہ سب انسانی مرتبے کی بلندی میں حصّہ لیں۔ انسانی مرتبے کی بلندی کے لیے انسان کی نظر کی کشادگی اور تہہ داری کو اہم تصوّر کرتے ہیں، فکر و نظر کی گہرائی ہی سے انسان فقیری میں امیری کرتا ہے، اہلِ نظر اور صاحبِ فکر و نظر کو گدڑی میں لپٹا دیکھتے ہیں تو لگتا ہے وہ گدڑی میں لعل دیکھ رہے ہیں، اُسے دنیا کا حاکم اور ملک کا پاسباں تصوّر کرتے ہیں:
مردِ بینا در گلیم و بادشاہِ عالم است
تیغِ خفتہ در نیام و پاسبانِ کشوراست
(نہایۃ الکمال)
تلوار میان میں سوئی رہے چھپی رہے مگر ملک کی پاسبانی تو وہی کرتی ہے، اسی طرح مردِ بینا گلیم میں دُنیا کی بادشاہت کرتا ہے!
امیرخسرو فکرو نظر کی کشادگی اور تہہ داری یا ’وژن‘ کی تیز اور تیز تر شعاعوں کی قدر و قیمت جانتے ہیں لہٰذا انسان کو صاحبِ نظر دیکھنا چاہتے ہیں، انھیں یقین ہے کہ اسرارِ کائنات کی خبر صرف صاحبِ نظر کو ملتی ہے، کائنات کی سچائیاں صرف اُس وقت بے نقاب ہوتی ہیں جب صاحبِ نظر کے ’وژن‘ کی تیز کرنیں پڑتی ہیں۔ فرماتے ہیں:
چشم حاصل کن کہ آنگہ می نماید بے حجاب
آنچہ پنہاں درپسِ ایں شیشۂ صافی دراست
(نہایۃ الکمال)
کائنات کے پردے کی ہر سچائی بے نقاب ہو جائے اگر تم صاحبِ نظر بنو۔
امیرخسرو نے بار بار تکبر اور غرور سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا ہے اور انسانی رشتوں اور محبت کی قدر و قیمت سمجھائی ہے، ایک جگہ کہتے ہیں وہ لوگ جو تکبر اور غرور کی علامت تھے مخلوق کے سرکے تاج بنے ہوئے تھے آج وہ سب پاؤں کے دھُول بن گئے ہیں، جنھوں نے انتہائی غرور کے ساتھ حکومت کی، اب کہاں ہیں؟ زمین کے اندر جانے کہاں! اُن کے تو نام و نشان مٹ گئے ہیں:
آں سروراں کہ تاجِ سر خلق بودہ اند
اکنوں نظارہ کن کہ ہمہ خاکِ پاشدند
سری کہ زیرِ زیں شد نہفتہ شاہاں را
ہماں سر است کہ برآسماں فراختہ اند
نفس کی غلامی پسند نہیں کرتے، اُنھیں تو وہ لوگ عزیز ہیں جو نفس کی غلامی پر اپنی آزادی کو فوقیت دیتے ہیں:
اے من غلام ہمّتِ آں پاک بندۂ
کز بندگئ نفس بد آزاد می رود
امیرخسرو کے نزدیک صاحبِ نظر تو وہ ہے کہ جو حسن و جمال کا اعلیٰ ترین نظریہ اور تصوّر رکھتا ہو، کائنات کی ہر شئے کے جمال کا عاشق ہو، زندگی کے تمام رنگوں کا عاشق ہو، وہ نابینا ہے جو عاشق میں شمار کیا جائے لیکن سیاہ فام شخص کے حسن کو نہ پہچان سکے۔ سیاہی کے حسن کے جلوے کو بھی جس نے پہچان لیا دراصل وہی صاحبِ فکر و نظر ہے، جلال و جمال کارسیا ہے، خالق کی تخلیقات کے حسن کا حصّہ اور جوہر ہے۔ فرماتے ہیں:
نزدیک اہلِ بینش کورست و کور بیشک
عاشق کہ پیش چشمش زنگی صنم نہ باشد
وہ عاشق ہی کیا ہوا کہ جس نے سیاہ فام فرد کے جمال کو نہ پہچانا اور اس کی پرستش نہ کی، جمال کا یہ تصور پوری انسانیت کو ایک دائرے میں کھینچ لیتا ہے، بنیادی تصوّر یہ ہے:
جمالِ مطلق آمد جلوہ آہنگ
مقید گشت یک رنگی بصد رنگ
ابدی اور ازلی حسن نے اپنا جلوہ دکھانا چاہا تو اپنے رنگ کو سیکڑوں رنگوں کے سانچے میں ڈھال دیا!
’ہیومنزم‘ انسان اور انسان کی محبت اور انسان اور جمالِ حیات و کائنات کا عشق امیرخسرو کے فن کی رُوح ہے، اسی سے ان کے شعری تجربوں میں گہرائی اور تہہ داری آئی ہے، ایمان کے لیے عشق و محبت کو ضروری جانتے ہیں، محبت نہیں تو پھر ایمان کہاں، فرماتے ہیں۔ عشق و محبت ہی نشانِ صحت ایماں ہے، کوئی نہ ملے تو گھر کی بلّی سے محبت کرو، یہ بھی ممکن نہ ہو تو اپنے دل کو پتھر سے کچل دو اس لیے کہ وہ مر چکا ہے:
دِلت برگربہ ای گرمہر بانست
نشانِ صحتِ ایماں ہما نست
دِلت راگربہ برد ، دگز نہ بردست
بروپیش سنگ اندازش کہ مردست
انسان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں تو خدا کے خزانوں کی کنجی ہے تو کوئی کھلونا نہیں کہ اس سے کھیلنے کے سوا اور کوئی کام نہیں لیا جا سکتا:
گنجِ خدا را تو کلید آمدی
نز پی بازیچہ پدید آمدی
زندگی حاصل ہوئی ہے تو دریا میں غوطے لگاؤ اور قیمتی موتی نکالتے رہو، اتنے موتی نکالو کہ دریا خالی ہو جائے اور دنیا موتیوں سے بھر جائے، کہتے ہیں جب فیصلہ کر لیا کہ دریا میں غوطے لگانا اور موتی نکالنا ہے تو غور و فکر کے دریا میں غوطے لگائے اور ہر بار اتنے موتی نکال لائے کہ دریا خالی ہو گیا اور دنیا میرے تجربوں کے موتیوں سے بھر گئی:
دِلم چوں بہ گوہر کشی خاص گشت
بدریائ اندیشہ اغواص گشت
بہر غوطہ چنداں بروں ریخت دُر
کہ دریا تہی گشت و آفاق پُر!
بہتر رشتے کے لیے زبانِ شیریں ضروری ہے، میٹھی زبان ’ہیومنزم‘ کے لیے ہر دَم بہترین آہنگ ہے۔ یہ رشتے قائم کرتی ہے، اسے مضبوط اور مستحکم بناتی ہے:
خسرو گر انگبیں می خواہی از شکّر لباں
اوّل اندر کام شیریں کن زبانِ خویش را
امیرخسرو کے رومانی ذہن اور جمالیاتی شعور کی تشکیل میں ترک ہندی روایات و اقدار، ہندوستان کے خوبصورت ماحول کے جلوؤں، مذہب کی روشنی اور پاکیزگی اور تصوّف کی داخلی آنچ نے نمایاں حصّہ لیا ہے۔ اُن کے کلام میں احساسِ جمال کی گہرائی اور رومانیت کی صحت مندی اور لطافت توجہ کا مرکز ہے۔ وہ حسنِ ازلی، حسنِ حیات و کائنات کے ایک بڑے شاعر ہیں۔ حسن کے ہر منظر کے عاشق ہیں۔ ان کے نزدیک عشق جوہرِ زندگی ہے عشق ہی سے انسان اور انسان کے رشتے قائم ہوتے ہیں، انسان دوستی کا جذبہ باطن سے اُبھرتا ہے، ’ہیومنزم‘ ہی وہ نگاہ عطا کرتی ہے کہ جس سے کائنات کے حسن کی نئی تشکیل ہوتی نظر آتی ہے اور جمالیاتی انبساط حاصل ہوتا رہتا ہے۔ جلوہ نمائی کے لیے مضطرب حسن نے منادی کرا دی ہے کہ جو جان دے بس اُسی عاشق کا منتظر اور مشتاق ہوں:
منادی کرد حسن جلوہ مشتاق
کہ ایک درما کو جان عاشق!
حسن و جمال کے حوالے سے تغزل کی چاشنی لیے ہوئے کلام کا یہ رُخ دیکھئے:
چوں جمالت آیت رحمت شد اندر شانِ خلق
آخر ایں چندیں زبہر کشتم تاویل چیست؟
اس حیرت کی لطافت کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ جب خلق میں تیرا جمال رحمت کی نشانی ہے تو پھر جو میں نظارۂ جمال کی تاب نہ لا کے ختم ہو گیا یا قتل ہو گیا تو اس کا سبب کیا ہے؟
کبھی حسنِ حقیقی کی لا محدودیت کا احساس ہوتا ہے تو انھیں یقین آ جاتا ہے کہ یہ حسن انسان کی عقل و فہم میں سما نہیں سکتا:
در نیائ بہ فہم عالمیاں
ورنہ گنجی بہ وہم آدمیاں
معبودِ حقیقی اور اس کے جمال کو بھلا کوئی اپنی عقل سے پہچان سکتا ہے، اس کے لیے ظاہر ہے وجدان کو خود ایک لطیف ترین مظہر بننا پڑے گا، وجدان بھی شاید ایک پہلو کو کسی حد تک محسوس کر لے، پورے حسن کو دیکھنا قطعی نا ممکن ہے۔ عقل میں بھلا اتنا دم کہاں کہ وہ جمالِ حقیقی تک پہنچے۔ امیرخسرو اُن فلسفیوں کی باتوں پر ماتم کرتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جمالِ خالق کو عقل سے پہچانتے ہیں:
حکیم گفت شناسم بہ عقل یزداں را
زہے کمال حماقت وایں چہ گفتار است
عاشق کو محبوب کی خوشبو ملتی رہتی ہے، معبودِ حقیقی کے جمال کا ذکر ہر جگہ ہے اور وہ ہے کہ بس اپنے چہرے کو چھپائے رہتا ہے، پھول سیکڑوں ہزاروں پردے میں رہے اس کی خوشبو اُسے پردے میں رہنے نہیں دیتی:
رُخ چہ پوشی چوں حدیثِ حسن تو پنہاں نماند
گل بصد پردہ در اواز بوئے خود مستور نیست!
خالقِ کائنات جو حسنِ حقیقی ہے کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی پوشیدہ رہتا ہے، حسن کے چند پہلو اُجاگر ہوتے ہیں تو جانے کتنے پہلو پوشیدہ رہتے ہیں، اگر وہ مکمل طور سامنے آ جائے تو ہوش اُڑ جائیں، سانس رُک جائے، جان نکل جائے:
چہ پوشی پردہ بروئ کہ آں پنہاں نمی ماند
و گربی پردہ می واری تنی راجاں نمی ماند!
اگر یہ حسن بے نقاب ہو جائے تو مسیح و خضر کی جان بھی جاتی رہے:
مسیح و خضر راں آں روئ بنمائی
بکش جانم مراگر زندہ مانند
امیرخسرو کے نزدیک یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ جس سے آدم کی تخلیق ہوئی اُس قطرے کے دل میں ایک عالم ایک جہاں پوشیدہ اور پنہاں ہے:
قطرۂ آبے کہ تنِ مردم است
در دلِ آں قطرہ جہانے گم است
یہ بہت بڑی سچائی ہے، اسی کے احساس و شعور کی وجہ سے کائنات اور حسنِ کائنات انسان کے وجود اور باطن میں سمٹ آیا ہے، اِسی نے عارف کی وہ نگاہ عطا کی ہے کہ جس سے نئی شعاعیں پھوٹتی رہتی ہیں۔ اسی نگاہ کے جادو سے عشق پیدا ہوتا ہے اور عشق کی سرمستی جنم لیتی ہے اور وجدان حسنِ حقیقی کے بعض جلوؤں کو دیکھ لیتا ہے۔ خالق کا حسن، جلال و جمال کا مرکز اور انسان کی نگاہِ عشق کا سرچشمہ! یقیناً حسنِ حقیقی نے عشق کو جنم دیا ہے لیکن یہ عشق ہی ہے کہ جس کی وجہ سے سوز و گداز پیدا ہوتا ہے اور معبودِ حقیقی سے رشتے کی پہچان ہوتی ہے۔ امیرخسرو کا خیال یہ ہے کہ کائنات اور اس کے جلال و جمال کا عرفان حاصل ہو جائے تو انسان اس سے پَرے چلا جاتا ہے اور محبوب کے حسن اور اس کی لطیف شعاعوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، اُس کی نگاہیں مجازی اور مادّی جلوؤں میں گم ہو کر نہیں رہ جاتیں:
تاتونمودی جمالِ نقش ہمہ نیکواں
رفت بروں ازدلم نقشِ تواز جاں نہ رفت!
عشق کیا ہے یہ عاشق ہی جانتا اور محسوس کرتا ہے، عشق میں گرفتار ہونا یا خود کو عشق میں ڈبو دینا بظاہر جس قدر بھی نشانِ بختِ بد نظر آئے حقیقت یہ ہے کہ وہ ابدی سعادت ہے، کہتے ہیں:
عشق اگرچہ نشانِ بختِ بد است
نزدِ عاشق سعادتِ ابداست!
حضرت محبوبِ الٰہی شیخ خواجہ نظام الدین چشتیؒ امیرخسرو کے مرشد تھے، آپ کی ہستی عشق و محبت کی علامت تھی۔ امیرخسرو کو عزیز تر جانا اور عزیز تر رکھا، حضرت سلطان المشائخ محبوبِ الٰہیؒ نے فرمایا تھا کہ روزِ قیامت ہر فرد سے سوال ہو گا تم کیا لائے ہو، مجھ سے دریافت کیا جائے گا تو کہوں گا کہ اس ترک اللہ (امیرخسرو) کے سینے کا سوز لایا ہوں۔(الٰہی بہ سوز سینہ ایں ترک مرا بہ بخش) اور جب حضرت محبوبِ الٰہی کا وصال ہوا تو امیرخسرو دیوانے سے ہو گئے اپنے آنسوؤں کے قطروں کو ان لفظوں میں جذب کر دیا:
گوری سووے سیج پر مُکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے سانج بھئی چوندیس
یعنی میرا محبوب سیج پر سوگیا ہے، مکھڑے پر گیسو بکھر گئے ہیں چل خسرو تو بھی اپنے گھر چل ہر جانب شام ہو رہی ہے! دو مصرعوں میں عاشق کا درد سمٹ آیا ہے!
امیرخسرو کو تصوّف کا سرچشمہ حضرت محبوبِ الٰہیؒ کی چوکھٹ ہی پر ملا تھا، خواجگانِ چشت کی افضل روایات کو اسی چوکھٹ کے آس پاس پایا تھا، عشقِ الٰہی کا سبق اسی مقام پر پڑھا تھا، عشق کے سوز و گداز کو اسی مقام پر جانا تھا، یہی وہ چوکھٹ تھی کہ جہاں انسان اور انسان کے بہتر رشتوں، محبت کی قدر و قیمت، انسان دوستی کے جوہر، عوام کی خدمت اور دل نوازی کی بابت خبر اور نظر دونوں ملی تھی، غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا سبق حاصل ہوا تھا۔ ان اسباق کو پڑھ کر امیرخسرو کے احساس و شعور اور پورے وجود میں چراغاں کی سی کیفیت ہو گئی۔ امیرخسرو اپنے تجربے یقینا بہت قیمتی ہیں لیکن ان اسباق کا رول کم اہم نہیں ہے، ’ہیومنزم‘ اور انسان کی قدر و قیمت اور انسان دوستی کے جذبے نے انھیں ملک کی مٹّی کی خوشبو سے آشنا کیا، وہ اپنے ملک کی ہر شے کے حسن پر فریفتہ ہو گئے، ہر شئے اور ہر انداز کو پسند کرنے لگے۔ مثنوی ’نہ سپہر‘ میں کہتے ہیں ہندو اتنا وفادار ہے کہ اپنی وفاداری میں تلوار اور آگ سے کھیل سکتا ہے اور ہندو عورت اپنے شوہر سے اس قدر محبت کرتی ہے کہ اپنی وفاداری میں اس کی چتا میں جل کر مر جاتی ہے۔ ہندو مرد اپنے دیوتا کے لیے اپنی زندگی قربان کر دیتا ہے، اسلام میں ان باتوں کی اجازت نہیں ہے۔ اگر اجازت ہوتی تو بہت سے افراد اس سعادت مندی کو حاصل کرنے کے لیے قربان ہو جاتے، بلاشبہ یہ باتیں قابلِ ستائش ہیں۔ہندوؤں کے عقیدے کو دیکھتے ہوئے اسے دوسرے کئی مذاہب کے ماننے والوں کے عقیدوں سے برتر تصور کرتے ہیں۔ ہندوؤں کی توحید پرستی کی اہمیت کا احساس اس طرح دلایا ہے:
نیست ہنوز ارچہ کو دیندار چوما
ہست بسے جائے باقرار چوُما
معترفِ وحدت وہستی و قدم
قدرتِ ایجاد ہمہ بعد عدم
رازقِ ہرپُرہنر و بے ہنری
عمر بروجاں وہ ہرجا نوری
خالقِ امغاں بہ نیکی و بدی
حکمت و حکمش ازلی وابدی
فاعلِ مختار و مجازی بہ عمل
عالم ہر کلّی و جزوی ز ازل
عیسویاں روح و دلدبستہ برد
ہندو ازیں جنس نہ پیوستہ برد
اختریاں ہفت خدا کردہ یقیں
ہندوئ توحید سرامنکر ازیں
عنصریاں چار خدا بردہ گماں
گفتہ یکی ہندو ثابت بہماں
خلق دِگر نورو ظلم خواندہ بدل
ہندو ازینہا ہمہ پیوند گسل
وانچہ کہ معبودِ برہمن بفرق
معترف است اوکہ نہ مثلی است زحق
معتقد انند بتقلید دراں
کانچہ رسیدہ است بمااز پذراں
(مثنوی نہ سپہر)
امیرخسرو کہتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ توحید پرست ہیں، دین مختلف ہے لیکن اکثر عقیدے وہی ہیں کہ جو ہمارے ہیں وہ خالق کو واحد اور ازلی و ابدی مانتے ہیں اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ خدا عدم سے ہر شے کو وجود میں لاسکتا ہے، خدا رازق ہے ہر شخص کا رازق وہ ہنر مند ہو یا بے ہنر،ہر جاندار کی جان اُسی کی دی ہوئی ہے اور ہر جاندار کی جان وہی لیتا ہے، وہ خالق ہے نیک و بد افعال کا اور اس کی حکمت ازلی و ابدی ہے، عمل میں تنہا حاکم و مختار ہے، کل اور جزو کا علم ازل سے ہے، امیرخسرو کہتے ہیں کہ نصرانیوں نے روح اور بیٹے کو شامل کر لیا۔ ہندوؤں نے ایسا نہیں کیا۔ ہندو ستارہ پرستوں کی طرح سات خداؤں کو نہیں مانتے، عنصری کا گمان ہے کہ خدا چار ہیں، لیکن ہندو ایک ہی خالق کو مانتے ہوئے توحید پر قائم رہے، پارسی (زرتشتی) ثنویت کے قائل ہیں دو خدا کو مانتے ہیں ہندو ایسا نہیں سمجھتے، وہ (ہندو) مختلف اشیا و عناصر کی عبادت کرتے ہیں لیکن اس بات کو مانتے ہیں کہ سب ایک ہی خالق کی تخلیق و مخلوق ہیں، ’حق‘ تنہا ہے، ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، مختلف اشیاء و عناصر کی پوجا دراصل تقلیدی عمل ہے وراثت میں جو حاصل ہوا اس کی پیروی کی۔
امیرخسرو کی ’ہیومنزم‘ ایک مثبت رجحان ہے، کون سا عقیدہ درست ہے اور کون سا غلط،کوئی بھی شخص وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، حقیقت یا سچائی کی بنیادی صورت اور فطرت کے متعلق فیصلہ نہیں کرسکتے، مختلف عقائد اور نظریات ہیں اور ہوسکتے ہیں، اس مثبت رجحان کے مطابق ایک بڑی سچائی زندگی ہے، یہ ہے اور ہم اسے بسر کرتے ہیں لہٰذا اس زندگی کو آگے بڑھانے، نکھارنے اور اسے زیادہ سے زیادہ حسین اور خوبصورت بنانے کی کوشش ضروری ہے۔ مشائخِ چشت کی روایات میں یہ ’ہیومنزم‘ یا انسان دوستی، یہ محبت اور یہ عشق بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ احتجاج بھی ہے اور انسان کے لہو کے رنگ کی پہچان کا خوب صورت تجربہ بھی۔ اس مثبت رجحان نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ دنیا اور یہ زندگی ہماری بنیادی دلچسپی کا مرکز ہے اور ’ہیومنزم‘ ہمارا نصب العین یا آئیڈیل ہے۔ انسان اور انسان کے باہمی رشتوں کی ہم آہنگی ’ہیومنزم‘ کا تقاضا ہے۔ اللہ کا جلوہ ہر شخص میں ودیعت ہے۔ اس جلوے سے رشتہ قائم کرنا خالق سے رشتہ قائم کرنا ہے۔ انسان سب سے بڑی قوم ہے انسانیت جو عشق و محبت کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے اس قوم کی زندگی ہے۔ اس رجحان سے وہ ’تیبوز‘ (Taboos) ٹوٹ سکتے ہیں کہ جن کی وجہ سے ہماری رگوں سے لہو جاری ہوتا رہتا ہے۔ اخلاقیات کی سب سے بہتر بنیاد ’ہیومنزم‘ ہی ہوسکتی ہے۔ امیرخسرو کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے اس حقیقت کی پہچان ہو جاتی ہے کہ ’ہیومنزم‘ کے تصوّر میں توازن ہے، وہ داخلی موزونیت یا ’ہارمونی‘ کو ضروری جانتے ہیں۔ ہزار برس پہلے چین کے معروف مفکّر اور دانشور کنفیوسیش (Confucius) نے اس رجحان کو بڑی شدّت سے نمایاں کیا تھا اُس نے کہا تھا انسان کا وجود ایک بہت بڑی حقیقت اور سچائی ہے انسان اور انسان کے متوازن رشتوں سے اس حقیقت یا سچائی کا جوہر ظاہر ہوتا ہے۔ امیرخسرو نے بھی انسانی رشتوں اور انسانی قدروں کی اہمیت کا احساس دیا ہے، ’انسانی قدریں‘، ’ہیومنزم‘ میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، انسان ہونے کا احساس و شعور اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ رشتوں کا احساس نہ ہو۔ انسان کی بنیادی خواہشوں یا بنیادی جبلّتوں میں ایک جبلّت یہ ہے کہ دوسروں سے خوبصورت رشتے قائم ہوں۔ امیرخسرو رشتوں کا احترام کرتے ہیں۔ اُن کا جمالیاتی شعور حسن کو ٹٹول لیتا ہے اور جمالِ زندگی کی وحدت کو عزیز جانتا ہے۔ کلامِ خسرو میں فنکار کا ذہن اعلیٰ اور عمدہ قدروں کی تلاش میں سرگرداں ہے، حسن اور وحدتِ حسن کی تلاش ہی زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔ حسن اور وحدتِ حسن ہی میں سب کچھ ہے۔ عشقِ حسن کا معاملہ ہے:
کافر عشقم مسلمانی مراد کار نیست
ہر رگِ من تار گشتہ حاجتِ زنّار نیست
یعنی میں عشق کا مارا کافر، مجھے مسلمانی کی بھلا کیا ضرورت، میری ہر رگ تار بن گئی ہے مجھے زنّار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انسان وجودِ کل کے حسن کا حصّہ ہے، اپنے حسن کا عاشق، امیرخسرو کہتے ہیں میں نہ گل ہوں اور نہ بلبل، نہ شمع نہ پروانہ، اپنے حسن کا عاشق اور دیوانہ ہوں،میرا وجود بھی دراصل حصّہ ہے وجودِ کل کے حسن کا:
نے گلم نے بُلبُلم نے شمع نے پروانہ ام
عاشقِ حسنِ خودم بر حسنِ خود دیوانہ ام
قبلہ ہو یا بت کدہ ہر جگہ محبوب کا عشق میرے ساتھ رہتا ہے، دوست کے عاشقوں کو بھلا کفر و ایماں سے کیا سروکار:
ما و عشقِ یار اگر در قبلہ گر درِ بت کدہ
عاشقانِ دوست را با کفر و ایماں کارنیست
سیاہ رنگ کو تو آنکھوں میں جگہ دی گئی ہے اور آنکھ کی پتلی میں تو ہر فرد سیاہ ہی دکھائی دیتا ہے، سیاہ رنگ پر طعنہ زن کیوں ہو۔ اس رنگ میں (ہندوستانیوں کے سیاہ رنگ میں) آبِ حیات (چشمۂ ظلمات یا بحرِ ظلمت— سیاہی کا دریا یا چشمہ) کی آمیزش ہے:
سیہ را خود بدیدہ جانگاہ است
کہ اندر دیدہ ہم مردم سیاہ است
ہندرا اے مدعی طعنہ بہ تاریکی مزن
زانکہ اندر ظلمتِ اوآبِ حیواں مدغم است
(دول رانی خضر خاں)
کہتے ہیں: با کہ دمہ صحبت از انساں گزیں
یعنی میل جول اور محبت اور دوستی سے عقل بڑھتی ہے، تجربہ وسیع ہوتا ہے۔
خسرو کعبہ میں ہو یا بت خانہ میں، ہر جگہ اس کا دل تیرے دَر پر رہتا ہے، تیری دیوار دل میں بسی ہوتی ہے:
دَر کعبہ و بت خانہ ہر جا کہ رود خسرو
دل بادرِ تو بدخودیوار ہماں در دل!
اور تیرے چہرے کے ہزار نام ہیں:
یک روئے ترا ہزار نام است
جمالیاتی تجربہ یا کسی موضوع یا عنصر کا جمال، حاسہ کے ذریعہ پہلے تخئیل میں تحرک پیدا کرتا ہے۔ اور پھر تخئیل ایک سے زیادہ رنگوں کے تئیں بیدار ہوتا ہے۔ تخئیل بلاشبہ جمالیاتی تجربے کی ایک اہم ترین سطح ہے۔ جیسے جیسے فنکار جمالیاتی عنصر یا موضوع یا تجربے کے ساتھ اُوپر اٹھتا ہے حسیّات کی سطح سے شعاعیں پھوٹتی رہتی ہیں، تخئیل کی سطح تک آتے آتے شعاعوں کے رنگ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس پورے عمل میں فنکار کی شخصیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ تخلیقی عمل میں اُن جمالیاتی تاثرات کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے جو تخئیل کے سبب اُبھرتے یا جنم لیتے ہیں۔ تخلیق کی تکمیل ہوئی اور ایک نئی دُنیا وجود میں آ گئی۔ یہ دنیا فنکار کی تخلیق ہوتی ہے۔ اس دُنیا میں خود اُس کی ذات ڈرامائی شخصیت اختیار کر لیتی ہے۔
امیرخسرو کے تخیل نے جذبوں کے مختلف رنگوں کے ساتھ جو دنیا خلق کی ہے اس میں فنکار کی شخصیت ڈرامائی انداز میں عمل کرتی اور سوچتی نظر آتی ہے، فنکار خود ہیرو بن جاتا ہے، غزل کے عاشق نے اس ہیرو کی تخلیق میں نمایاں حصّہ لیا ہے۔ اس عاشق نے جن جمالیاتی صداقتوں اور جن رومانی علامتوں کی اب تک دریافت کی تھی امیرخسرو نے اپنے احساس اور جذبے اور اپنے تجربے اور تخیل سے انھیں پھر دریافت کیا ہے اور یہ نئی دریافت ہی اُن کے جمالیاتی تجربوں کی دین ہے۔
امیرخسرو حسن پسند بھی ہیں اور حسن پرست بھی، اُن کا احساسِ جمال ہر وقت بیدار اور چوکنّا ہے۔ آخر عمر تک اپنی نظر کی حسن پسندی اور حسن پرستی پر فخر کرتے رہے، کہتے ہیں:
تن از شاہداں گشتہ کوتاہ دست
نشاطِ نظر ہم چناں بت پرست!
میرا جسم حسینوں سے رغبت نہیں رکھتا، یہ جسم اس قابل بھی نہیں کہ ان سے رغبت رکھے لیکن میری نگاہ کی حسن پرستی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، نشاطِ نظر میں کوئی فرق نہیں آیا ہے!
’نہ سپہر‘ میں صبح اور اس کے جلوؤں کو اس طرح دیکھا:
صبح دماں کائینۂ آفتاب
بُرد زہر دیدہ خیالات خواب
موج فشاں گشت بہ نزدیک و دُور
چشمۂ خورشید زِ دریائے نوُر
غوطہ زد انجم چوشناوَر برود
کشتی مَہ رفت بدریا فرود
شعلہ زد دِلسوزئ مشعل نشست
شمع ز جانسوزئ پروانہ رُست
نغمۂ مرغاں فلک آوازہ شد
نغمہ شنورا دل و جاں تازہ شد
بادہ پرستاں بہ گلستاں شدند
رُود زنان بَر سروستاں شدند
از طرفے بانگِ دُعا شد بگوش
وزجہتے بانگ برآمد کہ نوش
طرفہ زمانیست دمِ صُبحہ گاہ
ہم ور عش خوش بود وہم گناہ
بس کہ بدونیک دَراں دَم خوش است
زہد خوش و خوردن مے ہم خوش است
گرچہ کہ صوفی بصفا شد عزیز
ہست صفائی بہ مے لعل نیز
صبح و شراب و لب وساقی وجام
صفوت ازیں بیش کجاد کرام
( نہ سپہر)
رومانی ذہن نے موضوع کے حسن کو گرفت میں لے لیا ہے، صبح کے جمال کی مختلف جہتیں سامنے آئی ہیں۔ احساس نے تخیل کو تحرک دیا اور پھر تخئیل ایک سے زیادہ پہلوؤں اور جہتوں کے تئیں بیدار ہو گیا۔ یہاں جمالیاتی تاثرات تخلیقی صورتوں کو اور پرکشش بنا دیتے ہیں، فنکار کا یہ گریز ہے جو رومانی فکر و نظر کی قدر و قیمت کا احساس عطا کرتا ہے۔ صبح ہوتی ہے اور آئینۂ آفتاب ہر آنکھ سے نیند کا خیال ہی اُڑا لیتا ہے، نزدیک اور دُور، نور کے دریا سے چشمۂ خورشید کی لہریں اُٹھنے لگتی ہیں۔ ستارے غوطہ خوروں کی طرح ڈبکی لگاتے ہیں اور چاند کی کشتی دریا میں اُتر جاتی ہے۔ مشعل کی دل سوزی میں شعلہ بیٹھ جاتا ہے اور شمع کو پروانوں کی جاں سوزی سے نجات مل جاتی ہے، مرغانِ چمن کی آواز آسماں تک جا پہنچتی ہے، جو اُن کی آواز سنتا ہے اس کی رُوح میں تازگی آ جاتی ہے۔ سازندوں کا نغمہ گونج رہا ہے، بادہ پرستوں نے گلستاں کو آباد کر رکھا ہے، ایک جانب سے دُعا کی آواز آ رہی ہے اور دوسری جانب سے یہ صدا آ رہی ہے آؤ پیو— امیرخسرو کے رومانی اور جمالیاتی ذہن نے آئینۂ آفتاب، چشمۂ خورشید، چاند کی کشتی، ستاروں کی غوطہ خوری، بجھی ہوئی شمع وغیرہ سے خوبصورت اور دل فریب پیکر یا ا4 سجا دیئے ہیں۔ فنکار کی شخصیت جیسے اس رومان پرور ماحول میں جذب ہو گئی ہو اور اس رومان پرور ماحول میں جیسے شخصیت میں اٹھان پیدا ہو رہی ہو۔ فضا اور ذات میں ایک وحدت ہے۔ ذہنی اور جذباتی کیفیات و تاثرات کی وحدت سے رومانی جمالیاتی تجربے میں ایک تناسب اور ’سمیٹری‘ پیدا ہوتی ہے۔ جب شخصیت میں اٹھان پیدا ہوتی ہے تو ایسے تجربے سامنے آتے ہیں۔ صبح کا وقت بھی کیا وقت ہے کہ اس میں عبادت کا لطف بھی ہے اور گناہ کی لذّت بھی!
طرفہ زما نیست دمِ صبح گاہ
ہم ور غش خوش بود د ہم گناہ
اور یہ وقت ایسا ہے کہ نیکی اور بدی دونوں دل کو بھلی لگتی ہیں، شراب سے دُوری بھی اچھی لگتی ہے اور شراب نوشی بھی:
بس کہ بدونیک دراں دم خوش است
زہد خوش و خوردن مے ہم خوش است
اسی تجربے کو دوسرے انداز سے پیش کرتے ہیں:
گرچہ کہ صوفی بصفا شد عزیز
ہست صفائی بہ مے لعل نیز
اگر صوفی اپنی پاکیزگی کی وجہ سے عزیز ہے تو مے لعل سے بھی قلب کی صفائی ہوتی ہے۔ شخصیت میں مکمل اٹھان پیدا ہو جاتی ہے تو بڑے اعتماد سے کہا جاتا ہے کہ صبح ہو، صبوحی ہو، لب ہو اور ساقی اور جام ہو، اس سے زیادہ لطافت، نفاست اور تازگی اور کہاں ملے گی، اس سے زیادہ کوئی تازگی اور نفاست نہیں ہے، اس سے زیادہ جمالیاتی انبساط اور کہیں حاصل نہیں ہوسکتا:
صبح و شراب و لب و ساقی و جام
صفوت ازیں بیش کجا و کدام
امیرخسرو کی جمالیات میں ’وصف مطربانِ ہند‘ (قران السعدین) کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، اشعار کی رومانیت میں قطعیت بھی ہے اور توازن اور ہم آہنگی بھی،خوبصورت پیکر بھی ہیں اور دل فریب تصویریں بھی۔ فنکار کا آزاد رومان جمالیاتی ذہن تجربہ، خیال اور جذبہ کی تازگی اور رعنائی پسند کرتا ہے۔ جمالیاتی انبساط عطا کرنے کے لیے زمینی حسن کی نئی تخلیق کرتا ہے، زمینی حسن کی نئی تخلیق سے ایک جینیس اور ایک بڑے فنکار کے ’وژن‘ کی پہچان ہوتی ہے، جسم کے جلوؤں کے پہلو جذبوں کی کیفیتوں کے ساتھ بڑی تیزی سے اُبھرتے ہیں۔
امیرخسرو کا بالیدہ جمالیاتی شعور زمینی نعمتوں اور جسم کے حسن سے کس طرح لذّت اندوز ہو رہا ہے اور کس سطح پر مسرّت اور انبساط حاصل کر رہا ہے،دیکھئے:
شد زنِ مطرب بہ نوا پروری
انجمنے پُر زمہ و مشتری
غمزہ زنانے ہمہ مردم فریب
سیب زنخ ، خالِ زنخ ، تجم سیب
چاہ زنخ روشن وصافی چوماہ
روی نماگشتہ چو آبے بے چاہ
پردہ برانداختہ از آفتاب
کردہ بیک غمزہ جہانے خراب
روی چو خورشید برافروختہ
جانِ کساں ز آتشِ خود سوختہ
از رُخِ شاں آمدہ مقنع فرود
رفتہ بچۂ ماہِ مقنع فرود
ز ابروئ خم پشت کماں ساختہ
تیر مژہ نیم کش انداختہ
ناوکِ شاں چوں شدہ بیروں زکیش
دیدہ سپرکردہ سیاہی خویش
ازکفِ خود آئینہ بنہادہ پیش
دیدہ رُخِ خود بکف دست خویش
موئی میاں و سرشاں فرق جوئی
شکل ہلال آمدہ بے فرق موئی
جعد بہ پیچیدہ بپا در خرام
ماہئ ساق آمدہ درپائے دام
قامت شاں سرودمی راستیں
پُرزگل ساعدِ شاںآستیں
سینہ بسے خستہ و دل کردہ ریش
ہر نفس از تیزی آواز خویش
(قران السعدین)
غور فرمائیے جب مغنیہ راگ چھیڑتی ہے تو محفل میں حسین اور خوبصورت چہرے نظر آنے لگتے ہیں۔ لگتا ہے ماہ و مشتری جمع ہو گئے ہیں، یہ ناز و ادا دکھانے والیاں مردُم فریب ہیں، ان کی تھوڑی (زنخ) سیب کی مانند ہیں اور تِل (خال) سیب کے بیج کے مانند۔ان کا چاہِ زنخ چاند کی طرح صاف اور روشن ہے، لگتا ہے جیسے کنویں کے پانی میں صورت اُتر رہی ہے، ایسا لگتا ہے آفتاب سے پردہ ہٹ گیا ہو، خوبصورت روشن چہرہ سامنے ہے۔ ادائیں ایسی ہیں کہ بس جہاں خراب ہی کا نقشہ سامنے ہوتا ہے، چہرہ آفتاب کی مانند روشن ہے، جب یہ آفتاب جگمگاتا ہے تو جان آگ میں جلنے لگتی ہے، جب رُخِ حسن سے نقاب سرکتا ہے تو مقنّع کا چاند شرم سے کنویں میں چھپ جاتا ہے۔ حسن نے ابرو کے خم کو پشتِ کمان بنا کے مژہ کا تیر نیم کش چھوڑ دیا ہے، جب تیر ترکش سے نکلتا ہے تو آنکھ کی سیاہی سپر بن جاتی ہے اور زخمی ہو جاتی ہے، اُن کی ہتھیلیاں اُن کے لیے آئینہ بن گئی ہیں، ان ہتھیلیوں ہی میں وہ اپنے روشن چہروں کو دیکھ رہی ہیں، کمر اور چوٹی کے بال میں کوئی فرق نہیں ہے، ایسا لگتا ہے خمدار چاند کا نصف دائرہ بن گیا ہے، یہ چلتی ہیں تو سرکی چوٹی پاؤں میں اُلجھتی ہے، پنڈلی کی مچھلی جال میں پھنستی نظر آتی ہے اور جب تن کر سیدھی کھڑی ہوتی ہیں تو قَد سرو کی مانند نکلتا نظر آتا ہے اور ان کی آستین میں خوبصورت کلائیوں کے پھول بھرے ملتے ہیں، جب وہ اونچی لَے میں سانس تھامتی ہیں تو لوگوں کے سینے میں توازن قائم نہیں رہتا، دل میں تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔ امیرخسرو کے ایسے رومانی جمالیاتی تجربوں میں عورت اور اُس کے حسن کی بڑی اہمیت ہے۔ یہاں حواسی لذّتوں کی جو اہمیت ہے وہ غیر معمولی ہے۔ پیکر تراشی کا فن توجہ طلب ہے۔ تخلیقی تصویر کاری کی عمدہ مثالیں موجود ہیں، مصور چاہے تو ان کی کئی خوبصورت تصویریں بنا سکتا ہے۔ تصویروں میں تخلیقی فنکار کا احساس و جذبہ شامل ہے، مرکزیت سے گریز کرتے ہوئے وجدان اور تخیل پر جو اعتماد ہے وہ توجہ طلب ہے، رومانی فنکار نے حسن کی تلاش کی ہے اور جو حسن دیکھا ہے اس کی نئی تخلیق کی ہے۔ مشاہدہ بھی اہم ہے اور تخلیقی تخیّل کا عمل بھی۔امیرخسرو کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس ملتا رہتا ہے کہ وہ حسن کے ہر مظہر کے چاہنے والے ہیں، عورت کا جمال اکثر لطیف تر مظہر کی صورت ملتا ہے۔ داخلیت کی آنچ کبھی بہت تیز ہو جاتی ہے، خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں سے مرصّع کاری کے فن میں جو عروج پیدا ہوتا ہے یہ نظم اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ امیرخسرو صرف خود جمالیاتی انبساط حاصل کرنا نہیں چاہتے بلکہ کیف اور وجد پیدا کر کے دوسروں کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتے ہیں، صرف یہی نہیں، ان کے ذہن اور تخیل کو بھی اُکساتے ہیں، تغزل کے رسوں سے واقف ہیں اس حد تک کہ انسان کے فکری اور جذباتی ارتقا کے لیے حسن اور عشق اور سوز و گداز کی دنیا کو ضروری جانتے ہیں۔ یہاں ایک ہی سُر ہے اور اس سُر سے رَس ٹپک رہا ہے، گانے والیوں کے جمال کی ایک خوبصورت تصویر ہے، یہ ہندوستان کے حسن کی بھی تعریف ہے اور اس ملک کے نغمے اور آہنگ کی بھی تعریف! یہ اپنی نوعیت کی واحد تخلیق ہے۔جمالیاتی تاثرات غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔
امیرخسرو کے کلام میں محبوب کا ایک دل فریب تصور ملتا ہے، بدن کی بھاشا، نے اس تصور کو اور پُر کشش بنا دیا ہے۔ شاعر کی رومانیت اور اُس کی جمالیات میں یہ تصوّر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
خسرو کی شاعری میں ’شکر‘ اور سخن کے تجربے منفرد حیثیت رکھتے ہیں مثلاً:
شکر آن است کہ اندر لب تست
سخن ایں است کہ ماہی گویم!
یعنی شکر تو وہ ہے جو تیرے لبوں میں ہے اور سخن وہ ہے جو میری زبان پر ہے!
دانا لبِ تو اگر بہ بوسد
فتویٰ نہ دہد کہ مے حرام است
یعنی دانا تیرے لب چوم لے تو اس میں ایسی مستی آ جائے گی کہ وہ شراب کے حرام ہونے کا فتویٰ نہ دے گا!
محبوب کا چہرہ چاند کی آنکھ کی روشنی ہے اور اس کے لب سے شکّر ملتی ہے:
رُخِ تو نور دیدۂ قمر است
لبِ تو سرخ روئ شکر است
امیرخسرو محبوب کے لبوں اور دہن کے عاشق ہیں، ’بدن کی بھاشا‘ کے شاعر کے نزدیک دہن کی زیادہ اہمیت ہونی چاہیے۔ سوہے۔ کہتے ہیں اسے بادِ صبا جاؤ اس کے پیر کو پیار کرو اور وہ خاموش رہے کچھ نہ کہے تو اس کے دہن کو بھی:
بروای باد بوسی زن برآں پائ
اگر چیزی نہ گوید بر دہاں ہم
کہتے ہیں وہ لمحہ کتنا دل فریب ہے جب محبوب کے چہرے پر میری نگاہ ہو اور اس کے لبوں پر میرے لب ہوں، صہبائے ناب ہاتھوں میں اور شگفتہ گلنار نظر میں:
ای خوش آں ساعت کہ بینم آں رخ و گیرم لبش
بادۂ خوش بر کف و گلنارِ خنداں درنظر
’بدن کی بھاشا‘ کا یہ شعر غضب کا ہے:
جاناں اگر شبہت دہن بردہاں نہم
خود را بخواب سازو گلو کایں دہان کیست
یعنی اے میرے محبوب اگر کسی شب میں اپنا منہ تیرے منہ پر رکھ دوں تو خود کو سوتا ہوا ہی بنائے رکھنا پوچھنا نہیں یہ کس کا منہ ہے!
امیرخسروکی رومانی اور جمالیاتی بصیرت نے ’بھاشا کی زبان‘ کے ایسے تجربے دیئے ہیں، اس بصیرت کے تعلق سے یہ شعری تجربے توجّہ چاہتے ہیں:
اے گل صنعتِ حسنت بروجہ حسن گویم
سرتابہ قدم جانی کفر است کہ تن گویم
یعنی اے گلِ رنگیں تیرے حسن کا ذکر اندازِ حسن ہی سے کروں گا، توُ تو سر سے پاؤں تک جان ہی جان ہے تجھے جسم کہنا کفر ہے:
جاں زبندِ کا لبدآزاد گشت
دل بہ گیسوئے تو زندانی ہنوز
یعنی میری جاں سوزِ محبت سے تو آزاد ہو گئی مگر دل— یہ ابھی تک تیرے گیسوؤں میں قید ہے غور فرمائیے۔ محبوب کو کس انداز سے دعوت دے رہے ہیں:
دانی کہ ہستم در جہاں ، من خسرو شیریں زباں
گرنائ از بہرِ دلم بہرِ زبانِ من بیا
یعنی تم جانتے ہو کہ ساری دنیا میں شیریں زباں مشہور ہوں، چلو میرے دل کا لحاظ کر کے نہ آئے میری زبان کی شیرینی کی خاطر چلے آؤ!
محبوب کے حسن کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے رُخ کو بُتانِ آذری کے لیے باعثِ رشک تصوّر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں تیرے حسن کی صنعت کا بیان جتنا بھی کروں تیرا حسن میرے بیان سے برتر ہے:
اے چہرۂ زیبائی تو شکِ بُتانِ آدزی
ہر چند وصفت میکنم درحسن ازاں بالاتری
یہ منظر دیکھئے، بارش ہو رہی ہے اور رخصت کا لمحہ ہے، عاشق اور محبوب دونوں کھڑے ہیں، حال یہ ہے کہ بادل بھی گریاں ہے، عاشق بھی اور محبوب بھی! ایک رومان پرور ماحول میں جسم کی زبان بظاہر ساکت ہے لیکن باطنی تحرک موجود ہے، کہتے ہیں:
ابر باراں و من ویار ستادہ بوداع
من جدا گریہ کناں، ابر جدا ، یار جدا
محبوب کے حسن کا ذکر کرتے ہیں تو اس طرح کہ اے محبوب جب ترے حسن کا ذکر ہر جگہ ہے تو اس نقاب کی ضرورت کیا ہے، تو نے خوشبو بھرے پھول کو چھپانا چاہا، پھول چاہے سیکڑوں پردوں اور ان پردوں کی تہوں میں چھپ جائے اس کی خوشبو اپنے آپ سے ہرگز چھپ نہیں سکتی:
رُخ چہ پوشی چوں حدیثِ حسن تو پنہاں نماند
گل بصد پردہ دروں از بوئ خود مستور نیست
کہتے ہیں افسوس کہ ایک ہی نظارۂ رُخ سے خسرو کا کام تمام ہو گیا حالانکہ آنکھوں میں اب بھی اور دیدار کی آرزو ہے:
خسرو بیک نظارۂ رویش زدست رفت
دیں دیدہ راہنوز تمنّائ دیگر است
کہتے ہیں میری ہستی مٹ گئی اور محبوب کا خیال رہ گیا، یہ جو تم دیکھ رہے ہو وہ میں نہیں بلکہ وہ (محبوب) ہے:
ہستئ من رفت و خیالش بماند
ایں کہ توبینی نہ منم بلکہ اوست
فنکار کی نظر بار بار محبوب کے ہونٹ کی جانب جاتی ہے:
ماہست رخت دریں سخن نیست
قند است بست سخن دریں است
بلاشبہ تیرا چہرہ چاند کی روشنی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا تیرے ہونٹ بھی شہد کی طرح میٹھے ہیں۔
امیرخسرو لذتوں سے محروم ہونا نہیں چاہتے، مختصر سی زندگی میں تمام لذتوں کو حاصل کر لینے کی خوبصورت سی تمنّا ہے:
بیاتا بے گل و صہبا نباشیم
کہ گل باشد بسے ومانباشیم
یعنی پھول بہت کھلیں گے مگر ہم نہ ہوں گے، جس دم تک پھول اور شراب کی لذّت نصیب ہے آؤ مل لیں ورنہ ہم لذّتوں سے محروم ہو جائیں گے۔ لطف و نشاط اور لذّت کی آرزو کے ساتھ درد کی کسک سے اس شعر میں لطف پیدا ہو گیا ہے۔ جذبے کی شدّت کے ساتھ المناکی بھی ہے۔
عاشق جہاں بھی ہو، کعبہ یا بت خانہ میں، اس کا دل محبوب کے در پر لگا رہتا ہے اور محبوب کی دیوار عاشق کے دل میں بسی رہتی ہے، خوبصورت شعر ہے:
در کعبہ و بت خانہ ہر جا کہ رود خسرو
دل بادر تو بد خو ، دیوار ہماں در دل
محبوب کی زلف کا قصّہ کسی کو نہیں سناتے، گمان ہے یہ قصّہ سن کر لوگ پریشان ہو جائیں گے:
قصۂ زلفش نمی گویم بہ کس
زاں کہ خاطرہا پریشاں می شود
خیال کی لطافت توجّہ طلب ہے۔ حسن پسندی اور رومانی نکتہ آفرینی کی وجہ سے ایک پرانا موضوع شاداب بن گیا ہے۔
ہَوا سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں تو میرے محبوب کا حال بتا، میرا وہ گلِ تازہ اور غنچۂ خنداں کس حال میں ہے:
خبری وہ بمن اے باد کہ جاناں چوں است
آں گلِ تازہ و آں غنچۂ خنداں چوں است
محبوب سے سرگوشی کرتے ہیں:
باچشم آ ہوا نہ کر شیراں کند شکا
اے آہوئ رمیدہ شکارِ کہ بودۂ
اپنی آہو چشمی سے شیروں کو شکار کرنے والے آہوئے رمید تو خود کس کا شکار ہے؟ اور یہ شعر سنیے، جسم کے تعلّق سے یہ سوال کتنا دل فریب ہے:
تو شبانہ می نمائ بہ بَرکہ بودی امشب
کہ ہنوز چشم مستت اثر خمار دارد،
تو نے رات کس کے پہلو میں گزاری کہ اب تک تیری چشمِ مست میں لال ڈورے موجود ہیں، رات جاگ کر گزاری، خمار کا اثر ہے!
’بدن کی بھاشا‘ کے اس شاعر کے یہ تجربے خاص توجّہ چاہتے ہیں:
تنِ پاکت کہ زیر پیراہن است
وحدہٗ لاشریک مہ ، چہ تن است
تیرا پاکیزہ جسم جو پیرہن میں پوشیدہ ہے یکتا ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں، کیا جسم ہے وہ!
خوش آں زماں کہ بہ سویش نہفتہ می نگرم
چوسوئ من نگرو پس نظر بہ گردانم
وہ لمحات کتنے دل فریب اور دل کش ہیں کہ جن میں چوری چوری اُس کی جانب دیکھ رہا ہوں اور جیسے ہی وہ میری جانب دیکھے میں نظر ہٹا لوں!
جن کی آنکھوں نے محبوب کا چہرہ دیکھا وہ تو کسی کے چہرے پر نظر ڈال ہی نہیں سکتے، محبوب کی آنکھیں اُس کے پورے وجود کے حسن کی علامت ہیں:
بدیدۂ کہ ترا دیدہ ام نمی یارم
کہ آں نظر ز تو برروئ دیگری آرم
آذر کا تراشا ہوا صنم عاشق کی جان ہے اس لیے کہ اسی صنم کے چہرے نے سینے کی آگ کو گلستاں میں تبدیل کر دیا ہے:
تو بت آذری و نقشِ رخت
آتشِ سینہ را گلستاں کرد!
خود سے بے خبر، دَم بخود ٹکٹکی باندھے عاشق محبوب کے پھول سے چہرے کو تکتا ہے تو بس آنکھیں چہرے پر جم کر رہ جاتی ہیں، آنکھوں میں پلکوں کا کانٹا بھی چبھے تو خبر نہیں ہوتی:
دیدہ بر روئ چوگل بند و ونبود خیرش
گرچہ در دیدہ زنوکِ مژہ خاری برسد
محبوب کے چہرے سے اچھا کوئی چہرہ نہ ملا، مہتاب، حور پری کوئی بھی تو محبوب جیسا نہیں ہے۔ سارا زمانہ دیکھ چکا، عاشق نے دُنیا دیکھی، ایک سے ایک صورت دیکھی، چاہت پیدا کی، گلنار چہرے دیکھے لیکن محبوب سب سے منفرد اور انوکھا ہے:
ہرگز نیاید در نظر نقشے رویت خوب تر
شمے ندانم، نے قمر ، حورے ندانم ، نے پری
آفاق ہا گرویدہ ام، مہرِ تاباں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام، اتاتو چیزے دیگری
عاشق محبوب کے چہرے کے سورج سے جلنے لگتا ہے تو اُس کی زلفوں کے سائے میں آکر سکون پاتا ہے، بہت خوبصورت تجربہ ہے:
دوز دوز از آفتاب روئے اومی سوختم
گشت جاں آسودۂ چوں درسایۂ گیسو شدم
محبوب پاس نہیں ہوتا تو ہَوا سے دریافت کرتے ہیں بتا میرے محبوب کا حال بتا،میرا گلِ تازہ اور غنچۂ خنداں کس حال میں ہے:
خبری دہ بمن اے باد کہ جاناں چوں است
آں گلِ تازہ و آں غنچۂ خنداں چوں است
خواب میں محبوب کو دیکھا تو یہ تجربہ سامنے آیا:
ای خوش آں شب کہ بیادِ رُخ تو می خفتم
درِ دلم بودی و درخوابِ ہماں می دیدم
کیا پیاری شب تھی جب میں تیرے رُخ کی یاد میں سویا تھا، تو میرے دل میں تو تھا ہی۔ خواب میں تجھے ہی دیکھا!
بہار کے آتے ہی عاشق محبوب کو ڈھونڈھنے لگتا ہے:
آمد بہارِ مشک دم ، سنبل دمید و لالہ ہم
سبزہ بصحرا از قدم سروِ روانِ من کجا
خوشبوؤں کو لیے بہار آ گئی، سنبل و لالہ اُگ آئے ہیں، صحرا میں قدم قدم پر سبزہ ہے مگر میرا سرور واں کدھر ہے؟
’بدن کی بھاشا‘ کا شاعر اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتا ہے کہ آؤ، بندِ قبا کھول کے دَم بھر کو بیٹھ جاؤ، جیسے تمھارے بدن پر قبا تنگ ہے اسی طرح میرے دل پر عشق چست ہے:
بیادِ بندِ باز کن ومے بہ نشیں
کہ عشق بر دلِ من چوں قبائے تو تنگ است
ایک طرف جسم قبا سے باہر نکلنا چاہتا ہے اور دوسری طرف عشق کا جوش سینے سے باہر آنا چاہتا ہے، محبوب کا جسم اور عاشق کے ہیجانات، یہ دونوں مل کر اس تجربے کو انتہائی دل فریب اور پُر کشش بنا دیتے ہیں:
’بدن کی بھاشا‘ کا شاعر وصل کی لذّت سے بھی آشنا ہے، بہت لمبی دوری کے بعد، مدتوں بعد جو محبوب سے ملتا ہے وہی جانتا ہے کہ وصل کی لذّت کیا ہوتی ہے:
لذّتِ وصل ندارد مگر آں سوختہ
کہ پس ازدورئ بسیار بیاری برسد
جسم کی چاہت اور ’بدن کی بھاشا‘ کے شاعر کے یہ تجربے عاشق کی شخصیت کو محسوس بناتے ہیں:
عمرم بآخر آمد و روزم بہ شب رسید
مستی و بت پرستی من ہم چناں ہنوز
یعنی میری عمر ختم ہوئی، میرا دن رات میں بدل چکا ہے مگر میری مستی و بت پرستی اب بھی ویسی ہی ہے کہ جیسی تھی:
جاں زبندِ کالبد آزاد گشت
دل بگیسوئ تو زندانی ہنوز
میری جاں سوزِ محبت سے تو آزاد ہو گئی مگر دل ابھی تک تیرے گیسوؤں میں قید ہے، عمر جتنی بھی ہو جائے، جسم کمزور ہو جائے مگر دل میں تمنّائیں جنم لیتی رہتی ہیں جو جنم لیتی ہیں وہ جوان رکھتی ہیں، لاکھ خون ہو جائے دل کا، زبان پر وہی حدیثِ بتاں ہے:
تن پیر گشت و آرزوئ دل جواں ہنوز
دل خوں شدد حدیثِ بتاں برزباں ہنوز
’دول رانی اور خضر خاں‘ کے ڈرامے کا ایک دل فریب رومانی منظر اس طرح خلق ہوا ہے، امیرخسرو کی جمالیات کی لطافت اور لطیف ڈرامائیت خاص توجہ چاہتی ہے، یہاں کرداروں کی ولولہ انگیزی اور جذبات کی لذّت متاثر کرتی ہے:
بشبادی بانگار خویش نبشت
شدہ ازدست و زلفِ دوست بردست
مقابل دل بدل آئینہ شد باز
زلب جانہا درون سینہ شد باز
بشوئ شاہ خود ردزدیدہ می دید
گہی پیدا ، گہی پوشیدہ می دید
پس از دیری کہ حیرت رخت بربست
ہوائ دل بعیاری عمر بست
درآمد عاشقِ شوریدہ مشتاق
کہ تنگس دربر آرد چوں بعلطاق
گرفت اندر کنار آں سرد گلرنگ
بساں برگ گل درغنچۂ تنگ
پس از مہر خزانہ دور شد، پاس
بہ لولو سفتن آمد نوک الماس!
(دول رانی خضر خاں)
شہزادہ مست جھومتا آیا اور محبوب کی زلفوں سے کھیلنے لگا پھر دل کی کہانیاں سنائی گئیں۔ پھر حیرت و شرم کا عمل اور شوخی و گستاخی، خواہشات نے بے چین کیا، عاشق نے محبوب کو یوں چمٹا لیا جیسے کلی سے پنکھڑیاں چپکی ہوتی ہیں۔ اور پھر قربت اور بڑھ گئی یہاں تک کہ دونوں ایک ہو جانے پر راضی ہو گئے، ہیرا موتی کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔ درناسفتہ کم دام کا ہوتا ہے اور جب نوکِ الماس سے وہ سُفتہ ہو گیا تو کچھ اور ہی شان ہو جاتی ہے۔
امیرخسرو کہتے ہیں آ جاؤ کہ پیالے کو شراب سے پُر کر دیں اور اس شراب کو لالہ کی مانند سرخ بنا دیں، ساقی کی دل نوازیاں ہوں اور ساز پر نغمے، ایسی صورت میں کب تک جگر کا لہو پیتے رہیں گے اور آہیں بھرتے رہیں گے، پھولوں کے درمیان بیٹھ کر بلبل کی طرح مہکتی زلفوں کے نغمے سنائیں اور آگ کی مانند دہکنے والی شراب کی گرمی سے چہرے کو شبنم کے موتیوں سے سجادیں:
خیز تا بادہ در پیالہ کنیم
گل درونِ قدح چولالہ کنیم
ساقی جانفزا و نغمۂ چنگ
تابکی خون خوریم ولالہ کنیم
باگل ولالہ ہمچو بلبل ست
وصف آں عنبریں کلالہ کنیم
وزنجار شراب آتش فام
درق چہرہ پر زژالہ کنیم
عاشق جس جانب بھی نظر اٹھاتا ہے محبوب کا جلوہ نظر آتا ہے، حسینوں کو دیکھنے کی جو عادت ہو گئی ہے اس کی وجہ یہی ہے، کیا عجیب عادت ہے، خواہش یہ ہے کہ جدھر نظر اٹھائے محبوب کا جلوہ نظر آئے:
ہمی خواہم ترابینم نظر سوئے کہ من دارم
بخوباں دیدنم، خو ، شد عجب خوی کہ من دارم
’بدن کی بھاشا‘ کا شاعر کہتا ہے:
نفسی کہ بانگاری گذرد بہ شادمانی
مفروش لذتش را چہ حیات جاودانی
جو لمحہ محبوب کے ساتھ گزر رہا ہے وہ مسرتوں کا لمحہ ہے اس کی لذّت ہی مختلف ہے، اس لذّت کو حیاتِ جاودانی کے عوض بھی فروخت کرنا نہیں چاہیے:
دِلم بہ برد گرفتم کہ دزِد دل بہ نما
بہ ناز خندۂ دزدید کرد وخال نمود
میرا دل چرا کر لے گیا، پوچھا چور کون ہے تو اُس نے چوری چوری مسکراتے ہوئے اپنا خال (تل) دِکھا دیا!
کلّیات میں ایک ’غزل مسلسل‘ ہے جو تغزل کے رَس سے لبریز ہے، خوبصورت اور دل کش غزل ہے، امیرخسرو کی جمالیات میں اسے نمایاں مقام حاصل ہے، تین اشعار محبوب کے چہرے پر ہیں اور ایک شعر قامت پر:
اے چہرۂ زیبائے تو رشکِ بُتانِ آذری
ہر چند وصفت می کنم در حسن ازاں بالا تری
ہرگز نیاید دَر نظر نقشے زرویت خوب تر
شمے ندانم ، نے قمر ، حورے ندانم ، نے پری
آفاق ہاگردیدہ ام ، مہر ’بتاں‘ ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام ، اما تو چیزے دیگری
اے راحت و آرام جاں ، باقد چوں سروِ رواں
زیں ساں مرد دامن کشاں کا رام جانم می بری
خسرو غریب است و گدا ، افتادہ در شہر شما
باشد کہ از بہرِ خدا سوئے غریباں نیگری!
محبوب کے چہرے کو بُتانِ آذری کے رشک کا سبب بتاتے ہیں ’’جس قدر بھی تعریف کروں تیرا چہرہ حسن و زیبائی میں تعریف سے آگے ہے۔‘‘ آفتاب، ماہتاب حور اور پَری کسی میں محبوب کے چہرے جیسا نقش نہیں ملا، بہت سے حسینوں کو دیکھا، ساری دُنیا دیکھی، ایک سے ایک خوبصورت چہرے ملے لیکن محبوب کا حسن سب سے انوکھا ہے، سروِ رواں کی قامت لیے مجھ سے الگ الگ ہے اس طرح دامن کشاں ہے کہ میرا چین و سکون سب تیرے ساتھ جا رہا ہے، خسرو تیرے شہر میں آ پڑا ہے، مسافر بھی ہے اور سائل بھی، بہرِ خدا غریبوں پر بھی ایک نظرِ کرم ہو جائے!
یہ شعر سنیے:
بہار آمد و ہر گل کہ باید آں ہمہ ہست
گلے کہ می طلبم در بہار نیست چہ سود؟
بہار آ گئی ہے، ہر وہ گل موجود ہے کہ جسے بہار کے موسم میں ہونا چاہیے، مجھے تو جس پھول کی طلب ہے وہی موجود نہیں تو ایسی بہار سے کیا حاصل!
فرماتے ہیں:
بامدا دان بہ چمن ناز کہناں می گشتی
سرویک پائے ستادہ بہ لبِ جوئے بماند
صبح جب محبوب باغ میں چہل قدمی کے لیے نکلا تو اسے دیکھ کر سب پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ لبِ جو سرونے جو دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا، ایسا مبہوت ہو گیا کہ ایک ہی پاؤں پر کھڑا رہا ہے۔
بہار آ گئی ہے، پھول اور شگوفے موجود ہیں صرف محبوب نہیں تو کیا حاصل؟ اگر میرا ’بت شکر لب‘ ہی آغوش میں نہیں تو سب بیکار ہے:
گل و شگوفہ ہمہ ہست ویارنیست چہ سود
بتِ شکر لب من درکنار نیست چہ سود
زلفِ پریشاں کی یاد آتی ہے تو عاشق نیند سے کہتا ہے تو میرے پاس سے چلی جا، تو میری ہمدم نہیں ہے، آج کی شب میرے لیے سونا کب ممکن ہے!
یہ ڈرامائی منظر دیکھئے، عاشق محبوب کی زلفوں کو آہستہ آہستہ کھینچتا ہے اور اُسی لمحہ محبوب کی چشمِ مست بیدار ہو جاتی ہے:
دوش پنہاں می کشیدم زُلف تو
چشمِ مست ناگہاں بیدار شد
سوز و گداز اور جوش و سرمستی کا ایک پہلو یہ بھی ہے:
گفت بہ غمزۂ لبش جاں دہ و بوسہ ای ستاں
کاش دو صدجاں بُدی وہ کہ مراجاں یکسیت
محبوب کے ہونٹوں نے کہا ’جان دو اور ایک بار پیار کر لو‘ کاش میری دو سو جانیں ہوتیں! افسوس، جان صرف ایک ہے۔
کہتے ہیں تمھارے گھر میں دن بھر صبح رہتی ہے کیونکہ وہاں آفتاب بلند نہیں ہوسکتا:
بہ خانۂ تو ہمہ روز بامداد بود
کہ آفتاب نیا روشدن بلند آنجا
ایک اور خوبصورت شعر ملاحظہ فرمائیے:
تو بت آدری و نقش رخت
آتشِ سینہ را گلستاں کرد
محبوب آذر کا تراشا ہوا بت ہے، اس کے چہرے نے سینہ کی آگ کو گلستان بنا دیا ہے:
مگر غنچہ زروئ یار من شرمندہ می آید
کہ باچنداں نکوروئی نقاب افگندہ می آید
کلی محبوب کے رُخ کے سامنے شرمندہ ہے یہی وجہ ہے کہ خوبصورت ہونے کے باوجود نقاب ڈال کر نکلی ہے۔ کہتے ہیں کہ محبوب کے ارغوانی چہرے پر جو سیاہ تِل ہے غالباً کسی کی آہ کا داغ ہے:
داغیست از شرارۂ آہ کسی مگر
خالِ سیہ کہ بر رُخ چوں ارغوان تست
اس شعر میں احساسِ جمال کی پختگی اور شدید رومانیت کا تاثر غور طلب ہے:
مہی کہ چاک بہ دامانِ جانم افگندست
ہماں مہی است کہ طالع شد از گریبا نست
وہ چاند کہ جس نے میری جان کے دامن کو چاک کر دیا ہے وہی چاند ہے جو تمھارے گریباں سے طلوع ہوا!
چو بت پرست شدم دو زخم بہ سیہ مگوئی
بہ نقد سوز کہ کم نیستم ز برہمنی
جب میں نے صنم پرستی اختیار کر لی ہے تو جہنم میرے لیے اُدھار کیوں؟ ابھی کیوں نہیں جلاتے؟ کیا میں برہمن سے بھی کم ہوں؟
اور یہ شعر سنیے:
عاشق شدم و محرم ایں کار نہ دارم
فریاد کہ غم دارم و غم خوار نہ دارم
عاشق ہوں مگر ایسے شخص سے محروم ہوں جو عشق کو جانتا اور فریاد ہے کہ مجھے غم ملا غم خوار نہیں ملا!
یہ مکالمہ سنیے:
گفتم کہ ’’ترا آخر دل خانہ نمی باید؟‘‘
گفتا کہ ’’پے گنجم ویرانہ نمی باید؟‘‘
گفتم کہ ’’بسوزم جاں بر آتشِ روئے تو؟‘‘
گفتا کہ ’’چراغم را پروانہ نمی باید؟‘‘
گفتم کہ ’’شوم محرم در مجلسِ خاص تو؟‘‘
گفتا کہ ’’حریفِ مادیوانہ نمی باید!‘‘
گفتا کہ ’’بہ دامِ غم ہر لحظہ مرا مغگن‘‘
گفتم کہ ’’چنیں مرغے بے دانہ نمی باید‘‘
گفتم کہ ’’زعشقم دہ پروانۂ آزادی‘‘
گفتا ’’خطِ عارض بس، ، پروانہ نمی باید‘‘
گفتم کہ ’’بود مونس درہجر تو خسرورا؟‘‘
گفتا کہ ’’خیالِ مابیگانہ نمی باید‘‘
پوچھا: ’’کیا میرا خانۂ دل تیری قیام گاہ نہیں بن سکتا؟‘‘
کہا ’’یہ وہ خزانہ نہیں ہے کہ جسے کسی ویرانے میں چھپا لیا جائے اور تیرا دل تو ایک ویرانہ ہے!‘‘
عاشق اجازت چاہتا ہے کہ وہ محبوب کے آتشِ رُخ پر اپنی جان رکھ دے، محبوب جواب دیتا ہے کہ میرے چراغ کے لیے پروانوں کی ضرورت ہی نہیں ہے! عاشق محبوب کی خاص محفل کا محرم بننا چاہتا ہے۔
جواب ملتا ہے ’’دیوانے میری محفل میں بیٹھنے کے لائق نہیں ہوتے!‘‘
عاشق کہتا ہے ’’مجھے ہر لمحہ غم میں ڈالا نہ جائے۔‘‘
محبوب کا جواب یہ ہے ’’ایسے پرندے کو دانے کے بغیر رکھنا ممکن نہیں، غم ہی تو عاشقوں کی غذا ہے۔‘‘
عاشق پریشان ہو کر کہتا ہے ’’پھر مجھے عشق سے نجات ہی مل جائے۔‘‘
جواب یہ ہے ’’خطِ عارض کافی ہے کسی اور حکم کی ضرورت کیا ہے؟‘‘
عاشق دریافت کرتا ہے ’’فراقِ یار میں مونس کون ہو گا؟‘‘
جواب ملتا ہے ’’کیا میرا خیال، میرا تصوّر تیرے ساتھ نہیں اور یہ غیر تو نہیں ہے!‘‘
اس مکالمے میں لطیف ڈرامائیت ہے، عشق کی شدت میں لطافت بھی ہے اور احساس کی کسک اور المناکی بھی، طنز بھی انتہائی معصومانہ لیکن تیکھا ہے، محبوب بھی چٹکیاں لیتا ہے۔ دونوں کرداروں کی شخصیت مخصوص لب و لہجے سے اپنی انفرادیت کا احساس دیتی ہیں، عشق کی داخلی کیفیات کی پیشکش سے جذباتی زندگی کے پہلو نمایاں ہوئے ہیں۔
امیرخسرو کی رومانیت اور اُن کے جمالیاتی شعور نے نشاط اور انبساط عطا کرتے ہوئے درد کی لطافت اور جذبہ و تخئیل کی تابناکی کے تئیں بھی بیدار کیا ہے۔ سوال و جواب میں لطیف نکتہ آفرینی ہے مثلاً:
گفتم کہ ’’ز عشقم دہ پروانۂ آزادی‘‘
گفتا ’’خطِ عارض بس پروانہ نمی باید‘‘
گفتم کہ ’’بود مونس در ہجر تو خسرورا؟‘‘
گفتا کہ ’’خیالِ مابیگانہ نمی باید!‘‘‘
نشاطیہ رجحان امیرخسرو کی رومانیت اور جمالیات کا سب سے اہم رجحان ہے، غزل کے رموز و علامات میں یہ رجحان زیادہ نمایاں ہوتا ہے، تخلیقی قوّت نے فن کی تخلیقی آزادی کا خوبصورت اظہار کیا ہے، نشاطیہ رجحان نے رمزی کیفیتوں کو اور پرکشش بنا دیا ہے، عبارت ہو اشارت ہو یا حسنِ ادا، زندہ اور نفسی سطح پر متحرک خیالات و تاثرات نے اپنی انفرادیت اور آفاقیت کا احساس دلایا ہے، شعری تجربوں کی نکتہ آفرینی ایک بڑا وصف ہے، نشاط اور سرمستی اور عشق کی نغمہ سرائی باطنی آگہی کا احساس تازہ کرتی ہے، باطنی آگہی ہی کی وجہ سے حسن اور عشق کے تجربے گہرے اور تہہ دار بنے ہیں، نشاطیہ رجحان کی وجہ سے کلام میں جو بے ساختہ پن پیدا ہوا ہے اور جو شگفتہ بیانی آئی ہے اپنی مثال آپ ہے، بلاشبہ کلام خسرو میں حسن کی نئی تخلیق غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے۔
امیرخسرو کی جمالیات کی یہ جہت فارسی شاعری میں رومانیت کا ایک ارفع معیار قائم کرتی ہے!
امیرخسرو کا فن بے ساختہ پن اور شگفتہ بیانی کو لیے روحانی کشادگی پیدا کرتا ہے درد کی لطافت بصیرت افزائی کی ضامن ہے، غزل کے رموز و علامات سے حسن کی فنیّ تخلیق کا سلسلہ جاری ہے، عشق کی نغمہ سرائی کبھی معبودِ حقیقی کے عشق تک لے جاتی ہے اور کبھی گوشت پوست کے پیکر کی محبت تک۔ مجاز اور حقیقت کی وحدت بھی ہے اور خالص مادّی حسن کا تاثر بھی۔ کلام المیات کے حسن سے بھی انتہائی پرکشش بنا ہے۔ کہتے ہیں خسرو ایک ایسا پھول ہے کہ جو خود اپنے لہو کی نمی سے اُگا ہے، اُسے سونگھا نہ جائے، اس کی بُو جگر سوز ہے:
خسروم من گلے از خونِ دل خود رستہ
بوئے من ہست جگر سوز ، مبوئید مرا!
المیہ کا حسن دیکھئے، یہ المناک تجربوں کی ایک تمثیل ہے کہ جس سے اندرونی جذباتی زندگی کی داستان کی پہچان ہوتی ہے:
سینہ ز زخم تاخنم چاہ شدہ است و پرزخوں
رگ چو نمودار دروں رشتۂ چاہ من نگر!
میرا سینہ ناخن کے زخم سے کنویں کی طرح ہو گیا ہے اور خون سے بھرگیا ہے، رگ جو نمودار ہو گئی ہے وہ کنویں کے لیے ڈوری ہے۔
کبھی حسن پسندی کا یہ عالم ہے:
اے حسنِ تو آفتِ زمانہ
روئے توبہ دلبری فسانہ
یعنی تو وہ ہے کہ جس کا حسن آفتِ زمانہ ہے اور جس کا چہرہ دلبر کا فسانہ اور کبھی المیہ کا حسن شدتِ احساس کے ساتھ اس طرح نمایاں ہوا ہے کہ اے دل اپنا خون آلود راز مجھ سے نہ کہہ کہ میں کچّے کاغذ کی مانند ہوں، جو حرف اس پر آئے گا باہر پھوٹ جائے گا:
رازِ خوں آلود اے دل مدہ بامن بروں
کایں ورق خام است و حرف ازوی بروں خواہد گذشت
کہتے ہیں عمر تمام ہونے کو آئی اور میری اذیت اور درد کی کہانی ختم نہ ہوئی، اب تو رات گزرنے والی ہے قصّے کو مختصر کرتا ہوں:
عمر بگذشت و حدیثِ دردِ ما آخر نشد
شب بہ آخر شد کنوں کو تہ کنم افسانہ را
پُرسوز داخلیت نے درد کی کسک اُبھاری ہے، تجربے کی معنی خیزی غور طلب ہے، تخیلی فکر کی گہرائی تک لے جانے میں لب و لہجے نے مدد کی ہے، امیرخسرو کے کلام کی غنائیت نے المیہ تجربے کو دل فریب بنایا ہے، ایسی بصیرت ملتی ہے جو المیہ تجربوں سے بھی انبساط عطا کرتی ہے۔ یہ اشعار بھی سنیے:
ہر شبم جاں برلب آید نالۂ زار آورد
تاکدامین باد بوئے زاں جفا کار آورد
ہر شب ہونٹوں پر جان آتی ہے اور دل سے نالہ بلند ہوتا ہے، یہ ہوائیں کب تک اس جفا کار کی خوشبو میں پہنچاتی رہیں گی:
دوستاں من نی ہوس دارم نبالیدن ولے
درد چوں درسینہ باشد نالۂ زار آورد
دوستو،مجھے رونے کا کوئی شوق نہیں ہے، کیا کروں جب جگر میں درد ہوتا ہے تو دل سے آہ نکل ہی جاتی ہے، ایک نالہ سنائی دیتا ہے۔
کہتے ہیں میری آنکھیں تیرے لیے خونبار ہو گئیں، لہو روتی آنکھوں سے جدا نہ ہو:
دیدہ از بہر تو خونبار اے مردُم چشم
مردُمی کن ، شوز دیدۂ خونبار جدا
سب لوگ آتشِ بیگانہ سے جلتے ہیں اور میں داغِ آشنا سے جلتا ہوں:
ہمہ کس ز آتشِ بیگانہ سوزد
منِ مسکیں بہ داغِ آشنائی
فرماتے ہیں کل رات تمھاری آرزو نے سینہ میں آگ لگانا شروع کیا، آنسو تو نکل بھاگے دل کو راستہ نہ ملا جل کر راکھ ہو گیا:
ازمن قرار و صبر نہ دانم کجا شدند
من خود زخویش ہیچ نہ دانم کجا شدم
مجھے معلوم نہیں کہ میرا صبر کہاں چلا گیا، مجھے خود بھی پتہ نہیں کہ میں خود کہاں گم ہو گیا ہوں:
خوں شد ایں دل مگر زبہر جفات
دلِ دیگر ز سنگِ خارہ کم
یہ دل خوں ہو گیا، اب تمھاری جفا سہنے کے لیے ایک دوسرا دل سنگِ خارہ سے بنا کر لاؤں:
رازِ دل چوں نہاں کنم از اشک
ہمہ بر روئ آب می بینم
دل کا راز کیسے چھپاؤں آنسوؤں کی وجہ سے پانی کے اوپر آ گیا ہے:
تو کنی جور بردلِ خسرو
من چو بیگا نگاں نظارہ کنم
تم خسرو کے دل پر ظلم ڈھاؤ، میں بیگانوں کی طرح نظارہ کروں گا!انتہائی خوب صورت شعر ہے، المیہ کا حسن دل کو چھو لیتا ہے:
اے گل چو آمدی ز زمیں گو چگونہ اند
آں روئے ہاکہ در تہ گرد فنا شدند
اے گل تو زمین سے آ رہا ہے، ذرا بتا وہ چہرے کیسے ہیں خوفناکی خاک میں چھپ گئے ہیں!
امروز صبا از جگرم بوئے گرفتست
زنہار کہ آں سوش وزیدن نگذارند
آج صبا میں میرے جلے ہوئے جگر کی بُو بسی ہوئی ہے، اسے محبوب کے کوچے کی جانب جانے نہ دینا!
از تو سخنے بہ ہر ولایت
خسرو بہ ولایتِ خموشاں
خسرو شہرِ خموشاں میں سویا لیکن تیرے حسن کا ذکر اور تیرے جلوؤں کا چرچا ہر شہر میں رہے گا!
کہتے ہیں تیرے حسن اور بُری اداؤں کا ذکر ساری دنیا میں ہے، ایک ہم ہیں جو حیرت زدہ ہیں اور حیرت ایسی کہ چپ لگ گئی ہے:
مائیم و تحیر و خموشی
و آفاق ہمہ بہ گفت گویت
فرماتے ہیں تیرا کلیجہ ٹھنڈا رہے، تجھے عاشقوں کے سینوں کی بھڑکی آگ کی کیا خبر، اس شعر میں لگتا ہے فنکار نے بڑی ٹھنڈی سانس لی ہے:
خوش وقت تو کا آگہی نداری
از آتشِ سینہ ہائے جوشاں
یہ شعر سنیے:
خسرو بہ کمند تو اسیر است
بیچارہ کجا رود زکویت
خسرو تیرے عشق کی کمند میں گرفتار ہے، آخر غریب بے چارہ تیری گلی چھوڑ کر کہاں جائے:
بوادی غمش گم گشت خرد
کہ کس از راہ مشکل باز نامد
خسرو غم کی وادی میں کھو چکا ہے، یہ وہ مشکل راہ ہے کہ جہاں سے کوئی واپس نہ لوٹا! عشق کے درد سے جو بے چینی ہے اس کا ایک تاثر دیکھئے:
زعشقت بے قرارم باکہ گویم
ز ہجرت خوار و زارم باکہ گویم
دردِ عشق نے مجھے بے چین کر رکھا ہے کس سے کہوں؟ تیری جدائی میں دَم نکل رہا ہے کسے بتاؤں؟
آشکارا سینہ ام بشگافتی
ہمچناں درسینہ پنہائی ہنوز
تم نے کھلے عام میرا سینہ چاک کیا اور پھر اسی سینے کے اندر اپنی جگہ بنا لی۔
مازگر یہ چوں نمک بگداختیم
تو بخندہ شکر ستانی ہنوز
ہم تو رو روکر نمک کی طرح گھل گئے اور تم ہو جو ہنس ہنس کر مصری کی ڈلی بنے جا رہے ہو۔ فراقِ یار کی وجہ سے مصیبت میں گرفتار عاشق کی بے چینی کا ایک عمدہ تاثر ملتا ہے:
ازدستِ ہجراں من در بلایم
یارب بغفلت آن را دواکن
بے چینی اور بے قراری میں بھی ایک عجیب سی لذت ہے، عاشق اس آنچ کو اور تیز کرنا چاہتا ہے:
دِلم در عاشقی آوارہ شد ، آوارہ تر بادا
تنم از بے دِلی بے چارہ شد بے چارہ تر بادا
موت حقیقت ہے، موت کا شدید احساس لمحوں کو قیمتی بنا دیتا ہے، شاعر چاہتا ہے محبوب کو بھی اس کا احساس ہو کہ کل ہم نہ ہوں گے، جو لمحے حاصل ہیں انھیں اپنی آرزوؤں کے پیشِ نظر پر لطف بنا دیں، جمالیاتی انبساط حاصل کریں، امیرخسرو کہتے ہیں پھول بہت کھلیں گے، بہار بار بار آئے گی لیکن ہم نہ ہوں گے، پھول اور شراب کی لذّت جب تک نصیب ہے آؤ ایک دوسرے میں کھو جائیں ، ایسا نہ ہو ہم لذتوں سے محروم رہ جائیں، ہم گل سے زیادہ نازک ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ وقت آئے گا اور ہم کیچڑ اور پتھر کے نیچے دبے پڑے ہوں گے، اے محبوب کل ہم نہ ہوں گے اور پھر کیوں نہ آج ساتھ مل بیٹھیں اور ایک دوسرے میں جذب ہو جائیں۔ سب چلے جائیں گے، سب پاؤں تلے کی مٹی بن جائیں گے تو کیوں نہ ہم پاؤں تلے کی خاک بن کر رہیں ، جب زندگی دو دن کی ہے تو موت سے پہلے کے ان دو دنوں کو بھی سلام:
بیانا بے گل و صہا بنا شیم
کہ گل باشد بسے ومانبا شیم
زندگی نازک تریم و چند گا ہے
بجز زیر گل و خارا بنا شیم
بیا یا او باما باش امروز
چو می دانی کہ مافردانی بنا شیم
چو تنہا بود می باید، ہماں بہ
کہ باہم صحبتاں تنہا بنا شیم
چو زیر پائے می باید شدن خاک
چراچوں خاکِ زیر پا بنا شیم
چو بودن نیست خسرو جز دو روزے
دو روزے نیز بگزرتابنا شیم
عاشق اور اس کے درد کی ایک تصویر مثنوی ’شیریں خسرو‘ میں فرہاد کی آواز میں اس طرح ابھرتی ہے:
بگفتش، کینی، در چہ سازی
بگفتا عاشقم، درجاں گدازی
بگفتش عشق باز ای راکشاں چیست
بگفتا آں کہ باید در بلازیست
بگفتش، عاشقاں زیں رہ چہ پویند
بگفتا، دل دہند و درد جویند
پوچھا تم کون ہو کیا کرتے ہو، جواب دیا عاشق ہوں، جاں نثار ہوں، پوچھا عاشق کی پہچان کیا ہیٰ جواب دیا ان کی زندگی ہمیشہ آفت میں رہتی ہے، پوچھا عاشق کس چیز کی تلاش میں رہتے ہیں، جواب دیا دل دیتے ہیں اور درد لیتے ہیں۔
کہتے ہیں میری فریادِ شب سے تمام لوگوں کی نیند اچاٹ ہو گئی لیکن وہ نیم مست آنکھوں والا اب بھی گہری نیند میں ہے:
بیدار اند شب ہمہ خلق از نفیرِ من
و آں چشمِ نیم مست بہ خواب گراں ہنوز
ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
تونے اپنی قیمت دونوں عالم بتاں ہے۔ یہ بہت ہی سستا سودا ہے، کچھ قیمت اور بڑھاؤ۔
ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی مجھے اپنی گلی میں پاؤ گے، ایک جانب جسم ہو گا تو دوسری جانب جان ہو گی اور پھر سر اور پیر باقی سمتوں میں ہو گا:
در چار حدِ کوئی خود افتادہ بینی بندہ را
تن یکطرف جاں یکطرف، سر یکطرف، پا یکطرف
فارسی ادب کی کلاسیکی روایات سے گہرا رشتہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ کلام کی کئی مختلف جہتیں ہیں کہ جن میں شعری تجربے نیا پن اور تازگی لیے ہو۔ میں امیرخسرو کے کلام میں رقیب اہمیت نہیں رکھتا، جو تصادم اور کشمکش ہے وہ عاشق کے جذبات اور محبوب کے تیور کے درمیان ہے، اس تصادم سے جو کسک اور تپش پیدا ہوتی ہے اسی سے المیہ اور اس کا حسن جنم لیتا ہے۔ امیرخسرو نے اپنی تخلیقات میں حقیقت اور تجربے کے تخلیقی جمالیاتی رشتے کو اہمیت دی ہے۔ مثنویوں میں بھی ایسے بہت سے مقامات ہیں جہاں پر جمالیاتی رشتہ توجہ طلب بنا ہے۔ ان اشعار سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ امیرخسرو کے شعری تجربے غم انگیز اور مسرت بخش دونوں ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ شاعر جمالیاتی احساسات کی شاعری ہے۔ کلاسیکی روایات کے جوہر اور فکر کی تازگی سے ہر شعری تجربہ زرخیز بن گیا ہے، یہاں ایسی زرخیزی ہے کہ جس سے ایک نئی روایت تشکیل پاتی ہے۔ امیرخسرو کی روایت۔
حضرت محبوبِ الٰہیؒ کی صحبت کے فیض سے امیرخسرو تصوف سے قریب تر ہوئے ، ماحول میں صوفیانہ فکر و نظر کی روشنی پھیلی ہوئی تھی، اس کے باوجود تصوف اور اس کے مسائل سے براہِ راست گہری دلچسپی نہیں ملتی، ان کا کہنا یہ تھا کہ شاعری شاعری ہے اور تصوف، تصوف، شاعری، شاعری کی روایات سے جذب ہو کر چلتی ہے اس میں صوفیوں اور واعظوں کے طریقے نہیں ہوتے، تصوف نہ ان کے کلام کو شعوری اور غیر شعوری طور یقیناً شدت سے متاثر کیا ہے، ’ہیومنزم‘ یا انسان دوستی کا جذبہ تصوّف کے عطا کیے ہوئے تصور سے مستحکم اور معنی خیز بنا ہے، اسی طرح عشق کے تصور میں جو گداز پیدا ہوا ہے (جو انھیں کئی فارسی کلاسیکی شعرا سے بلند کر دیتا ہے) وہ تصوّف ہی کی دین ہے۔ لطف و نشاط، عشق کی شدّت، المناکی کی لطافت، کسک اور تپش اور عشقیہ کیفیات کے تجربوں میں تصوّف نے بڑی چمک دمک پیدا کی ہے۔ تصوّف کے سوز اور نشاط کو لیے ان کے کئی اشعار بے حد مقبول ہیں:
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سورقصِ بسمل بود شب جائے کہ من بودم
پری پیکر نگارے سروقدے لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود شب جائے کہ من بودم
خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم
گفتم کہ روشن ازقمر گفتا کہ رخسار نست
گفتم کہ شیریں از شکر گفتاکہ گفتار نست
گفتم کہ حوری یا پَری گفتا کہ من شاہِ جہاں
گفتم کہ خسرو ناتواں گفتا پر ستارِ نست
ابرمی بارد ومن می شوم از یارِ جدا
چوں کنم دل بہ چنیں وقت ز دلدار جدا
حضرت نظام الدین محبوبِ الٰہیؒ کی وجہ سے اعلیٰ اور افضل اقدار کا شعور حاصل ہوا، روح کی تازگی نے انسان اور انسان کے رشتے کو تازہ اور شاداب بنایا۔ متصوفانہ تجربوں نے متاثر کیا تو اس قسم کے خیالات بھی سامنے آئے:
مثوم فدائے جمالے کہ گر ہزاراں سال
کنم نظارہ ، ہنوز آرزو بجا باشد
———-
ابرِ باراں ومن دیارستادہ بہ وداع
من جدا گر یہ کناں،ابرجدا ، یار جدا
———-
ضامن روزئ تو روزی رساں
دیدۂ کور تو بسوئے جہاں
———-
چہ پوشی پردہ بر روئ کہ آں پنہاں نمی ماند
وگربے پردے می واری تنی راجاں نمی ماند
———-
گر تو آدمئے درکساں بطنز مبیں
کہ بہتر از من و توبندۂ خدا وندند
———-
سنگ اریکی زنند و عاشاں دوبارہ گو
کبرا ریکے کنند تواضح دو چند کن
———-
دشمن اگر زپستی ہمّت مگزند
تو خاکِ راہ او شود ہمّت بلند کن
کہتے ہیں مردانگی یہ نہیں کہ لڑائی میں دشمنوں کو قتل کرو، عشق میں خود کو فنا کر دینا ہی مردانگی ہے:
نیست آں مردانگی کا ندر غزا کافر کشی
درصفِ عشاق خود را کشتن از مردانگی ست
اگر تمھیں عزّت حاصل ہے تو غرور کی آندھی میں مت اُڑو۔ گھاس کے تنکے پر نظر رکھو ہَواسے اُڑتا ہے لیکن ہَوا کا زور ختم ہوتے ہی پھر نیچے گر پڑتا ہے:
مپرز باد غرور گر بلندی داری
کہ خس بلند شداز باد لیک بار افتاد
مسجد ہو یا مندر، میکدہ ہو یا کلیسا، ہر جگہ تیری ہی یاد اور تیرا ہی نام لیا جاتا ہے:
در درونِ مسجد و دیر و خرابات و کنشت
ہر کجا رفتم ہمہ شو تو وغوغای تست
———
آشکارا عشق بازی با بتاں
از بس زہدِ ریائ خوشتر است
دکھاوے کی عبادت سے بہتر وہ عشق بازی ہے جو ایمان داری اور سچائی سے کی جائے۔ خدا کے سچیّ عاشقوں کو کعبہ یا بت کدے سے مطلب نہیں ہوتا وہ تو بس خدا کے عاشق ہوتے ہیں اور ہر جانب اسی کا جلوہ دیکھتے ہیں:
ماو عشقِ یار اگر در قبلہ و دَر میکدہ
عاشقاں دوست را باکفر و ایماں کارِ نیست
مشائخِ چشت نے سماج میں صوفیوں کے کردار و عمل کو بہت اہمیت دی ہے، ان کا سب سے بڑا مقصد اعلیٰ روحانی اور اخلاقی کردار کی تبلیغ ہے۔ مذہب اور ذات پات سے بلند ہو کر انسان دوستی کے جذبہ کو بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش ملتی ہے۔ انسان کی عظمت کا احساس لیے ہر شخص کے باطن میں محبت کے جوہر کی تلاش ان کے بنیادی عمل میں شامل ہے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ اپنے عہد میں مشائخ چشت کی نمائندگی کرتے ہیں، امیرخسرو نے آپ کے علم، تجربے اور فکر و نظر سے روشنی حاصل کی، سچائیوں کی نقاب کشائی اور روحانی اور اخلاقی کردار کی قدر و قیمت پر ان کے شعری تجربے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں جو سانس بھی خوش دلی میں گزر جائے وہی جوانی کا سرمایہ ہے:
ہر دم کہ بہ خوش دلی بَر آید
سرمایۂ حاصلِ جوانی است
وہ ذرّے جو ہوا میں منتشر ہیں کبھی آفتاب جیسے تھے مٹی کے نیچے گئے اور یہ حشر ہوا:
خورشید بودہ اند کہ رفتند زیرِ خاک
آں ذرّہ ہا کہ ہر ہمہ اندر ہوا شدند
بادشاہ کا ڈھول اندر سے خالی ہے لیکن اس کی آواز ایسی ہے کہ سر میں درد ہو جاتا ہے۔ سمندر اور زمیں پر وہی حکومت کرتا ہے جور روکھی سوکھی کھا کر پانی کے چند گھونٹ پی لیتا ہے۔
کوس شہ خالی وبانگ غلغلش درد سر است
ہر کہ قانع شد بہ خشک و ترہشہ بحروبر است
امیرخسرو کے یہ اشعار بھی توجہ چاہتے ہیں:
ما و عشقِ یار اگر در قبلہ گر دربت کدہ
عاشقانِ دوست را باکفر وا ایماں کارِ نیست
———
عاشقی ام کہ گر آواز وہی جانِ مرا
دوست از سینہ ام آواز بر آرد کہ منم
———
یک قدم بر جانِ خود نہ یک قدم در کوئے دوست
زمین نکوتر رہروانِ عشق را رفتار نیست
———
ز عشق آراست لوحِ آب و گل را
بدان جان زندگی بخشید دل را
———
اگر خواہی نہ بینی رنج بسیار
بہ اندک مایہ راحت باش و خرسند
———
آنکہ زحق پاکی ، چشمش عطاست
منع زِ رخسار بتانش خطاست
———
خوش آن کسان کہ گذشتند پاک چوں خورشید
کہ سایہ نیز بسوئے جہاں نیفگندند
تا تو نمودی جمال نقش ہمہ نیکوان
رفت برون از دلم نقشِ تواز جان نہ رفت!
’ہندوستان بھی‘ امیرخسرو کا ایک محبوب ترین موضوع ہے، ان کی جمالیات میں اس موضوع کو نمایاں درجہ حاصل ہے، اپنے ملک کے حسن و جمال سے بے حد متاثر ہیں، جمالیاتی احساس و شعور نے ملک کے جمال کو اس طرح جذب کیا ہے کہ یہ جمال فن کار کی جمالیات کا ایک دلکش اور دل فریب پہلو بن گیا۔ اپنا ملک شاعر کے لیے سراپا مٹھاس ہے، ’شکر ستان‘ کی مانند:
ماہ من زلفِ سیہ برخط سبزت سرنہاد
طوطی شکر خورت ہندوستان یافتہ نو
اے میرے چاند جس دم کالی زلف نے تیرے سبزۂ خط پر سر رکھ کر آرام کرنا چاہا اسی دم شکر کھانے والے تیرے طوطے کو مٹھاس سے بھرپور ایک نیا ہندوستان مل گیا ہے۔
ہندوستان کو محبوب بنا لیا ہے اور اس میں ساری دل کشی جذب کر دی ہے:
از چو تو ہندوی کافر کیش گل چہرہ است رنگ
گل بہ ہندوستان بوہ چوں برہمن زنار وار
تجھ جیسے کافر کیش نازنین کو دیکھ کر پھول کے چہرے پر رنگ نکھر آیا ہے، دراصل ہندوستان میں یہاں کے برہمنوں کی طرح پھول بھی زنّار بستہ ہیں!
٭ ’ذکر حضرتِ دہلی‘
٭ ’قلعہ و حصارِ دہلی‘
٭ ’جامع مسجد دہلی‘
٭ ’وصف منارہ‘
٭ ’حوض شمسی‘
٭ ’مردم شہر دہلی‘
٭ ’آب و ہَوا وگلہائے و میوہ ہائے ہند‘
٭ علم و ہنر دہلی‘
٭ بتانِ سادہ دہلی‘
٭ ’کیلو کہری‘
٭ ’قصرِ نور‘
٭ ’جشنِ نوروز ہند‘
٭ ’چتر سیاہ‘
٭ ’چتر سرخ‘
٭ ’چتر سبز‘
٭ چتر گل‘
٭ ’رایت لعل و سیاہ‘
٭ ’صنعت ہائے اسپان وفیل‘
٭ ’گلستانِ سیم وزرا‘
٭ ’دستہ گل دل فریب‘
٭ ’خریزہ ہند‘
٭ ’تنبول‘
٭ ’جامۂ ہندی‘
٭ ’میوہ ہائے دیوگیر‘
٭ ’موسیقی‘
٭ ’لباس‘
٭ ’خوبئ زبانِ ہند‘
٭ ’رقص و سرور نغمہ‘
٭ ’رسومِ شادی‘
٭ ’درس از ہندوی آتش پست‘
٭ ’اوصافِ دخترانِ ہند‘
٭ ’اوصافِ نوجوانانِ ہند‘
٭ ’خوبئ زبانِ ہند‘
٭ ’تصوّرِ وحدانیتِ ہنود‘
٭ ’اسبابِ فضیلتِ ہند‘
٭ ’فسوں گریِ ہند‘
٭ ’دیو گیر‘
٭ ’شعبدہ ہائے بازی گراں درجش‘
٭ ’حسنِ ہند‘ وغیرہ ہندوستان کے تعلّق سے اہم موضوعات ہیں جو امیرخسرو کی تخلیقات میں جابجا ملتے ہیں۔
امیرخسرو ہندوستان سے محبت کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کا جنم اسی ملک میں ہوا، ’مثنوی نہ سپہر‘ میں کہتے ہیں ’حبِ وطن ہست ز ایمان بہ یقین (حب الوطن مِن الایمان، حدیث) اس مثنوی میں ہندوستان کے تعلق سے ایک مستقل باب قائم ہے۔ آب و ہوا پر عاشق ہیں اور اس کے اسباب یہ ہیں۔
ہندوستان کی سردی سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، یہاں کی گرمی خراساں کی سردی سے بہتر ہے۔ سردی کی ہَوا سے غریبوں کو زیادہ سامان کی ضرورت نہیں ہوتی، سال بھر پھولوں کی بہار قائم رہتی ہے، یہاں کے پھول خوش نما اور خوش رنگ ہوتے ہیں، سوکھ جانے پر بھی ان سے خوشبو آتی رہتی ہے، اس ملک میں آم، کیلا، اِلائچی، کافور اور لونگ جیسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں، خراساں کے بہت سے میوے یہاں بھی ہوتے ہیں، خراساں میں ایسے میوے نہیں ہوتے جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں، پان اور کیلا اس ملک کے بہترین انوکھے تحفے ہیں، پان جیسا میوہ دنیا میں نہ ملے۔(قران السعدین)
امیرخسرو اپنے ملک کو بہشت تصوّر کرتے ہیں:
بہشتے فرض کن ہندوستان را
کز انجا نسبت ایں بوستاں را
وگرنہ آدم و طاؤس ز آنجائے
کجا اینجا شدندی منزل آرائے
(مثنوی دول رانی و خضر خاں)
خزاں کی تعریف بھی اس طرح کرتے ہیں جیسے بہار کا ذکر کر رہے ہوں، ڈرامائی کیفیت دیکھئے:
فصلِ خزاں چوں بر چمن خانہ ساخت
بادِ رواں کرّہ بہ گلزار تاخت
شاہِ سپر غم زولایت برآند
کش بہ چمن ہیچ ولایت نہ ماند
(قران السعدین)
ہندوستان کے بیان میں امیرخسرو کی رومانیت اپنی دل فریبی سے متاثر کرتی ہے نیز اُن کا جمالیاتی شعور ’جمالیات خسرو‘کے دائرے کو وسیع کرتا ہے۔ اس ملک کے لوگ، ان کی روایات، مذہب، رسم و رواج، زبان، لباس، عمارات، باغ اور سبزہ زار، موسیقی، میوے، پھل پھول، پرندے جانور، پہاڑ ندی سب انھیں پسند ہیں، ان کے حسن کو عزیز رکھتے ہیں، ’نہ سپہر‘ میں اہلِ ہند کی توحید پرستی پر اُن کے اشعار توجہ طلب ہیں۔ رومانی ذہن کے عمل اور تخئیل کی پرواز دیکھئے، کہتے ہیں ہندوستان کے لوگوں کا رنگ عام طور پر سیاہ ہوتا ہے اور محبوب کی زُلفیں بھی سیاہ ہیں، یہ زلفیں کا ہے کو ہیں یہ ’ہندوستان‘ کا پیکر ہیں۔:
دلم را در سر زلفت رہ افتاد
غریباں را بہ ہندوستاں رہ افتد
مرغِ دل آشیانہ بہ زلفِ تومی کند
چوں طوطیے کہ میل بہ ہندوستاں کند
اسی طرح ایک جگہ محبوب کے شیریں ہونٹوں کو ’ہندوستان‘ کہتے ہیں، ہندوستان کی طرح میٹھے، لذیذ ہونٹ:
سرزلف کا ید ہمی برلبش
نمک سوئے ہندوستان می برد
’نہ سپہر‘ میں ’وصف ہند در علوم فنون‘ میں فرماتے ہیں:
گرچہ بہ حکمت سخن از روم شدہ
فلسفہ زا نجا ہمہ معلوم شدہ
لیک نہ ہند است ازاں مایہ تہی
ہست درویک یک از اندیشہ بہی
منطق و تنجیم وکلاست ورد
ہرچہ کہ جز فقہ تماست درد
علم دِگر ہرچہ ز معقول سخن
بیشتری ہست بر آئین کہن
برہمنی ہست کہ در علم و خسرو
دفترِ قانونِ ارسطو بدرد
وانچہ طبیعی و ریاضیت ہمہ
ہیئت مستقبل و ماضیت ہمہ
روی ازاں گونہ کہ افگندہ بروں
برہمناں راہست ازاں مایہ فزوں
روم اور یونان اگرچہ حکومت میں مشہور ہوئے اور اُن کا فلسفہ ساری دنیا میں پھیلا مگر ہندوستان کا دامن ان سے خالی نہ رہا، ہندوستان میں بھی ایک سے بڑے دانشور پیدا ہوئے، منطق، نجوم، علم کلام، غرض کہ فقہ کے سوا سبھی علوم ہندوستان میں موجود ہیں، معقولات کے کے علم بھی طرزِ قدیم رکھتے ہیں۔ ایسے پنڈت برہمن ہیں کہ علم و دانش میں ارسطو کو رد کر دیں، طبعیات، علم ریاضی، قدیم و جدید ہیئت سب موجود ہیں، یونانیوں نے جتنا علم ظاہر کیا اس سے کہیں زیادہ برہمنوں کے پاس علم ہے۔
امیرخسرو نے اپنے ملک کو عزیز تر جانا، اس کی مٹّی کی خوشبو کو اپنے وجود میں جذب کیا، خوب گھومے، دیوگیری، بنگال، سندھ اور ملتان کی سیر کی، لوگوں کو قریب سے دیکھا، رسم و رواج کو جانا پہچانا، تبدیل ہوتے موسم کے حسن کو پسند کیا، اپنے ملک کی ہر چیز کے جمال پر فریفتہ ہوئے، پرندے ہوں یا جانور، پھل پھول ہوں یا یہاں کی عورتیں احساسِ جمال کے ساتھ اُن کا رومانی ذہن حد درجہ متحرک ملتا ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں مجھے اپنے ملک سے عشق ہے، یہ میرا وطن ہے، حدیث ہے کہ وطن کی محبت جزوِ ایمان ہے۔ قدیم فنِ تعمیر کی تعریف میں قلعہ جمائیں پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں، یہ آسمان کی طرح بلند اور سنگِ خار اسے منقش ہے، نقش و نگار دل فریب، مانی کی خلق کی ہوئی تصویریں بھی مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ ’جامع مسجد‘ کے تعلّق سے یہ اشعار توجہ چاہتے ہیں:
غلغل تسبیح بگیند دروں
رفتہ آنہ گنبد والا بروں
گنبد اوسلسلہ پیوندراز
سلسلہ چوں کعبہ شدہ حلقہ ساز
در نہ منقش زسما قازیں
نصب شدہ جملہ ستونہائے دیں
حوضِ سلطانی پر یہ اشعار دیکھئے:
در کمر سنگ میانِ رو کوہ
آبِ گہر صفوت و دریا شکوہ
ساختہ سلطان سکندر صفات
در سرکوہ آئینہ ز آبِ حیات
شہر گر از وے نبود آب کش
کس نحو رو در ہمہ شہر آبِ خوش
گرد وے از اہلِ تماشہ گروہ
دامن خیمہ شدہ دامانِ کوہ!
’قران السعدین‘ میں دہلی کی تعریف اس طرح کی ہے جیسے عاشق محبوب کی تعریف کرتا ہے۔ یہ عدن کی جنت ہے، باغِ ارم کا جمال لیے ہوئے ہے، شہر کے لوگوں میں جنتی لوگوں کی خصلت ہے، یہ لوگ خوش دل اور پاک سیرت کے مالک ہیں:
مردم او جملہ فرشتہ سرشت
خوش دل و خوش خوئے چو اہلِ بہشت!
اس شہر کے حسن کی پہچان مختلف جلوؤں سے ہوتی ہے، صنعت اور علم و ادب سے آہنگ اور ساز سے، نغمہ و سرود سے یہاں کے محبوب اپنے حسن کے غرور سے پہچانے جاتے ہیں اور عاشق اپنے تباہ ہوتے دل سے:
اے دہلی و اے بتانِ سادہ
پگ بستہ و ریشہ کج نہادہ
فرماں نبرند ازاں کہ ہستند
از غایتِ ناز خود مرا دم
جائے کہ بہ رہ کنند گلگشت
در کوچہ و مدگل ببادہ
شاں در رہ و عاشقاں بہ دنبال
خوناب ز دیدہا کشادہ
ایشاں ہمہ بارِ حسن در سر
و ایں ہاہمہ دل بباد دادہ
قلعے کی تعریف کرتے ہوئے مورتیوں کو نظر انداز نہیں کرتے: قلعہ جمائین میں مورتیوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں پتھر کی بنی ایسی مورتیاں کہ جن کی فن کاری دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ غیر معمولی کارنامہ ہے موم سے بھی ایسی مورتیاں بنائی نہیں جا سکتیں آئینہ کی مانند صاف دیواریں جن کی کہگل گھسے ہوئے صندل سے کی گئی۔ لکڑیاں مور کی، باغ میں کئی بت خانے کہ جن پر چاندی کی نقش آرائی!
شہر دہلی کو سمرقند، بغداد اور بخارا سے بھی خوبصورت کہتے ہوئے قطب مینار کی بلندی کا حسن بھی اُن کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ یہاں کی عورتوں کو بھی احساسِ جمال موضوع بناتا ہے، کہتے ہیں پھولوں کی طرح یہاں کی عورتیں بھی بے حد حسیں اور خوبصورت ہوتی ہیں، خراساں کی عورتوں کی صورتیں ہندوستانی عورتوں کے چہروں کے سامنے ہیچ ہیں، خراساں کی عورتیں سُرخ و سفید ہوتی ہیں لیکن اس رنگ میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی، اس کے مقابلے میں ہندوستانی عورتیں اپنے رنگ کی خوشبو سے بھی پہچانی جاتی ہیں، چین، روس، روم، سمرقند اور قندھار کی عورتیں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ روس اور روم کی عورتیں برف کی مانند سفید اور ٹھنڈی ہوتی ہیں، تاتاری عورتوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں ہوتی، مصری عورتیں چست اور چالاک نہیں ہوتیں اور سمرقند اور قندھار کی عورتوں میں وہ مٹھاس نہیں جو ہندوستانی عورتوں میں ہے! ہندوستانیوں کے حسن پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اگرچہ بیشتر ہندوستاں زاد
بہ سبزی میزند چوں سرو آزاد
ولی بسیار باشد سبزۂ تر
بلطف از لالہ و نسریں نکو تر
بسی زیبا کنیز سبز فام است
کہ صد چوں سروِ آزادش غلام است
نہ چوں طاؤس بے دنبال زشت اند
کہ در خوبی چو طاؤس بہشت اند
سہ گونہ رنگ ہندوستاں زیں است
سیاہ و سبز و گندم گوں ہمیں است
بگندم گونست میلِ آدمی زاد
کہ ایں فتنہ آدم یافت بنیاد
یگی گندم بکام اندر نمک دہ
زصد قرصِ سپیدِ بے نمک بہ
سیہ را خود بدیدہ جائیگاہ است
کہ اندر دیدہ ہم مردم سیاہ است
زبہرہ دیدہ باید سرمہ راسود
سپید ، عارضی ، رنگی است بے سود
ازیں ہر دو نکو تر رنگ سبز است
کہ زیبِ اختراں زا باد رنگِ سبز است
برنگِ سبز رحمت ہاسرشت است
کہ رنگِ سبز پوشانِ بہشت است
(دول رانی خضر خاں)
ہندوستانیوں کے رنگ و حسن پر یہ منفرد نظم ہے، نگاہ اور نظر کی باریکی اپنی مثال آپ ہے، کہتے ہیں اگرچہ اصل نسل کے ہندوستانیوں میں اکثر کا رنگ سرو آزاد کی طرح سیاہی مائل سبز ہوتا ہے مگر بہت سے ایسے ہیں کہ جن کی سبزی میں سیاہی نہیں لالہ و نسریں کی تازگی ہوتی ہے، بہت سی سبز فام کنیزیں ایسی ہیں کہ جن کے جلوے کے سامنے سرو آزاد جیسے سیکڑوں غلام ہیں، حسن میں جنت کے مورجیسی ہیں لیکن بے دم کے مور کی طرح بُری نہیں لگتیں، سرزمینِ ہند میں حسن کے تین رنگ ہیں۔ سیاہ، سبز اور گندم گوں، گندمی رنگ پر لپکنا فطری ہے کیونکہ فتنۂ گندم کے بانی آدم ہیں۔ گندمی رنگ میں کشش محسوس کرنا نفسیات کا تقاضا ہے۔ ایک نمکین گیہوں منہ میں جا کر سیکڑوں پھیکی ٹکیوں سے بہتر ہوتا ہے، سیاہ رنگ تو وہ ہے کہ جسے آنکھ میں جگہ ملی آنکھ کے اندر پتلی بھی سیاہ ہے، آنکھ کے لیے سُرمے کی ضرورت ہے جو سیاہ ہوتا ہے اور سفید رنگ عارضی، ان دونوں سے بہتر سبز یعنی سانولا رنگ ہے کیونکہ جس تخت سے تاروں کی زینت ہے وہ بھی سبز ہے، سبز رنگ میں رحمتیں گوندھ دی گئی ہیں، دیکھ لو جو جنتی ہوتے ہیں اُن کا لباس سبز ہوتا ہے! فارسی شاعری ہو یا اُردو شاعری، ہندوستان کے لوگوں کے رنگ اور حسن پر اتنی گہری نظر کسی شاعر کی نہیں رہی سانولے رنگ کی جو تعریف کی گئی ہے اور اس کے حسن پر طرح طرح سے جس انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔گندمی رنگ پر لپکنا یا گندمی رنگ میں بے پناہ کشش محسوس کرنا فطری عمل ہے اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ فتنہ گندم کے بانی تو آدم تھے۔ ہندوستانیوں کے رنگ و حسن کی عظمت کا یہ نغمہ امیرخسرو کے جمالیاتی شعور کو واضح کرتا ہے۔
ہندوستان کے پھولوں سے اپنی محبت کا اظہار کھل کر کیا ہے، فرماتے ہیں خراساں کے پھولوں میں وہ خوشبو کہاں جو ہندوستان کے پھولوں میں ہے، ہندوستان میں سوسن، سمن، کبود، بیلا، گل زرّیں، گل سُرخ، مولسری، گلاب، ڈھاک، چمپا، جوہی، کیوڑا، سیوتی، کرنا، نیلوفر وغیرہ کی تعریف کرتے ہوئے چمپا کے پھولوں کو تمام پھولوں کا سرتاج کہتے ہیں، فرماتے ہیں چمپا کی خوشبو تو ایسی ہے کہ جیسے شراب میں کسی نے مشک ملا دیا ہو۔ یہ چنبیلی جیسے بدن والے معشوقوں کی طرح نازک ہے، اس کا رنگ؟ عاشقوں کے چہروں کی طرح زرد ہوتا ہے۔
امیرخسرو کے احساسِ جمال میں جو شدّت ہے اس کی پہچان قدم قدم پر ہوتی ہے۔ پھولوں کا نام لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی خوشبو سے آشنا ہیں، وہ بنفشہ ہو یا ریحان، گلِ سفید یا صد برگ، کیوڑہ ہو یا سیوتی، گلاب ہو یا سوسن، کبود ہو یا بیلا، گلِ لالہ ہو یا مولسری۔
بیلا کے متعلق اُن کا یہ خیال ہے کہ اس کے ایک پھول میں سات پھول ہوتے ہیں، اس پھول کی دلربائی عاشقوں کے دل میں پہنچ جاتی ہے:
ازیں سو بیل پیشانی کشادہ
بہ یک گل ہفت گل برہم نہادہ
وزاں سودلر بائے عاشقال جائے
ہمہ تن بہرِ دلہا راشدہ جائے
(دول رانی خضر خاں)
ہر تعریف میں شدید رومانیت کے ساتھ تغزل کارس لطف دیتا ہے مثلاً ’سیوتی‘ کی تعریف اِس طرح کرتے ہیں:
ز عشق بوئے اوجاں دادہ زنبور
نگشتہ بعد مردن نیز ازو دُور
ہمہ خوبانش عاشق وار جویاں
کہ معشوقیت نزد خوبرویاں
(دول رانی خضر خاں)
بھیڑ اس کے لیے جان دیتی ہے، مرنے کے بعد بھی اس سے لپٹی رہتی ہے، عاشق اور محبوب کی طرح! محبوب عاشق بن کر اس کے لیے سرگرداں رہتی ہے، یہ پھولوں کے محبوبوں کا محبوب ہے!
امیرخسرو کہتے ہیں جب یہ سب پھول کھلتے ہیں اور کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں تو ان پھولوں کا چمن بہشت کا باغ نظر آنے لگتا ہے، بہشت میں بھی غالباً ایسا خوب صورت اور پُر لطف منظر نہ ہوتا ہو گا۔ ’کیوڑہ‘ کے متعلق کہا ہے کہ اس سے محبوبوں کی پوشاک باسی ہو جاتی ہے، دو برس بعد بھی اس کی خوشبو باقی رہتی ہے، کپڑا پھٹ جائے پھر بھی اس کی خوشبو نہیں جاتی:
ز بویش حلہ خوباں معطر
دو سالہ خشک و بویش ترفتہ
برآں جامہ کہ از وے بو گرفتہ
دریدہ جامہ و بویش ترفتہ
(دول رانی خضر خاں)
خضر خاں میں باغ کی تعریف ہندوستان کے حسن کے ایک خاص پہلو کی تعریف ہے۔ امیرخسرو کا جمالیاتی رجحان یہاں بھی متحرک ہے، کہتے ہیں محل کی بہشت میں ایسا دل کش باغ لگا کر باغِ ارم اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ جانے کہاں سے کہاں کمیاب پودے لائے گئے اور آبِ کوثر سے سینچے گئے، خراسانی پھول بھی یہاں موجود ہیں، چنبلی کے نازک کونپلوں نے زمین کو ریشمی لباس پہنا دیا ہے، سیوتی کی چمک دیکھ کر موتیا کھلی جا رہی ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے دو بہنیں پاس پاس کھڑی ہیں، گل کو زہ وہ گل ہے کہ جیسے آسمان نے چکر کاٹ کر ہندوستان کی خاک پاک کے لیے منتخب کیا ہے تلے اوپر سیکڑوں پتیوں کے پھول کا حسن غیر معمولی ہے، سیکڑوں ورق میں اس کا دیبا چہ سمایا ہوا ہے:
بعردو میں حرم باعیست دل کش
کہ فردوسِ ارم بنود چناں خوش
بکشود ہر کجا نادر نہالی
درد نوشیدہ از کوثر زلالی
زگلہائے خراساں گونہ گونہ
نمودہ ہر یکے دیگر نمونہ
دمیدہ برگِ نازک یاسمیں را
لباسِ پُرنیاں دادہ زمیں را
برآبِ نسترن ، نسریں شکر خند
چودد ہمشیرۂ نزدیک مانند
گلِ کوزہ کہ دورِ چرخ گرداں
پدید از خاک پاک بند کرد آں
گلِ صد برگ را خوبی ز حد بیش
نمودہ صد ورق دیباچۂ خویش
(دول رانی خضر خاں)
’’آم، امیرخسرو کا محبوب پھل ہے، اس کے مقابلے میں کسی پھل کو سامنے رکھنا نہیں چاہتے، جو لوگ انجیر کو آم سے بہتر بتاتے ہیں ان پر طنز کرتے ہیں، فرماتے ہیں یہ مثال ایسی ہے جیسے کوئی اندھی عورت بصرہ کو شام سے بہتر بتائے:
نہ بے انصاف نتواں یافت ایں کام
کہ عمیا بصرہ را بگوید از شام
وگر کس سوئے خود گردو جہت گیر
ہند کم نغزک ماراز انجیر
(دول رانی خضر خاں)
ہندوستانی پرندوں میں طوطا زیادہ پسند آیا، فرماتے ہیں طوطے ایسے جو انسان کی طرح بول سکتے ہیں، مینا، گوریّا، طاؤس، بکری، بندر، ہاتھی سب کا ذکر کرتے ہیں۔ جانوروں میں ہاتھی، بندر اور بکری زیادہ پسند کرتے ہیں، کوّے کے متعلق کہتے ہیں یہ مستقبل کی خبر دیتا ہے، گوریا بھی مخفی باتوں کی خبر لاتی ہے، یہاں کے مور دلہن کی طرح ہیں۔ بکری ایک پتلی سی لکڑی پر چاروں پاؤں رکھ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور ناچتی ہے، بندر اور ہاتھی دونوں عقل مند جانور ہیں۔
امیرخسرو کا احساسِ جمال جامۂ ہندی سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، فرماتے ہیں پھلوں جیسی نازک اور حسین عورتیں جانتی ہیں کہ دیوگیر کا کپڑا باریک ہوتا ہے، ہندوستان کے ریشم کا بنا کپڑا اتنا نہیں ہوتا کہ ایک گز کا دکھائی دیتا ہے حالانکہ اس سے دس خیمے لگائے جا سکتے ہیں:
نکودانند خوبانِ پری کیش
کہ لطفِ دیو گیری از کتاں پیش
ز لطف آں جامہ گوئی آفتابے است
دبا خود سایۂ یا ماہتابے است
(دول رانی خضر خاں)
کہتے ہیں محبوب اس کپڑے کو پسند کرتے ہیں، یہ کتان سے بہتر ہوتا ہے، اس کی خوبی یہ ہے کہ چمک میں آفتاب لگتا ہے، ٹھنڈک میں ماہتاب اور پھر اس پر سایہ بھی ہوتا ہے:
ایک اور کپڑے کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے ناخن میں لپیٹ لیا جائے تو چھپا رہتا ہے اور اسے کھولیں تو یہ کپڑا ساری دنیا کو ڈھانپ لے۔
بتانِ ہند پر ان کا شعر غضب کا ہے:
بتانِ ہند را نسبت ہمیں است
بہریک موئے شاں صد ملک چیں است
ہند کے حسینوں کا ایک بال سوچین پر بھاری ہے!
’زبان ہندی‘ سے محبت کی، فخر سے کہا’’ہندوستانی ترک ہوں، ہندی بول سکتا ہوں، ہندوی میں باتیں کرتا ہوں، عربی میں بات کرنے کے لیے میرے پاس مصری شکر نہیں ہے:
ترک ہندوستانیم من ہندوی گویم جواب
شکر مصری ندارم ، عرب گویم سخن
خود کو ’طوطیِ ہند‘سمجھتے تھے، کہا کوئی ہندی میں سوال کرے تو میں میٹھی ہندی میں جواب دے سکتا ہوں آپ چاہتے ہیں کہ میٹھی میٹھی باتیں کروں تو مجھ سے ہندوی میں بات کرنے کے لیے کہیے:
چومن طوطی ہندم راست پرسی
زمن ہندوی پرس تا فقر گویم
امیرخسرو نے اپنے عہد میں بولی جانے والی زبانوں کا ذکر کیا ہے، ہند کی تمام زبانوں کو اہم جانتے تھے۔ اپنے عہد کی زبانوں میں سندھی، لاہوری (پنجابی) کشمیری (کناری) کبر (ڈوگری) دھور سمندری (تمل) مجری (آندھرا) گوری (پہاڑی) تلنگی، گجر (گجراتی) بنگلہ، اودھ (اودھی) اور دہلوی (ہندوی) کا ذکر کرتے ہیں، سنسکرت زبان کا ذکر بھی احترام کے ساتھ کیا ہے، کہتے ہیں:
غلط کردم اگر از دانش زمانی دم
نہ لفظ ہندیست از پارسی کم
یعنی اس زبان کو عربی کے علاوہ تمام زبانوں پر فوقیت حاصل ہے، کہا ہے:
گر آئین عرب نحو است دگر صرف
ازاں آئین دریں کم نیست یک حرف!
دگر پرستی بیانش از معانی
در آں نیز از دگر ہاکم ندانی!
اس کے صرف و نحو عربی کی طرح ہیں، سنسکرت زبان کے معانی و بیان کو کم سمجھنا نہیں چاہیے۔ اس میں کسی اور زبان کی آمیزش نہیں ہے۔
ہندوی زبان میں بڑی خوبصورت شاعری کی ہے، اپنے پیرو مرشد حضرت نظام الدین چشتیؒ کے انتقال کی خبر سن کر کہا تھا:
گوری سووے سیج پرمکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوندیس
خسرو رین سوہاگ کی جاگی پی کے سنگ
تن میرو من پیو کو دُور بھئے اِک انگ
مندرجۂ ذیل اشعار میں فارسی اور ہندوی کی لطیف آمیزش ہے:
زحالِ مسکیں مکن تغافل دوراہ نیناں بنائے بتیاں
چوتاب ہجراں ندارم ایجان نہ لیہو کا ہے لگائے چھتیاں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببر و تسکیں
کسے پڑی ہے کہ جا سناوے پیارے پی سے ہماری بتیاں
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف زمان و صلت چو عمر کوتہ
سکھی پیا جو مَیں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
چوشمع سوزاں چو ذرّہ حیراں ہمیشہ گریاں بعیش آں مہ
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناںنہ آپ آئے نہ بھیجی پتیاں
بحق آں مہ کہ روزِ محشر بداد مارا فریب خسرو
سپیت من کی دوراہے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
امیرخسرو کی پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں وغیرہ زبان ہندوی کی شان ہیں، ایک تیز ذہن کی پہچان ہر جگہ ہوتی ہے:
ایک گنی نے یہ گن کنہیّا
ہر پل پنجرے میں دیدینا
دیکھو جادوگر کا حال
ڈالے ہرا نکالے لال
(پان)
بن ٹھن کے سنگار کرے
دھر منہ ہر منہ پیار کرے
پیار سے مو پے دیت ہے جان
اے سکھی ساجن ناسکھی پان!
(پان)
ایک تھال موتیوں بھرا
سب کے سَر پر اوندھا دھرا
چاروں اور وہ تھال پھرے
موتی اس سے ایک نہ گرے
(آسمان)
بیسیوں کا سَر کاٹ لیا
نا مارا نا خون کیا
(ناخن)
ایک کہانی میں کہوں سن لے میرے پوُت
بن پنکھوں وہ اُڑ گیا باندھ گلے میں سُوت
(پتنگ)
ہے وہ ناری سُندر نار
نار نہیں پر وہ ہے نار
دُور سے سب کو چھب دِکھلاوے
ہاتھ کسی کے کبھی نہ آوے
(بجلی)
اِدھر کو آوے اُدھر کو جاوے
ہر ہر پھر وہ کاٹ کھاوے
ٹھہرے جس دم وہ نارن
خسرو کہے اس کو آرن
(آری)
ایک تروور کا پھل ہے تَر
پہلے ناری پیچھے نَر
وا پھل کی دیکھو یہ چال
باہر کھال اور بھیتر بال
(بھٹّا)
نر ناری کی جوڑی ڈیٹھی
جب بولے تب لاگے میٹھی
ایک نہائے ایک تاپن ہارا
چل خسرو کوچ نقّارہ
(نقاّرہ)
پوَن چلت وہ دیہہ بڑھاوے
جل پیوت وہ جیو گنوائے
ہے وہ پیاری سُندر نار
نار نہیں پر ہے وہ نار
(آگ)
جل جل چلتا بستا گاؤں
بستی میں نارا کا ٹھاؤں
خسرو نے دیا واکاناؤں
بوجھ ارتھ نہیں چھوڑو گاؤں
(ناؤ)
دس ناری کا ایک ہی نَر
بستی باہر وا کا گھر
پیٹھ سخت اور پیٹ نرم
منہ میٹھا تاثیر گرم
(خربوزہ)
گھوم گھمیلا لہنگا پہنے ایک پاؤں سے رہے کھڑی
آٹھ ہاتھ ہیں اس ناری کے صورت اُس کی لگے پَری
سب کوئی اس کی چاہ کریں مسلمان ہندو چھتری
خسرو نے یہ کہی پہیلی دل میں اپنے سوچ ذری
(چھتری)
’کہہ مکرنیاں‘ اس طرح کی ہیں:
نِت میری کھاتر بجا سے آوے
کرے سنگار تب چوما پاوے
من بگڑے نِت راکھت مان
اے سکھی ساجن ! ناسکھی پان!
(پان)
اندر چلمن ، باہر چلمن ، بیچ کلیجہ دھڑکے
امیرخسرو یوں کہیں وہ دو دو اُنگل سرکے!
(قینچی)
جل کر بنے جل میں رہے
آنکھوں دیکھا خسرو کہے
(کاجل)
یرومو سے سنگار کراوت ہے
آگے بیٹھ مرا مان بڑھاوت ہے
واسے چکنا وکنا موکو ویسا
اے سکھی ساجن ؟ ناسکھی شیشہ
(شیشہ)
سیج رنگ اور مکھ پر لالی
اس پریتم گل کنٹھی کالی
بھاؤ سبھاؤ جنگل میں ہوتا
اے سیکھی ساجن ! ناسکھی طوطا!
(طوطا)
’دو سخنے‘ میں ایک سے زیادہ سوالات، میں لیکن جواب ایک ہے۔ مثلاً:
پانی کیوں نہ بھرا؟
ہار کیوں نہ پہنا؟
(جواب: گھڑا نہ تھا)
اَنار کیوں نہ چکھا؟
وزیر کیوں نہ رکھا؟
(جواب: دانانہ تھا)
روٹی جلی کیوں؟
گھوڑا اُڑا کیوں؟
پان سڑا کیوں؟
(جواب: پھیرا نہ تھا)
راجا پیاسا کیوں؟
گدھا اداسا کیوں؟
(جواب: لوٹا نہ تھا)
گوشت کیوں نہ کھایا؟
ڈوم کیوں نہ گایا؟
(جواب: گلا نہ تھا)
پہیلیوں کی ایک صورت یہ بھی ہے:
فارسی بولی آئی نہ (آئینہ)
ترکی بولی پائی نہ (پائینہ)
ہندی بولوں آرسی آوے (آرسی)
نہ دیکھے جو مجھے بتائے
کہے خسرو کوئی بتلاوے
(آئینہ)
شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری
دونوں ہاتھ سے خسرو کھینچے اور یوں کہے تو آری
(آری)
کس کے چھاتی پکڑے رہے
منہ سے بولے نہ بات کرے
ایسا ہے کامن کا رنگیلا
اے سکھی ساجن ؟ ناسکھی اَنگیا
(انگیا)
ہندوستان اور اس کے جلوؤں کے اس بڑے عاشق نے اپنے تجربوں کو طرح طرح سے بیان کیا ہے مثلاً: اس ملک کے موسم خوشگوار اور دلفریب ہیں، جانے کتنے پرندے اپنے نغموں کا آہنگ بکھرتے ہیں، جس طرح زمیں کے اندر سے گھاس نکلتی ہے اسی طرح یہاں موسیقار، نغمہ نگار اور نغمہ سُنانے والے پیدا ہوتے ہیں، ہر شاعر اور ہر گانے والے کا اپنا انداز ہے، اظہار کے مختلف انداز اور طریقے ہیں، یہ کتنی اہم بات ہے کہ اس دھرتی سے جو پیدا ہوتا ہے ہم اسے انسان کہتے ہیں، اس دھرتی نے ذہانت عطا کی ہے جو زمین کا تحفہ ہے۔ ذہانت اس حد تک کہ اس ملک کے اَن پڑھ لوگ بھی عالم بن جاتے ہیں، ہندوستان کے لوگوں میں زندگی بسر کرنے کا جو طریقہ ہے اسے دیکھئے تو لگے اس سے روشنی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ باتیں دوسرے ملکوں میں کہاں؟ یہ سب تمدّنی اور تہذیبی ماحول کی وجہ سے ہے۔ ہندوستان کے لوگ صاحبِ فکر و نظر ہیں، کسی بات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں تو کسی نکتے کو نہیں چھوڑتے، جس طرح ایک گڈریا اپنی بھیڑوں کو جانتا پہچانتا ہے اسی طرح یہ بھی مزاج پہچانتے ہیں، جو لوگ خراساں، روم اور عرب سے یہاں آتے ہیں، یہ لوگ اُن سے کچھ نہیں مانگتے بلکہ انھیں اپنے عزیزوں کی طرح عزیز رکھتے ہیں، انھیں اپنا تصوّر کرتے ہیں،بہت مہمان نواز ہیں اس حد تک کہ دل جیت لیتے ہیں، ان میں مزاح کی حسِ بھی بیدار ہے، پھولوں کی مانند مسکراہٹوں سے دل جیت لیتے ہیں۔‘‘ (مثنوی نہ سپہر)
ہندوستان کے پاس چار مذہبی کتابیں ہیں، زندگی اور اس کی قدروں کا تعیّن ان ہی کتابوں سے کیا جاتا ہے۔ یہ چار وید ہیں، جس طرح حکیم علاج کرتے ہیں اور شفا ملتی ہے اسی طرح ان کتابوں سے سبھوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو ادبیات اور فنون سے وابستہ ہیں ان کتابوں سے روشنی حاصل کرتے ہیں، یہ چار وید، علوم کا سرچشمہ ہیں، یہ سنسکرت زبان میں ہیں جو برہمنوں کی زبان ہے۔ تمام علوم اسی سے سیکھتے رہے ہیں، سنسکرت زبان تمام قیمتی موتیوں میں ایک نادر موتی ہے۔ عربی کے مقابلے میں اگرچہ کمتر ہے لیکن فارسی سے بہت آگے ہے۔
امیرخسرو کہتے ہیں کہ ہندوستان ہی زمین کی جنت ہے، اسی جنت میں آدم نے پناہ لی تھی، گیہوں کا وہ دانہ کھایا تھا کہ جسے کھانے سے منع کیا گیا تھا، اُنھیں آسمان کی جنت سے پھینکا گیا تاکہ وہ پہاڑوں پر گریں لیکن ہندوستان میں ہوا کیا، پہاڑوں کے تمام پتھر ریشم کی مانند نرم اور ملائم بن گئے۔ اگر آدم کو خدا نے خراساں یا عرب یا چین میں پھینکا ہوتا تو وہ اس دھرتی پر یقیناً زیادہ دن نہ رہتے، خراساں اور عرب کی گرمی اور سردی سے سخت اذیت پہنچتی۔ چونکہ آدم جنت سے نکالے گئے تھے اس لیے قدرت نے اس بات کا خیال رکھا کہ اُنھیں جنت جیسی جگہ پر بھیجا جائے اور ہندوستان سے بڑی جنت اور کون سی تھی؟ جو پرندے اور جانور جنت میں ہیں وہی ہندوستان میں ہیں، مور جنت کا پرندہ ہے، اگر ہند جنت نہ ہوتا تو مور یہاں کیوں ہوتے؟ ہندوستان سے بے پناہ محبت اور اس کے جلوؤں کے حسن پر فریفتگی کی ایسی مثال اور کہاں ملتی ہے؟ اپنے ملک اور اس کے جمال سے عشق کا ایک ارفع معیار قائم کر کے امیرخسرو رخصت ہو گئے۔
ادب اور جمالیات (حصہ دوم ) از۔ شکیل الرحمٰن

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post